اے چاند یہاں نہ نکلا کر


raazia syedمشہور انقلابی شاعر حبیب جالب نے کہا تھا کہ

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

اول تو یہ مصرعہ ہے ہی حقیقت پر مبنی لیکن ہمارے ملک کے تنگ نظر طبقوں نے اسے درست ثابت کرنے میں کوئی کسر بھی نہیں چھوڑی ۔ کہتے ہیں کہ وہ آنکھیں تب تک بے نور ہوتی ہیں جب تک کہ دل کی آنکھیں کھلی نہ ہوں اور جب تک آپ دماغ کے بند کواڑوں کو کھول نہ سکیں ۔ جب تک دماغ میں کوئی شعور نہ ہو ، کوئی مثبت سوچ نہ ہو ، کوئی اچھا عمل کرنے کی جستجو نہ ہو تو یہ آنکھیں دیکھ نہیں سکتیں ۔

میں نے کہیں پڑھا تھا کہ جہالت کا تعلق ناخواندگی سے نہیں ہے بلکہ اچھی تربیت کے فقدان سے ہے ۔ جہالت تو بس وراثتی جہالت ہے جس کا عملی مظاہرہ گذشتہ دنوں ڈی چوک میں کیا گیا ۔ جہاں میڈیا کو فحاشی ، آزاد خیالی اور بے راہروی کا لیکچر دینے والے ’ قابل قدر ‘ مولانا صاحبان نے نہایت دلیری ، بے خوفی اور بدتہذیبی سے مغلظات بکے اور اپنی وراثتی جہالت کا بھرپور مظاہرہ کیا ۔ بالکل اس طرح بلا جھجھک دوسروں کی ناموس پر کیچڑ اچھالا گیا گویا ان کے ہاں حوروںنے جنم لے رکھا ہے ۔

ناقابل فہم تو یہ ہے کہ اسلام کے اصولوں اور نظریات کو محض اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ جبکہ اسلام کسی کی جاگیر نہیں ایک مکمل دین اور ضابطہ حیات ہے ۔ ہاں بھئی جمہوریت ہے ، آپ جلسے نکالیں ، جلوسوں کا انعقاد کریں اور دوسری جانب کہیں کہ مذہب اور سیاست جد اجدا ہیں لیکن ہم جب چاہیں گے مذہب کو سیاست اور سیاست کو مذہب کے نام پر استعمال کریں گے ۔ ہم یہاں نقصان بھی مسلمانوں کی املاک کو پہنچائیں گے اور دوسری طرف نظام مصطفے کے نفاذ کا مطالبہ بھی کریں گے جس کے مطابق ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کو ہاتھ اور زبان سے تکلیف پہنچانا منع کیا گیا ہے ۔

بھائیو چاہے آپ کا تعلق کسی مذہبی جماعت سے ہو یا آپ کسی سیاسی جماعت کے پیروکار ہیں سرکار آپ نے اگر تمام مسائل سڑکوں پر ہی حل کرنے ہیں تو پارلیمان کادم چھلہ لگانے کی کیا تک بھلا ؟ تمام پارلیمان کے اراکین رضاکارانہ طور پر مستعفی ہو جائیں اور آپ سب سٹرکوں پر آکر اپنی علیحدہ علیحدہ مسجد بنا کر دھونس اور دھمکی کی سیاست سیاست کھیلیں ۔اس مشورے کی کوئی فیس نہیں ۔


Comments

FB Login Required - comments