فکری ضرب عضب ۔۔۔ کیوں اور کیسے


seminaryوزیر اطلاعات پرویز رشید نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ایک میڈیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فکری ضرب عضب کا ذکر کیا اور کہا کہ دہشت گردی ختم کرنے کے لئے لوگوں کی سوچ کو بدلنا ضروری ہے تا کہ وہ انتہا پسندانہ رجحانات سے گریز کریں۔ لیکن انہوں نے اس حوالے سے کسی حکمت عملی کا اعلان کرنے کی بجائے میڈیا سے گلے شکوے کر کے بات ختم کر دی کہ ہر واقعہ یا سانحہ پر رپورٹر سرکاری نمائندوں کو دھر لیتے ہیں۔ گویا ایک مسئلہ کا ادراک کرنے کے باوجود حکومت کا ایک اہم نمائندہ اس سے نظریں چرانے اور ذمہ داری محسوس کرنے سے گریز کر رہا ہے۔ شاید یہی رویہ ملک میں روز افزوں انتہا پسندی ، اشتعال انگیزی اور عدم برداشت کے فروغ کا سبب بن رہا ہے۔ پرویز رشید خود دو ہفتے قبل کراچی ائر پورٹ پر اس طرز عمل کا نشانہ بن چکے ہیں جب بعض مشتعل افراد نے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ گزشتہ ہفتہ کے آخر میں اسلام آباد ائر پورٹ پر مبلغ اور تاجر جنید جمشید سے اختلاف کرنے والوں نے جس طرح اپنے دل کی بھڑاس نکالی، وہ اب سوشل میڈیا کے ذریعے ہر شخص ملاحظہ کر چکا ہے۔ اس کے بعد اتوار کو راولپنڈی میں ممتاز قادری کی رسم چہلم سے لے کر کل رات تک اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنا دینے والوں نے جس رویہ ، طرز تکلم اور خیالات کا اظہار کیا، وہ اپنی جگہ ملک میں ذہنی و اخلاقی پستی اور عدم برداشت کے حوالے سے ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔

پرویز رشید نے جس مسئلہ کی طرف اشارہ کیا ہے وہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی اس نے یک بیک معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ صورتحال گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پروان چڑھی ہے اور سیاستدانوں سے لے کر مذہبی جماعتوں ، ملکی انتظامیہ سے لے کر خفیہ اداروں نے اپنے اپنے طور پر اس کی نشوونما میں اپنا حصہ ادا کیا ہے۔ اب کہ یہ آگ گھر گھر پہنچ چکی ہے،  ہر دامن کو تار تار اور ہر آنگن کو ویران کرنے کے درپے ہے، تو بھی خود ذمہ داری محسوس کرنے اور اپنے طرز عمل پر غور کرنے کی بجائے دوسروں میں اس سماجی عارضے کی علامتیں دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پرویز رشید ملک کی بااختیار اکثریتی حکومت کے نمائندہ اور ترجمان ہیں۔ اگر وہ  بھی کسی مظلوم شہری کی طرح  اپنے خلاف ہونے والے افسوسناک واقعہ کا ذکر کر کے کف افسوس ملتے رہیں گے  تو  اصلاح کا آغاز کہاں سے اور کیسے ہو گا؟۔ یہی سوال اس مسئلہ کی جڑ تک پہنچاتا ہے۔ کیونکہ اس کا جواب تو سب کے پاس ہے لیکن اس کا اقرار کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے۔
یہ بات تسلیم کی جانی چاہئے کہ معاشرہ پستی اور انتہا پسندی کے جس مقام تک پہنچ چکا ہے، اس کی اصلاح صرف حکومت کا کام نہیں ہے۔ لیکن حکومت کو بھی یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لئے اولین قدم اسے ہی اٹھانا ہے۔ حکومت ہی اسکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب کا جائزہ لے کر اسے حقیقت پسندانہ اور معلوماتی بنانے کا آغاز کر سکتی ہے۔ یہ کام بھی حکومت ہی کرے گی کہ مدرسوں کے منتظمین کو پابند کیا جائے کہ وہ سیاسی مقاصد یا مراعات کے لئے مدارس کے طالب علموں کو استعمال نہیں کر سکتے۔ اگر کوئی تنظیم یا گروہ اس قسم کی حرکت کرے تو فوری طور پر ایسے اداروں کو بند کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ اس اقدام سے یہ اصول واضح کیا جا سکتا ہے کہ کسی اسکول ، مدرسہ ، کالج یا یونیورسٹی کی انتظامیہ اپنے طالب علموں کو اپنے مطالبات پورے کروانے کے لئے استعمال نہیں کر سکتی۔
جون 2014 میں آپریشن ضرب عضب شروع کرنے کے بعد فوج کی طرف سے جس قومی ایکشن پلان کی تیاری اور اس پر عمل کروانے کے لئے دباﺅ ڈالا گیا تھا، وہ دراصل فکری ضرب عضب ہی کا منصوبہ تھا۔ پرویز رشید کو دو برس بعد اس کی ضرورت کا اعلان کرنے کی بجائے یہ بتانے کی ضرورت تھی کہ حکومت اس منصوبے پر عملدرآمد کروانے میں کیوں ناکام ہو رہی ہے۔ اور کیا وجہ ہے کہ فوج سے لے کر میڈیا اور سیاسی و سماجی ماہرین تک بیک زبان یہ بتاتے نظر آتے ہیں کہ ملک میں دہشت گردی پر کنٹرول کے لئے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونے کے سبب مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ملک کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی باتیں سنیں اور حکومت کے اقدامات پر غور کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت اس منصوبے کے تحت فوجی عدالتیں قائم کرنا ، مقابلے میں دہشت گردوں کو مارنا اور دیگر تعزیری اقدامات کرنا ہی مسئلہ کا حل سمجھتی رہی ہے۔ یہ رویہ تو اسی مزاج کا پرتو ہے جس کا مظاہرہ ڈی چوک پر دھرنا دینے والوں نے چار روز تک کیا ہے۔ یعنی تخریب کاری اور بدکلامی کی جائے اور مسئلہ کے حل کے لئے نہ اپنا موقف عملی انداز میں بیان کیا جائے اور نہ اس مقصد کے لئے مہذب اقدامات پر یقین رکھا جائے۔ اور جب اس قسم کی حرکتیں کرتے ہوئے بند گلی میں محبوس ہو جائیں تو مفاہمت کے کسی اعلان کے ساتھ باہر نکلنے کا راستہ تلاش کر لیا جائے۔
حکومت قومی ایکشن پلان کے حوالے سے اسی قسم کا رویہ اختیار کر رہی ہے۔ دو برس کے دوران ابھی تک اس بات کا تعین نہیں ہو سکا کہ عملی اقدامات کے سلسلہ میں فوج یا رینجرز کی کب ضرورت ہو گی اور وہ کیسے اپنا فرض ادا کریں گی ۔ یا یہ کہ پولیس کو سیاسی بوجھ سے نجات دلا کر عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ”آزاد“ کر دیا جائے۔ پولیس کے نظام کی اصلاح کی جائے اور انہیں مواصلت اور نگرانی کے جدید طریقوں سے روشناس کروایا جائے۔ جو حکومتیں وی آئی پی کلچر کی اسیر ہوں اور جب صوبوں میں نصف پولیس اہم شخصیات کی حفاظت پر مامور رہے اور باقی آدھی سیاسی رسوخ کے سبب کام کرنے سے عاری ہو تو اصلاح احوال کے لئے دوسروں کو مورد الزام ہی ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ پرویز رشید نے میڈیا پر بوجھ ڈالتے ہوئے خود اپنے کندھے اچکانے کی کوشش کی ہے۔
مدرسوں کی اصلاح، قومی ایکشن پلان یا فکری ضرب عضب کا بنیادی مقصد تھا۔ اس کا دوسرا اہم کام ملک میں انٹیلی جنس کو مربوط کرنا تھا تا کہ کسی ایک ادارے کے پاس پہنچنے والی معلومات فوری طور سے ایک مشترکہ نظام میں دستیاب ہوں اور متعلقہ ادارے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی روک تھام کے لئے متحرک ہو سکیں۔ حکومت ان دونوں مقاصد میں ناکام ہو چکی ہے۔ وزیر داخلہ اپنی پریس کانفرنسوں میں گرجتے ہیں یا گرفتاریوں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں۔ لیکن عملی اقدامات کے حوالے سے نہ صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہیں اور نہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا سامنا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مدرسوں کے ذریعے سیاسی ، سماجی اور معاشی طاقت حاصل کرنے والے افراد اور گروہ مسلسل حکومت کو ڈرانے دھمکانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ مدرسوں کا ماحول بہتر بنانے اور وہاں زیر تعلیم طالب علموں اور تعلیم دینے والے استادوں کے باے میں رجسٹریشن کا کوئی طریقہ ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکا۔ کیونکہ مدارس اسے اپنے کام میں مداخلت سمجھتے ہیں اور اسے دین پر حملہ کا نام دے کر ہر موقع پر حکومت کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
دینی مدارس ایک سماجی ضرورت اور معاشرے کے محروم اور غریب لوگوں کے لئے اہم اداروں کی حیثیت ضرور رکھتے ہیں لیکن یہی ادارے فکری بے راہ روی ، مذہبی شدت پسندی اور نتیجتاً دہشت گردی میں اضافہ کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ اصلاح احوال کے لئے سب سے احسن طریقہ تو یہ ہے کہ حکومت ملک کے غریب خاندانوں کے لئے اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ان کے بچوں کو تعلیم کی بنیادی سہولت فراہم کرنے کا اہتمام کرے۔ اس طرح مدارس کے مہتممین کو اس اہم سماجی ذمہ داری سے سبکدوش کیا جا سکتا ہے جو وہ دینی تدریس فراہم کرنے اور طالب علموں کے قیام و طعام کا انتظام کر کے سرانجام دے رہے ہیں۔ چونکہ فوری طور پر یہ انتظام کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا تو متبادل کے طور پر منتظم اور طالب علموں کے رشتہ اور تعلق کے حوالے سے واضح اصول و ضوابط بنوا کر انہیں نافذ کروایا جا سکتا ہے۔ اس قسم کا انتظام ہونے کے بعد ہی حکومت ایسا طریقہ متعارف کروا سکتی ہے جس کے تحت یہ معلوم ہو سکے گا کہ کس مدرسے میں کون پڑھاتا ہے اور کون تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ اس نظام کے بغیر مدارس کی اصلاح کا ابتدائی کام بھی شروع نہیں ہو سکتا۔ طالب علموں کو مدارس کے بااختیار منتظمین کے چنگل سے نجات دلانے کے بعد ہی یہ جائزہ لیا جا سکتا ہے کہ کون سا مدرسہ کیا تعلیم دے رہا ہے۔ مدارس کے نصاب کے بارے میں معلومات اور اصلاح کا کام تب ہی شروع ہو سکتا ہے۔
اس حوالے سے آخری مرحلے میں مدارس اور فرقہ واریت کے حوالے سے صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے مدارس کو اس بات کا پابند کیا جا سکے گا کہ وہ بے شک اپنے مسلک اور عقیدہ کے حوالے سے تدریس کا اہتمام کریں لیکن اس تعلیم کو دوسرے عقائد یا نظریات کے بارے میں نفرت پھیلانے کی بنیاد نہ بنایا جائے۔ مدارس کا یہ اعتراض بجا ہے کہ حکومت ملک میں تعلیمی اداروں کی عمومی اصلاح کی بات نہیں کرتی اور نہ اس سلسلہ میں کوئی اقدام دیکھنے میں آتے ہیں۔ یہ دلیل بے جواز نہیں ہے کہ صرف مدارس کی اصلاح سے نہ تو مطلوبہ نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں اور نہ ہی یہ منصفانہ طریقہ کار ہو گا۔ اس لئے ملک کے تمام تعلیمی اداروں کے انتظام اور وہاں پڑھائے جانے والے نصاب کی اصلاح کے لئے مربوط حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہو گی۔ اس صورت میں مدارس کا انتظام کرنے والے طاقتور لوگ یہ اعتراض نہیں کر سکیں گے کہ ان کے اداروں کو صرف اس لئے نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ وہ دین کی تعلیم کا اہتمام کرتے ہیں۔
مدارس کی آمدنی اور اخراجات کی نگرانی کرنا بھی ضروری کام ہے لیکن نجی شعبہ میں تعلیمی اداروں کو نوٹ چھاپنے کی مشینیں بنانے والے سرمایہ کاروں کے مالی معاملات کا کنٹرول اور نگرانی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ مدارس اس لحاظ سے حکومت اور اس کے توسط سے معاشرے کو جوابدہ ہیں کہ وہ زکوة و صدقات کی مد میں اربوں روپے وصول کرتے ہیں۔ دینے اور لینے والے اس کا حساب دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ وجوہ واضح ہیں۔ دینے والے امرا اور مالدار تاجر زکوة دے کر آخرت تو محفوظ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ قومی فلاح کے لئے ٹیکس دینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ اسی طرح نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کی نگرانی ضروری ہے کیونکہ وہ اس ملک کے شہریوں سے کثیر رقوم فیس اور دیگر مدات میں وصول کرتے ہیں۔ لیکن وہ کیا خرچ کرتے ہیں اور کتنی دولت مختلف ہتھکنڈوں سے پرائیویٹ اکاﺅنٹس میں منتقل ہوتی ہے، اس کا حساب کوئی نہیں جانتا۔
یہ پیچیدہ اور مشکل معاملات ہیں۔ لیکن انتہا پسندی اور فکری بے راہروی کی جس صورتحال کا ہمیں سامنا ہے، وہ اس سے بھی زیادہ سنگین اور تشویشناک ہے۔ معاشرے کی اصلاح اسکولوں ، مدرسوں کی اصلاح کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ایسا ہو جائے تو پرویز رشید فکری آپریشن ضرب عضب کی ضرورت محسوس نہیں کریں گے۔

Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 410 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali