آج کے دن ایک نظم نے جنم لیا


10660160_774688952592570_8926987793494953449_nیکم اپریل میرا جنم دن ہے۔ آج کے دن ایک نظم نے جنم لیا۔ اس مناسبت سے اپنی ایک نظم پیش ہے:

خواب اور محبت کی کوئی عمر نہیں ہوتی

ہمیں خبر ہے
ہمارے درمیان بے خبری کی دھند پھیلی ہوئی ہے
تلاش کے راستے پر چلتے ہوئے
ہمارے قدم اپنی منزل نہیں دیکھ پاتے
تمھارا اندر میری نظموں سے زیادہ خوبصورت اور اجلا ہے
مگر میری عینک کے شیشے روز بروز دبیز ہوتے جا رہے ہیں
پتا ہے ہمیں لکھتے ہوئے
نظمیں اور کہانیاں بے لفظ کیوں ہو جاتی ہیں؟
وہ ہماری جائے پیدائش، تاریخ اور عمر جاننا چاہتے ہیں
انہیں کیا معلوم
کہ خواب نہ پیدا ہوتے ہیں نہ مرتے ہیں
ان کا اندراج کسی رجسٹر میں نہیں ہوتا
میں نہیں جانتا
تم نے کب خواب کی انگلی تھامے ہوئے
نیند میں چلنا سیکھا
لیکن میں وہ خواب ہوں
جسے آج تک کسی نے نہیں دیکھا
میں تو اُس روز ہی مر گیا تھا
جس روز باپ نے ماں کے حاملہ پیٹ پر ٹھوکر لگائی تھی
مگر میں قبر کے اندر بڑا ہوتا گیا
اتنا بڑا کہ ماں مجھے سر جھکائے بغیر دیکھ سکتی ہے
ایک بار کسی کی تصویر کھینچتے ہوئے
کیمرہ میرے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیا تھا
تب مجھے پتا چلا
کہ خواب روشنی میں سیاہ کیوں ہو جاتے ہیں
انہیں ایکسپوز کرنے کے لیے اندھیرے کا محلول کیوں ضروری ہے
روشنی تاریکی ہی میں نظر آتی ہے
ہم وہ نہیں جو دکھائی دیتے ہیں
ہماری جگہ کوئی اور ہوتا ہے
ہمارا کاسٹیوم پہنے ہوئے
بہتے پانی کی کوئی شکل نہیں ہوتی
شکلیں ہماری آنکھ میں ہوتی ہیں
خواب دیکھنے کے لیے
نیندوں کی نہیں آنکھوں کی ضرورت ہوتی ہے
پروٹوزون سے منش تک
کئی ملین سالوں کی ارتقائی نیند
محض آنکھیں کھولنے کا عرصہ ہے
موت اور زندگی میں محبت کا فاصلہ ہے
جسے ناپنے کے لیے ہم عمر کا پیمانہ استعمال کرتے ہیں
اور جینے کا ڈھونگ رچاتے ہیں
naseer nasirلیکن محبت کی کوئی عمر نہیں ہوتی
یہ تو ایک نامعلوم انت سے
دوسرے نامعلوم انت تک موجود ہے
ہم جہاں سے اسے دریافت کرتے ہیں
وہیں پر اپنی اپنی حد مقرر کر لیتے ہیں
اور اسے رشتوں اور ناموں میں تقسیم کر دیتے ہیں
اداسی ہمارے علم اور تجربے سے زیادہ ہے
اسے پھیلنے دو!
رنگوں، پھولوں اور تتلیوں کو لفظوں می بیان نہیں کیا جا سکتا
پرندوں، پودوں اور اچھے لوگوں سے باتیں کرنے کے لیے
خاموشی سے بہتر کوئی اظہار نہیں
کوئی بات اپنی عمر سے بڑی نہیں ہوتی
کیا خبر ہم کسی عظیم خواب کی بیداری میں ہوں
اور کوئی ہمیں کائناتی آنکھ سے دیکھ رہا ہو
پرم آتما کو خواب دیکھتے ہوئے ڈسٹرب مت کرو!!


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “آج کے دن ایک نظم نے جنم لیا

  • 01-04-2016 at 12:44 pm
    Permalink

    نصیر بھائی! اللہ کرے آپ اچھی اچھی نظمیں لکھنے کے لیے لمبی عمر پائیں۔ آپ کے خوابوں میں میرے جیسوں کے خواب بھی جھلملاتے ہیں چنانچہ مجھے آپ کے دنیا میں آنے پر خوش ہونا چاہیے اور میری یہی خوشی آپ کے لیے “مبارک باد” ہے۔

  • 01-04-2016 at 12:59 pm
    Permalink

    مجاہد بھائی! آپ کے محبت بھرے کلمات سے زیادہ خوشی اور کیا ہو گی! آپ سدا یونہی خوش رہیں۔ ہم سب کے خواب ایک ہی جیسے ہیں۔ کاش دنیا ہمارے خوابوں جیسی ہوتی!!

  • 01-04-2016 at 9:32 pm
    Permalink

    السلام علیکم جناب نصیر صاحب!!!
    آپ کا تعلق کہیں سندھ سے تو نہیں؟

  • 01-04-2016 at 10:56 pm
    Permalink

    جناب راشد صاحب! میرا تعلق پنجاب کے ضلع گجرات سے ہے اور میں راولپنڈی میں رہائش پذیر ہوں۔ شعر و ادب کی نوعیت تو آفاقی ہوتی ہے، کون کس علاقے کا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ 🙂

Comments are closed.