سچ سچ کہیے، کیا ضرورت ہے؟


\"mubashir\"کیا ضرورت ہے کہ ہم بھارت کے ساتھ امن سے رہیں؟ خود ہی کہیے، کیا ضرورت ہے؟

ہم بھارت کے ساتھ لڑائی بھی تو کرسکتے ہیں۔ آگ اگلتا میزائل داغ سکتے ہیں تو اچھی بات ہے ورنہ سرحد پار اینٹ پھینک کر تو ماری ہی جا سکتی ہے۔ اینٹ کا جواب پتھر سے آتا ہے تو کون ڈرتا ہے؟ سینہ تان کے دھمکیاں دینے سے کون شرماتا ہے؟ واہگہ پر پیر پٹخ پٹخ کر اور آںکھیں لال کر کر کے گھورنے سے کون روکتا ہے؟ ٹھاکرے کی اولادوں سے ٹاکرا کرنے میں کیا ہرج ہے؟

کیا ضرورت ہے کہ سیاست دان مفاہمت کی پالیسی کو برقرار رکھیں؟ آپ ہی بتایئے، کیا ضرورت ہے؟

ہم سیاسی کشیدگی کے ماحول میں بھی تو زندہ رہ سکتے ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں گرماگرمی کیوں نہیں ہوسکتی؟ سیاسی رہنما زبان کی درانتی سے ایک دوسرے کی جڑیں کیوں نہیں کاٹ سکتے؟ اپنا ماضی بھلانے اور دوسروں کا یاد دلانے میں کیا عار ہے؟ بات بات پر واک آؤٹ کی تفریح کرنے میں کیا قباحت ہے؟ ایک حمام میں سب نہانے والوں کے گندے کپڑے بیچ بازار کیوں نہیں دھوئے جاسکتے؟

کیا ضرورت ہے کہ احتجاجی مظاہرے اور ہڑتالیں نہ کی جائیں؟ خدا لگتی کہیے، کیا ضرورت ہے؟

ہم روزانہ دوچار مظاہرے کیوں نہیں کرسکتے؟ احتجاج کے دوران سڑکیں بند کرنا کون سا جرم ہوگیا؟ ٹائر جلانے سے کسی کی صحت پر کیا فرق پڑتا ہے؟ سگنل اور کھمبے اکھاڑنے میں کیوں تکلف ہونے لگی؟ گولیاں چلانے اور گاڑیاں جلانے سے کسی کا کیا جاتا ہے؟ تاجروں نے روزانہ دکانیں کھولنا اور مزدوروں نے دہاڑی لگانا کیوں وتیرہ بنا لیا؟

کیا ضرورت ہے کہ ہر شخص کے پاس روٹی، کپڑا اور مکان ہو؟ آپ فیصلہ فرمائیں، کیا ضرورت ہے؟

بیس کروڑ کی بے ہنگم آبادی میں دس بارہ کروڑ خالی پیٹ کیوں نہیں سوسکتے؟ پورا تن ڈھانپنے کا فیشن کس لیے چل پڑا ہے؟ اپنی چھت کی عیاشی ہر ایک کو کیوں چاہیے؟ بچاکھچا کھانے سے کس کے پیٹ میں مروڑ اٹھتا ہے؟ موٹا جھوٹا اور اترن پہننے سے کس کی عزت کا بٹہ لگتا ہے؟ قبضے کی زمینوں پر جھونپڑی بنانے میں کس کے پیسے لگتے ہیں؟

کیا ضرورت ہے کہ چوبیس گھنٹے بجلی آتی ہی رہے؟ سچ سچ بتایئے، کیا ضرورت ہے؟

ہم ایٹمی سپر پاور ہیں تو پاور لوڈشیڈنگ سے کیوں گھبرائیں؟ پنکھے چلانا اور مصنوعی روشنی کرنا کیوں مجبوری بنا لیا ہے؟ ٹیلی وژن اور فریج کے چونچلوں کے بغیر زندگی کیوں نہیں گزر سکتی؟ کپڑے واشنگ مشین میں دھوئے اور استری کیے بغیر کیوں نہیں پہنے جا سکتے؟ فیکٹریوں میں بجلی سے چلنے والی مشینوں کے بجائے ہاتھ سے کام کیوں نہیں کیا جاتا؟

کیا ضرورت ہے کہ غیر ملکی ٹیمیں پاکستان آئیں؟ آپ کوئی دلیل تو دیں، کیا ضرورت ہے؟

غیر ملکی ٹیموں کے بغیر ہاکی اور اسکواش کے کھیل کو کون سی موت آگئی؟ کرکٹ کے کھلاڑی کہاں کے مجرم بن گئے؟ ہمارے کروڑ پتی فٹ بالر اور باکسر کون سے بھوکے مر گئے؟ ہماری ٹیمیں ایک دوسرے ہی سے کھیل کر خوش کیوں نہیں ہوجاتیں؟ اسنوکر اور ٹینس کے کھلاڑی آپس میں ٹورنامنٹ کیوں نہیں کھیل لیتے؟ اپنی ٹیموں کو باہر بھیجنے سے کون سا انعام ملتا ہے؟

کیا ضرورت ہے کہ ہم خوشیوں بھری زندگی گزاریں؟ آپ ایک وجہ تو بتائیں، کیا ضرورت ہے؟

گھر میں میاں بیوی کے درمیان سر پھٹول سے لو بلڈ پریشر کیوں قابو نہیں کیا جاسکتا؟ بھائیوں کی جائیداد چھیننے کی کوشش کرنا کون سی بداخلاقی ہوگئی؟ پڑوسی کے خلاف چھوٹا موٹا مقدمہ کرنے میں کیا پریشانی ہے؟ دفتر میں چغلیاں کھانے سے کس کا ہاضمہ بگڑتا ہے؟ ہر آتے جاتے کو گالیاں دینے اور گالیاں سننے میں کیا ہرج ہے؟ آخر منہ پھلا کے بھی تو جیا جاسکتا ہے!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 74 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi

2 thoughts on “سچ سچ کہیے، کیا ضرورت ہے؟

  • 01-04-2016 at 3:11 pm
    Permalink

    بس بھی بس ذیادہ سوال نہیں مبشر ذیدی صاحب!!
    ہم پہلے ہی سوالات سے تنگ آئے ہوئے لوگ ہیں
    ہمیں سوال سننے کی عادت ہی نہیں آپ جواب مانگ رہے ہیں.
    جس دن ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنے کی اہمیت کا احساس ہو گیا. آپ کو بھی ان سوالوں کا جواب مل جائے گا۔
    اب تو ہمیں صرف امتحانی سوالوں کے جواب کی فکر ہے چاہے کسی گائیڈ /خلاصے سے مل جائیں یا کسی پروفیسر کے نوٹس سے۔

  • 12-04-2016 at 1:29 pm
    Permalink

    کبھی تو یہ نظام بدلے گا_______ کبھی توانسان اس سسٹم کو چینج کرینگے۔۔ جہاں ہر انسان آزاد ہو گا اور انسان انسان کیساتھ جُڑ جائے گا اور اس گلوبلائزڈ سسٹم میں کوئی کلاسیفیکیشن نہ ہو گی اور جو شے تمام انسانیت کے مفاد میں ہو گی اُس کو اپنا لیا جائےگا اور باقی تمام قوانین جن سے انسانیت کی تذلیل ہو اُن کو ریجیکٹ کر دیا جائے گا ۔۔ یہ نام نہاد سرحدیں بھی عملآ ختم کر دی جائیں یا کم از کم کُچھ حدود ایسی متعین کی جائیں جن سے ایک عام انسان با آسانی مُوو کر سکے۔۔۔ انسان انسان سے محفوظ ہو جائے۔ اور سب انسان مل کر اس زمین کو جنت کا عملی نمونہ بنا نے میں اپنا اپنا مثبت کردار ادا کریں ۔ اس سیارے کے تمام انسان ایک خاندان بن جائیں۔۔۔ اس نفع نقصان کے چکر والے نظام سرمایہ داری کی بجائے اشتراکیت ہو جس میں انسانیت اور انسان کی بقاء مقدم ہو۔ اور یہ سیارہ تمام انسانوں کا سانجھا ہو جائے۔_________________ وہ وقت ضرور آئیگا۔۔۔۔ بہت جلد آئیگا۔۔۔۔۔۔۔

Comments are closed.