پاکستان کے برادران یوسف ہمسائے


adnan-khan-kakar-mukalima-3

افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ ’گذشتہ برس کیے گئے پاکستان کے دورے کے وقت سے میں کہہ رہا ہوں کہ ہمارے درمیان ایک غیر علانیہ جنگ جاری ہے، ایک غیر علانیہ عداوت ہے اور ہمیں اس کو ختم کرنا ہو گا‘۔

جناب صدر، آپ درست فرماتے ہیں۔ لیکن کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ اس جنگ کی بنیاد کیا ہے؟ چلیے ہم اکتیس جولائی 1947 میں چلتے ہیں جب افغان وزیراعظم شاہ محمد خان نے پاکستان کے قیام کو دیکھتے ہوئے برطانوی سیکرٹری خارجہ سے کہا تھا کہ برطانوی راج ختم ہونے کے ساتھ ہی برطانوی ہند سے کیے گئے معاہدے بھی ختم ہو گئے ہیں۔ اور اسی ترنگ میں افغانستان نے پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے واحد ملک ہونے کا اعزاز پایا جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کی مخالفت کی تھی۔

Nikita Khrushchev, Sardar Daud, Afghan honor guard wearing old German uniforms Kabul 1955

پچاس کی دہائی میں تو افغانستان کے حوصلے اتنے جوان تھے کہ انتیس مارچ 1955 کو افغان وزیراعظم سردار داؤد خان نے ریڈیو پر پاکستان کے خلاف ایک اشتعال انگیز تقریر کی اور پاکستان مخالف ہنگامے پھوٹ پڑے۔ کابل میں پاکستانی پرچم کو نذر آتش کر دیا گیا اور کابل اور جلال آباد میں پاکستانی سفارت خانوں پر حملہ کر کے لوٹ مار کی گئی۔ ایک دن بعد ہی پاکستانی پرچم دوبارہ جلایا گیا اور پاکستان نے سفارتی تعلقات ختم کرنے کی دھمکی دی۔ لیکن پھر ترکی، سعودی عرب، مصر اور ایران درمیان میں پڑے، اور ساڑھے تین مہینے بعد تیرہ ستمبر کو پاکستان نے افغانستان کی معذرت کو قبول کر لیا اور کابل کے پاکستانی سفارت خانے پر پاکستانی پرچم دوبارہ لہرانے لگا۔ ایک بار پھر، ستمبر 1961 سے لے کر مئی 1963 تک تعلقات اس حد تک بگڑے ہوئے تھے کہ پاکستان نے افغانستان سے سفارتی، تجارتی اور ٹرانزٹ تعلقات منقطع رکھے۔

جناب صدر، پاک افغان تعلقات معطل کرنے کی وجہ نہایت معمولی سی تھی۔ آپ چاہتے تھے کہ پاکستان میں موجود پشتون اور بلوچ علاقے افغانستان میں شامل کر دیے جائیں اور اس مقصد کے لیے آپ نے اپنی باضابطہ اور بے ضابطہ فوج کو قبائلیوں کے بھیس میں پاکستانی علاقوں میں لڑنے کے لیے بھیج دیا تھا۔ پاکستان نے پہلے تو اگست 1961 میں سرحد بند کی، اور پھر ستمبر مِں سفارتی تعلقات منقطع کر دیے گئے۔ اس جنگ جویانہ پالیسی کے باعث افغان معیشت تباہ ہونے لگی۔ یہ نظر آنے لگا کہ یا تو پاکستانی صدر ایوب خان اقتدار سے ہٹیں گے تو پاک افغان تعلقات بہتر ہوں گے، یا پھر افغان وزیراعظم سردار داؤد کو گھر جانا ہو گا۔ مارچ 1963 میں افغان بادشاہ ظاہر شاہ نے سردار داؤد کو گھر بھیج دیا اور ڈاکٹر محمد یوسف کو وزیراعظم مقرر کر دیا۔ مئی 1963 میں دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات بحال ہو گئے اور پاکستان نے پاک افغان بارڈر کھول دیا۔

کسی وجہ سے افغانوں کی ایک بڑی تعداد کو یقین واثق ہے کہ ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ صرف سو سال کے لیے تھا اور 1993 میں یہ ختم ہو چکا ہے۔ کسی بھی تاریخی دستاویز میں معاہدے کے سو سال تک یا کسی بھی مخصوص مدت کے لیے ہونے کا ذکر نہیں ملتا ہے۔ ہوا یوں کہ 1970 کی دہائی تک پاکستان میں افغانستان کی یہ مہم جوئی جاری رہی تاکہ غیر روایتی جنگ، شورش اور سازش کے ذریعے افغانستان یہ علاقے حاصل کر لے۔

afghans-protest-against-pakistan

لیکن پھر ستر کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کا اقتدار سنبھالا۔ انہیں پشتونستان کے مسئلے میں افغان حکومت کی کارستانیوں نے ستایا تو انہیں افغانستان میں کمیونسٹ حکومت کے تحت اسلام کو خطرہ نظر آنے لگا۔ انہوں نے افغان طلبا احمد شاہ مسعود، گلبدین حکمت یار اور برہان الدین ربانی سمیت پانچ ہزار مجاہدین کو کفر کی اس یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے تربیت اور اسلحہ دیا اور پہلی مرتبہ افغانستان کی پالیسی کو افغانستان پر ہی الٹا دیا۔ چالیس پینتالیس برس گزر گئے ہیں، لڑائی افغانستان میں ہی ہو رہی ہے۔

پاکستان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ پاکستان آج بھی افغانستان میں لڑ رہا ہے۔ سرکار، جناب صدر، اشرف غنی صاحب، اگر پاکستان یہ نہیں کرے گا تو افغان یہاں پاکستان میں لڑیں گے۔ پاکستان نے یہ تجربہ اپنے ابتدائی پچیس برس میں کر کے دیکھ لیا ہے۔ سو اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ غیراعلانیہ جنگ، یہ غیر علانیہ عداوت ختم ہو تو پھر ڈیورنڈ لائن کو ویسے ہی بین الاقوامی سرحد مانیں جیسے باقی ساری دنیا مانتی ہے۔ ورنہ پھر پاکستان کو اپنے دفاع میں وہی کرنا پڑے گا جو کہ وہ کر رہا ہے۔ جناب صدر، آپ پہلے اپنے ملک کو تو سنبھالیں، آپ پاکستانی پشتونوں کو افغانستان میں لینا چاہتے ہیں، جبکہ آج تو افغان پشتون بھی پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں اور واپس جاتے ہوئے روتے پیٹتے ہیں۔

shah-queen-bhuttos

ہمارا دوسرا برادر اسلامی ملک جو ہمارے ہمسائے میں ہے، وہ ایران ہے۔ ایران پہلا ملک تھا جس نے سرکاری طور پر پاکستان کو تسلیم کیا تھا۔ شاہ ایران کے دور میں پاکستان اور ایران کے تعلقات واقعی برادرانہ رہے۔ بھارت سے جنگوں میں شاہ ایران کی طرف سے پاکستان کی کھلی مدد کی گئی۔ یہ بھی روایت ہے کہ 71 کی جنگ میں پاکستان طیاروں کو بھارتی حملے سے محفوظ کرنے کی خاطر ایرانی ہوائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ لیکن پھر ایران میں اسلامی انقلاب آ گیا جو کہ باقی ساری دنیا میں برآمد کرنا لازم قرار پایا۔

پاکستان میں سعودی عرب اور ایران کی پراکسی جنگ شروع ہو گئی جس سے ہم آج تک فیض یاب ہو رہے ہیں۔ برادر اسلامی ملک ایران کی اسلامی انقلابی حکومت نے ہمیشہ بھارت کو پاکستان پر ترجیح دی۔ پھر ایسا ہوا کہ پاکستان نے گوادر نامی ایک بندرگاہ کی تعمیر بھی شروع کر دی۔ اس بندرگاہ کا اتنا درد بھارت کو نہیں تھا جتنا کہ ہمارے برادر خلیجی اسلامی ممالک کو اٹھا اور بلوچستان میں شورش کو انہوں نے خوب سپورٹ کیا۔ ابھی کلبھوشن یادیو کا معاملہ تازہ ہے۔

تاہم ایران کا کہنا ہے کہ پاکستانی میڈیا میں بھارتی جاسوس کی گرفتاری سے متعلق ایسی باتیں پھیلائی گئی ہیں جس سے ایران اور پاکستان کےدرمیان موجود دوستی اور اخوت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار کے مطابق پاکستان نے کلبھوشن یادیو کے اقبالی بیان کی روشنی میں اس کے ساتھی راکیش عرف رضوان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے اور اُنھیں پاکستان کے حوالے کرنے کے بارے میں ایرانی حکام سے رابطہ کیا ہے۔

ایرانی بھائیو، یہ جو آپ کا میڈیا پاکستان کے بارے میں اناپ شناپ لکھتا رہتا ہے، کیا کبھی آپ کو یہ خیال آیا ہے کہ اس کی وجہ سے ایران اور پاکستان کےدرمیان موجود دوستی اور اخوت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ یہ جو آپ کے بارڈر گارڈ پاکستانی رینجرز پر فائرنگ کرتے رہتے ہیں، اور پاکستان سرحدی بستیوں پر دھاوے بولتے ہیں، کیا ان کی وجہ سے اس دوستی اور اخوت میں اضافہ ہوتا ہے؟ آپ کے چابہار میں جو بھارت ایک بندرگاہ تعمیر کر رہا ہے، کیا وہ آپ کی پاکستان سے محبت بڑھانے کے لیے ہے؟

کیا قسمت پائی ہے ہم نے بھی۔ ہمارے چار ہمسائے ہیں، لادین چین جو پاکستان کا سب سے قابل بھروسہ دوست ہے، ہندو اکثریتی بھارت، جو دشمن ہے، اور اسلامی برادر ممالک ایران اور افغانستان جو اسلامی برادری کو بھول کر غیر برادر بھارت کے ساتھ ہیں۔

ہماری خوش قسمتی ہو گی اگر افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں، لیکن جب تک افغان ہمارے ایک بڑے علاقے کو اپنا قرار دے کر دشمنی ڈالے رکھیں گے اور شورش برپا کریں گے تو تعلقات کیسے اچھے ہوں گے؟ جب ایران اپنا انقلاب ہمارے سر تھوپنا چاہے گا اور گوادر کو ناکام بنانے کے لیے ہمارے ساتھ حسن سلوک کرے گا اور بھارتیوں کا اس مقصد کے لیے ایک ایکٹو پارٹنر بنے گا، تو ہم اسے دوست کیسے سمجھیں گے؟

بخدا یہ دونوں اگر پاکستان کے برادر ممالک ہیں، تو یہ دونوں پھر پاکستان کے برادران یوسف والے برادر ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 324 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

13 thoughts on “پاکستان کے برادران یوسف ہمسائے

  • 01-04-2016 at 5:55 pm
    Permalink

    Well done sir

  • 01-04-2016 at 10:54 pm
    Permalink

    پاکستان کی حالت ایک ایسے غنڈے کی ہے جو ایک بڑے غنڈے اور اس کے دو چھوٹوبدمعاش ٹائپ ٹپوریوں کے بیچ پھنسا ہوا ہے۔ ایران کے خود ساختہ روح اللہ اور آیت اللہ آستین کے سانپ ہیں۔ یہ وہی ممالک ہیں جنہوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی۔ افغانستان نے تو اس حماقت کی وجہ سے اپنا ستیاناس کر کے رکھ دیا ہے۔ چلے تھے وزیرستان کو چھیننے اور اپنے لاکھوں شہریوں کو مروا بیٹھے۔ پاکستان میں موجود افغانی اور ایرانی ایجنٹوں، جو ایم ڈبلیو ایم اور کبھی اے این پی اور کبھی تحریک جعفریہ پاکستان بن کر زہر اگلتے رہتے ہیں، کو ایکسپوز کرتے رہنا ہر محبِ وطن پاکستانی پر فرض ہے۔ پاکستان کی ریاست اور حکومتیں اپنی حرکتیں ٹھیک نہیں کرتی ہیں تو یہ شورش اسی طرح جاری رہے گا۔ حلوہ خور اور فضلہ خورمولویوں نے پاکستان کو بربادی کے راستے پر ڈال دیا ہے۔ اس ملک کی سلامتی کا ضامن ایک ایسے تکثیریت پسند معاشرے تشکیل ہے جس میں مذہب انفرادی عمل ہو اور ریاست کا مذہب سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ورنہ اسی طرح اغیار اور اپنوں کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے آدھا ملک پھر کھو دیں گے۔

  • 01-04-2016 at 10:57 pm
    Permalink

    yaar kakar taira matha chuumnay ko dil ker raha hy

  • 02-04-2016 at 12:13 pm
    Permalink

    Pakistan probably has woken up to Iranian reality.

  • 02-04-2016 at 3:22 pm
    Permalink

    عدنان خان کاکڑ زندہ باد۔ بہت عمدہ اور حق پر مبنی تجزیہ ہے۔ سیاست اور بین الاقوامی معاملات میں برادر نہیں ہوتے۔ ہمسایہ ممالک اور دوست یا مخالف ملک ہوتے ہیں جن کے ساتھ تعلقات ہر ملک کی اپنی ضروریات پر مبنی ہوتے ہیں۔ ان برادر ملکوں کے علاوہ ہمارا یہی رویہ فلسطین کے بارے میں ہے۔ ہم اسرائیل کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں مگر یاسر عرفارت کو بھارت ہمیشہ پاکستان سے بڑھ کر عزیز تھا۔ مصر کے جمال عبد الناصرنے ہمیشہ انڈیا کا ساتھ دیا مگر ہم لاہور میں گول باغ کو ناصر باغ کا نام دے دیتے ہیں۔ آج بھی کچھ لوگوں کی ہمدردیاں پاکستان کے بجائے سعودیہ سے ہیں اور کچھ کو ایران عزیز تر ہے۔ جن کے آبا نے پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی انہیں آج بھی انڈیا زیادہ پیارا لگتا ہے اور جناح صاحب کو گالی دے کر دل خوش کرتے ہیں۔ بے چارہ سادا دل پاکستانی حیران و پریشان ہے کہ وہ کدھر جائے۔ ایک بار پھر مبارک باد۔ ایسی مبنی بر حقائق تحریروں کی بہت ضرورت ہے۔

  • 03-04-2016 at 9:44 am
    Permalink

    ریاستی لبرل ریاستی اسٹیپلشمنٹ زندہ باد۔۔۔یہی کام ارویا مقبول کرے تو غلط لیکن آپ لوگ کر لو ٹھیک☺

  • 03-04-2016 at 9:10 pm
    Permalink

    ارے واہ! میں تو پاگل ہو رہا تھا کہ یہ امریکی کیوں پاکستانی کا لفظ سن کر چونکتے ہیں، لگتا تھا کہ کہیں ہم واقعی دہشت گرد تو نہیں ہیں۔ اس تحریر نے تو میری آنکھیں کھول دیں کہ واقعی مغرب ہمارے خلاف سازشیں کر رہا ہے، ہم تو فرشتے ہیں کیونکہ جو پالیسی افغانستان نےابتدائی ۲۵ سال میں پاکستان کے لیے اپنائی وہ ہم باقی ۵۰ سال میں اُس کو لوٹا رہے ہیں۔ مگر یہ اُس کی سزا ہے کیونکہ وہ غلط تھا اور اب ہم وہی اُس کے ساتھ کر کے صحیح کر رہے ہیں۔ آج سے میں سینہ تھان کر خود کو پاکستانی کہوں گا۔ وہ پاکستانی جوتقریباً چاروں طرف سے اپنے دشمن ہمسایوں میں گھرے ہونے کے باوجو ابھی تک قائم و دائم ہے۔

  • 04-04-2016 at 4:39 pm
    Permalink

    ویسے پیارے عدنان کاکڑ
    چلیں یہ سب تو یوسف کو کنویں میں ڈالنے والے برادران یوسف ہوگئے، لیکن ہمارا بن یامین یعنی مشرقی پاکستان یعنی کہ بنگلہ دیش اپنے خیرخواہ و ممدوح پاکستان سے بیزار ہوا اور بھاری تاوان ادا کرکے جان چُھڑائی ؟
    یہ کیسا یوسف ہے جس کے اپنے بیٹے بلوچ، سندھی، مہاجر ، سرائیکی اور پشتون بھی کچھ کم ناراض نہیں ہیں۔ کیا کریں باپ کا خلوص انہیں نظر ہی نہیں آتا

    • 04-04-2016 at 5:00 pm
      Permalink

      پیارے علی ارقم۔ اس مضمون کا دائرہ ہمسایوں تک محدود ہے۔ شاید آپ نے غور نہیں کیا ہے۔

      کل کائنات کے سارے مسائل ایک مختصر مضمون میں سمو دینا آپ کے لیے تو ممکن ہے، لیکن یہ عاجز ایک کم علم شخص ہے۔

  • 05-04-2016 at 1:10 am
    Permalink

    عدنان صاحب، آپ کے مضمون پڑھ کر لگتا ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرتی علوم(مطالعہ پاکستان) پڑھ رہے ہوں۔۔ آپ نے اپنے مضمون میں وہی لکھا ہے جو زید حامد ٹی وی پر بولتا رہتا ہے بس آپ اور زید حامد میں صرف ایک فرق رہ گیا ہے وہ ہے سرخ ٹوپی،، آپ بھی ایک عدد سرخ ٹوپی خرید لیں اور بس ہر مضمون میں پاکستان نصاب لکھتے رہنا۔ دھندہ چلتا رہیگا۔۔
    عدنان صاحب، آپ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ پاکستانی پشتون اور افغانی پشتون؟؟؟ اس سے لگتا ہے کہ آپ آئی ٹی کنسلٹنٹ نہیں بلکہ کسی سرکاری مڈل اسکول میں ٹیچرہوں۔۔ کیونکہ آپ کے ان الفاظ اور مطالعے سے آپ کی حقیقت ظاہر ہوتی ہے۔۔
    آپ کی کم علمی اور بوٹ پالشی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آپ نے اپنی مضمون میں یہ بھی لکھا ہے کہ خلیجی ممالک بلوچستان میں شورش کو ہوا دے رہے ہیں
    عدنان صاحب، آپ نے یہ بات جس کو خوش کرنے کیلئے کہی ہے اس پر وہ بھی ہنس رہے ہونگے۔۔
    ویسے آپ نے خود علی ارقم کے جواب میں کم علم شخص ہونے کا اقرار کیا ہے ۔۔ پھر تو سب کو سمجھ آگیا ہوگا۔ کہ آپ کتنے پانی میں ہے۔۔
    عدنان صاحب، جب آپ خود کم علم شخص ہونے کا اعتراف کرتے ہوں۔ تو گذارش یہ ہے کہ کم علم شخص کو مضمون نہیں لکھنا چاہئے، انہیں بے سروپا تجزیے نہیں کرنا چاہئے ۔۔ آپ کو سب سے پہلے تو اپنے پیشے پر توجی دینا چاہئے۔۔ اگر پھر بھی لکھنے کا بڑا شوق ہے تو پھر پاکستانی نصاب سے ہٹ کر کچھ اچھے لکھاریوں کی کتابیں پڑھ لینا۔۔ تب جاکر آپ کو پتہ چل جائیگا کہ حالات کیا ہیں؟ اورحقیقت کیاہے؟؟

  • 05-04-2016 at 1:10 am
    Permalink

    عدنان صاحب، آپ کے مضمون پڑھ کر لگتا ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرتی علوم(مطالعہ پاکستان) پڑھ رہے ہوں۔۔ آپ نے اپنے مضمون میں وہی لکھا ہے جو زید حامد ٹی وی پر بولتا رہتا ہے بس آپ اور زید حامد میں صرف ایک فرق رہ گیا ہے وہ ہے سرخ ٹوپی،، آپ بھی ایک عدد سرخ ٹوپی خرید لیں اور بس ہر مضمون میں پاکستان نصاب لکھتے رہنا۔ دھندہ چلتا رہیگا۔۔
    عدنان صاحب، آپ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ پاکستانی پشتون اور افغانی پشتون؟؟؟ اس سے لگتا ہے کہ آپ آئی ٹی کنسلٹنٹ نہیں بلکہ کسی سرکاری مڈل اسکول میں ٹیچرہوں۔۔ کیونکہ آپ کے ان الفاظ اور مطالعے سے آپ کی حقیقت ظاہر ہوتی ہے۔۔
    آپ کی کم علمی اور بوٹ پالشی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آپ نے اپنی مضمون میں یہ بھی لکھا ہے کہ خلیجی ممالک بلوچستان میں شورش کو ہوا دے رہے ہیں
    عدنان صاحب، آپ نے یہ بات جس کو خوش کرنے کیلئے کہی ہے اس پر وہ بھی ہنس رہے ہونگے۔۔
    ویسے آپ نے خود علی ارقم کے جواب میں کم علم شخص ہونے کا اقرار کیا ہے ۔۔ پھر تو سب کو سمجھ آگیا ہوگا۔ کہ آپ کتنے پانی میں ہے۔۔
    عدنان صاحب، جب آپ خود کم علم شخص ہونے کا اعتراف کرتے ہوں۔ تو گذارش یہ ہے کہ کم علم شخص کو مضمون نہیں لکھنا چاہئے، انہیں بے سروپا تجزیے نہیں کرنا چاہئے ۔۔ آپ کو سب سے پہلے تو اپنے پیشے پر توجی دینا چاہئے۔۔ اگر پھر بھی لکھنے کا بڑا شوق ہے تو پھر پاکستانی نصاب سے ہٹ کر کچھ اچھے لکھاریوں کی کتابیں پڑھ لینا۔۔ تب جاکر آپ کو پتہ چل جائیگا کہ حالات کیا ہیں؟ اورحقیقت کیاہے؟؟

  • 05-04-2016 at 1:16 am
    Permalink

    عدنان صاحب، آپ کا مضمون پڑھ کر لگتا ہے کہ آپ ابھی تک پاکستانی معاشرتی علوم(مطالعہ پاکستان) پڑھ رہے ہوں۔۔ آپ نے اپنے مضمون میں وہی لکھا ہے جو زید حامد ٹی وی پر بولتا رہتا ہے بس آپ اور زید حامد میں صرف ایک فرق رہ گیا ہے وہ ہے سرخ ٹوپی،، آپ بھی ایک عدد سرخ ٹوپی خرید لیں اور بس ہر مضمون میں پاکستان نصاب لکھتے رہنا۔ دھندہ چلتا رہیگا۔۔
    عدنان صاحب، آپ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ پاکستانی پشتون اور افغانی پشتون؟؟؟ اس سے لگتا ہے کہ آپ آئی ٹی کنسلٹنٹ نہیں بلکہ کسی سرکاری مڈل اسکول میں ٹیچرہوں۔۔ کیونکہ آپ کے ان الفاظ اور مطالعے سے آپ کی حقیقت ظاہر ہوتی ہے۔۔
    آپ کی کم علمی اور بوٹ پالشی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آپ نے اپنی مضمون میں یہ بھی لکھا ہے کہ خلیجی ممالک بلوچستان میں شورش کو ہوا دے رہے ہیں
    عدنان صاحب، آپ نے یہ بات جس کو خوش کرنے کیلئے کہی ہے اس پر وہ بھی ہنس رہے ہونگے۔۔
    ویسے آپ نے خود علی ارقم کے جواب میں کم علم شخص ہونے کا اقرار کیا ہے ۔۔ پھر تو سب کو سمجھ آگیا ہوگا۔ کہ آپ کتنے پانی میں ہے۔۔
    عدنان صاحب، جب آپ خود کم علم شخص ہونے کا اعتراف کرتے ہوں۔ تو گذارش یہ ہے کہ کم علم شخص کو مضمون نہیں لکھنا چاہئے، انہیں بے سروپا تجزیے نہیں کرنا چاہئے ۔۔ آپ کو سب سے پہلے تو اپنے پیشے پر توجی دینا چاہئے۔۔ اگر پھر بھی لکھنے کا بڑا شوق ہے تو پھر پاکستانی نصاب سے ہٹ کر کچھ اچھے لکھاریوں کی کتابیں پڑھ لینا۔۔ تب جاکر آپ کو پتہ چل جائیگا کہ حالات کیا ہیں؟ اورحقیقت کیاہے؟؟

Comments are closed.