ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت


aqdas sandhila واشنگٹن میں پچاس سے زائد ممالک کے لیڈران نیوکلیرسکیورٹی سمٹ میں شرکت کرنے کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔اس سمٹ کا آغاز صدر اوباما نے کیا تھا اور یہ ہر دو سال بعد منعقد ہوتی ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی چوتھی سمٹ ہے، اس پہلے تین دفعہ اس سمٹ کا انعقاد 2010 میں واشنگٹن، 2012 میں سیوئل، 2014میں ہیگ میں ہو چکا ہے۔ان تمام کانفرنسوں  میں اس امر پر زور دیا گیا  کہ  تمام ممالک کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ نیوکلیر سکیورٹی کو یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی دہشت گرد گروہ یا نان سٹیٹ ایکٹرزکےہاتھ نیوکلیر ٹیکنالوجی نہ لگ سکے۔ حالیہ سمٹ میں سب سے زیادہ زور آئی ایس آئی ایس اورداعش کی سرگرمیوں پر ہو گا اور یہ بحث کی جائی گی کہ کس طرح اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ داعش ایٹمی مواد  تک رسائی نہ حاصل کر سکے کیونکہ اگر ایسا ہو گیا تو یہ امن عالم کے لیے ایک بہت کاری ضرب ثابت ہو سکتی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق  دینا بھر میں دو سو ٹن کے قریب نیوکلیر موادملٹری یا سویلین پروگرامز میں استعمال ہو رہا ہے ۔ آئی ایس آئی ایس بہت عرصے سے اس مواد تک رسائی کی کوشش کر رہی ہے تا کہ وہ ایک نیوکلیر بم تیار کر سکے۔ اگر ایسا ممکن ہو گیا تو دنیا کو ایک بہت بڑی تباہی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ صدر اوباما کے مطابق وہ اسی تباہی سے دنیا کو بچانا چاہتے ہیں اور اسی لیے وہ اس سمٹ کا انعقاد کرواتے ہیں تاکہ دنیا کو یہ باور کروایا جا سکے کہ ایٹمی سیفٹی کس قدر اہم ہے۔ اس کے علاوہ اس سمٹ میں اس بات کا بھی جائزہ لیاجاتا ہے  کہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کےلیے کن ممالک نے کیا اقدامات کئے ہیں۔ سب سے زیادہ توجہ کا مرکز وہ ممالک بنتے ہیں جن کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔ اب تک دینا میں ایسے آٹھ ممالک ہیں جو ایٹمی صلاحیت رکھتے ہیں اور پاکستان ان میں سے ایک ہے۔  جب بھی ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی بات آتی ہے تو عالمی برادری کی نگاہیں پاکستان کی طرف اٹھنے لگتی ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا ایٹمی مواد کے پھیلاؤ کی سر گرمیوں میں شامل ہونا ہے۔ اپنی کتاب شاپنگ فار بم میں گورڈن کوریرہ ڈاکٹر اے کیو خان کے خفیہ گروہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوے کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب نے ایران ، کوریا  اور لیبیا کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کی۔ یہ بات منظر عام پر آنے کے بعد پاکستان کی دنیا بھر میں خاصی سبکی ہوئی اورڈاکٹر صاحب کو قوم سے معافی مانگنا پڑی۔

 پاکستان پر عالمی دباؤ کی دوسری بڑی وجہ  یہاں پر بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور سکیورٹی کی ناقص صورتحال ہے۔عالمی برادری کے مطابق جو دہشت گرد جی ایچ کیو میں گھس سکتے ہیں، نیوی ڈاک یارڈ پر حملہ کر سکتے ہیں، ہماری مسجدوں، اسکولوں اورپارکس میں حملہ کر سکتے ہیں وہی دہشتگرد ایٹمی ہتھیاروں یا ایٹمی مواد تک رسائی کیوں نہیں پا سکتے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جو کوئی بھی ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت سے متعلق خدشات کا اظہار کرتا ہے اسے ملک دشمن تصور کیا جا تا ہے، مگر میرے نزدیک یہ ملک دشمنی نہیں ہے۔ کل ہی صورتحال کو دیکھ لیجئے ، کس طرح ایک گروہ نے ایک چار دن تک ریڈ زون پر قبضہ کیا،  سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، دارلخلافہ میں موبائل فون سروس معطل رہی ، لوگوں کو لاؤڈ اسپیکر پر گالیاں دی گئیں، مذہبی شدت پسندی اور نفرت کے جذبات کو  بھڑکایا گیا،  اور پھر آخر میں انہی لوگوں کو باعزت گھر جانے دیا گیا اور ہماری حکومت اس بات پر شادیانے بجاتی رہی کہ ان کی کوئی بڑی ڈیمانڈ تسلیم نہیں کی گئی۔ ہمارے ملک میں احساس ذمہ داری تو بالکل ندارد ہے۔غیر ملکی ڈپلومیٹس نے کیا یہ تماشا نہیں دیکھا  ہو گا؟ کیا غیر ملکی میڈیا نے اس سب کی رپورٹنگ نہیں کی ہوگی؟ کیا دنیا نے یہ نہیں دیکھا کہ کس طرح پاکستان میں حکومتی رٹ کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں؟ اس صورتحال میں دنیا کیا آپ سے یہ کہے گی کہ بناؤ بناؤ ! اور ہتھیار بناؤ۔ ۔۔اور بھارت کے ساتھ ہتھیاروں کی ریس لگاؤ۔

ریس سے یاد آیا کہ فرید زکریا نے اپنے ایک پروگرام میں پاکستان سے متعلق یہ انکشاف کیا ہے کہ پچھلے چار سال میں پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں  44 فیصد اضافہ ہوا ہے، اور اگر پاکستان اسی رفتار سے ایٹمی ہتھیار بناتا رہا تو 2025 تک پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد250 ہو جائے گی۔اور اس طرح پاکستان ایٹمی ہتھیار رکھنے ولا پانچواں بڑا ملک بن جائے گا۔اس کے علاوہ پاکستان کے پاس “ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار” بھی ہیں، جن کو دوران جنگ فورا استعمال کیا جاسکتا ہے اورچونکہ یہ سائز میں چھوٹے ہوتےہیں،لہذاان کو چرانا بھی آسان ہے۔عالمی برادری اور خصوصا امریکہ کی طرف سے بارہا یہ کوشش کی گئی ہے کہ پاکستان کی حکومت کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ کر لیا جائے جس کے ذریعے پاکستان کی حکومت نہ صرف اپنے ایٹمی پروگرام کے حجم کو کم کرے بلکہ  “اسنیچ اینڈ گریب”کی پالیسی اپنانے پر بھی مجبور کرے۔ اس کے مطابق کسی دہشت گردوں کی یلغار یا جنگ کی صورت میں امریکی فوجی پاکستان سے ایٹمی ہتھیار لے جائیں گے تا کہ انہیں دہشتگردوں کی پہنچ سے دور رکھا جا سکے، جس طرح کچھ ادوایات کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھا جاتا ہے۔ پاکستان نے  اس مطالبے کی پرزور مزاحمت کی ہے۔ پاکستان نے ابھی تک این پی ٹی یا سی ٹی بی ٹی کے معاہدوں پر دستخط نہیں کیے جس کی وجہ سے عالمی برادری ہم سے مزید خائف ہے۔

ایٹمی دہشتگردی آج کی دینا کا ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے۔ کچھ ممالک ایٹمی مواد کی حفاظت میں کوتاہی برت رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ ایٹمی سمٹ جیسے مواقع کا بھر پور فائدہ اٹھائیں اوراس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ تمام حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔  اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔ کیونکہ داعش جیسے گروہ کے ہاتھ اگر یہ مواد لگ گیا تو ان سے کچھ بعید نہیں ہے کہ وہ اسے نہتے انسانوں کے خلاف استعمال نہیں کریں گے۔ اس سے پہلے بھی ہم ان کی جانب سے کیمیکل گیس کا استعمال  دیکھ چکے ہیں، امید کرتی ہوں کہ انسانیت پر وہ وقت نہ آئے کہ جب ہمیں دوبارہ کوئی ہیروشیما یا ناگاساکی دیکھنا پڑے۔پاکستان کو بھی چاہیے کہ ایک ایٹمی ملک ہونے کے ناطے ہم اپنے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد کو بڑھانے کی بجائے ان کی حفاظت کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کو بڑھائیں۔


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت

  • 01-04-2016 at 10:12 pm
    Permalink

    کیا بات ہے، اسنیچ اینڈ گریب پالیسی۔ گویا اس پالیسی کے حق میں ہمیں بھی دستخط کر دینے چاہئیں۔ فاضل مصنفہ سے توقع ہے کہ انہوں نے پہلے اس حوالے سے معلومات حاصل کر لی ہوں گی کہ یہ چھوٹے پیمانے پر استعمال ہونے والے ٹیکٹیکل ہتھیار کیوں بنائے گئے ہیں؟ کیا ان کی وجہ تھی اور ان کی وجہ سے ملک پر امنڈتے کیسے سیاہ بادل چھٹے ہیں ؟

  • 01-04-2016 at 11:09 pm
    Permalink

    جناب اگر آپ غور سے پڑھیں تو معلوم ہو گا کہ میں نے سنیچ اینڈ گریب کی حمایت نہیں کی. رہی بات ٹیکٹیکل ویپن کی تو امریکہ اور رشیاء بھی ان کی تعداد کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں.

  • 02-04-2016 at 4:07 pm
    Permalink

    این پی ٹی پر دستخط ایٹمی دھماکوں کے بعد بے معنی ھوجاتے ہیں کیونکہ یہ معاہدہ ہی غیر افزودگی کا ھے

  • 03-04-2016 at 12:07 am
    Permalink

    اور امریکہ اور اس کے اتحادیون نے عراق،شام اور یمن میں جو لاکھوں بے گناہ لوگ بغیر ایتمی ہتھیار مارڈالے ،،ان کا کیا

Comments are closed.