ایک ملحد سے مکالمہ


ali arqam

بھکاری بنامِ خُدا مدد کا طالب ہوا، رحم کی التجا کی’ چند سکّے، کُچھ مُڑے تڑے نوٹ پالیئے۔

میرے پاس بیٹھے شخص نے بھی ایک نوٹ بڑھایا اور تسبیح پر اُنگلیاں پھیرتے ہوئے زیر لب کچھ بڑبڑاتا رہا ۔

پھر اگلے اسٹاپ پر ایک آٹھ سال کی بچی بس میں سوار ہوئی اور ایک مشہور نعت کے کچھ حصے ترنم کے ساتھ پڑھنے کے بعد مالی مُشکلات، باپ کی بیماری، ماں کی بے چارگی کے عنوان سے کچھ اعانت کی طالب ہوئی۔

چند سکے اور اک نوٹ اس کے حصّے میں بھی آئے، اُس نے دعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے تو بغل کے پاس اس کی پھٹی ہوئی قمیض میں سے اس کے کمزور بازو اور استخوانی بدن جھلک رہا تھا۔

میرے پاس بیٹھے شخص نے ایک نوٹ اُس کی طرف بڑھایا پھر اُس نے بچی کی حالت، اس کی پھٹی ہوئی قمیض اور بغل میں پڑے سوراخ کی طرف اشارہ کر کے تاسف سے سر ہلایا۔

“مُسلمانوں کی بیٹی کو دیکھو کس حال میں ہے؟ “

میں نے عرض کیا، “غریب کی بیٹی کہیئے سرکار! مُسلمان تو ایک سیاسی شناخت کا عنوان ہے،جو تبھی حوالہ بنے گا جب مُقابل کوئی اور مذہب، کوئی مسلک ہو،  بے چارگی و محرومی قابل اعتناء تب ہی ٹہرے گی جب کسی طرح سے یہ ثابت کیا جاسکے کہ اس کو مُسلط کرنے والا ہمارے مذہب کا نہیں ہے”۔

وہ مُسکرایا اور کہا،”یعنی کہ جب تک کوئی نعرہ، کوئی پرچم نہ ہو، کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگے گی۔

پر یہ بچی بھی تو مذہبی حسیات کو ہی مخاطب کر کے اعانت کی طالب ہوئی تھی، پھر اس کی مدد میں اتنا بُخل کیوں؟’

جواب دیا،”لوگ حیلے تراش لیتے ہیں کہ یہ پروفیشنل بھکاری ہیں۔ یہ سب کچھ اسے سکھایا گیا ہے۔ پھردیکھیں نا مُخاطب بھی تو مسافر بس کے سوار ہیں جو دو اور پانچ روپے کے سکّے پر کنڈیکٹر سے تکرار کرتے رہتے ہیں کیوں کہ ہر سّکہ ان کی آمدنی و اخراجات کے بیلنس کو بھگانے کا باعث بنتا ہے”۔

ایسے میں مدرسے کی رسید بُک اور میگا فون ہاتھ میں لئے ایک نوجوان بس کے زنانہ حصے کے دروازے سے نمودار ہوا اور بیچ کا جنگلہ پکڑ کر میگا فون منہ سے لگائے وعدے و وعیدوں سے سجی مسجّع و مقفٰی تقریر شروع کردی۔ اس بار جھنجھلاہٹ کے اظہار میں، میں نے پہل کی، “یہ اردو ادائیگی و تلفظ میں اس قدر مبالغہ آمیزی کی کیا ضرورت ہے؟”

اُس نے معنی خیز انداز میں میری طرف دیکھا اور جواب کی مسند پر براجمان ہو کر کہا، “ارے بھئی دین کی بات تو تجوید کے ساتھ ہو گی نا، جتنی ناقابل فہم ہو، اتنی ہی مرعوبیت بڑھے گی۔”

میں نے اثبات میں سر ہلایا اور کہا “اور اتنی چھوٹی سی بس میں یہ میگا فون؟”

“دلخراشی و سماعت خراشی کے لوازمات ساتھ ساتھ ہیں، تا کہ لوگ سمجھ جائیں کہ اس بلائے ناگہانی سے کچھ دے دلا کر ہی خلاصی ملے گی” اس نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔

اور پھر چند نوٹ لے کر وہ بھی اُتر گیا جس کی مالیت بلاشُبہ بوڑھے بھکاری اور کمسن بچی کے حصے میں آنے والی بھیک سے زیادہ تھی۔

“لو تمہارے مسلمانوں کا احوال، مولوی پر نوٹوں کی برسات کردی، پینسٹھ روپے سمیٹے ہیں اس ایک بس سے” اور پھر وہ پورے دن میں گزرنے والی بسوں اور سواریوں کا حساب کرنے لگا پھر کہا، “مذہبی جذبات وعدے وعیدوں سے زیادہ بھڑکتے ہیں”۔

میں نے کھسیانا سا قہقہہ لگایا اور سوال کیا، میرے مُسلمان! اور آپ کا تعلق کس مذہب سے ہے؟”

اس نے میری طرف ایسے دیکھا جیسے وہ کسی کرکٹ بیٹسمین کی مانند اسی موقع کے انتظار میں تھا اور میں نے یہ سوال کر کے جیسے اُسے کوئی فُل ٹاس دے دی ہو۔ بڑی رسانیت سے کہا،”سارے مذہب میرے ہیں، گرچہ میں مذہب کو انسان کا واہمہ سمجھتا ہوں، فطرت کے قوانین کے سامنے احساس بے چارگی کا اظہار مذہبی رسومات میں ڈھل جاتا ہے”۔ پھر بات آگے بڑھا کر کہا، “خوف کے بطن سے دیوتا جنم لیتے ہیں، کبھی بیٹوں کی بلّی چڑھائی جاتی ہیں ہیں کبھی بیٹیاں دریا بُرد کی جاتی ہیں اور کبھی فصل و آمدن میں خراج سے مداوا کرنے لگتے ہیں، لیکن میں ان سب واہموں، وسوسوں اور خوش گمانیوں کو اپناتا بھی ہوں، یہ میرا حصہ ہیں اور میں ان کا حصہ ہوں۔

“یہ تو صدیوں سے چلا آرہا جھمیلا ہے جو کسی نہ کسی صورت میں رہتا ہی ہے پر اصل مسئلہ تو مذہب اور سیاست کے اشتراک نے پیدا کیا ہے۔”

پیغمبر ابراہیم نے سماجی رویوں کی بنیاد عقیدے پر رکھنا چاہی تو دربار خداوندی سے تادیب ہوئی اور کہا، “ابراہیم تم کون ہوتے ہو میرے اور بندے کے درمیان تعلق، ایمان و اعتقاد پر سماجی برتاؤ کی بنیاد رکھنے والے؟”

“جس ضعیف بوڑھے کو تم نے جھاڑ پلا کر اپنے دسترخوان سے اُٹھایا کہ اُس نے تمہارے اعتقاد کی تائید و تصویب سے گریز کیا، اسّی سال سے اُس کے رزق کے کفیل کیا تم تھے؟ یہ تو آج کا مذہب ہے جو سیاسی مقاصد اور مذہبی پیشوائی کے مفادات کے ہاتھوں یرغمال ہے۔”

اس نے کہا، “کیا آج اور کیا کل! یہ لفاظی کی باتیں ہیں، شاہ کے دربار سے درجہ استناد پانے والوں نے جب بھی سولی اور مقتل سجایا یا کتابیں جلا کر الاؤ روشن کیئے۔ یا جو مسجد کے زینے پر بیٹھے ابن رشد پر تھوکتے گئے انہیں عنوان ہمیشہ مذہبی پیشوائی نے ہی فراہم کیا۔”

“جو اُن کی زد میں تھے وہ بھی تو مذہب سے ہی دلیل لاتے تھے” میں نے جواب دیا۔

“نہیں ایسا نہیں ہے، بلاشبہ خاص زمانے کے محاورے و اصطلاحات پیرایائے اظہار بنتے ہیں لیکن اس وقت اُن کی معقول دلیل پر بھی کوئی کان نہیں دھرتا تھا۔ یہ تو جب وقت گزرتا تھا اور دہائیوں اور صدیوں بعد نئی صف بندیاں ہوتیں، بحث و مناظرے کے میدان سجتے تو اپنے حریف کو مات دینے کی خاطر، اپنی دلیلیں آراستہ کرنے کی خاطر ان لوگوں کے اقوال چنے گئے جو ماضی کے ادوار میں راندہ درگاہ تھے۔”

“منصور حلاج، ابن عربی اور ابن رشد پر آج شروحات لکھنے والے ماضی میں قتل کے پروانوں پر مہر لگانے والوں اور پتھر پھینکنے والوں کی صف میں تھے”۔

ارے بھائی دور کیوں جاتے ہو دیکھ لو آج کے مذہبی طبلچی سراج الحق کو، کبھی وہ مزدور کسان کی بات کرتا ہے، جاکے سندھ کے ہاری کو گلے لگا کے اس بھٹو کی نقالی کرتا ہے جس پر ایک سو تیرہ مولویوں نے فتوٰی کفر لگایا تھا۔ اب دیکھو اسی جماعت کا امیر العظیم ٹی وی پر بیٹھ کر سوشل ازم کو اسلام کے قریب قرار دیتا ہے، یہی کام کبھی ستر کی دہائی میں ‘مولویز آف انادر کائنڈ’ (کچھ اور طرح کے ملّا) کرتے تھے”

“مذہب ماضی میں پیوست ہے اور ماضی سے جڑے ہر رومان سے تقویت لینے کے راستے بناتا ہے، بس پیرایائے اظہار میں تھوڑی ترمیم کرلیتا ہے”۔

آپ معاش کا معاملہ، سماج کا معاملہ یا جو بھی لے آئیں جب مذہب سے اس کا حوالہ تراشیں گے تو آپ کے حصے میں وہی کچھ آئے گا جو اس بچی اور بوڑھے کے حصے میں آیا اور جو اسی معاد سے جوڑے گا وہ اس میگا فون والے کی طرح میلہ لوٹ کے لے جائے گا۔

میں نے اس کے ہاتھ میں تسبیح کی طرف اشارہ کر کے کہا، “اور آپ اسے کیوں لے لے گھومتے ہیں ؟

“اور یہ ہاتھ میں تسبیح؟ چہ معنی دارد؟”

کہا، “بس ایک عادت “۔

پڑھتے کیا ہیں اس پر ؟

“یا انسان، یا انسان، یا انسان”۔

 


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “ایک ملحد سے مکالمہ

  • 02-04-2016 at 7:38 am
    Permalink

    Ali can u email me i need to discuss one important issue

  • 03-04-2016 at 3:57 am
    Permalink

    زبردست، علی بھائی۔
    کیا اسلوبِ کلام ہے اور کیا نادر خیالات۔ دل جیت لیا آپ نے!

Comments are closed.