تو میں نے دیکھا !


anis aliمیں نے دیکھا کہ وہ ایک ماں تھی۔

زخموں سے چور۔خاک و خون میں غلطاں۔ جان کنی کی حالت میں زمین پر چت پڑی تھی۔

اس کی تیزی سے پتھراتی آنکھوں میں صرف ایک حسرت باقی تھی۔ بس ایک حسرت۔

اپنے پہلو میں چیتھڑا ہوئے بچے پر آخری نظر ڈالنے کی حسرت۔

کہیں وہ تکلیف میں تو نہیں۔ کہیں اسے درد تو نہیں ہو رہا ۔ پر وہ بے حس و حرکت تھی۔ مفلوج ہو چکی تھی۔ نہیں دیکھ پائی۔

اور پھر میں نے دیکھا کہ خون میں لت پت اس کا نومولود ہر طرح کے درد کی حدود سے آگے نکل گیا تھا اور اس کی آنکھیں بند اور شہادت کی انگلی آسمان کے رخ اٹھ کر وہیں ٹھہر گئی تھی۔

آسمان میں ایسا کیا تھا جو وہ ماں کو دکھانا چاہتا تھا !

lahore3اور پھر میں نے دم توڑ چکی ماں کے تلوے پر نظر ڈالی تو میں نے دیکھا کہ وہاں ایک جنت تھی جو سنسان پڑی تھی۔ اس کے باغ ویران تھے اور خزاں رسیدہ پتے ٹوٹ کر ہوا میں ڈولتے نیچے دودھ اور شہد کی خشک ہو تی نہروں کو بھرتے تھے ، جن کے کنارے حوریں سوگوار بیٹھی سسکیاں لیتی تھیں اور اس اجڑی بہشت کے دروازے پر بڑا سا قفل پڑاتھا، جس کے سامنے دراز قامت دربانوں کا پہرہ تھا جن کے قد شمشادوں سے بھی اوپر نکلتے تھے۔

اور پھر میں نے دیکھا کہ شور مچاتا ، آگ اگلتا، اک ہجوم ہے جو اس جانب بڑھا چلا آتا ہے اور شمشادوں سے اونچے دربان اسے دیکھ کر زیر لب مسکراتے ہیں۔

آؤ آؤ!

دربان ہجوم کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ تمہارا ہی انتظار ہو رہا تھا۔

اور پھردھاڑتا، غراتا ہجوم اس بہشت میں داخل ہو جاتا ہے جس کا دروازہ اس ماں کے پاؤں تلے کھلتا تھا جس کا بچہ اس کے پہلو میں لخت لخت پڑا تھا اور جو اسے آخری بار دیکھ  لینے کی حسرت لئے مر گئی تھی اور جس کے مر جانے پر اس کے پاؤں تلے کی جنت ویران ہو گئی تھی۔

پھر میں نے دیکھا کہ آگ اگلتے ہجوم والوں کی شکلیں اس دنیا سے نہ تھیں۔

ان کی زبانیں سانپ کے دو شاخے کی طرح لہراتی اور آنکھیں بچھوؤں جیسی تھیں اور ڈاڑھیاں ایسی جیسے سرکنڈے جو کسی کو چھو جاتیں تو گاڑھا سیاہ خون رسنے لگتا اور جب یہ چلتے تو ان کے شکم باقی جسم سے ایک ہاتھ آگے ہوتے۔

شہد کی خشک ہو چکی نہروں کے اس پار حو روں نے یہ منظر دیکھا تو مسکرائیں اور اشاروں سے انہیں پاس بلانے لگیں۔ بس پھرجذبات سے مغلوب ہوتا ہجوم انہیں بڑھ کر دبوچ لینے کی بھگدڑ میں ایک دوسرے کو رگیدنے لگا۔

لیکن کیا تھا کہ حوروں تک پہنچنے کا فاصلہ کسی طور کم ہی نہ ہوتا تھا ۔ جیسے کوئی الٹے گھومتے پٹے پر دوڑ رہا ہو۔

اور تب میں نے دیکھا کہ میں خواب دیکھ رہا ہوں۔ ایسا کچھ بھی تو نہ تھا۔ نہ جنت ۔ نہ حوریں۔ نہ ان میں داخل ہونے کو بیتاب عفریت۔

میں نے گھبرا کر آنکھیں بند کر لیں۔

کھولیں تو میں نے دیکھا کہ ایک کشادہ راستہ ہے جس کے دونوں اطراف سبزہ لہراتا ہے اور یہ کشادہ راستہ ایک سفید محل کو جاتا ہے جس کے چوراہے پر کسی اجنبی زبان میں مغلظات بکتے عفریتوں کا اک ہجوم ہے، جن کی آنکھوں سے شعلے اور منہ سے آگ برستی ہے اور جن کی ڈاڑھیوں کے سرکنڈے جب ہوا کو چھوتے ہیں تو اس کے ماتھے سے خون ٹپکنے لگتا ہے اور یہ سب کسی لاش کا سودا کر رہے ہیں اور خریدنے والے کو اس جنت کی نوید دیتے ہیں جس کا ہونا یہ کسی ماں کے پاؤں تلے بتاتے ہیں۔

یقیناٌ یہ خواب ہے ۔ ایک ڈراؤنا خواب۔

آہ ! کہ میں اک بھیانک خواب میں زندہ ہوں۔ جس کی تعبیر بھی بھیانک ۔ کیوں۔ کس نے دھکیل دیا ہے مجھے اس خواب میں۔ کون تھے وہ ساحر۔۔

اورپھر اس خواب کے آئینے میں جب میں اپنا چہرہ دیکھتا ہوں تو مجھے اس میں مغلظات بکتا ایک عفریت دکھائی دیتا ہے جس کی آنکھوں سے شعلے نکلتے ہیں اور جس کی زبان سانپ کے دو شاخے کی طرح ہوا کو چاٹتی ہے اور جس کی ڈاڑھی میں سرکنڈے اُگے ہیں جو ہوا کو زخمی کئے دیتے ہیں۔

میں گھبرا کر اور سختی سے آنکھیں میچ لیتا ہوں۔

اور تب میں نے اپنی بند آنکھوں سے دیکھا کہ زمین پر کسی عورت کی لاش پڑی ہے جس کے تلووں پر گرد جمی ہے اور اس کے پہلو میں ایک مردہ بچہ ہے جس کی شہادت کی انگلی آسمان کی جانب اٹھے اٹھے ساکت ہو چکی ہے اورلاش کے گرد آلود تلووں میں ایک جہنم دہکتا ہے جس کے باہرشمشادوں سے اونچے قدوں والے دربان کھڑے ، ہاتھ ہلا ہلا کر سرکنڈوں کی ڈاڑھیوں والے عفریتوں کو بلاتے ہیں۔

آؤ آؤ !

تمہارا ہی انتظار ہو رہا تھا۔


Comments

FB Login Required - comments