ہمارے قاتل کون ہیں؟


erum hafeez دو روز سے میں نے خود کو کاموں میں الجھا رکھا ہے۔ بے مصرف، بے معنی مصروفیت میں بیشتر پاکستانیوں کی طرح میں بھی حقیقت سے فرار کی تلاش میں ہوں لیکن بار بار آفس کے دفتر کی میز پر رکھے کیلنڈر سے جھانکتے بچّے کی تصویر مجھے اپنی جانب متوجہ کر لیتی ہے۔ اُس کے چہرے کی معصومیت اور آنکھوں کی چمک مجھ سے ان گنت سوال کرتی نظر آتی ہے۔

آپ کو پتہ ہے وہ بھی مجھ ہی جیسے معصوم بچے تھے…. کھیل تماشے کے شوقین ، جھولوں کے دلدادہ، دُنیاوی تفرقات، مذہبی منافرت اور فرقہ واریت کے عفریت سے نابلد درجنوں معصوم کلیاں اور سینکڑوں مسکراتے پھول جن کا مذہب محبت، اور مسلک دوستی تھا۔ اور جنھیں منٹوں سیکنڈوں میں خاک و خون میں نہلا کر نہ جانے کتنے خاندانوں کی خوشی اور اُمید ہمیشہ کے لئے چھین لی گئی۔

ہر طرف ایک عجب سراسمیگی کا عالم ہے۔ آج صبح سے دوست بہانے،بہانے سے فون کر رہے ہیں۔ طلبا سٹپٹائے سے دفتر کے چکر کاٹ رہے ہیں بیرونِ ملک مقیم عزیز، رشتے دار خیریت کے متقاضی ہیں اور ہر فورم ہر محفل میں گھوم پھر کر ایک ہی سوال ہے۔” آخر یہ سلسلہ کب تھمے گا۔ کب ختم ہوگا یہ خونی جنون“؟ کوئی جو اِسے روکے؟ کوئی ہے جو ان خارجیوں کو جہنم رسید کرے؟ کہاں ہے حکومت؟ کہاں ہے سول سوسائٹی؟ کہاں ہیں عُلما، مُفکر،ادیب،شاعر، عمال اور محافظ ؟

سوال در سوال ۔ عذاب در عذاب ۔ سانحہ در سانحہ۔۔۔

ایک سزائے مسلسل ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔

بحیثیت قوم نہ ہمارے زخموں کا مرہم رہنماﺅں کے دعوے۔ دلیلیں اور مذمتی بیانات ہوسکتے ہیں نہ ہی ہمیں ہنگامی اجلاسوں اور جھوٹی تسّلیوں کی ضرورت ہے۔ ضرورت ہے تو عمل کی ۔مستند، مستقل ،مضبوط عمل اور لائحہ عمل کی۔محض دہشت گردوں اور نام نہاد مذہب کے ٹھکیداروں سے نمٹنے کے لئے ہی نہیں بلکہ ہر قسم کی انتہا پسند سوچ اور عدم برداشت کے رویے پر قدغن لگانے کے واسطے ۔خواہ اس کا تعلق دائیں بازو سے ہو یا بائیں بازو سے ۔ اس کی بنیاد لبرل ازم اور لادینیت ہو یا نام نہاد جنونیت اور حریت پر۔ اِس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں گر کوئی روشنی کی کرن ہے تو وہ محبت ہے۔ محبت جس کا اظہار اشکوں کی صورت ہو رہا ہے۔ جو لہوبن کر ایک سرنج سے دوسری سرنج میں دوڑ رہی ہے۔ جو زندگی دیتے وقت مذہب نہیں پوچھتی اور جان بچاتے وقت رنگ، نسل، فرقہ بندی سے ماورا ہوتی ہے۔ محبت جو انسانیت کے لئے ہو تو لافانی ہے۔ وہی جذبہ آج ہر پاکستانی اورغیر پاکستانی، ہر مسلمان اور انسان کو بے چین کئے ہوئے ہے۔ ہر طرف یہی سوال ہے ’ہم کچھ کرنا چاہتے ہیں ؟‘ ہم کیا کرسکتے ہیں اُن معصوموں کے لئے جو زندہ ہیں ،زخمی ہیں ،تنہا ہیں۔ گھروں میں، اسپتالوں میں، مندروں، مسجدوں اور چرچ میں ۔

وہ دُکھیا مائیں جن کے لعل جھولا جھولنے گئے تھے اور موت کی آغوش میں جا سوئے۔ وہ بیٹیاں جن کی امّی جان فون پر اب کبھی اُن کی جلترنگ آوازیں نہ سن سکیں گی اور وہ خاندان جو آج لہو لہو، ریزہ ریزہ ہیں خوشیوں اور تفریح کی تلاش میں جانے والے سب ہی اندھیری راہوں کے مسافر جو زندگی کی بازی ہار بیٹھے۔ ہم کیا کر سکتے ہیں اُن کے لے ۔یا شاید اپنے لئے؟

مسجدوں کے بعد امام بارگاہیں، سینما گھروں کے بعد بازار اسکولوں کے بعد یونیورسٹیاں درس گاہوں کے بعد پارک، آخر ہمارے دشمن ، انسانیت کے دشمن کا اگلا ہدف کیا ہو گا ؟ کیا اگلے حملے کے انتظار میں ہم پھر دم سادھے، آنکھیں موندے یں، ریت میں سر دیے بےٹھ جائیں یا کچھ پیش بندی، پیش قدمی ہم پر بھی لازم ہے۔

دُنیا ہم سے سوال کررہی ہے اور دُنیا کو چھوڑیں، خود ہمارے نوجوان ہمارے بچے، ہماری اقلیتیں اور ہمارے لوگ پوچھتے ہیں۔ کیا ہم دہشت گردی کے خلاف واقعی جنگ جیت چکے ہیں ؟ کیا شدت پسندی تختہ دار پر چڑھ چکی ہے؟ کیا ہم دشمن پر کاری ضرب لگا چکے ہیں ؟

اگر ہاں تو یہ کون لوگ ہیں جو سینکڑوں کی تعداد میں جنونیت کا جشن منا رہے ہیں، ملک کے دارالحکومت میں میٹرو بس اڈے اور ریڈ زون میں واقع پارلیمنٹ ہاﺅس پر دھاوا بول رہے ہیں۔بھری بسوں پارکوں، درس گاہوں اور بازاروں میں خود کو اُڑا کر اپنے اہداف پا رہے ہیں اور علی الاعلان اس بربریت اور سفاکیت کا جشن مناتے، مبارکباد دیتے اور ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ اس وعدے کے ساتھ کہ یہ خون کی ہولی جاری رہے گی۔ اس وقت تک جب تک ہرخوشی ، ہر سوال، ہر بحث، منطق اور دلیل کا خاتمہ بالخیر نہ ہو جائے۔


Comments

FB Login Required - comments