خوگر حمد سے گلہ بھی سن


uzair-salar

کہنے کو اتنا کچھ ہے کہ کچھ کہا نہیں جا رہا بس مختصراً یہ کہوں گا کہ سبحان تیری قدرت! جو کام ہم سے مزید کئی دہائیوں تک نہیں ہو سکنا تھا وہ تو انہی کے ہاتھوں کروا رہا ہے، میرا سوہنا مالک ایک نوع کے فسادیوں کو تو متعدد مرتبہ اس پاک سر زمین کی جڑیں کھوکھلی کرتے بےنقاب کر ہی چکا تھا، اب دوسری قبیل کے فتنوں پر بھی اتمام حجت کر رہا ہے ۔

بھولے بھالے اور سادہ لوح عوام کو کالی پیلی ہری چٹی خوش نظر خوشبودار پگڑیوں میں چھپے بدبودار مغز دکھانے پر میں اللہ پاک کا شکر ادا کرتا ہوں اور عوام الناس سے اپیل کرتا ہوں کہ خدارا اپنے بچوں کے مستقبل کو ان دماغی مریضوں سے بچا لیں، ان کی بناوٹی شکلوں پر ہرگز مت جائیں، ان کے ٹھہر ٹھہر کر بولنے، پرتکلف انداز میں چلنے، بات بات پر اللہ رسول کا نام لینے، گفتگو کے دوران ہر ہر فقرے میں کسی آیت یا حدیث کی گرہ لگانے، چھوٹی چھوٹی سنتوں کا اہتمام کر کے خود کو پرہیزگار ثابت کرنے پر بالکل بھی مت جائیں، جان لیجیے کہ خودکش بمبار کے پھٹنے کا سبب بھی انہی کی زبان اور عقائد ہیں اور یقین کیجیے دہشت گردوں کو دل سے برا نہ جاننا ابھی بھی ان کے عقائد کا حصہ ہے، جبکہ دوسری طرف ہم جس ’سواد اعظم‘ پر تکیہ کیے بیٹھے تھے اس کی اصلیت سب سے پہلے طاہر القادری صاحب کے مختلف موضوعات پر متعدد متضاد بیانات، قول و فعل کے ناقابل برداشت تضادات اور مقدس قسم کے خوابوں کے ذریعے سامنے آئی پھر عطاری صاحب کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ’عجیب و غریب‘ ویڈیوز نے رہی سہی کسر بھی نکال دی اور اب یہ جو کچھ ڈی چوک میں ہوا اس نے تو سمجھو جنازہ ہی نکال دیا، ’الامان الحفیظ‘۔

یہ آج جو کچھ ہم جدید آلات کی بدولت دیکھ اور جان سکیں ہیں یہ اللہ پاک ہی کی تو نعمت ہے کہ جس نے ہماری آنکھیں کھول دیں ورنہ ان حضرات کے مؤقف پر اعتراض کا سوچنا تو دور کی بات اتنے بڑے القاب دیکھ کر نظریں ہی جھک جایا کرتی تھیں۔

 کام کی بات یہ کہ یہی وہ لوگ ہیں جو عوام کے دیے گئے چندے اور صدقے سے اپنا کام چلاتے ہیں اور پھر عوام ہی کی گردنیں مارتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جن کی ہم ریاست کے ہرطبقے سے زیادہ عزت کرتے ہیں، جن کا احترام ہمارے ایمان کا حصہ ہے، جن کے موقف کو حرف آخر اور جن کے کلام کو ہم صحیفہ سے کم نہیں سمجھتے، جنہیں درخواست کر کے اپنے نومولود بچے مسلمان کرتے ہیں اور مردے بخشواتے ہیں۔ انہی کے قبضے میں منبر رسولؐ ہے، انہی نے ہمارے دین کی من پسند تشریح سے اسے موم کی ناک اور گھر کی لونڈی بنا رکھا ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے پاس ہم اپنے بچوں کو بھیج کر ان کا مستقبل داؤ پر لگاتے ہیں۔

خدارا ہوش کے ناخن لیجیے!

قرآن ہو یا دین، پہلے خود سیکھیے اور پھر اپنے بچوں کو خود ہی سکھائیے، یقین کیجیے اگر آپ خود تو قرآن کو ہاتھ نہیں لگاتے اور اس نااہلی اور غفلت کی کسر اپنے بچے پر نکالنا چاہتے ہیں تو معذرت کے ساتھ کہوں گا، آپ اللہ کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آپ واقعی دین کے ساتھ مخلص ہیں تو عمر جو بھی ہے، مسائل کچھ بھی ہیں، آپ پر خود قرآن کو سیکھنا اور سمجھنا فرض ہے۔

تھوڑے کو بہت جانیے اور اپنی نسلوں پر احسان کیجیے!

ان نام نہاد علما کو پال پال کر غصیلے سانڈ بنانے کے بجائے ان کے علاج پر توجہ دیجئے، بجائے اس کے کہ اپنی نسلوں کو ان کی دولے شاہ کے چوہے بنانے والی فیکٹریوں کے سپرد کر کے اس پاک سر زمین کو بہت سارے چھوٹے چھوٹے کنوؤں میں تقسیم کریں اور اس کے باسیوں کو ٹراتے ہوئے مینڈک بنانے کا یہ لامتناہی سلسلہ جاری رہے۔

خدارا ہوش کے ناخن لیجیے!

مولانا طارق جمیل صاحب جنہیں میں پاکستان کے گنتی کے چند ایک قابلِ قدر، فہم و فراست رکھنے والے علماء میں شمار کرتا ہوں کہ علماء کرام کی طرف سے فرقہ واریت کے خلاف مولانا کی آواز سب سے زیادہ موثر ہو نہ ہو البتہ بلند ضرور ہے۔ کچھ ان کے لیے ۔۔۔

معروف نعت خواں جنید جمشید کو کچھ ماہ قبل (حلوہ پسند مشائخ نے) واجب القتل قرار دیا، جس پر مولانا طارق جمیل کی طرف سے جذباتی قسم کا ایک ویڈیو بیان پلس معافی نامہ جاری ہوا، ابھی چند دن پہلے جنید جمشید کو چند تھپڑ اور دھکے سہنے پڑے اور مولانا صاحب کا پھر بھرائی ہوئی آواز میں تین منٹ کا بیان جاری ہوا

لیکن ۔ ۔ ۔

چند ماہ قبل (طالبان کے امیر ملا فضل اللہ نے) پوری پاکستانی قوم کو آئین پاکستان کی اطاعت کرنے کی پاداش میں واجب القتل قرار دیا تو مولانا نے اپنے منہ پر ٹیپ لگا لی۔
پھر اتفاق دیکھیے جنید پر تشدد والے دن ہی 72 سے زائد لاہوریوں کو کاٹ کر چھیل دیا گیا۔ کچھ لوگوں کا قیمہ بنا تو باقی لاشے ادھڑ کر بکھر گئے، تیس بچے بھی شامل تھے۔ لیکن مولانا بدستور چپ رہے اور چپ ہی رہیں گے۔  بھلا کیوں ؟

کیوں کہ میں نے اپنے گناہگار کانوں سے سنا مولانا ایک بیان میں فرماتے ہیں مجھے اس سب (دہشتگردی) پر بالکل تشویش نہیں یہ تو اللہ کی طرف سے آزمائش ہے جو لوگ مر رہے ہیں وہ جنتی ہیں۔ نو پرابلم ایٹ آل۔۔ ڈیٹس اٹ۔

ستر ہزار پاکستانیوں کے جنت میں جانے پر آپ کو بقول آپ کے کوئی تشویش نہیں لیکن حضرت والا ایک جنید جمشید کے جنت میں داخلے میں آپ رکاوٹ کیوں بنے ہوئے ہیں؟ کیوں آپ بار بار اس کی طرف سے معافی مانگتے ہیں اور صفائی دیتے ہیں؟ کیوں؟ کیوں کہ۔۔۔ خیر چھوڑیے گستاخی کا ڈر ہے۔

حضرت! خدا کا نام لیں اپنے گو مگو نظریات پر یا تو نظر ثانی کریں یا پھر اگر ہم آپ کی منطق سمجھ نہیں پا رہے تو ہمیں سیدھے سادھے الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کریں کہ آپ کے قول و فعل میں اتنا تضاد کیوں ہے؟

مفتی منیب الرحمن صاحب بھی قدرے اعتدال پسند شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا ’دھرنے میں شریک علماء کی گرفتاری کی صورت میں ہمارے لیے الگ رہنا نا ممکن ہوگا‘۔

مفتی اعظم صاحب کی توجہ کا طالب ہوں!
حضرت! ذرا بتائیے تو سہی کس بنیاد پر ’ہیجان زدہ کیفیت میں سرشار انسان نما چیزوں‘ کو آپ عالم مانتے ہیں ؟ صرف مسلک کی بنیاد پر؟
۔۔۔ انا للہ و انا الیہ راجعون

میں خود مدرسے کا سابقہ طالب علم ہونے کی وجہ سے اہل مدارس کو بہت قریب سے اور بہت دور تک جانتا ہوں اور قریباً دو دہائیوں تک مدارس کی قحط الرجالی کا بغور جائزہ لینے کے بعد جس نتیجے پر پہنچا تھا وہ آپ کے گوش گزار کر دیا، سو میں آپ سے پھر کہتا ہوں ’اس تھوڑے کو بہت جانیے‘ !


Comments

FB Login Required - comments