یہ کرکٹ نہیں ہے


waseem aliواقعہ تو سب نے سنا ہوا ہوگا،  مختصراً دہرائے دیتے ہیں کہ جب ایک پیر صاحب کی دی ہوئی ہانڈی سے ان کے مرید کے گھر خوشحالی آجاتی ہے تو اس کا ہمسایہ مرید دوگنی ریاضت کرکے پیر صاحب کو اتنا راضی کرلیتا ہے کہ پیر صاحب مائل بہ کرم ہوجاتے ہیں لیکن سائل ہانڈی لینے کی بجائے پیر صاحب سے التجا کرتا ہے کہ مجھے چاہے نہ دیں لیکن میرے ہمسائے سے چھین لیں.

یہاں تک سنانے کے بعد راوی خاموش ہوجاتا ہے اور ہم اسے فرضی کہانی سمجھ کے قہقہ مار کے اگلے لطیفے کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایکدم سے مبارک سلامت کی صدائیں گلی کوچوں میں اٹھتی ہیں،  سوشل میڈیا پہ مبارکباد اور مسرتوں بھرے پیغامات شروع ہوجاتے ہیں،  اور اتنا اہم قومی سلامتی کا مرحلہ سرانجام پاتا ہے کہ ہمارے محترم وزیراعلی بھی ایک سیلفی لگاتے ہیں جس میں وہ انڈیا کی ویسٹ انڈیز سے ہار پہ خوشی و خرم نظر آتے ہیں،  یہ مناظر دیکھنے کے بعد مجھے ہر طرف وہ مرید نظر آتے ہیں جن کی دلی مراد یہی ہوتی ہے کہ مجھے ملے نہ ملے،  ہمسائے سے کوئی چھین لے-

ویسٹ انڈیز کے جیتنے کی خوشی مجھے اس لیے نہیں ہے کہ اس نے ہمارے مطالعہ پاکستان کے ازلی دشمن کو ہرایا بلکہ اس لیے خوشی ہے کہ انہوں نے ایک بہت بہتر ٹیم کو ہرایا اور انڈیا کی ہار پہ جشن منانا نہایت افسوسناک ہے، چاہے انڈیا ہارا لیکن اس ھار میں بھی ایک عظمت تھی،  مقابلہ بلکل برابر کا تھا اور دونوں طرف سے بہترین کھیل پیش کیا گیا،  ایسا نہیں تھا کہ ایک اننگز کے بعد ہی پتہ چل گیا ہو کہ کون جیت رہا ہے جیسا کہ ہماری ٹیم کے معاملے میں اکثر ہوتا ہے- یہ میچ کرکٹ کے بہترین مقابلوں میں سے ایک مقابلہ تھا  جس پہ دونوں ٹیمیں مبارکباد کی مستحق ہیں-  جتنا بڑا میچ تھا اسی معیار کا دونوں ٹیموں نے کھیل پیش کیا- باقی جس میچ کا فیصلہ آخری اوور میں ہو وہ ایک برابر کا ہی میچ ہوتا ہے-

انڈیا اس وقت بلاشبہ کرکٹ میں بہترین پرفارمنس دے رہا ہے،  ون ڈے ہو،  ٹیسٹ ہو یا ٹی ٹونٹی ہو،  ان کا ڈومیسٹک کرکٹ کا نظام بھی بہتر سے بہترین کی طرف جا رہا ہے۔ ورلڈ کپ کے بعد آئی پی ایل شروع ہوگی اور پوری دنیا انڈیا کا رُخ کرے گی،  جس سے انڈیا کی معیشت بھی پھلے پھولے گی اور انڈیا کے مقامی سطح کے کھلاڑیوں کو اپنے وطن میں ہی رہتے ہوئے بین الاقوامی کرکٹ کا تجربہ ہو جائے گا اور یہاں سے وہ قومی ٹیم میں بھی اپنے کھیل کے معیار کی بنیاد پہ قومی ٹیم میں جگہ بنا پائیں گے اور ہم…؟

 ہم ایسا ملک ہیں جہاں افغانستان جیسے ملک کی کرکٹ ٹیم بھی سیکورٹی وجوھات کی بنا پہ کھیلنے سے انکار کر چکی ہے اور ہم اس قدر منفی ذہنیت کے مالک ہوچکے ہیں کہ ہم ویسٹ انڈیز کے جیتنے پہ خوش نہیں ہیں بلکہ  انڈیا کی ہار کا جشن منا رہے ہیں،  حالانکہ اگر تھوڑا سا بھی عقل سے سوچیں تو انڈیا نے پورے ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پہ بہترین کھیل پیش کیا،  کرس گیل کے لیے سلپ میں دو فیلڈرز دھونی ہی کھڑے کر سکتا تھا۔ اور ہمیں تو شدید ضرورت ہے انڈیا سے سیکھنے کی  جہاں سیمی فائنل کی ھار کے بعد انڈین کپتان سے ریٹائرمنٹ کا پوچھا جاتا ہے تو وہ یہ جواب نہیں دیتا کہ” آپ سے مجھے ایسے ہی گھٹیا سوال کی امید تھی” بلکہ دھونی کا جو جواب تھا اور جس انداز سے انہوں نے جواب دیا اس میں سب کے سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے اور خاص طور پہ ہمارے کھلاڑیوں اور کپتانوں کے لیے کہ بات اچھے طریقے اور مہذب انداز سے بھی کی جاسکتی ہے  اور جب افغانستان سے ویسٹ انڈیز ہارتی ہے تو تب ہمیں ناصرف یہ پتہ چلتا ہے کہ کرس گیل کتنا بہترین انسان ہے بلکہ ان کی قوم کے بارے میں بھی اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ انسانی اقدار کے کس اعلی مقام پہ کھڑی ہے،  کیونکہ کوئی گیل کے گھر کے باہر جا کے افغانی ٹیم کے ساتھ جشن منانے کے جرم میں اسے غدار وطن نہیں قرار دے دیتا۔ کوئی مظاہرہ نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی اس کے پتلے جلاتا ہے،  مزید یہ کہ ہمیں ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں کے خوشی منانے کے طریقے سے بھی بہت کچھ سیکھنا چاہئیے،  ان کے اندر کوئی تعصب نہیں تھا خوشی مناتے ہوئے بلکہ ایک معصومیت اور سادگی تھی،  ان کے چہرے خوشی سے دھمک رہے تھے اور وہ اپنی جیت پہ ناچ رہے تھے نہ کہ انڈیا کی ھار پہ….

جب کوئی کھیل میں یا عام زندگی میں شفاف اور بڑے دل کا رویہ نہیں اپناتا یا دھوکہ دہی اور بے ایمانی کی کوشش کرتا ہے یا غلط طریقوں سے جیتنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے لیے انگریزی میں ایک محاورہ کہا جاتا ہے ” یہ کرکٹ نہیں ہے”۔

تو میں انڈیا کی ہار کی خوشی میں نہال ہوتے ہوئے ہم وطنوں سے یہی گزارش کروں گا کہ ” یہ کرکٹ نہیں ہے”۔


Comments

FB Login Required - comments