اسلامی تشخص اور حکومت


tanveer awanآج ایک دوست کے ساتھ صدر میں موبائیل مارکیٹ جانے کا اتفاق ہوا دوست کو موبائیل لینا تھا ہم نے موبائیل خریدا اور ریگل والی سائیڈ سے ایم اے جناح کی طرف جانا چاہاتو راستہ بند تھا دو کنٹینر لگا کر سڑک بلاک کردی گئی تھی بہرحال بائیک گھمائی اوربرابروالے روڈ سے نکلنے کی کوشش کی جو کہ پہلی بار کی طرح ناکام ہی رہی کیوں کہ وہ سڑک بھی بند تھی اور صرف 10منٹ میں پتا چل چکا تھا کہ ایم اے جناح روڈ کی طرف جانے والی تمام سڑکیں بند کردی گئی ہیں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہوگیا ہے دل میں طرح طرح کے وسوسے آرہے تھے اللہ خیر کرے کوئی بم دھماکہ تو نہیں ہوگیا یا کسی پارٹی نے پھر سے دھرنا تو نہیں دے دیا ۔خیر جو بھی ہو ہمیں اپنی منزل مقصود لیاقت آباد پہنچنا تھا بس پھر کیا تھا لائنز ایریا سے ہوتے ہوئے پیپلزچورنگی پہنچے تو سڑک بند کی جارہی تھی جلدی سے نکلے ہی گئے اس سے قبل کے سڑک بند ہوپاتی۔گرومندر پہنچے تو سارا معاملہ سمجھ آگیا سامنے لسبیلہ والی طرف سے اہلسنت والجماعت کی ریلی آرہی تھی ایک بھائی سے وجہ پوچھی تو اس نے انتہائی عجیب و غریب اور غصیلی نظر سے دیکھا اور بولا “تمہیں پتہ نہیں کہ آج یوم ابوبکرصدیق ؓہے”اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتا ہم فوراًسے نکل گئے اور لیاقت آباد پہنچ کر ہی دم لیا۔ذہن میں ایک ہی بات چکراتی رہی کہ مجھے یہ پتہ کیوں نہ تھا کہ آج یوم ابوبکرصدیقؓ ہے۔

دو باتیں سمجھ میں آئیں ایک تو یہ ہمارے میکاولی کے نظام تعلیم معاشرے کی بگڑی ہوئی صورتحال اور میڈیا کی سیکولرغلامی نے ہمیں اسلامی تاریخ سے بہت دور کردیا ہے اور دوسرا ہماری حکومت نے عام تعطیل نہیں کی۔ تعطیل ہوتی تو اس کا سبب بھی سمجھ میں آجاتا اور ہم صدر میں خوار ہونے سے بچ جاتے تو تعطیل ہونی چاہیے تھی لیکن پھر سوچا ملک کی معیشت پہلے ہی کمزور ہے اور تعطیل سے تو معیشت پر مزید برا اثرپڑتا۔ اچھا ہوا تعطیل نہیں تھی لیکن پھر حال ہی میں “ہولی”کی تعطیل یاد آگئی تو ذہن چکرا کر رہ گیا۔ ساری حقیقت کھل کر سامنے آگئی۔

“اسلامی جمہوریہ”پاکستان میں ہولی اور کرسمس اور مختلف مواقع پر ہونے والی تعطیلات سے تو ملک کی معیشت کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔کسی بھی سیاسی رہنما کی برسی کے موقع پر ہونی والی تعطیل سے بھی ملک کی معیشت پر کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن مجھے شدید حیرت ہے کہ خلفائے راشدین کے ایام کے موقع پر ہماری حکومت اس عجیب وغریب منطق کا پرچار کرتی ہے کہ تعطیل سے دفاتر اور فیکٹریاں بندہوجاتی ہیں معمولات زندگی متاثر ہوتی ہے اور ملک کی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے ملک پر پہلے ہی قرضے ہیں ایسے میں ملک “غیرضروری تعطیلات “کامتحمل نہیں ہوسکتا۔جناب سمجھ نہیں آتا کیا یہ وہی ملک ہے جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا۔یا جس ملک میں کے بارے میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ”ہم پاکستان کے نام پرزمین کا ٹکڑا حاصل نہیں کرنا چاہتے بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں پر اسلامی اصولوں کو آزمایا جاسکے”۔افسوس کہ حالات اس کے بالکل الٹ جارہے ہیں۔اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔آمین


Comments

FB Login Required - comments