ہم  کچھ بھی نہیں کہتے، شاد رہیے


bakhtسن بلوغ سے قبل ہی مدرسے کی آغوش میں چلاگیا۔ دس گیارہ سال کیسے کٹے اب سوچتا ہوں تو چند لمحوں کی داستان لگتی ہے ۔ اساتذہ اور ساتھیوں کی محبت آج بھی سینے کے پہلو میں محسوس کرتا ہوں ۔ مجھے یاد ہے  میں نے ہر بارجاتے جاتے ماں کے چہرے آنسووں کی لڑیاں بہتے دیکھیں ۔ آنسووں اور دعاوں کی برسات میں ماں ماتھا چوم کر سینے سے لگاتی اور رخصت کرتی ۔ والد صاحب بیگ کندھے پر اٹھائے بس اڈے تک ساتھ چلتے ۔ ماوں کو اظہار کا سلیقہ آتا ہے وہ اپنا سب کچھ دعاوں اور آنسووں کی زباں میں کہہ ڈالتی ہیں۔  باپ ایسے نہیں ہوتے ، ان میں مردانہ رکھ رکھاو کہیں نہ کہیں ہوتا ہے۔ خداکی قسم ہر ہربار ان کی آنکھوں کے کناروں میں نمی تیرتی نظر آئی مگر گاڑی چلنے تک کچھ گم سم سے ساتھ بیٹھتے ۔ گاڑیوں کی ٹائمنگ ، گاڑی کی کنڈیشن اور دیگر چیزوں پر بات کرتے ، گاڑی چلنے لگتی تو سینے سے لگاتے جیب خرچ کا پوچھتے کم تو نہیں دیا؟ جاتے ہی فون کردینا میں پڑوسی کے رستم خان سے کہہ دوں گا فون آئے تو ہمیں اطلاع کردے ۔ اور پھر گاڑی چلنے لگی ….

یہ وہ زمانہ تھا جب ابھی محبتوں کے سندیسے بھیجنے کا دور ختم نہیں ہوا تھا ۔ چٹھی بھیجنے کا صدیوں پرانا نظام قائم تھا ۔ کاغذ پر پوروں کی لمس محسوس ہوتی تھی ۔ کاغذ کی ہر تہہ میں ماں کا پیار بھرا نظر آتا تھا۔ کتابوں میں خشک پھولوں کے ساتھ خطوں کے تہہ در تہہ لفافے اور ورقے بھی برآمد ہوتے تھے ۔ ایسے کچھ ساتھیوں کے خطوط آج بھی کسی یاد گار کی طرح میرے پاس محفوظ ہیں ۔ پرانی کتابوں کا انبار ادھیڑوں تو شاید اپنے ایک شیعہ دوست کے خطوط آج بھی مل جائیں جو کبھی ہمارے محلے میں ہوا کرتا تھا ، یہ خط مدرسہ جانے کے بعد انہوں نے مدرسے کے پتے پر پوسٹ کیے تھے ۔  برقی میسج کے دوروالے کیا جانیں جگجیت کی آواز میں “چٹھی نہ کوئی سندیس ، جانے وہ کونسا دیس ، جہاں تم چلے گئے “کا اصل سرور ۔ جدید دور کی سہولیات اور تیز رفتار دنیا کی اپنی ایک شان ہے مگر کلاسیکل محبتوں کا اپنا ایک ذوق ہوتاہے ۔

 …. خیر گاڑی چلتی رہی ، دن ہفتوں اور ہفتے مہینوں میں ڈھلتے رہے ۔ مہینوں سے سال بنے اور چند برس کا سفر دیکھتے دیکھتے ختم ہوگیا۔زمانہ طالب علمی کے دن بہت یاد گار ہوتے ہیں ۔ طرح طرح کی شرارتیں سوجھتی ہیں اور طرح طرح کے کھیل تماشے ہوتے ہیں ۔ ہم نصابی وغیر نصابی سرگرمیاں اور شرارتیں تقریبا ہر نوجوان کے من میں بھری ہوتی ہیں ۔ دوستیاں اور گروپ بندی ، ناراضگیاں اور پارٹیاں سب ساتھ ساتھ چلتے ہیں ۔ مدرسے کے سالانہ پروگرام کا جیسے ہر طالب علم کو انتظار رہتا تھا ۔ تقریری اور تحریری مقابلے تو ہوتے ہی تھے مگر جب رات کو بزم ختم ہوتی ، انعامات کی تقسیم اور مہمانوں کی واپسی ہوجاتی تب کوئی ایک طلباء کا گروپ کسی جگہ کو ٹھکانہ بناکر مزاحیہ کھیل اور تماشوں کا پروگرام بناتا ۔ رات گئے تک ہنسیوں اور قہقہوں کے طوفان اٹھتے ۔ چند ایک باذوق طلبہ طرح طرح کے مزاحیہ ڈرامے پیش کرتے جب کہ باقی طلبہ ارد گرد بیٹھے لطف اندوز ہورہے ہوتے ۔ وہ ہمارے ابتدائی سال تھے جب بڑے طلبا  نے طرح طرح کے کھیلوں کے ساتھ فٹ بال میچوں کا بڑا انوکھا سیریز منعقد کیا تھا ۔ اس سیریز میں ایسے میچ بھی کھیلے گئے جو مدرسے کی دوایسی طلبا ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا جس میں چن چن کر مدر سے کے موٹے پہلوان طلبا  کو لیا گیا، اس دن ہنسی قہقہوں کے تو عجیب دور چلے  ۔ ایک میچ انتہائی تیز طرار اور دبلے پتلے طلباء کے دو ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا ۔ اس دن کھیل کی دلچسپی دیکھنے کو ہوتی ۔ طلباء ٹیموں کے یہ انوکھے میچ اتنی دلچسپی کا باعث ہوتے کہ اس دن عصر کو لوگ گراونڈ میں اپنا کھیل چھوڑ کر طلبا  کے میچ سے محظوظ ہوتے ۔

ادبی سرگرمیوں کا اپنا مزا ہوتا تھا ۔ تین سال تک طلباء کی وال میگزین کی ادارت کی جس پر ہمیں اساتذہ کی جانب سے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ۔ تحریری مقابلوں میں خود بھی حصہ لیا جس میں دو بار پوزیشن بھی لی اور ساتھیوں کے لیے الگ الگ تحریری مقابلے بھی منعقد کروائے ۔ آخری سال جب مادر علمی میں آخری ایام تھے وال میگزین کا آخری شمارہ ہم نے الوداعی نمبر نکالاتھا ۔ اس دور کے شوق بھی نرالے ہوتے تھے ۔ خوب اہتمام اور دلچسپی سے میگزین تیار کیا ، رات بھر ڈیزائنر اور دوسرے کام والے ساتھیوں کو کام پر لگائے رکھا ۔ پھر وہ تو جاکر سو گئے مگر میں نے جب  میگزین کو حتمی شکل دے کر آویزاں کیا تو صاحبو !فجر کی اذاں شروع ہوگئی ۔ فجر کی نماز تک کمر سیدھی کرنے کے لیے لیٹا اور پھر نماز کے بعد سالانہ بڑے انجمن کی تیاریوں کے کام میں جت گیا ۔ کھانے پینے کے معاملے میں تو کراچی کی نہاری اور بریانی کا ذائقہ کبھی بھلائے نہیں بھولتا، یہاں کوئٹہ میں بھی بریانی مل جاتی ہے اچھے اچھےپکوان چھان مارے مگر وہ بات کہاں مولوی مدن جیسی ۔کبھی کبھی سڑکوں کی آوارہ گردی کو نکل جاتے تو ناظم آباد کی نہاری کھانے ضرور جاتے ، بارشوں میں قریبی شیعہ آبادی میں جاکر سموسے ، چاٹ اور پکوڑے کھاتے ، پٹھانوں کے ہوٹل میں چائے پیتے اور پھر واپس آجاتے  ۔ پشاور کا اپنا ایک ساتھی شعر شاعری کا خاص ذوق رکھتا تھا ۔ بھیگے موسم میں وہ ایک خاص ترنگ میں ہوتے ، چائے کا کپ ہاتھ میں لیے مجنونانہ سے قہقہے اٹھاتے ، غالب کے چیستان والے اشعار انہیں خاص پسند تھے ۔ ساتھ بیٹھنے والے دوستوں میں سبھی شعر وسخن سے دلچسپی رکھتے تھے ۔ اشعار پر اشعار کا دور چلتا ۔ ایک بار ان کی چائے کے کپ سے تھوڑی سی چائے گری تو ہم نے برجستہ کہا” فل لارض من کاس الکرام نصیب” ) عزت اور شرافت والے لوگوں کے جام میں سے زمین کا حصہ بھی ہوتا ہے (۔ یہ زمانہ جاہلیت کے عرب سرداروں کا مشہور مقولہ تھا جب وہ مے نوشی کے سرور میں جام الٹ کر زمین پر گراتے اور کہتے عزت دار لوگوں کے جام میں زمین کا بھی حصہ ہوتا ہے ۔ اس جملے پر تو محفل کشت زعفران بن گئی ۔

اس سنہرے دور کے یہ واقعات  ذرا تفصیل سے اور مزے لے کر لکھنے لگوں تو شاید درجن بھر قسطوں میں احاطہ نہ ہو۔ چند ایک واقعات کا اجمالی تذکرہ اس لیے آج نوک قلم پر آیا کہ گذشتہ دنوں ایک دوست  کا مدارس کے ماحول کے حوالے سے انتہائی  مایوس کن نقطہ نظر پڑھنے کو ملا ۔ اور آخر ی الفاظ تو طبعیت صاف کرنے کے لیے کافی تھے .انہوں نے “سالا مولوی” کہا۔  ہم کچھ بھی نہیں کہتے، شاد رہیے۔


Comments

FB Login Required - comments

16 thoughts on “ہم  کچھ بھی نہیں کہتے، شاد رہیے

  • 02-04-2016 at 3:14 am
    Permalink

    برشوری صاحب سے دست بدستہ درخواست ہے کہ وقار ملک کی تحریر ایک بار پھر پڑھ لیں ممکن ہے سالا مولوی کا مفہوم سمجھ آ جائے یا پھر وقار ملک سے درخواست کر لیتے ہیں کہ آئندہ تحریر کے آخر میں مشکل الفاظ کے مفاہیم فٹ نوٹ میں لکھا کریں ۔

  • 02-04-2016 at 3:24 am
    Permalink

    طرزِ تحریر اچھی ہے۔ لیکن حقیقت نگاری کے لئے درکار جرات ناپید ہے۔

    اگر ہر مدرسے میں اسطرح کا ہی ماحول ہوتا، اور اگر تمام مادارس میں اسی طرح کی ادبی سرگرمیاں جاری ہوتیں تو شائد ان سے ‘فیض’ حاصل کرنے والے لوگ انسانیت پسند، انسان دوست، اور عقلی اور فکری وسعت سے مالامال ہوتے۔

    حقیقت یہ ہے کہ چند مستثیات کو چھوڑ کر مدارس سے متعصب فرقہ پرست، انسانیت پر مذہبیت کو ترجیح دینے والے، تشدد کی تبلیغ و ترویج کرنے والے، خود کش حملے کرکے ہزاروں پاکستانیوں کو خاک اور خون میں نہلانے والے، پیدا ہو رہے ہیں۔ اگر دیگر صاحب مضمون نے صرف منفیات پر زور دیا تھا تو آپ نے بھی اپنے تجربات کی آڑ میں ایک ایسے مثالی مدرسے کا جھانسہ دینے کی کوشش کی ہے جس میں علم و عقل کی (رٹی رٹائی باتوں اور ازمنہ قدیم کے سوفسٹس کی طرح لفاظی سے بھرپور فنِ تقریر پر عبوریت کی نہیں) ہی باتیں ہوتی ہیں۔ حقیقت آپ دونوں کی بتائی ہوئی باتوں کے درمیان واقع ہے۔ ہر مدرسہ شائد عسکری تربیت نہیں دیتا ہو، لیکن تمام طالبان مدارس سے ہی پڑھے ہوے ہیں، اور ان ظالمان نے چاردہائیوں سے بربریت اور انسان دشمنی پر مبنی طریقوں کے ذریعے خوف اور دہشت پھیلا کر اپنی حکومت قائم کرنے کے خاطر مسلمانوں پر جو ظلم روا رکھے ہیں اتنا ظلم مسلمانوں پر کسی اور نے نہیں کیا ہے۔

    طرزِ تحریر کا اچھا ہونا کافی نہیں ہے۔

    فکری وسعت، معروضیت اور انسانیت پسندی سے خالی دماغ جلد یا بدیر دہشت اور بربریت پر مائل ہو ہی جاتے ہیں۔

  • 02-04-2016 at 7:03 am
    Permalink

    اچکزئی صاحب طرز تحریر میں الجھنے کی بجائے ذرا معانی پر غور کریں اور یہ جو ہم نے ایک خاکہ پیش کیا ہے اگر آپ نے نہیں دیکھا تو ہم کیا کرسکتے ہیں تقریبا سارے مدارس میں ایسا ہی تربیتی ، تعلیمی اور تفریحی ماحول ہے ۔ جتنا میں نے لکھا ہے اس سے بڑھ کر ادبی اور تحقیقی کام طلبہ کرتے ہیں ۔ آپ نے اپنے بنے ہوئے مائنڈ سیٹ کے زاویے سے ہی تحریر پڑھی ہے ، اپنے مخصوص ذہنی سانچے سے نکل کر لکھیں تو شاید فضا کی گٹھن کچھ کم محسوس ہو۔

  • 02-04-2016 at 10:07 am
    Permalink

    وقار ملک کا مضمون مولوی کے خلاف نہیں لگا ، ماں کی بچوں سے دوری کا تاثر ذیادہ بنا ، آپ کی تحریر سے ایک خوشگوار احساس ہوا ، جاری رکھیں ۔ آپ اپنی بات کہیں گے تو ہی کہانی کا یہ رخ سامنے آئے گا

  • 02-04-2016 at 11:25 am
    Permalink

    جناب بات کسی حد تک ٹھیک ہے. بڑے اور رجسٹرڈ مدرسوں میں ایسا ہی ماحول ہوتا ہے. یہ جو ہر گلی محلے میں غیر رجسٹرڈ، چندہ کھانے کیلئے مدرسے کھلے ہوئے ہیں، وہ ہیں جو فرقہ واریت ، فلاں کافر وغیرہ پرھاتے ہیں. اگر سارے مدرسے ایسے ہو جائیں جیسا آپ نے بتایا تو کیا کہنے. علما کو چاہئے کہ اپنا امیج ٹھیک رکھنے کیلئے خود ایسے مدرسوں کے خلاف کاروائی کروائیں تاکہ لوگ غلط کو دیکھ کر ٹھیک مدرسوں کو مورد الزام نہ ٹھہرائیں .

  • 02-04-2016 at 12:16 pm
    Permalink

    مخصوص، متعصب، یرقان زدہ اور زرد بیمار سوچ کے شکار تو طالبان اور ان کے ہمنوا ہیں۔ اگر میں غلط گوئی کر رہاہوں ہوں توذرا بتائیں کہ یہ اورنگ زیب فاروقی اور مولبی عبدالعزیز اور ان کے دیگر ہزاروں حاشیہ بردار کس کھاتے میں جائیں گے؟ ان کی تربیت اور تعلیم کا بندوبست کہاں ہوا ہے؟ ان دونوں حضرات اور ان کے ہزاروں ہمنواوں نے کونسے مدارس سے تعلیم لی ہے؟ کیا انہوں نے مدارس سے تعلیم نہیں لی ہے؟ کیا اکوڑہ خٹک میں واقع جامعہ سے نکلنے والے ہزاروں “طلبہ” دہشتگردی میں ملوث نہیں ہیں؟ کیا پاکستان میں دہشتگردی کا جرم ثابت ہونے کے بعد پھانسی چڑھنے والے سینکڑوں افراد (اور تختہ دار پر لٹکنے کے منتظر ہزاروں) مدارس سے پڑھ کر نہیں آئے ہین؟

    کیا مدارس میں شعیہ اور بریلویوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ مل جل کر رہنے کی ترغیب دی جاتی ہے؟ تکفیر کے فتاوی لکھنے والے، خود کش حملوں کو جائز قرار دینے والے مدارس کےعلما اور طلبہ و طالبات نہیں ہیں؟

    جنابِ من، آپ کوے پر ہزار شوخ رنگ پھیرنے کی سعی کریں، لیکن ایسا کرنے سے کوا مور نہیں بنے گا۔

    • 08-04-2016 at 9:45 pm
      Permalink

      حضرت آپ طالبان کے مدارس سے فارغ التحصیل ہونے کے طعنے دے رہے ہیں، یہ بھی بتائیں کہ اسامہ بن لادن صاحب سول انجینئر ہونے کے باوجود شدت پسند کیسے بن گئے، ایمن الظواہری تو ماشاءاللہ سے ڈاکٹر ہیں یا شائد تھے۔ 11 ستمبر کے حملوں میں تو ایک بھی مدرسے والا نہیں ملا۔ داعش میں شامل نوجوانوں کا تعلیمی ڈیٹا آپ اٹھا کر دیکھ لیں تو شائد آپ کے ہوش ہی اڑ جائیں۔

      ایک ایسا مدرسہ جو شدت پسندی کی تعلیم نہیں دے رہا، اس میں سے اگر معروضی حالات یا نظریات کے باعث کوئی شدت پسند نک جائے تو بیچارے مدرسے کا کیا قصور؟ مدرسے نے تو شبیر احمد عثمانی،اشرف علی تھانوٹی، تقی عثمانی، رفیع عثمانی اور طارق جمیل صاحب جیسے پڑھے لکھے امن پسند بھی پیدا کیے ہیں

  • 02-04-2016 at 3:31 pm
    Permalink

    ہائے ہائے برشوری صاحب کیا خوب لکھا ہے.. لیکن آخر پر مجھے رگڑ گئے ہیں.. کاش ایک دفعہ آپ اور پڑھ لیتے تو مفہوم کھل جاتا…لیکن بہرحال آپ کی تحریر شاندار رہی… مزید لکھیے اس موضوع پر..

  • 02-04-2016 at 4:20 pm
    Permalink

    بہت محترم برشوری صاحب ۔۔ کیا اعلیٰ تحریر ہے جو آپ کے ادبی ذوق کا پتہ دیتی ہے۔ لیکن میری تحریر میں بغیر سیاق و سباق آپ نے جس طرح ّسالا مولویٗ اٹھا یا ہے وہ قابل افسوس ہے۔
    حضور آپ نے جس مدرسے کا ذکر کیا ہے وہ مثالی ہے لیکن ہمارے ہاں کتنے ایسے مثالی مدرسے ہیں جہاں تہذیب اخلاق اور محبت کی تعلیم کے لیے وسائل موجود ہیں۔
    گلی محلوں میں کھلے مدرسوں میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ ماں باپ سے دور ہیں۔ ماں باپ سے کسی آفاقی نظریہ کے لیے دور نہیں ہیں وجہ غربت ہے۔
    میں نے تو مرشد اس کالم میں حکومت کی نااہلیوں کا رونا رویا ہے۔ اور ہمارا فکر سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن عام مولوی سے نفرت کیوں؟
    مجھے امید ہے کہ آپ کے دل میں رجنش ختم ہو گئی ہو گی ۔ کتنی عجیب بات ہے کہ آپ کے کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑا ہونا بھی آپ کی نظر میں مشکوک ٹھہرتا ہے۔
    بہرحال آپ کا یہ مضمون کمال ہے اور مجھے امید ہے آپ اپنی ان حسین یاداشتوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

  • 02-04-2016 at 9:38 pm
    Permalink

    جناب وقار احمد ملک صاحب آپ نے توجہ دی ہماری شکستہ سی تحریر کو اس کے لیے آپ کا بہت بہت شکریہ ۔ دراصل آپ کی اسی سوچ کی تصحیح کے لیے میں نے تحریر لکھی ہے کہ ماں باپ سے دوری غربت کی وجہ سے نہیں ایک نیک جذبے اور سوچ کے لیے ہوتی ہے ۔ اور ایک گھٹن زدہ ماحول جس کا آپ نے تذکرہ کیا ہے اسی کو رد کرنے کے لیے ہم نے کچھ الفاظ جوڑے ہیں ۔ میرے کندھے سے کندھا ملائے جب آپ کھڑے تھے اور حکومت سے میرے لیے مطالبہ کررہے تھے تو مجھے لگا کہ آپ نے مجھے سرکاری ہسپتال کا وہ ضعیف ، غریب ، لاچار اور بے آسرا مریض قرار دیا ہے جس کی قابل رحم حالت دیکھ کر آپ حکومت سے مطالبہ کرنے مجبور ہوجاتے ہیں ۔
    وقار صاحب ایک بات دل کے درد میں ڈوب کر کہہ رہا ہوں حکومت مدارس کو فنڈنگ کرنے یا ان کی غربت ختم کرنے کے لیے کوئی بھی اقدام نہ کرے بس اتنا کرے ان کا موقف صحیح طریقے سے سمجھے اور میڈیا پر ان کا موقف ایڈیٹ کیے بغیر پوری دیانت داری سے پیش ہو، وفاق المدارس کے نمائندوں کو پورا وقت دیا جائے ، تو میرے خیال میں مدارس کے متعلق مسائل میں سے آدھے تو کم ترین عرصے میں ختم ہوجائیں ۔
    آپ سے رنجش کیوں ، یہ مکالمے کا فورم ہے ، آپ سے محبت اور بڑھی آپ کے الفاظ پڑھ کر ۔ اٹھیے ! ہم آپ کو سینے سے لگانے کو منتظر کھڑے ہیں ۔

  • 02-04-2016 at 11:29 pm
    Permalink

    وصی صاحب ! حوصلہ افزائی کا شکریہ ، دعا کریں یہ سلسلہ مزید جاری رکھ سکیں۔

  • 03-04-2016 at 3:21 am
    Permalink

    برشوری صاحب، آپ کی تحریر نے ایک خوش کن احساس کے ساتھ مسکرانے پر مجبور کیا۔ لکھتے رہئے، کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا کئے بغیر

  • 03-04-2016 at 4:44 am
    Permalink

    امید ہے کہ حسین یادوں کا یہ سفر رواں رہے گا۔۔بات آپ نے کہی اورخوب کہی کہ یہ کالمے کا فورم ہے ۔

  • 04-04-2016 at 12:30 am
    Permalink

    محترم میں نے بھی آپ کی طرح مدرسے سے ہی تعلیم حاصل کی ہے ، وہیں سے حفظ کیا، لیکن حیرت ہے کہ اس جیسی کوئی چیز میں نے وہاں نہ دیکھی جس کا آپ نے اپنی تحریر میں ذکر کیا ہے ، کا ش کہ ہم بھی آپ ہی کے مدرسے سے پڑھتے ۔

  • 08-04-2016 at 6:32 pm
    Permalink

    ماشاللہ بہت خوب یہ تحریر پڑھ کر مجھے اک زمانہ یاد آیا اک خواب جس کو تعبیر کرنا چاہا آپکے وجدان اور خیالات سے بہت الگ اک کہانی تو یہ بھی ہو سکتی ہے کے اک بہت ہی خستہ حال بچہ جس نے کچھ خواب دیکھے اور انکی تعبیر دونڈنے نکلا آپ سوچ رہےہونگے میں اپنی بات کر راہا ہوں نہیں جناب یہ کہانی ہے میرے بھائی کی۔
    بہت قابل اور ہونہار بچہ پہلی جماعت سے لے کر آٹھ ویں جماعت تک پوزیشن ہولڈر راہا لیکن جو اسکے خواب تھے انکو بھی حقیقت ہونا تھا کبھی
    تو بلال جو میرے بھائی ہے انہو نے دینی تعلیمات کے لئے اسکول چھوڑ دیا اور کراچی کے اک مدرسہ میں دینی تعلیمات حاصل کرنے لگا آب جب اسنے یہ سوچ ہی لیا تھا تو اسکے سامنے ہر مشکل وقت اساں ہونے لگا بلال جب گھر سے نکلا امی اور ابّا جان کی بہت ساری دعایں بھی انکے شانہ بہ شانہ چلتی رہی دن مہینے سال کو یوگھ میں بدلتے دیکھا کبھی جب فون کرتا تو امی بہت پیار دیتی وہ دن کمال کے گزرے جب بلال کی محنت رنگ لائی تو زمانہ تکتا رہ گیا گویا لوگو کے ہاتھو کے طوطے اوڑھ گئے اور بلال کامیاب ہوا اس خواب کی تعبیر پائی جو بلال کے ساتھ ساتھ امی جان نے بھی دیکھے تھے آج جب بلال اپنی کہانی سناتا ہے دل میں خیال آتا ہےکاش ہم بھی مدرسہ پڑھتے
    بلال کا کہناہے جب دن کوپڑھائی کے بعد آرام کا موقہ ملتا تب بھی کتابوں میں ہی پڑھے رہنا چاہا اساتذہ کی باتیں اور انکا روّیہ آج بھی یاد آتا ہے ساتھیوں کی باچکانی بدمشیاں
    اور مزے مزے کی ہقیتیں کچھ خوشیاں جو اک فون کی وجہہ سے ملا کرتی تھی آب بھی ڈھونڈتا ہوں ان خوشیوں کو پر آب وہ زمانہ گزر گیا وقت ایسے جلدی میں تھا جیسے وقت کو بہت کام کرنے ہو
    اور جناب سچ کہوں تو مجھے بھی آب مدرسہ جانا ہے اور کچھ وقت گزارنا ہے

  • 08-04-2016 at 6:38 pm
    Permalink

    شاللہ بہت خوب یہ تحریر پڑھ کر مجھے اک زمانہ یاد آیا اک خواب جس کو تعبیر کرنا چاہا آپکے وجدان اور خیالات سے بہت الگ اک کہانی تو یہ بھی ہو سکتی ہے کے اک بہت ہی خستہ حال بچہ جس نے کچھ خواب دیکھے اور انکی تعبیر دونڈنے نکلا آپ سوچ رہےہونگے میں اپنی بات کر راہا ہوں نہیں جناب یہ کہانی ہے میرے بھائی کی۔
    بہت قابل اور ہونہار بچہ پہلی جماعت سے لے کر آٹھ ویں جماعت تک پوزیشن ہولڈر راہا لیکن جو اسکے خواب تھے انکو بھی حقیقت ہونا تھا کبھی
    تو بلال جو میرے بھائی ہے انہو نے دینی تعلیمات کے لئے اسکول چھوڑ دیا اور کراچی کے اک مدرسہ میں دینی تعلیمات حاصل کرنے لگا آب جب اسنے یہ سوچ ہی لیا تھا تو اسکے سامنے ہر مشکل وقت اساں ہونے لگا بلال جب گھر سے نکلا امی اور ابّا جان کی بہت ساری دعایں بھی انکے شانہ بہ شانہ چلتی رہی دن مہینے سال کو یوگھ میں بدلتے دیکھا کبھی جب فون کرتا تو امی بہت پیار دیتی وہ دن کمال کے گزرے جب بلال کی محنت رنگ لائی تو زمانہ تکتا رہ گیا گویا لوگو کے ہاتھو کے طوطے اوڑھ گئے اور بلال کامیاب ہوا اس خواب کی تعبیر پائی جو بلال کے ساتھ ساتھ امی جان نے بھی دیکھے تھے آج جب بلال اپنی کہانی سناتا ہے دل میں خیال آتا ہےکاش ہم بھی مدرسہ پڑھتے
    بلال کا کہناہے جب دن کوپڑھائی کے بعد آرام کا موقہ ملتا تب بھی کتابوں میں ہی پڑھے رہنا چاہا اساتذہ کی باتیں اور انکا روّیہ آج بھی یاد آتا ہے ساتھیوں کی باچکانی بدمشیاں
    اور مزے مزے کی ہقیتیں کچھ خوشیاں جو اک فون کی وجہہ سے ملا کرتی تھی آب بھی ڈھونڈتا ہوں ان خوشیوں کو پر آب وہ زمانہ گزر گیا وقت ایسے جلدی میں تھا جیسے وقت کو بہت کام کرنے ہو
    اور جناب سچ کہوں تو مجھے بھی آب مدرسہ جانا ہے اور کچھ وقت گزارنا ہے

Comments are closed.