دھرنے کے بعد…


aamir hashim ڈی چوک اسلام آباد میں سنی تحریک اور اس کے ہمنوا چند مولوی صاحبان کا دھرنا اپنے اختتام کو پہنچا۔ یہ امر باعث راحت ہے کہ سخت آپریشن کی نوبت نہیں آئی، پرامن طریقے سے معاملہ نمٹا لیا گیا۔ خدانخواستہ جانی نقصان ہو جاتا تو لاشوں پر نئی سیاست شروع ہو جاتی۔ اس دھرنے پر مختلف طبقات کا جو ردعمل رہا، وہ بعض حوالوں سے دلچسپ تھا، اس میں فکر کے پہلو ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں، دھرنے میں کس نے کیا کھویا؟

اس دھرنے کا سب سے زیادہ نقصان سنی تحریک کو پہنچا۔ ثروت اعجاز قادری اور ان کا دھڑا سنی بریلوی طبقے میں زیادہ اثر و رسوخ نہیں رکھتا۔ کراچی میں ان کا چھوٹا سا حلقہ ہے جس کی شہرت اچھی نہیں، مبینہ طور پر بھتہ خوری اور زمینوں پر قبضے کے الزامات اس پر ہیں۔ واضح رہے کہ کراچی میں اس مسلک کے علاوہ دوسرے مکاتب فکر کی بعض مذہبی تنظیموں اور سابق جہادی شخصیات پر بھی اسی نوعیت کے الزامات ہیں۔ ایک بڑے مدرسے کے معروف استاد جو ’دجال‘ سپیشلسٹ گردانے جاتے ہیں، ان کے قریبی عزیز پر بھی اسی طرح کے الزامات ہیں۔ توقع ہے کہ کراچی آپریشن کی زد میں اس طرح کے لوگ آئیں گے جو مذہب کا نام اور تقدس مجروح کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ سنی تحریک کا سیاسی حال اور مستقبل دونوں تاریک نظرآتے ہیں۔ ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد سنی تحریک نے اس ایشو کو زور شور سے اٹھانے کی کوشش کی اور اسے اپنا سیاسی حلقہ اثر وسیع کرنے کے لئے استعمال کیا۔ دھرنے کا واحد مقصد یہی تھا، ورنہ اس کی کوئی جواز نہ تھا۔ میرے خیال میں سنی تحریک کا دھرنا ہر اعتبار سے قابل مذمت تھا۔ اس کی حمایت کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں تھا۔

عمران خان کے دھرنے پر میرے جیسے لوگوں کا خیال تھا کہ یہ غلط حکمت عملی ہے۔ طاقت کے زور پر اسلام آباد پر قابض ہو کر حکومتیں تبدیل کرنے کا سلسلہ اگر چل نکلا تو پھرکوئی بھی نہیں ٹک پائے گا۔ اس طرح کے دھرنوں کا ٹرینڈ قائم ہو جائے گا۔ سنی تحریک کے دھرنے سے اندازہ ہوا کہ عمرا ن خان کا دھرنا ہماری توقع سے زیادہ خطرناک اورنقصان دہ رہا۔ سنی تحریک کے رہنماﺅں کو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر اسی اسلام آباد میں تحریک انصاف کا دھرنا تو مہینوں برداشت کر لیا گیا، مگر ہمارا کیوں ہضم نہیں ہو رہا؟ وہ شکوہ بھی کرتے رہے کہ میڈیا ہمیں کوریج کیوں نہیں دے رہا؟ دو باتیں وہ نظرانداز کرگئے۔ تحریک انصاف بہرحال ملک کی دوسری بڑی پارٹی ہے جس نے ستر لاکھ سے زائد ووٹ لئے ، خاص کر شہری علاقوں میں وہ اپنی طاقت اور اثر رکھتی ہے، جسے نظرانداز کرنا آسان نہیں۔ سنی تحریک کے چھوٹے سے دھڑے کا تحریک انصاف سے موازنہ ممکن نہیں۔ دوسرا یہ کہ تحریک انصاف کے لاحاصل دھرنے کے بعد ملک بھر میں یہ بات محسوس کی گئی کہ یہ حکمت عملی غلط تھی،

ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ میڈیا میں بھی یہ سوچ پروان چڑھی کہ ہر معاملے کو لائیوکوریج دینے سے ملک میں تباہی پھیل سکتی ہے۔ اس لئے میڈیا اب مذہبی معاملات میں بالخصوص محتاط ہو چکا ہے۔ لہٰذا اب پہلے کی طرح نان سٹاپ کوریج ممکن نہیں۔ اب عمران خان دوبارہ دھرنا دیں تو شاید انہیں بھی اس حوالے سے حیرت کا سامنا کرنا پڑے۔ عمران خان کا ایک پہلو بہرحال اس پورے معاملے میں ایسا رہا، جس کی ستائش ہونی چاہیے۔ انہوں نے ممتاز قادری کی پھانسی والے ایشو کو اپنی سیاست میں استعمال کرنے سے انکارکر دیا۔ ان پر اگرچہ اس حوالے سے خاصا دباﺅ رہا، وہ جانتے تھے کہ عوامی سطح پر قادری فیکٹر ان کے فائدے میں جائے گا۔ جب سلمان تاثیر قتل ہوئے تو عمران خان نے کھل کر ممتاز قادری پر تنقید کی اور اسے قانون ہاتھ میں لینے کا غلط فعل قرار دیا۔ اپنے اس موقف پر وہ آج تک قائم ہیں اور سیاسی ترغیب کے باوجود استقامت کا مظاہرہ کیا۔ یہ وہ بات ہے،جس پر عمران خان کی تعریف ہونی چاہیے۔ اس حوالے سے ہمارے تجزیہ کاروں اور لبرل عناصر نے بخل کا مظاہرہ کیا۔

سیکولر حلقے نے اس واقعے میں بہت کچھ حاصل کیا۔ یہ خوشی ان سے سنبھالی نہیں جا ر ہی، گفتگو اور تحریر سے چھلک رہی ہے۔ انہیں اس کا حق بہرحال پہنچتا ہے۔ وہ مذہبی طبقات پر ہمیشہ سے تنقید کرتے رہے کہ یہ لوگ مذہب کو اپنی سیاست کے لئے استعمال کرتے ہیں، ان کی شدت پسندی سے معاشرے میں عدم برداشت بڑھ رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ ماننا پڑے گا کہ ثروت قادری اور سنی تحریک نے سیکولر حلقوں کے تمام الزامات نہ صرف درست ثابت کئے بلکہ دھرنے میں کی گئی بعض نہایت غیر شائستہ بلکہ گالیوں پر مبنی تقریروں سے علمائے دین کے بارے میں حسن ظن کا بیڑا غرق کر دیا۔ جو لوگ یہ کہتے تھے کہ سنی بریلوی طبقہ شدت پسند نہیں اور یہ مذہبی طبقات کا سافٹ چہرہ ہے، سنی تحریک نے یہ حسن ظن رکھنے والوں کو شرمندگی سے نظریں چرانے پر مجبور کر دیا۔ پچھلے دس برسوں میں سیکولر سوچ رکھنے والوںکے لئے اس سے زیادہ پر مسرت لمحات شاید ہی آئے ہوں۔ ان کی صفوں میں نئے نئے شامل ہونے والے نیو سیکولرزکی شدت پسندی اور جوش و ولولہ وہی کام کرے گا جو سنی تحریک نے رائٹ ونگ کے ساتھ کیا۔ یہ ”ینگ ٹرکس “ مذہبی طبقات پر تنقید اور مذہب بیزاری میں فرق نہیں سمجھتے اور بسا اوقات تو ملحدین کی فکر کو تقویت دیتے پائے جاتے ہیں۔

ہمارے روایتی مذہبی طبقات نے اس دھرنے میں بہت کچھ گنوایا۔ ممتاز قادری کی نماز جنازہ میں لاکھوں لوگ شریک ہوئے جسے مذہبی جماعتوں نے اپنی کامیابی قرار دیا تھا۔ ہر ایک کو یوں لگا شاید روایتی مذہبی گروپوں کو تقویت مل گئی ہے۔ چہلم کے بعد اس دھرنے کے بلاجواز اور بچگانہ اقدام نے وہ سب کچھ پاش پاش کر دیا۔ دو نقصانات نمایاں ہیں ہمارے مسالک خصوصاً بریلوی، دیوبندی مکاتب فکر کے مابین فالٹ لائنز واضح ہوگئیں۔ سوشل میڈیا پر یہ رجحان خوفناک صورت اختیارکر گیا، جب دیو بندی مدارس سے فارغ التحصیل نوجوانوں اور طلبہ نے دھرنے پر تنقید کرتے ہوئے اسے بریلوی مخالف مناظرے کی شکل دے دی۔ یہ سب نامناسب تھا، خاص کر ایسی صورت میں جب یہی نوجوان چند ہفتے قبل ممتاز قادری کے جنازے کے حوالے سے عوامی ردعمل کو مذہبی طبقات کی جیت قرار دے رہے تھے۔ اس ایک دھرنے نے ظاہر کر دیا کہ ہمارے مسالک کے مابین فالٹ لائنز معمولی نہیں، ہلکا سا دھچکا بظاہر معمولی نظر آنے والی اس لکیرکو بڑی دراڑ میں تبدیل کر دیتا ہے۔ مذہبی مدارس کی تنظیموںکو اس پر غور کرنا اور باہمی منافرت ختم کرنے کی تدبیر کرنا ہوگی۔ سنی بریلوی مکتب فکر کے دوسرے بڑے گروپوں کو بھی نقصان ہوا۔ وہ دھرنے میں شامل نہیں ہوئے کیونکہ اس حکمت عملی کو درست نہیں سمجھتے تھے، مگر وہ اتنی اخلاقی جرا¿ت بھی پیدا نہیں کر سکے کہ کھل کر تنقید کر سکیں یا علانیہ یہ موقف اپنائیں کہ یہ ایک چھوٹے سے دھڑے کا کام ہے، بریلوی مجموعی طور پر اس میں شامل نہیں۔ بریلوی مکتب فکر کے پاس مفتی منیب الرحمن جیسی معتدل اور نہایت پختہ سوچ رکھنے والی دینی شخصیت موجود ہے ، جن کا تمام مسالک احترام کرتے ہیں۔ مفتی منیب الرحمن بڑے عمدہ کالم نگار بھی ہیں، انہیں چاہیے کہ اس موضوع پر قلم اٹھائیں اورپڑھے لکھے طبقات میں اس بلاجواز، جذباتی دھرنے کے حوالے سے جو منفی احساس پیدا ہوا، اسے دور کرنے کی کوشش کریں۔ اویس نورانی بھی معتدل رہنما ہیں، انہیں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

عوامی سطح پر، خاص کر پڑھے لکھے فعال طبقات میں اس دھرنے نے مکمل طور پر منفی اثر مرتب کیا ہے۔ اچھے بھلے دینی ذوق رکھنے والوں کو میں نے یہ کہتے سنا کہ اگر مذہبی گروپوں کا یہ حال ہے تو اس سے سیکولرازم ہی بھلا۔ رائٹ ونگ کی مذہبی سیاسی جماعتوں کو اس نقصان کا شاید ابھی اندازہ نہیں ہو سکا۔ ان چند دنوںنے وہ نقصان پہنچایا جو سیکولر طبقات برسوںکی کوششوں سے نہیںکر پائے۔ جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے دونوں دھڑے اس سے بری الذمہ نہیں۔ انہوں نے یہ تو عقلمندی کی کہ دھرنے کا حصہ نہیں بنے، مگر اپنے آپ کو مکمل طور پر علیحدہ کرنے میں بھی کامیاب نہیں رہے۔ وہ کھل کر اس کی مذمت نہیں کر سکے، تنقید کا حق بھی ادا نہ ہوا۔ شاید ان کے دل میں یہ بات پوشیدہ تھی کہ کہیں ہم تنقیدکر کے دور ہو جائیں اور پھر کہیں دھرنا کامیاب نہ ہوجائے۔ وجہ جو بھی ہو، مذہبی طبقات کو سمجھنا ہوگا کہ اس قسم کی تباہ کن غلطیاں اور مضحکہ خیز جذباتی حرکتیں عوام الناس پر کیا اثرڈالتی ہیں؟ یہ ادراک بھی کرنا ہوگا کہ یہ بہت نازک وقت ہے۔ اہل مذہب پر ہر طرف سے سوال اٹھائے جا رہے ہیں ۔ایسے میں بہت سوچ سمجھ کرکوئی قدم اٹھانا چاہیے۔ معمولی سی غلطی برسوں پیچھے دھکیل سکتی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments