جوہری ہتھیار اور دہشت گردی


 111امریکہ کے صدر باراک اوباما نے واشنگٹن میں گلوبل نیوکلئیر سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے اس اندیشے کا اظہار کیا ہے کہ دنیا کے دہشت گرد گروہ جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے لئے بے تاب ہیں، اس لئے دنیا کو اس ممکنہ تباہی سے بچانے کے لئے دنیا بھر کے سب ملکوں کومل کر جوہری ہتھیار محدود کرنے اور انہیں محفوظ بنانے کے لئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ یہ سربراہی کانفرنس برسلز ا ور لاہور میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے فوری بعد منعقد ہو رہی ہے۔ ان حملوں میں 112 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف ایسٹر سنڈے کو لاہور کے گلشن اقبال پارک میں خود کش حملہ کی وجہ سے اس کانفرنس میں شرکت کے لئے واشنگٹن نہیں جا سکے تھے۔ اس لئے پاکستان کی نمائیندگی وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی کی سربراہی میں ایک وفد کر رہا ہے۔ وفد میں پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری بھی شامل ہیں۔ کانفرنس میں پچاس ملکوں کے سربراہان شریک ہیں لیکن روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس میں شرکت سے گریز کیا ہے۔ اس لئے اس بات کا امکان نہیں ہے کہ یہ کانفرنس جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کے حوالے سے کوئی اہم فیصلہ کرنے میں کامیاب ہوگی۔

تاہم اس وقت دنیا کی اہم ترین ایٹمی طاقتیں جن میں روس اور چین بھی شامل ہیں، جوہری مواد اور ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے متفق ہیں اور گزشتہ کئی برس سے اس بارے میں تعاون بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تاہم اس دوران دنیا بھر میں دہشت گرد گروہوں کے قوت پکڑنے اور سوویٹ یونین کے ٹوٹنے کی وجہ سے یہ اندیشہ شدید ہؤا ہے کہ کوئی دہشت گرد گروہ کسی بھی وقت ڈرٹی بم بنانے کی صلاحیت حاصل کرسکتا ہے۔ اسی حوالے سے پاکستان پر بھی دنیا کی نظریں اٹھتی ہیں، پاکستان اس وقت دنیا کی سات مسلمہ ایٹمی طاقتوں میں واحد ملک ہے جو اپنے ایٹمی اسلحہ میں اضافہ کررہا ہے اور اس میں کمی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کل واشنگٹن کے پاکستانی سفارت خانے میں ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے نہایت محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول کا عالمی ادارہ IAEA بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دنیا میں اب تک مختلف نوعیت کے پونے تین ہزار جوہری حادثات رجسٹر کئے گئے ہیں جن میں پانچ بھارت میں ہو چکے ہیں۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام اگرچہ چالیس برس پرانا ہے لیکن ہمارے حفاظتی اقدامات کی وجہ سے پاکستان میں اس قسم کا کوئی حادثہ رونما نہیں ہؤا۔ اعزاز چوہدری نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہونے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے شارٹ رینج میزائل سسٹم یا چھوٹے جوہری ہتھیاروں کو خطرناک یا ٹیکٹیکل ہتھیار قرار دینا درست نہیں ہے۔ پاکستان یہ ٹیکنالوجی خود حفاظتی کے نقطہ نظر سے اختیار کررہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے اکثر ماہرین پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور دہشت گرد گروہوں کی قوت کی وجہ سے خاص طور سے چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں اور انہیں نشانے پر پھینکنے والے شارٹ رینج SHORT RANGE میزائل سسٹم سے ہی زیادہ خطرہ محسوس کررہے ہیں۔ عام طور سے یہ محسوس کیا جاتا ہے کہ یہ ہتھیار آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو سکتے ہیں اس لئے اگر کسی طرح دہشت گردوں کے ہاتھ یہ ہتھیار لگ گئے تو وہ انہیں آسانی سے قابو کرتے ہوئے اپنے زیر اثر علاقے میں منتقل کرسکتے ہیں۔ پاکستان کو کافی عرصہ سے اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں عالمی پریشانی کا احساس ہے اور یہ اندیشہ بھی موجود رہا ہے کہ امریکہ کسی سنگین صورت حال میں خود یا اپنے زیر اثر اسرائیل کے ذریعے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر حملہ کروانے اور تباہ کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ اسی اندیشے کی وجہ سے پاکستان نے گزشتہ چند برسوں میں چھوٹے ایٹمی ہتھیار تیار کئے ہیں اور عالمی ماہرین کے اندازوں کے مطابق ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت بھی پاکستان کے جوہری وار ہیڈز کی تعدا د دو سو کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔

پاکستان اور امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان اس حوالے سے اعتماد کی فضا موجود نہیں ہے۔ اس لئے جب بھی ایٹمی ہتھیاروں کے کنٹرول کی بات ہوتی ہے، پاکستان کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور پاکستان کے پاس اس کے سوا دوسرا کوئی جواب نہیں ہوتا کہ اس کا مقابلہ اپنے سے پانچ گنا بڑے ملک بھارت سے ہے ، اس لئے خود حفاظتی کے مقصد سے پاکستان کے لئے ایٹمی صلاحیت برقرار رکھنا ضروری ہے۔ امریکہ جوہری پھیلاؤ کے بارے میں پریشانی کا اظہار کرنے کے باوجود پاکستان اور بھارت کے درمیان اس حوالے سے کوئی تفہیم کروانے میں بھی ناکام رہا ہے۔ اس کے برعکس چند برس قبل امریکہ نے بھارت کے ساتھ ایٹمی مواد کی فراہمی کا معاہدہ کیا تھا۔ اس طرح پاکستان کے شبہات اور اندیشوں میں اضافہ ہؤا اور اس نے خود کو ذیادہ غیر محفوظ اور تنہا محسوس کرنا شروع کردیا۔ امریکہ اس معاملہ کی حساسیت کو سمجھنے اور بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعات کو حل کروانے میں بھی کوئی رول ادا کرنے کے قابل نہیں ہے۔ دو دہائیوں کے دوران پاکستان دہشت گردی اور سیاسی عدم استحکام کے مسائل کا شکار رہا ، اس دوران بھارت اقتصادی اور عسکری طور سے زیادہ مستحکم ہؤا ہے اور اس نے عالمی سطح پر زیادہ سفارتی اہمیت حاصل کی ہے۔ بھارت کی وسیع اور دلکش منڈیوں کی وجہ سے امریکہ سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اس طرح پاکستان کے خوف اور احساس عدم تحفظ میں مسلسل اضافہ ہؤا ہے۔ عالمی لیڈر اس مسئلہ کو سمجھنے اور حل کروانے سے قاصر ہیں۔

اس دوران پاکستان کے عام لوگوں میں بھی یہ احساس سرایت کرگیا ہے کہ ایٹمی صلاحیت اس کے بچاؤ کا واحد راستہ ہے۔ حالانکہ ایٹمی ہتھیار صرف تباہی اور بربادی کا راستہ ہیں۔ یورپ اور امریکہ نے نصف صدی سے زائد عرصہ تک جوہری قوت کو حفاظت کا ذریعہ سمجھنے کے بعد بالآ خر سرد جنگ کے خاتمہ پر اس راز کو پالیا کہ ایٹمی ہتھیار صرف بربادی کا پیغام ہیں اور ان کے ذخیرے کرہ ارض کے انسانوں کی زندگیوں کے لئے ایک مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ لیکن پاکستان کے لیڈر اور کسی حد تک عالمی مباحث سے نابلد ماہرین بھی مسلسل عوام کو یہ یقین دلانے میں مصر رہتے ہیں کہ پاکستان کے وجود کے لئے ایٹمی طاقت لازمی ہے۔ بھارت کے ساتھ دشمنی اور مخاصمت کے تناظر میں اگر اس بات کو مان بھی لیا جائے تو بھی خود حفاظتی کے لئے محدود جوہری قوت کافی ہے۔ لیکن پاکستان اس دوڑ میں مسلسل بھارت سے آگے نکلنے کی خواہش رکھتا ہے۔ اس لایعنی دوڑ کا کوئی مقصد نہیں ہے لیکن ملک کا کوئی شخص اس رویہ کے خلاف آواز اٹھانے کا حوصلہ نہیں کرسکتا کیوں کہ اسے فوری طور سے ملک دشمن یا بھارت کا ایجنٹ قرار دیا جائے گا۔ یوں بھی پاکستان کا ایٹمی پروگرام انتہائی خفیہ اور چند لوگوں کے اختیار میں ہے اور وہی اس بارے میں فیصلے کرنے کے مجاز ہیں۔ حتی ٰ کہ کبھی منتخب پارلیمنٹ میں بھی اس سوال پر بحث نہیں کی جا سکی۔ میڈیا دیگر متعدد امور پر خود مختاری دکھاتے ہوئے واضح رائے کا اظہار کر لیتا ہے لیکن ملک کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں پاکستانی میڈیا بھی عوام کو وہی بات بتاتا ہے جو ملک کے با اختیار لوگوں نے طے کر رکھی ہے۔ حالانکہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس معاملہ پر کھل کر بحث کی جائے اور یہ جانا جائے کہ ملک کو کتنی ایٹمی صلاحیت کس قیمت پر حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اور کیا واقعی یہ قیاس حقائق پر مبنی ہے کہ ایٹم بم کی موجودگی میں بھارت پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

پاکستان کی قیادت بھارت کے خوف میں قومی وسائل کے اندھا دھند استعمال سے زیادہ سے زیادہ ایٹمی ہتھیار بنانے میں مصروف ہے اور عوام یہ باور کررہے ہیں کہ اس طرح ان کا مستقبل محفوظ ہو رہا ہے۔ ابھی تک کوئی متبادل رائے سامنے لانے کوشش بارآور نہیں ہو سکی ہے۔ اس دوران دنیا کے دہشت گروہ مسلسل قوت پکڑ رہے ہیں اور ان کی شدت پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ دنوں بلجئیم میں پیرس اور برسلز پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے جس گروہ کا سراغ لگایا گیا ہے، اس کے قبضہ سے ایک ایسی ویڈیو بھی ملی ہے ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ گروہ بلجئیم کے ایک ایٹمی سائنسدان کی نگرانی کرتا رہا ہے۔ اس سے ماہرین یہ اندازہ قائم کر رہے ہیں کہ داعش کسی بھی طرح تابکاری مواد اور جوہری صلاحیت حاصل کرنا چاہتی ہے۔ صدر باراک اوباما نے آج جوہری سربراہی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس ویڈیو کا ذکر کیا اور کہا کہ داعش اس سے پہلے کیمیاوی اور مہلک ہتھیار استعمال کرچکی ہے۔ اس ویڈیو سے اس کے ان ارادوں کا پتہ چلتا ہے کہ وہ کسی بھی طرح تابکاری مواد حاصل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پلوٹینیم کی معمولی مقدار بھی دہشت گردوں کے ہاتھ لگ جائے تو وہ اس سے لاکھوں افراد کو ہلاک کرسکتے ہیں۔ یہ ایک ایسی صورت حال ہوگی جو دنیا کو تبدیل کرکے رکھ دے گی۔ اس مہلک اقدام کے دور رس انسانی، سیاسی، اقتصادی اور ماحولیاتی اثرات مرتب ہوں گے اور دنیا کئی دہائیوں تک ان سے نجات نہیں پا سکے گی۔

ایک طرف امریکہ کے صدر دنیا کو جوہری مواد کے پھیلاؤ سے ڈرا رہے ہیں تو دوسری طرف امریکہ کا صدر بننے کے خواہشمند ڈونلڈ ٹرمپ کا فرمانا ہے کہ جاپان اور جنوبی کوریا کو اگر شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام سے اندیشہ ہے تو وہ خود بھی اپنے ہتھیار بنا لیں۔ امریکہ کب تک دوسرے ملکوں کی حفاظت پر اپنے وسائل صرف کرتا رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے امریکہ کو اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے جاپان اور دوسرے ملکوں کو ایٹمی پروگرام شروع کرنے کا حق دینا چاہئے۔ ایک مقبول امریکی لیڈر کی ان باتوں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ تباہ کن فیصلے کرنے والے صرف چھوٹے ملکوں میں ہی نہیں بستے۔ امریکہ میں بھی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لئے بعض غیر ذمہ دار لیڈر کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ وہی بات کہہ رہے ہیں جو پاکستان اپنے طور دنیا کو سمجھانے اور عوام کو بتانے میں مصروف ہے۔ اس خطرہ سے نجات پانے کے لئے صرف پاکستان جیسے چھوٹے ملک کو نشانہ بنانا کافی نہیں ہوگا بلکہ اس کے لئے وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنے اور قوموں و ملکوں کے درمیان خوف اور اندیشوں کو ختم کرنے کے لئے کام کرنے کی ضرورت بھی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali