میرے خرمن کے خوشہ چینو، کچھ خبر تو دو


zafar kakarکوئی مکالمہ مقصود نہیں ہے، بس آڑھے ترچھے خیالات ہیں ۔ بیان کرنے میں ہرج کیا ہے۔ آپ کے وقت کا ضیاع البتہ ہو گا جس سے بچنے کے لئے کسی اچھی خبر سے آغاز کرتے ہیں۔ فرمایا ہمارے وزیر داخلہ نے کہ دھرنے والے قوم کو تقسیم کرنے کی سازش لے کر آئے تھے مگر ناکام لوٹے۔ مظاہرین نے قانون کے خوف سے غیر قانونی دھرنا ختم کیا۔  کتنی اچھی خبریں ہیں کہ قوم کو تقسیم کرنے والوں کی سازش ناکام ہو گئی۔ انہوں نے قانون کے خوف سے اپنا غیر قانونی دھرنا ختم کیا اور اب اسلام آباد میں پولیس کی ریاستی عملداری قائم ہونے کی بھی نوید سننے کو مل رہی ہے۔ لگے ہاتھوں چودھری صاحب اگر مولانا عبدالعزیز کے بارے میں کچھ فرما دیتے تو یک گونہ تسلی ہو جاتی کہ حکومت تشدد پر اکسانے والے گروہوں اور افراد کے بارے میں یکسو ہے مگر جانے وہ اس موضوع پر کیوں کلام نہیں فرماتے۔ چودھری صاحب کے اخلاص پر کوئی شبہ نہیں ہے مگر مشکل یہ ہے کہ چودھری صاحب اکثر و پیشتر کلام فرمانے کے وقت پردہ غیاب میں ہوتے ہیں اور جب فرماتے ہیں تو ایسا کلام فرماتے ہیں جس کی توجیح ایک صحیح الدماغ شخص کے لئے مشکل ہوتی ہے۔ آپ کو یاد ہو تو ایک بار چودھری صاحب نے فرمایا تھا کہ پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں ہے البتہ ایسے مقامی گروہ ضرور پائے جاتے ہیں جو داعش کے حامی ہیں۔  مجبوراَ حامی کا ترجمہ اردو لغت میں دیکھنا پڑا کہ کہیں مفہوم بدل تو نہیں گیا؟ پتہ چلا کہ حامی کا مطلب، کسی کام کی حمایت کرنے والا۔  مددگار اور معاون ہوتا ہے۔  ممکن ہے چودھری صاحب معاون اور مددگار کو شریک جرم نہ سمجھتے ہوں بلکہ انتظار میں ہوں کہ کسی داعش نامی جماعت کا اندراج اگر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ہو جائے تو ان کا وجود تسلیم کیا جائے گا۔  جماعت کی ملک تقسیم کرنے کی سازش دیکھتے ہوئے اس کو کالعدم قرار دیا جائے ۔ پھر اس کے کرتا دھرتا ملکی رواج پر عمل کرتے ہوئے’ فلاح انسانیت الدولت اسلامیہ ‘ جیسے نئے نام سے (یا اس سے ملتا جلتا جس میں سے فلاح اور ثواب کی بو آتی ہو) مزید دو تین سال اپنا کام جاری رکھیں تاکہ پھر ان پر پابندی کی کوئی سبیل پیدا ہو۔  اس اثنا میں یہ بھی توقع ہے کہ امن عامہ کی خاطر چودھری صاحب اسی کالعدم جماعت کو قیام امن کے لئے کرکٹ میچ کھیلنے کی دعوت دے دیں۔  یادش بخیر ! ہمارے چودھری صاحب ایک بار کالعدم تحریک طالبان کو قیام امن کے لئے حکومت کے ساتھ دوستانہ کرکٹ میچ کھیلنے کی دعوت دے چکے ہیں۔ طالبان کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ وہ اس لہو لعب میں نہیں پڑے ورنہ اب شاید پی ایس ایل میں ایک فرینچائز کے مالک ہوتے۔

سوال یہ ہے کہ دھرنا دینے والے کون لوگ تھے؟ آسان جواب یہ ہے کہ دھرنے میں بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے اکثر علمائے کرام و مشائخ عظام شامل تھے مگر حکومتی احباب ان کو شرپسند عناصر قرار دے رہے ہیں اور مکالمہ لڑانے والے احباب بضد ہیں کہ یہ جو کوئی بھی ہوں، دائیں بازو یا مذہب پسندوں کی فہرست سے کم از کم باہر ہیں۔ چونکہ اس باب میں’ پاکستانی تناظر‘ جیسی اصطلاح کی آڑ تواتر سے لی جارہی ہے اس لئے اسی تناظر میں آسان فارسی میں کچھ سوال رکھتے ہیں مگر پہلے حالی ۔ حالی نے کہا تھا، ’ راست گوئی میں ہے رسوائی بہت‘۔  درست کہا تھا اور برمحل کہا تھا لیکن اگر مزاج نازک پر گراں نہ گزرے تو داغ یاد آتے ہیں۔ فرمایا تھا،’ سب لوگ جدھر ہیں، وہ ادھر دیکھ رہے ہیں۔ ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں‘۔ چلئے ان کو خارج کر دیں۔ محترم و مکرم الیاس قادری صاحب جو کھیرے کا چھلکا اتارنے کو سبز رنگ ہونے کی وجہ سے گناہ سمجھتے ہیں۔ مدنی عینک اور مدنی تکیہ جیسی ایجادات فرماتے ہیں کیا وہ شامل ہیں اس دائیں بازو میں؟ احباب کا تو نہیں پتہ لیکن اہل دستار و فضیلت شامل نہیں سمجھتے۔  کیا اہل حدیث کے مولانا توصیف الرحمن اور ان کا ہمنوا ٹولہ شامل ہے جو بریلوی کو مشرک اور تبلیغیوں کو بدعتی اور باقیوں کو منکر حدیث سمجھتے ہیں؟ یقیناََ ان کی شمولیت پر بھی سوال کھڑے ہوں گے۔ پاکستانی طالبان تو ظاہر ہے دائیں بازو کی فہرست سے مکمل خارج ہیں اور ان کے حامی بھی اس فہرست سے خارج ہوں گے۔  اب عرض یہ ہے کہ کراچی کے ان بزرگوں کو تو خارج کرنا پڑے گا جنہوں نے ٹی ٹی پی کے حق میں جہاد کے فتوے تقسیم کئے۔  سو بسم اللہ بس ویسے ہی یاد دہانی کے لئے عرض ہے کہ انہی بزرگوں کے قلم سے افغان طالبان کے لئے جہاد کے فتوے نکلے تھے اس کا کیا بنے گا؟ پچھلے دنوں انہی کرم فرماﺅں نے لکھا تھا کہ جہاد کے لئے حکومت وقت کی شرط لازم ہے۔  سوچنا پڑے گا کہ کابل میں جہاد کے لئے پاکستان کے شہر کراچی کے علماء کیسے حکومت وقت ہو گئے؟

ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا وہ لوگ دائیں بازو میں شامل ہیں جو پاکستان بنانے کے عمل کو گناہ سمجھتے تھے یا وہ لوگ شامل ہیں جو ٹی ٹی پی کے خلاف لڑنے والے فوجیوں کو شہید تسلیم کرنے پر تیار نہ تھے؟ بارہا کہا گیا کہ داعش کو اسلام پسندوں سے نہ جوڑا جائے۔  القاعدہ کے ایمن الظواہری کا پاکستانی فوج کے خلاف فتوی آنے کے بعد القاعدہ کو بھی دائیں بازو کی وسیع المعانی اصطلاح سے نکال دیا گیا۔ جب آپ داعش اور القاعدہ کو نکال دیتے ہیں تو ان کے حامی بھی نکل جاتے ہیں اگر حامی تعریف چودھری نثار علی خان والی نہ ہو۔  پھر کراچی ، فیصل آباد، ژوب، پنڈی، گجرات اور مردان سے پکڑے جانے والے القاعدہ کے سرکردہ لوگوں کے میزبانوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟

دائیں بازو کے ایک مرد قلندر درویش نے مولانا فضل الرحمن کو اس فہرست سے خارج کر دیا تھا۔ مولانا طارق جمیل، جنید جمشید اور سعید انور کی چند گوہر افشانیوں کے بعد تواتر سے کہا گیا کہ یہ موقف ان کا ذاتی ہے اور اس کو اسلام پسندوں کے وسیع اسکیم کا حصہ نہ سمجھا جائے۔  مولانا شیرانی، طاہر اشرفی، ابتسام الہی ظہیر، مفتی عبد القوی، مولانا زرولی خان، مفتی نعیم، علامہ طاہر القادری اور عالم بے بدل مولانا ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے بارے میں بھی اسلام پسند حلقوں سے ہی بار بار ناپسندیدگی اعلانات جاری ہو چکے ہیں۔  اس پر اب کیا بحث ہے کہ دائیں بازو یا اسلام پسندوں کی آپس کی چومکھی لڑائی کم و بیش کفر اور شرک کے فتوﺅں تک پہنچ چکی ہے ۔

آپس کی تقسیم اور اس مشکل صورت میں دائیں بازو کی فہرست میں اگر کوئی بچتا ہے تو وہ چند اخبار نویس دانشور ہیں یا پھر حامد ناصر چھٹہ اور چوہدری برادران ہیں کیونکہ میاں محمد نواز شریف پر بھی اب لبرل ازم کی تہمت لگ چکی ہے اور دائیں بازو کے اخباری دانشور روز ان کے لتے لیتے ہیں۔  یہ الگ بات ہے کہ وہ اسی سانس میں ایک آرزو مندانہ نگاہ پنڈی کی جانب بھی کر لیتے ہیں یہ جانے بغیر کہ وہاں کے باسی لبرل ہیں، سیکولر ہیں یا پھر اسلام پسند۔  اہل علم سے مکرر درخواست ہے کہ دائیں اور بائیں بازو کی اصطلاحی تذلیل کے بعد اگر دائیں بازو کو پاکستان میں اسلام پسند ہی کہا جاتا ہے تو کم ازکم اس فہرست میں شامل لوگوں کو مرتب کر کے لکھا جائے تاکہ مکالمے کے وقت آسانی پیدا ہو۔  مشکل یہ ہے کہ تشدد کرنے، عدم برداشت کو فروغ دینے اور فرقہ بندی پر اکسانے والوں پر جب نقد کی جاتی ہے تو نالہ آتا ہے کہ یہ لوگ دائیں بازو کے دائرے سے باہر کھڑے ہیں۔  راست گوئی میں رسوائی ضرور ہے مگر اہل دانش پیشہ یہی ہے۔ بھلے آپ ہماری مسلمانی کو تہمت سمجھ لیجیے مگر اسلام پسندی پر ہمارا بھی کچھ حق بنتا ہے کہ ہم بھی مسلمان ہیں ۔  دایاں اور بایاں کیا ہے، اس کو چھوڑدیتے ہیں۔  سوال آسان کر دیتے ہیں۔  کیا اسلام کسی شخص کو ماورائے آئین قتل کی اجازت دیتا ہے؟ بھلے وہ کوئی بھی ہو۔  کیا اسلام ریاست کی اجازت کے بغیر کسی گروہ ہو جہاد کرنے اجازت دیتا ہے بھلے وہ کتنا ہی پارسا ہو؟ یقینا جواب نفی میں ہے۔  اب اپنے فیتے فٹے اٹھا لیجیے اور دیکھ لیجیے کہ کون کون ماورائے آئین قتل کی حمایت میں ہے اور کون کون غیر ریاستی جہاد کا حامی؟ دایاں اور بایاں پھر سمجھا لیجیے بلکہ دائیں میں دایاں بتا دیجیے کہ اب یہی بچتا ہے۔ جانے کیوں فیض یاد آتے ہیں۔

اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک

اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 83 posts and counting.See all posts by zafarullah

One thought on “میرے خرمن کے خوشہ چینو، کچھ خبر تو دو

  • 02-04-2016 at 2:09 am
    Permalink

    عرض تمنا کرنا بہتر ہوتا ہے چاہے کوی کتنا بھی طرز تغافل رکھے بہرحال اچھی تحریر ہے

Comments are closed.