مرزا غالب قذافی سٹیڈیم لاہور میں


 AWAIS QARNIمرزا غالب اردو ہی نہیں بلکہ عالمی ادب کے بھی مرد اول ہیں۔ ان کے دیوان کے ساتھ ساتھ ان کے خطوط بھی خاصے کی چیز ہیں لیکن یہ جو خط آپ پڑھیں گے، وہ غالبؔ نے تو نہیں لکھا۔ لیکن اگر وہ آج زندہ ہوتے اور کرکٹ کے میچ دیکھتے تو شاید اسی انداز میں لکھتے۔ یہ خط مرزا غالبؔ کے چہیتے شاگرد چھوٹے غالبؔ کےنام لکھا گیا ★

لو بھئی چھوٹے میاں!

میں کل دلی واپس پہنچ گیا۔ تو اب تم میری غیر حاضری کی وجہ پوچھو۔ لاہور میں ایک شناسا ہیں، نام ہے ان کا مرزا افتخار افی۔ مرزا تو میں نے ان کو خطاب دیا ہے، وہ خود اپنے نام کے ساتھ مرزا نہیں لکھتے۔ بڑے بھلے انسان ہیں، میری مزاج پرسی کرتے رہتے ہیں۔ کل ہرکارہ آیا تو افتخار مرزا صاحب کا خط لایا۔ لکھتے ہیں کہ کچھ اصحاب میرے دیوان کو محفوظ کر رہے ہیں۔ کارروائی بڑی عجیب ہے، وہ یہ کہ میرا کلام ایک ڈبے میں کہ فرنگی کاریگروں نے نکالا ہے اور نام اس ڈبے کا کمپیوٹر رکھا ہے، لکھ کر محفوظ کیا گیا ہے اور پھر میرا کلام دنیا کے کسی بھی حصہ میں ایسے ہی ڈبے کے ذریعے پڑھا جا سکے گا۔ یہاں آج کل سارے کام اسی سے ہوتے ہیں۔ سبحان اللہ، نہ مشاعرے کی ضرورت اور نہ دیوان کی حاجت۔ ماشاء اللہ اور سنو۔۔۔!

افتخار مرزا نے فرمایا کہ یہاں آؤ اور خرچہ آمد و رفت کا پاؤ۔ خیر وہاں پہنچا تو قدم قدم پر عجائبات قدرت۔ اب اصل قصہ سنو۔ افی میاں نے کہا کہ تم کو ایک تماشا دکھاؤں گا۔ تمہیں تو پتا ہے، اس عمر میں طبیعت کھیل تماشوں کی طرف راغب نہیں ہوتی۔ اب کیونکر جاتا. مگر وہ مصر رہے، مجبوراً ساتھ ہو لیا۔ انہوں نے ایک عجیب سواری میں سوار کرایا۔ تانگے اور رتھ جیسی کوئی سواری تھی لیکن چھت کے ساتھ۔۔ اگلے حصے کو دیکھا تو نہ بیل، نہ گھوڑا، معلوم ہوا کوئی معدنی سیال بھرواؤ اور سواری تیار ہے۔ پھر تیز رفتار ماشاءاللہ! “نے ہاتھ باگ پر ہے، نہ پا ہے رکاب میں”والا معاملہ لگتا تھا۔ بس یوں سمجھو اڑن کھٹولا ہے۔ اب اس جگہ پہنچا، جہاں تماشا ہوتا ہے۔ ایک بیضوی عمارت ہے، اونچائی دلی کے قلعے جتنی۔ اندر داخل ہوئے تو وہاں ایک عجیب سماں برپا ہے، رات کو دن بنا دیا۔ دیکھا تو چاروں طرف اونچے ستونوں پر چراغ روشن ہیں۔ یہ نہ معلوم ہو سکا کہ ان میں تیل کون ڈالتا ہے، کون روشن رکھتا ہے؟ اب جو نظر دوڑائی تو دیکھا کہ ایک میدان میں مخملی گھاس بچھی ہوئی ہے۔ اس سے زیادہ نہ دیکھ سکا، اس عمر میں بینائی کہاں تک ساتھ دے جب یہ مدعا افی مرزا کو سنایا تو انہوں نے دو عدد وزنی عدسے آنکھوں سے لگا دئیے۔ اب جو میدان میں دیکھتا ہوں تو دس بارہ نوجوان آپس میں بحث میں الجھے ہوئے ہیں۔ ان کے لباس دیکھ کر یہ اندازہ نہ کر سکا کہ کون سا پہناوا ہے، غالباً پاجامے کے اوپر قمیص اور کرتے کی طرح کی کوئی چیز تھی جو پاجامے میں گھسی ہوئی تھی۔ عجب نہیں کہ یہ نوجوان دلی کے شاہی خاندان سے ہوں لباس میں کئی رنگ برنگے پیوند تھے۔ “یا الٰہی! یہ ماجرا کیا ہے؟ ” خیراب دو نوجوان میدان میں ایک جانب سے داخل ہوئے۔ ان کے تیور بتا رہے تھے کہ اس بحث میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ایک ہاتھ میں چھڑیاں تھیں، لباس بھی ان کا وہی تھا، البتہ اضافہ یہ ہوا تھا کہ ہاتھ پیروں سمیت قریباً تمام جسم کی مرہم پٹی کی گئی تھی۔ ایسی حالت میں انہیں بستر سے اٹھنے کیوں دیا گیا؟ حکیم نے روکا کیوں نہیں؟۔۔۔۔

اب سنو۔ ! یہ دونوں میدان کے وسط میں پہنچ گئے۔ یہاں کچھ فاصلہ پر زمین میں تین بلیاں گڑی تھیں۔ افی میاں نے کہا کہ اب سنبھل کے بیٹھو کہ تماشا شروع ہوا چاہتا ہے۔ میں حیران کہ یہ کیا کھیل تماشا ہے۔ اتنے میں دو فرنگی میدان میں وارد ہوئے۔ سوچا، چلو معاملہ طے ہوا۔ اب صاحب بہادر تصفیہ کرا دیں گے۔ حیران تو ہوا کیونکہ افی میاں نے بتایا تھا کہ عرصہ ہوا انگریز ہندوستان چھوڑ گئےاور ہندوستان کے کچھ حصوں پر مسلمان سلطنت قائم ہے۔سوچا کہ افی میاں سے پوچھوں کہ یہ فرنگی پھر یہاں کیوں؟ مگر خاموش رہا۔ طرہ یہ کہ یہ دونوں اس جھگڑے میں شامل ہو گئے۔ اس کارروائی تک یہ نہ سمجھ سکا کہ معاملہ کیا ہے، کیوں یہ میلہ سجایا گیا ہے۔ خیر اب ایک نوجوان میدان کے سرے پر پہنچ گیا اور اس کے ساتھی میدان میں اردگرد پھیل گئےجیسے ان دونوں نوجوانوں کو ڈرانا دھمکانا مقصود ہو۔ اچانک اس نوجوان نے فرنگی کی جانب دوڑنا شروع کر دیا اور وہاں پہنچ کر اپنے جسم کو اس طرح موڑا کہ دونوں ٹانگیں زمین سے اوپر اور ہاتھ ہوا میں معلق رہے۔ دفعتاً اس نوجوان نے ایک لال رنگ کا گولا سا زخمی نوجوان کے دے مارا۔ میں نے کہا، الٰہی خیر!۔ معلوم ہوا کہ زخمی نوجوان بھی بے خبر نہیں۔ اس نے کمال ہوشیاری سے گولے کو چھڑی سے دور مار بھگایا۔ میں نے اندازہ کیا کہ چلو معاملہ رفع دفع ہوا۔ اب یہ نوجوان بھاگ کھڑے ہوں گے اور اپنے گھر کی خبر لیں گے مگر مت پوچھو۔ میدان والے نوجوان تو اس گولے کے پیچھے بھاگے اور جس نے چھڑی سے گولے کو دور بھگایا تھا، وہ اور اس کا زخمی ساتھی بلیوں کے درمیان دوڑ لگاتے رہے۔ وہاں تو خیر وہاں تو خیر جو ہوا سو ہوا۔ میرے ساتھ جو اصحاب تماشا دیکھ رہےتھے۔ عجب بے ہودہ انداز میں اودھم مچانے لگے۔ مشاعروں میں ہم نے بھی داد پائی لیکن یہ کیا طریقہ کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے۔ اس شور میں مجھے اختلاج ہونے لگا۔ چاہا کہ واپس ہو لوں مگر افی نے روک لیا کہ یہ ہنگامہ ختم ہوا چاہتا ہے۔

جب یہ طوفانِ بدتمیزی تھما تو کیا دیکھتا ہوں کہ میدان میں پھر وہی نوجوان جھگڑنے کو تیار ہیں، پھر وہی بھاگ دوڑ، کچھ نہ پوچھو، شام سے رات گئے تک یہی ہوتا رہا۔ یہ بھی ہوا کہ گولے والے نوجوان نے گولا پھینکا تو وہ زخمی کی پٹیوں پر لگا۔ اس ظالم سے یہ نہ ہوسکا کہ پوچھ لے، بھائی کیسے ہو؟ مگر اس بے ہودے نے فرنگی کی طرف رخ کر کےاس انداز میں صدا لگائی کہ میرا دل دہل گیا اور مجھے اس کی ذہنی حالت پر شبہ ہونے لگا اور ہاں، یہ بھی ہوا کہ زخمی گولے سے بچ گیا اور گولا بلیوں سے جا لگا۔ اس پر پھر وہی اودھم مچا۔ وہ زخمی اپنی چھڑی ہاتھ میں پکڑے منہ لٹکائے، اللہ جانےمیدان سے نکل کر کدھر چلا گیا، اور اس کی جگہ ایک اور زخمی پٹیاں باندھے آ گیا۔ بارے وہی تماشا پھر شروع ہوگیا۔ پھر تو زخمی آتے جاتے رہے۔۔۔

بھئی چھوٹے میاں ! میری تو عقل خبط ہوگئی، بیٹھنا دوبھر ہو گیا۔ پر افی مرزا کی مروت میں واپس نہ آ سکا کہ مرا دم بھرتے ہیں۔ جب یہ تماشا ختم ہوا تو واپسی ہوئی۔ افی میاں نے بتایا کہ تماشا یہاں بہت مقبول ہے اور نام اس تماشے کا کرکٹ بتاتے ہیں۔ ہزار ہا روپیہ خرچ کیا جاتا ہے، بڑے بڑے انعامات و اکرامات دئیے جاتے ہیں۔ سوچا کہ شاعری ترک کر کے یہی تماشا شروع کر دوں کہ ساہوکار کا بار تو ہٹے۔ پر افی میاں نے کہا کہ یہ نوجوانی کا کھیل ہے۔ نہ جانے کیسا مارا ماری کا کھیل ہے۔ خیر، انہی کو مبارک۔ وہ خوش رہیں، ہم یہاں خوش ہیں۔

نجات کا طالب،

غالبؔ


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “مرزا غالب قذافی سٹیڈیم لاہور میں

  • 02-04-2016 at 7:27 pm
    Permalink

    Waste of time—–!

  • 25-04-2016 at 12:46 pm
    Permalink

    سوچا کہ شاعری ترک کر کے یہ تماشہ ہی شروع کر دوں۔
    کس دکھ میں یہ جملہ غالبِ خستہ نے کہا ہو گا

Comments are closed.