زندہ ہے جمعیت زندہ ہے


\"inam-rana-3\"

جب مجھے یقین ہو گیا کہ معصوم افسردہ شکل بنا کر گورنمنٹ کالج کی پراسپکٹس کو دیکھنے اور آہیں بھرنے کی اداکاری کے باوجود میرے والد اپنے تعلقات لڑا کر میری کوئی مدد نہ کریں گے تو مایوس ہو کر میں نے اگلی بہترین آپشن کے بارے میں سوچا۔ میرے ابا مرحوم نے جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے سوائے جسٹس قیوم کا شاگرد کرنے کے شاید ہی میری کوئی سفارش کی ہو۔ میرٹ پر آگے آنے والوں کا یہ نفسیاتی مسلئہ ہے کہ وہ اپنی سفارش سے کسی دوسرے کی حق تلفی کرنا گوارا نہیں کرتے۔ میٹرک کے بعد میرا گورنمنٹ کالج پڑھنا میرا اور ابا دونوں کا مشترکہ خواب تھا۔ مگر جب میرے نمبر مطلوبہ میرٹ پر نہ آئے تو وہ ویسے ہی آنکھیں پھیر گئے جیسے فوج آجکل مذہبی جماعتوں سے؛ خود کچھ کر لو تو کر لو، ہم غیرجانبدار رہیں گے۔ خیر دو دن بعد میں میرٹ پر ایف سی کالج میں داخل ہو گیا اور میٹرک کے خراب نتیجے سے ابا کے ماتھے پہ آئی تیوریاں دو تین کم ہو گئیں۔

کالج ایک نوجوان کیلیے پہلی محبت کی طرح ہوتا ہے۔ تحیر، سرخوشی، تعلیم، خوف اور تسخیر کے جذبے سے بھرپور۔ سو ہم بھی انھیں جذبات کو لیے ایف سی کالج میں ایک بلاک سے دوسرے کو بھاگتے تھے۔ ابھی دوسرا ہی دن تھا کہ اچانک کمرے میں چند نوجوان داخل ہوئے اور نعرے لگ گئے، ’زندہ ہے جمعیت زندہ ہے‘ ’قاضی تیرے بیٹے ہی، انقلاب لائیں گے‘ اور ساتھ ہی ہڑتال کا ایک نعرہ اور کلاس خالی۔ اب مابدولت جو دس منٹ قبل لٹریچر کی کلاس میں شکسپیئر کے میکبیتھ کی زبان و بیان میں گم تھے۔ یہی سمجھے کہ شاید چڑیلیں باہر آ گئیں ہیں اور بادشاہ ڈنکن کے خلاف بغاوت ہو گئی۔ پتہ چلا کہ نہیں فقط \"zhj1\"ہڑتال ہوئی ہے۔

شوق شوق میں جلوس کے ساتھ نکلے اور پرنسپل کے دفتر کے سامنے ’سیبے والا بم‘ پھٹنے تک موجود رہے۔ معلوم ہوا کہ پرنسپل ریحان صاحب نے قاضی کے کسی بچے کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کی جس سے اسلام خطرے میں آ گیا ہے۔ آہستہ آہستہ اندازہ ہوا کہ مکڑی کا اک جال ہے جو اس درسگاہ پر تنا ہے۔ ہے بھی اور دکھتا بھی نہیں۔ اور یہ تو کمزور بھی نہیں لگتا تھا۔ پنجاب یونیورسٹی کے بعد ایف سی کالج جمعیت کا سب سے مظبوط گڑھ تھا اور اس کی سب سے بڑی طاقت تھی گاؤں کے لڑکے۔ تازہ تازہ گاؤں سے آئے لڑکے جب لاہور کی رونقیں دیکھتے، نت نئی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں پہ آتے لڑکے اور (اس وقت تک ایم اے میں پڑھتے) رنگین آنچل ان کی آنکھوں کے سامنے لہراتے، تو وہ وہی کرتے جو کہ ہمارا قومی مزاج ہے؛ نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے (نہ کھیلیں گے اور نہ کھیلنے دیں گے)۔ چنانچہ کالج میں دو طبقے تھے، لاہور والے اور نالاہور والے۔ لاہور والے انگریزی بولتے یا اردو۔ کلاس میں بڑھ چڑھ کر سوال اٹھاتے اور جواب بھی ایسے دیتے کہ نالاہور والوں کے نفسیاتی مسائل مزید بڑھ جاتے۔ اب نالاہور والوں کے پاس ایک ہی طریقہ تھا۔ وہ \"zhj2\"جمعیت میں جاتے، بستے میں کلاشنکوف ڈالتے اور قاضی کے بیٹے بن جاتے۔

اسی بارے میں: ۔  آزادی صرف جنسی نہیں ہوتی۔ ۔ ۔

جماعتیوں کو ہر اس رویے سے بیر تھا جو انسانی ہو سکتا ہے۔ ایک بار ایک لڑکے کے بال مونڈے گئے کہ وہ ٹیپ ریکارڈر پر اونچا گانا سن رہا تھا۔ دو لڑکوں کو ’کمبل کٹ‘ پڑی کہ انھوں نے ایک ’ساتھی‘ سے چندہ مانگنے پر بدتمیزی کی تھی۔ اک بار ایم اے بلاک کے سامنے ایک لڑکے کو مرغا بنایا گیا اور تشریف پر چھتر پڑے۔ اس دوران ایک صاحب بہت اونچی آواز میں فرما رہے تھے کہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے یہاں فحاشی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس دوران وہ کن انکھیوں سے بار بار اس لڑکی کو دیکھتے تھے جو ان کو تو لفٹ نہیں کراتی تھی مگر اس ’مرغے‘ سے ہنس ہنس کر باتیں کرتی تھی۔ ان حضرات میں ایک لڑکا ڈوگر سب سے تیز بلکہ اتھرا تھا۔ ایسا کہ جماعتیے خود بھی ذرا گبھراتے ہی تھے۔ ایک ہاسٹل میں صبح نماز کی بیداری سے رات گئے تک وہ سب سے زیادہ شور ڈالتا جماعتیا تھا۔ مگر بھاگنے والے بھی قیامت کی چال رکھتے ہیں۔

میرا یار ڈار بھی اسی ہاسٹل میں مقیم تھا۔ تھا تو گجرات کا مگر احساس کمتری سے دور اور خوبصورت۔ معصوم اور حسین شکل کے صدقے وہ ہوسٹل وارڈن ہی کی بیٹی سے سلسلہ شروع کر چکا تھا جو اس کے کمرے سے متصل گھر میں رہتی تھی۔ یادش بخیر اک بار لڑکی کمرے میں تھی اور رات گئے کسی سلسلے میں پنجاب یونیورسٹی بلکہ جامعہ پنجاب نے کالج سے کمک مانگی۔ ڈوگر صاحب نے فورا دروازے کھٹکھٹائے اور لڑکے جمع کرنا شروع کیے۔ اب جو ڈار کا دروازہ کھٹکھٹایا تو یہ اندر اس حال میں تھا کہ ’یہ دیکھ کیا حال ہے تیرا میرے آگے‘۔ خیر فورا کھڑکی کے رستے لڑکی کو نکالا اور سر پہ ٹوپی رکھ کر دروازہ کھولا۔ ڈوگر صاحب زن سے کمرے میں داخل ہوئے اور نظریں دوڑاتے پوچھا اتنی دیر کیوں لگائی، بولا کیوں نہیں۔ ڈار فورا بولا جی وہ مرشد نے عشاء کے بعد وظیفہ بتایا ہے وہ پڑھ رہا تھا درمیان میں بول نہیں سکتا تھا۔

چلئے اک اور سنیے اور سر دھنیے۔ یہی ڈوگر صاحب اک دن کسی کام سے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج چلے گئے۔ اب وہاں تھی پریاں قطار اندر اور پھول کھلے تھے اودے نیلے جن پر بھنورے بھی منڈلاتے تھے۔ ایسے ہی اک پھول پر جب بھنورے کو رس چوسنے کی کوشش میں دیکھا تو یہ فورا جا سامنے کھڑے ہوے۔ ’اسلام علیکم، آپ سے گزارش ہے کہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، ایک اسلامی ملک میں آپکو ایسی فحش حرکات کرتے ہوے شرم آنی چاہیے‘۔ اب زیر تعلیم ڈاکٹر کا ، جو شاید مریضہ کی سانس میں موجود جراثیم کی اقسام کا جائزہ لے رہے تھے، پہلے تو وہ مشہور زمانہ تراہ نکلا جو قاری حنیف ڈار صاحب کا نکلتا ہے۔ ذرا سنبھلے اور اسی حیرانی میں پوچھا کہ آپ کی تعریف۔ ’جی میں الحمدللہ رفیق اسلامی جمعیت طلبہ ایف سی کالج، فلاں ڈوگر‘، یہاں سے \"zhj3\"باآواز بلند جواب آیا۔ اسکے بعد کیا ہوا تاریخ خاموش ہے، البتہ اگلے دو ہفتے تک ڈوگر صاحب نجانے کیوں ٹانگیں ذرا پھیلا کر چلتے تھے۔

اسی بارے میں: ۔  پنجاب یونیورسٹی، لیاقت بلوچ اور رقص متعلقہ کشیدگی

ہم قریب کوئی پندرہ دوست تھے جو ایک گروپ بن گئے۔ ایک تو ہم ذرا ایسے گھرانوں سے تھے جن پر غصہ کیا تو جا سکتا ہے اتارا نہیں جا سکتا۔ دوسرا ہمارا اور جمعیت کا ایک خاموش معاہدہ ہو گیا تھا۔ انکے جلوس کے لیے چندہ اور کچھ گاڑیاں ہم دے دیتے تھے اور جواباً فروٹ شاپ پر ہم خواہ گانا سنیں، قہقہے لگائیں یا کوک کی بوتل میں مشروبِ جوش پیئیں، جماعتیے آنکھ کانی کر لیتے تھے۔ میرا ایک دوست لودھی تازہ تازہ انقلاب پسند یا ’لیفٹیا‘ تھا۔ متوسط گھر کا لودھی اندھیروں میں چراغ جلانا چاہتا تھا مگر ہوا کا صحیح اندازہ نہ رکھتا تھا۔ اس سے محبت تھی تو اکثر میں اسے جمعیت کے لڑکوں سے اپنی ذاتی تعلقات استعمال کر کے بچانے کی کوشش کرتا۔ اگست میں میرے والد کو عدالتی چھٹیاں ہوتی تھیں اور ہم سیر کے لیے شمال کی جانب جاتے تھے۔ اس اگست جب میں شمال میں تھا تو لودھی پمفلٹ بانٹتا ڈوگر کے ہاتھ چڑھ گیا۔ واپسی پر اس نے سنایا کہ پہلے تو اس کو کمبل ڈال کر ہاکیوں سے مارا گیا۔ پھر دو گھنٹے مرغا بنانے کے بعد اس کی پیٹھ پر گرم استری لگائی گئی۔ اور آخر میں چھ گھنٹے کے تشدد کے بعد اسکی ٹنڈ کر کے اسے کالج گراؤنڈ میں پھینک دیا گیا۔ افسوس نہ میں اپنے دوست کو بچا سکا نہ اس کا بدلہ لے سکا کہ کوئی مانتا ہی نہ تھا کہ یہ قصہ ہوا۔ جب میں کالج داخل ہوا تھا تو جمعیت عروج سے زوال کا سفر شروع کر چکی تھی اور میرے بی اے میں پہنچتے پہنچتے مشرف صاحب آن پہنچے۔ اب وہی پولیس جسے کالج میں داخلے کی اجازت نہ تھی، روز کالج آنے لگی۔ آخر کالج پر حکومت کا قبضہ ہو گیا، کئی جماعتیے جو طالب علم سے زیادہ لیڈر تھے نکالے گئے اور کالج ان کو لوٹا دیا گیا جن سے کبھی چھینا تھا، یعنی مسیحی مشنریوں کو۔

دو سال قبل پاکستان گیا تو پتہ چلا لودھی آفیسر بن کر سیکریٹیریٹ میں بیٹھتا ہے۔ اسے ملنے گیا تو اچانک اس کی کرسی کی پچھلی دیوار پر نظر پڑی۔ ایک بڑے سے کاغذ پر جلی حروف میں لکھا تھا ’زندہ ہے جمعیت زندہ ہے‘۔ ابھی حیرت میں ہی تھا کہ اس کا اردلی چائے لے آیا۔ اردلی نے میری طرف دیکھا اور پھر نظر جھکا کر پیالی میری طرف بڑھا دی۔ پیالی ڈوگر کے بڑھے ہوئے ہاتھوں میں کانپ رہی تھی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انعام رانا

انعام رانا لندن میں مقیم ایک ایسے وکیل ہیں جن پر یک دم یہ انکشاف ہوا کہ وہ لکھنا بھی جانتے ہیں۔ ان کی تحاریر زیادہ تر پادری کے سامنے اعترافات ہیں جنہیں کرنے کے بعد انعام رانا جنت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ فیس بک پر ان سے رابطہ کے لئے: https://www.facebook.com/Inamranawriter/

inam-rana has 36 posts and counting.See all posts by inam-rana

33 thoughts on “زندہ ہے جمعیت زندہ ہے

  • 02-04-2016 at 3:13 pm
    Permalink

    MA SHA ALLAH. KIYA ZAMANAH YAAD KARA DIYA.KHUSH RAHO

  • 02-04-2016 at 3:28 pm
    Permalink

    یادش بخیر، پنجاب یونی ورسٹی میں نوے کی دہائی کی اوائل میں جمعیت کے نوجوانوں اور ادھیڑ عمروں کی میاں صاحب نے ون وے کے چکر میں خوب لترول کروائی تھی۔ لیکن بہت سے تعلیمی اداروں خصوصاً انجینئرنگ یونی ورسٹی میں لاہور میں ایم ایس ایف بھی پر تشدد معاملات میں ملوث تھی چنانچہ تعلیمی اداروں سے تشدد کی سیاست کے خلاف مؤثر کاروائی نہ ہوسکی۔ یہ ون وے والا چکر بھی بطرف رائے ونڈ سفر کم مدت میں طے کرنے کے چکر میں ہوا تھا۔
    بہرحال کچھ اپنی بھی یادیں ہیں۔ آپ ہی کی طرح میرا بھی جماعتیوں کے بارے ایسا ہی مشاہدہ تھا۔ فقیر کو تمام ہاسٹلز کی میس کمیٹیوں کے برعکس غیر جماعتی چئرمین میس کمیٹی ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ وزیر اعظم پاکستان کی طرح اس چئرمینی میں بھی کئی پٹ فالز تھے۔ تاہم کسی نہ کسی طور فقیر لترول کروائے بغیر یونی ورسٹی سے کورس مکمل کرنے میں کامیاب رہا۔

  • 02-04-2016 at 3:30 pm
    Permalink

    “چنانچہ کالج میں دو طبقے تھے، لاہور والے اور نالاہور والے۔ لاہور والے انگریزی بولتے یا اردو۔ کلاس میں بڑھ چڑھ کر سوال اٹھاتے اور جواب بھی ایسے دیتے کہ نالاہور والوں کے نفسیاتی مسائل مزید بڑھ جاتے۔ اب نالاہور والوں کے پاس ایک ہی طریقہ تھا۔ وہ zhj2جمعیت میں جاتے، بستے میں کلاشنکوف ڈالتے اور قاضی کے بیٹے بن جاتے”
    Dude, how much more can over-generalize and explicitly articulate your inherent hatred and pity for gaaoun say aaye huay jaahil ganwaar.

  • 02-04-2016 at 3:32 pm
    Permalink

    تحریر بہت مزیدار تھی اگر آخر میں اپ فکشن نہ ایڈ کر دیتے۔۔۔
    جمیعت کا بندہ اور اردلی۔۔۔ صاب جی یا تو اپ جمیعت کو نہیں جانتے یا پھر اپنے قلم سے جھوٹ کو الہامی سچائی بنا رہے ہیں۔۔۔
    ہم نے تو جتنے بھی احباب دیکھے ہیں وہ سب اعلی پوزیشنز پر ہی ہوتے ہین آج بھی آپ کسی ادارے خاص کر یونیورسٹی کے پروفیسرز کا بایو ڈیٹا نکال کر دیکھیں تو 70 فیصد سے زیادے سابقین مین سے ہوتے ہیں۔۔۔
    پی ایس بندہ آپکے لکھت کا شیدائی ہے پھر بھی۔۔۔۔

  • 02-04-2016 at 3:37 pm
    Permalink

    بھائی واجد
    شکریہ۔ باقی رہی فکشن والی بات، تو ممتاز مفتی کی بیگم جو ان کے بارے میں کہتی تھی وہ ہم سب لکھاریوں پر عین صادق ہے

  • 02-04-2016 at 3:44 pm
    Permalink

    بندہ کو اگر ممتاز مفتی کی بیگم صاھبہ کی کہاوت پتہ لگ جاوے تو مشکور ہوگا ?

  • 02-04-2016 at 4:13 pm
    Permalink

    “یہ تو سارا دن بس جھوٹ لکھتے رہتے ہیں”
    ?

  • 02-04-2016 at 4:14 pm
    Permalink

    انعام رانا صاحب۔
    انتہائی فارغ لکھا ہے آپ نے۔
    جمعیت خوبصورت لوگوں کا گلدستہ ہے۔ ہر اس آنکھ کو چبھتی ہے جو اس وطن کو لبرل بنانے کا خواب دیکھ رہا ہے۔
    انتہائی جھوٹی تحریر لکھنے پر افسوس ہے آپ پر۔

  • 02-04-2016 at 4:53 pm
    Permalink

    ادیبوں کی بیویوں کو گلہ ہو سکتا ہے اور بہت حد تک درست بھی کیونکہ “فکشن” تو ہوتا ہی سوچا ہوا سچ نما جھوٹ یا جھوٹ نما سچ ۔ مصنفین پر جھوٹ لکھنے کا الزام غلط ہو سکتا ہے۔ مچال کے طور پر میں نے زندگی میں جتنا “نان فکشن” لکھا سچ لکھا یا وہ لکھا جسے میں بہت حد تک سچ سمجھتا تھا، میرے بعد آنے والے جیسے وجاہت بھی سچ ہی لکھتے ہیں، “نان فکشن” میں تڑکا نہیں لگاتے ۔

  • 02-04-2016 at 5:05 pm
    Permalink

    Zawal k time pe is Tara k log he leader Banty hain. Jamiat me bhi achy log they kabhi. Literary, thinker, active social workers.

  • 02-04-2016 at 5:09 pm
    Permalink

    یہ حال فقط جمیعت جا نہیں بلکہ تمام طلبا ونگ کا تھا۔ یہ طلبا سیاست کے زوال کی کہانی ہے۔

  • 02-04-2016 at 5:22 pm
    Permalink

    مبالغہ آرائی کچھ زیادہ ہوگئی… قصہءِ ماضی بھول کر حال کا احوال اہم ہے… جہاں کچھ غلط تھا وہاں بہت کچھ اچھا بھی کرتے تھے، بک فیئر، ٹورنامنٹ، مینا بازار، بلڈ بینک، سیمینار، مستحق طلبہ کی امداد، لائبریری کا قیام، ادبی مقابلے اور مشاعرے…

  • 02-04-2016 at 5:44 pm
    Permalink

    ممتاز مفتی کی بیگم کہا کرتیں.. کیوں جھوٹی کہانیاں لکھ لکھ کر اپنی عاقبت خراب کرتے ہو

  • 02-04-2016 at 5:45 pm
    Permalink

    انعام بھائی لطف آ گیا

  • 02-04-2016 at 5:55 pm
    Permalink

    پیارے یاسر
    I can not have inherent hatred against the villagers as I belong to them.
    میں نے نشاندھی کی کہ کیوں یہ لڑکے جمیعت یا کسی بھی اور سیاسی جماعت کے جال میں آ جاتے ہیں آسانی سے۔ مقصد تحقیر نئیں ہے۔ وگرنہ میرے تو بہترین دوست جو بنے وہ گاوں ہی کے تھے۔

  • 02-04-2016 at 6:17 pm
    Permalink

    Thank to all readers and fine comments.I just wanted to share that Inam is not trying to generalise gaon walay,shar waly…it is just just a symbolic thing or depction and I agree with him as since being jamati was easy way to power and other things…he is a gaon wale .from his core of heart.

  • 02-04-2016 at 6:43 pm
    Permalink

    Thanks Jamal.

  • 02-04-2016 at 6:44 pm
    Permalink

    Thanks sir.

  • 02-04-2016 at 8:03 pm
    Permalink

    Pyaray Inam Rana sahib
    Thank you for your kind response. Sincere apologies for my rude comment. I was just frustrated at the manifestation of subtle categorization that we as humans tend to engage in. That in, in turn, results in what is sometimes called stereotypes. As a public intellectual, one should be careful in terms of re-enforcing (either consciously or sub-consciously) these stereotypes. The above quoted couple of sentences frustrated me because you (I am sure not intentionally) engaged in explicit stereotyping of students from rural background as more malleable and insecure (for which I am not aware of any scientific evidence besides some anecdotal experiences).

  • 02-04-2016 at 8:04 pm
    Permalink

    Pyaray Inam Rana sahib
    Thank you for your kind response. Sincere apologies for my rude comment. I was just frustrated at the manifestation of subtle categorization that we as humans tend to engage in. That in, in turn, results in what is sometimes called stereotypes. As a public intellectual, one should be careful in terms of re-enforcing (either consciously or sub-consciously) these stereotypes. The above quoted couple of sentences frustrated me because you (I am sure not intentionally) engaged in explicit stereotyping of students from rural background as more malleable and insecure (for which I am not aware of any scientific evidence besides some anecdotal experiences)

  • 02-04-2016 at 10:27 pm
    Permalink

    انعام بھائی آپ کی تحریر نے مجھے ایک سچا واقعہ یاد کرا دیا۔ ایک دور میں بہاولپور میں ہم بھی جمیعت کے بہت جوشیلے کارکن تھے بلکہ ترقی کر کے ناظم بن گئے تھے۔ میرے ساتھ کا ایک اور ناظم سلیم کھٹانہ تھا جو کافی ایکٹو تھا۔ وقت گزرا اور معاشی جدوجہد مجھے لاہور لے آئی اور میں یونیک گروپ آف انسٹیٹوشنز سے وابستہ ہوا اور وقت کے ساتھ ترقی کرتا رہا۔ مجھے ڈیفنس فیز
    5 میں یونیک گروپ آف انسٹیٹوشن میں مقرر کیا گیا۔ پہلے ہی دن مجھے آفس بوائے کچھ جانا پہچانا لگا۔ خیر کام کر کے واپس آ گیا۔ اگلے دن اسی آفس بوائے نے خود مجھ سے پوچھا کہ آپ بہاولپور والے طلحہ ہیں؟ میری ہاں پر اس نے تعارف کرایا کہ وہ سلیم کھٹانہ ہے۔ میں حیرت سے ہکا بکا ہو کر اسے دیکھتا رہ گیا۔ اگلے ایک سال سلیم نے میرے بہت عزت اور خدمت کی مگر یقین کیجیے میں شرمندہ ہی رہا۔ اور ہاں، سلیم کے ملنے کے چند ہی روز میں میں نے استعفی دے دیا۔ جمیعت میں بھی اگر آپ کسی مظبوط گھر یا دھڑے سے وابستہ نہیں ہیں تو انجام شاید آپکے ڈوگر اور میرے سلیم والا ہی ہوتا ہے۔

    طلحہ رفیع

  • 02-04-2016 at 11:02 pm
    Permalink

    love you waqar bhai

  • 02-04-2016 at 11:53 pm
    Permalink

    جمعیت بہر حال اب بھی زندہ ہے ، آپ کے انگور کٹھے نما فکشن سے اُسکی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ فکشن کی خوبی یہ ہے کہ ممتاز مفتی جو جوانی میں کسی بدصورت عورت کو بھی ہاتھ نا لگا سکا اُس نے بھی اپنے قلم سے بڑھاپے میں اپنی پسند کی جوان عورت کے خوب کپڑے اتارے۔ آپ کے افسانے کا اردلی ڈوگر دراصل ممتاز مفتی کی وہ عورت ہے جو بڑھاپے میں انہیں بغیر ہاتھ لگائے لزت دیتی تھی۔

  • 03-04-2016 at 12:09 am
    Permalink

    بہت عمدہ تحریر انعام بھائی!

    آپ ہم سب کے راک سٹار بنتے جا رہے ہیں!

  • 03-04-2016 at 1:07 am
    Permalink

    حسنین بھائی بہت شکریہ۔
    ویسے رسک سٹار زیادہ دیر نہی چلتا۔ ☺️

  • 03-04-2016 at 2:43 am
    Permalink

    یہی حال ان کی مزدور یونینوں کا ہے
    لمبی تلخ داستانیں ہیں –

  • 03-04-2016 at 3:41 am
    Permalink

    Deeply biased where the author is trying to show that the ‘Paindoos’ are barbaric and the Lahoris are ‘civilized’ The title must have been ‘Zinda Hay Lahore Zinda Hay’

  • 03-04-2016 at 3:52 am
    Permalink

    عمدہ تحریر۔ پڑھ کر مزا آیا۔
    خیالات غیرمتعصبانہ اور رویے دیانت دارانہ ہوں تو افسانویت کچھ ایسی نقصان دہ بھی نہیں۔ ہاں اگر اخفائے حق کے لیے یہ پینترے بدلے جائیں تو مذموم ہیں۔

  • 03-04-2016 at 4:50 am
    Permalink

    دلبروں کو جو بر میں کھینچا ٹک
    اس ادا سے بہت ہوئے برہم
    میر تقی میر
    دوسروں کی دیوار پہ مستقل مچان رکھنے والوں کی بھی نرالی منطق ہے کہ وہ تو زمانے کے مٹکے پھوڑتے رہیں پر اگر ان کی بِیری پہ کسی نہ ڈھیلا بھی اچھال دیا تو لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ اس بات سے تو مفر نہیں کہ جماعت اسلامی کی بغل بچہ جمعیت کا وجود ہمارے تعلیمی اداروں کی کیاری میں اس مہلک بوٹی کی مانند ہے جس کی فطرت میں آس پاس کی پھل پھلواری کی جڑوں کو روئیدگی سے محروم کرنا ہے۔ جمیعت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ تعلیمی اداروں میں نیشنل اسٹوڈینٹ فیڈریشن کے باتھوں مسلسل ہزمیت اُٹھانے کے نتیجے میں اس نام نہاد طلبہ جماعت نے انیس سو اناسی میں این ایس اف کی جامعہ کراچی کی ریلی پہ کھلے عام اسلحے کا استعمال کیا جو جمیعت کا تعلیمی اداروں میں آتشیں اسلحے کے زور پہ قبضہ کرنے کا نقطہء آغاز ثابت ہوا۔ جمیعت کی تاریخ دھونس اور دھمکی سے کالجوں اور جامعات پہ قبضے اور عام طلبہ و طالبات پہ بہیمانہ تشدد کے سوا کچھ نہیں۔ یہ وہی جمیعت ہے جس کے کارکنان افغان خانہ جنگی میں امریکہ کے سازشوں میں جماعت اسلامی کے ہر اول دستہ رہے اور بعد میں ان میں سے سینکڑوں القائدہ اور ظالمان کی صفوں میں بھی شامل ہوئے۔ جمیعت کے دھشت گردوں سے تو مولانا بھاشانی جیسے سیاست دان تک نہ بچے جن پر ان اسلام کے نام نہاد ٹھکیداروں نے تشدد کے بعد ہی انہوں نے یہ تاریخی جملہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی کسان کانفرنس میں کہا تھا کہ ’’اب تم اُدھر (مشرقی پاکستان) آؤ گے تو ویزا لے کر آؤ گے‘‘۔ دور کیوں جائیں، سانحہ صفورہ چوک اور کراچی کی ممتاز سماجی کارکن سبین محمود کے قتل میں ملوث حافظ ناصر کی جمیعت سے وابستگی بھی کسی سے ٖڈھکی چھپی بات نہیں۔

  • 03-04-2016 at 7:57 am
    Permalink

    wah oye, shabaash. bahot khoobsoorat tehreer. maenu f.c. college vich 1994 ta 1999 paRhaan da maoqa millea. tuseen kinna kujh yaad karva ditta. vassde rahveo.
    jameel ahmad paul
    [email protected]

  • 03-04-2016 at 1:43 pm
    Permalink

    it was awesome to read about same time period of FC college when i was there doing my fsc . I have more stories of those hypocrite of jamiat as i used to live in hostel.

  • 03-04-2016 at 1:47 pm
    Permalink

    نہایت عمدہ تحریر۔ میں 1997 ساے 1999 کے درمیان ٖایف سی کالج میں پڑھا ہوں۔ میں سمجھ سکتا ہوں۔

  • 03-04-2016 at 2:57 pm
    Permalink

    Zinda Hi JAMIAT Zinda Hi… Thanx to Jamiat for persuading me to pass life as per injunctions of Islam.

Comments are closed.