ایک پاکباز عورت کی کہانی جسے طوائف بنا دیا گیا


ناول کے سرورق پہ پھانسی کا پھندہ لٹک رہا ہے۔ پھندے میں سورج مکھی کا پھول بے جان ٹہنی سمیت ڈھلک رہا ہے۔ نیچے ناول کا عنوان لکھا ہے ’Woman at Point Zero‘۔ سرورق سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عورت کی کتھا ہے۔ عورت کی کہانی میں پھندے تو ہوں گے۔

’وومین ایٹ پوائنٹ زیرو‘ عربی زبان میں 1975ء میں شایع ہوا۔ انگریزی میں ترجمہ نوال السعدوی کے شوہر شریف حتاتہ نے کیا۔ مصنف کے مطابق ’یہ ایک عورت کی کہانی ہے جس کو مایوسی اور دکھ اندھیروں میں دھکیل دیتے ہیں‘۔

ناول کی مصنف مصر کی مشہور سماجی کارکن، طبیب اور ماہر نفسیات نوال السعدوی ہیں جو خواتین کے حقوق کی علم بردار ہیں۔ ڈاکٹر ہونے کے ناتے سے انھوں نے خواتین کے جسمانی اور نفسیاتی مسائل کو قریب سے دیکھا اور پدرانہ معاشرے کے ستم، بے اعتنائی اور فضول روائیتی سوچ کو ان مسائل کی جڑ قرار دیا ہے۔

معاشرے کی ستم ظریفی کے تھپیڑے سہتی عورت کی پکار کو نوال السعدوی نے بے باک اور چبھتے انداز میں پیش کیا تو ان کو جیل میں قید رکھا گیا اور ملازمت سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔ حتی کہ ان کو جان کے لالے پڑ گئے اور 1988ء میں انھیں مصر چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا۔ وہ لکھتی ہیں:
“جب سے میں نے قلم پکڑا ہے تب سے خطرہ میری زندگی کا حصہ رہا ہے۔ جھوٹ بولنے والی دنیا میں سچ بولنا سب سے خطرناک کام ہے“۔

ناول کا مرکزی کردار فردوس نامی عورت ہے جس کی زبان سے یہ کہانی بیان کی جاتی ہے۔ فردوس اپنے محرومی اور غربت سے اٹے بچپن کو یاد کرتی ہے۔ جسم کے حساس حصے کو جزوی طور پر کاٹنے کی تکلیف دہ رسم کو بھی یاد کرتی ہے۔ فردوس والدین کی وفات کے بعد اپنے انکل کے گھر رہتی ہے جو الازہر یونیورسٹی کا فارغ التحصیل ہے۔ فردوس کی شادی ایک بوڑھے شیخ محمود نامی شخص سے کر دی جاتی ہے جو فردوس کو جسمانی و جذباتی اذیتیں پہنچاتا ہے۔

شوہر کے وحشیانہ تشدد سے تنگ آکر گھر چھوڑتی ہے تو کافی شاپ کا مالک بایومی اسے ملازمت اور سکونت کی پیش کش کرتا ہے۔ بایومی اور اس کے دوست فردوس کا بیہیمانہ جنسی استحصال کرتے ہیں۔ یہاں سے فرار کے بعد اس کی ملاقات شریفہ نامی خاتون سے ہوتی ہے جو اسے کوٹھے پہ لے جاتی ہے اور فردوس ہائی کلاس طوائف بن جاتی ہے۔ عزت دار زندگی کی خواہش میں وہ کوٹھا چھوڑ کر ملازمت بھی کرتی ہے اور ابراہیم نامی شخص سے محبت کرنے لگتی ہے جو جنسی استحصال کے بعد دھوکے سے اسے چھوڑ جاتا ہے۔ دوبارہ طوائف کی زندگی بسر کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔

مرذوق نامی شخص خود ساختہ دلال بن کر فردوس کو اپنی ملکیت سمجھتا ہے۔ فردوس جب اس کے قبضے کے خلاف مزاحمت کرتی ہے تو مرذوق چاقو سے حملہ کرتا ہے۔ فردوس اس کے چاقو ہی سے اس کا کام تمام کر دیتی ہے۔ قتل کا اعتراف کرتی ہے اور جیل میں ڈال دی جاتی ہے۔ اس کو سزائے موت سنائی جاتی ہے۔ فردوس صدر کو رحم کی اپیل کرنے سے انکار کردیتی ہے اور تختہ دار پہ لٹکا دی جاتی ہے۔

کہانی کے ہر موڑ پر ہم دیکھتے ہیں کہ مرد عورت کو ایک کھلونا سمجھ کر اس سے کھلواڑ کرتا ہے۔ نوال السعدوی عورت کی تذلیل اور مردوں کے وحشیانہ سلوک پہ کڑھتی ہیں۔
”تمام مرد جن کو میں جانتی ہوں، ان میں سے ہر ایک نے میرے دل میں ایک ہی خواہش پیدا کی ہے: کہ میں اپنا ہاتھ فضا میں بلند کروں اور زور سے اس کے منہ پہ تمانچہ ماروں“۔

فردوس کو زندگی میں جتنے مردوں کا سامنا ہوا وہ سب بھیڑیے کی طرح اس کے جسم اور روح کو نوچتے ہیں۔ بس شکلیں مختلف ہیں، روپ الگ الگ دھارے پھرتے ہیں لیکن عورت پہ جھپٹنے کی خو سب میں ایک سی ہے۔ فردوس کہتی ہے، ”یہ سب مرد ایک جیسے ہیں۔ سب۔۔۔۔ کے بچے ہیں جو مختلف ناموں سے پھرتے رہتے ہیں۔ محمود، حسنین، فیضی، صابری، ابراہیم، اوادین، بایومی“۔

فردوس کے یہ الفاظ روایتی معاشرے کی بے حسی پہ ایک نوحہ ہیں۔ اپنے حقوق کی جنگ لڑتی عورت کی پکار ہیں۔ ”تمام عورتیں دھوکا دہی کا شکار ہوتی ہیں۔ مرد دھوکا دیتے ہیں اور عورت کو دھوکا کھانے کی سزا بھی دیتے ہیں۔ عورت کو سب سے نچلی سطح پہ دھکیل دیتے ہیں اور پھر اس کو نیچے گرنے کی سزا بھی دیتے ہیں“۔

ناول میں بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا مسئلہ بھی اٹھایا گیا ہے۔ فردوس کو ساری زندگی یہ نہ بھولا کہ اس کا باپ سردیوں میں گرم کمرے میں خود بستر لگاتا تھا اور اسے دوسرے کمرے میں جگہ ملتی۔ پیار اور شفقت لڑکی کے حصے میں لڑکوں کے مقابلے میں بہت کم آتے۔ لڑکیاں پیدا ہوتے ہی، یا شاید اس سے بھی پہلے سرد رویوں کی حق دار ٹھہرتی ہیں۔ فردوس کے کم عمر بھائی کے فوت ہونے پہ باپ اس کی ماں پہ جسمانی تشدد کرتا ہے۔ گویا بچے کی قدرتی موت کی ذمہ دار بھی عورت ہی قرار پائی۔

نوال السعدوی کے مطابق خواتین کو کم زور رکھنے کے لیے تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے۔ تعلیم ایک روشنی ہے، ایک طاقت ہے لہذا مرد کا استحقاق ہے۔ فردوس الازہر یونیورسٹی میں پڑھنے کے سپنے دیکھتی ہے۔ ایسے خواب دیکھنے پہ اس کا انکل ہنس دیتا ہے۔ اس کے پاس روایتی بیوی کا کردار نبھانے کا اکلوتا راستہ ہے۔ بچیوں کی علم سے محرومی پڑھتے ہوئے ملالہ یوسف زئی کی کتاب ’آئی ایم ملالہ‘ یاد آنے لگتی ہے جس میں تعلیم نسواں کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

مصنف نے اس کہانی میں یہ بھی دکھایا ہے کہ شادی بھی ایک ہتھیار کے طور پہ استعمال کی جاتی ہے۔ عورت کو زیر کرنے کے لیے محبت، حفاظت اور چھت جیسے تصورات کو شادی کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ یہ سب سراب ہیں۔ افریقہ میں چائلڈ میرج جیسے رواج پر بھی چوٹ کی گئی ہے۔ اٹھارہ برس کی فردوس کو ساٹھ سال سے زائد عمر کے بوڑھے کے ساتھ شادی پہ مجبور کردیا جاتا ہے۔ اس کی مرضی نہیں پوچھی جاتی۔ اس بے جوڑ شادی میں عورت پل پل مرتی رہے یا پھر گھر نہ بسا پائے تو طعنوں اور گالیوں کے نشتر سہے۔ جنسی ضرورت کا اظہار کر بیٹھے تو رنڈی کہلائے۔ چنوا ایچی بی کے ناول ’تھنگز فال اپارٹ‘ میں لڑکیوں کی قیمت وصولی جاتی ہے۔ ویسے ہی فردوس کا انکل مال ڈنگر کی طرح فردوس کا سودا کرتا ہے۔
”اگر وہ ایک سو پاؤنڈ دے دے، تو خدا کی مہربانی ہو جائے گی“۔

ناول کے سارے مرد کرداروں کو معاشی آزادی ہے۔ روپیا پیسا ان کے ہاتھ میں ہے۔ عورت بنیادی ضرورتوں کے لیے بھی شوہر کی محتاج ہے۔ بیوی کی زندگی غلامی کی زندگی ہے۔
”تمام عورتیں کسی نہ کسی صورت میں طوائف ہوتی ہیں۔ میں سمجھ دار تھی اسی لیے ایک خود مختار طوائف کی زندگی اختیار کرنے کو ترجیح دی۔ بجائے اس کے کہ میں ایک غلام بیوی ہوتی“۔

بیوی پہ جسمانی تشدد کو شوہر کا حق مانا جاتا ہے اور ظلم کو خاموشی سے جھیلنا عورت کی پرہیز گاری گردانا جاتا ہے۔ نوال کے مطابق یہ خود ساختہ قوانین مردوں کی تخلیق ہیں۔

”مرد عورتوں کو اپنے جسم کی قیمت وصول کرنے پہ مجبور کرتے ہیں۔ اور سب سے کم قیمت جسم بیوی کا ہوتا ہے“۔
تہمینہ درانی کی کتاب ’مائی فیوڈل لارڈ‘ میں بھی عورت کے ایسے ہی مسائل پہ بات کی گئی ہے۔

وومین ایٹ پوائنٹ زیرو میں مصنفہ نے افریقہ کی ایک تکلیف دہ رسم Female Genital Mutilation کے اثرات کی بھی بات کی ہے۔ ناول کی ہیرؤئن فردوس کی طرح نوال السعدوی خود FGM کا سامنا کر چکی ہیں۔ اپنی آپ بیتی A Daughter of Isis میں لکھتی ہیں:
”بچپن میں لگا وہ گہرا زخم میرے جسم میں ہمیشہ تازہ رہا۔ وہ کبھی مندمل نہ ہو سکا“۔
فردوس اس کے بارے کہتی ہے: ”گویا میرا ایک حصہ، میرے وجود کا ایک حصہ جا چکا تھا اور وہ کبھی واپس نہیں آئے گا“۔
نوال السعدوی FGM کو خواتین کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی سمجھتی ہیں۔

طوائف کے کردار کو بھی ناول میں خاصا قریب سے دیکھا گیا ہے۔ عورت کے لیے حالات ایسے سنگین بنائے جاتے ہیں کہ وہ مجبورا یہ پیشہ اختیار کرلیتی ہے۔
”میں طوائف نہیں ہوں۔ لیکن میرے بچپن ہی سے میرے والد، میرے انکل، میرے شوہر، سب نے مجھے طوائف بنانے میں حصہ ڈالا ہے“۔

عورت کے لیے تمام اچھے پیشوں کے دروازے مرد دربانوں نے بند کر رکھے ہیں۔ تمام ملازمتوں اور کاروبار پہ مرد کی اجارہ داری ہے۔ جسم فروشی کے کاروبار مردوں کے بغیر نہیں چل سکتے۔ گاہک کے بغیر کاروبار کیسا۔ مگر پھر بھی جسم فروش، رنڈی، فاحشہ جیسے خطابات سے وہ عورت کو ہی نوازتا ہے۔ خود پہ ایسا کوئی داغ نہیں لگنے دیتا۔ کیسا تضاد ہے! طوائف ایک سوال مردوں سے پوچھتی ہے۔

”میرا کام عزت والا کام نہیں ہے۔ پھر آپ لوگ کیوں اس کام میں میرے ساتھ شریک ہوتے ہیں؟“
فردوس کو ہر جگہ ہر پل یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ مرد کا سہارا لازمی ہے۔ اس کے پاؤں میں مرد پہ انحصار کی زنجیر پڑی رہتی ہے۔ وہ کہیں بھی آزاد نہیں۔ طوائف کے روپ میں آزادی تلاش کرنے کی سعی کرتی ہے مگر وہاں بھی مرذوق نامی دلال اس پہ قابض ہوجاتا ہے۔ وہ فردوس کو دھمکاتا ہے۔

”روئے زمین پہ کوئی عورت ایسی نہیں جو اپنی حفاظت خود کر سکے۔ تم حفاظت کے بغیر کوئی کام نہیں کر سکتیں۔ اگر ایسا ہو سکتا تو پھر شوہروں اور دلالوں کے پیشے ختم ہو جاتے“۔
”عورت کی زندگی ہمیشہ قابل رحم ہوتی ہے۔ ایک طوائف کی زندگی سے بھی بدتر“۔

فردوس کا ایک دلال کو قتل کرنا ایک علامتی واقع بھی ہے جس میں فردوس پدرانہ معاشرے میں پسی عورت کی علامت ہے اور مرذوق اس ظلم کا استعارہ ہے جو مرد نے روا رکھا ہے۔ عورت اس ظلم کو ختم کردینا چاہتی ہے۔ قتل کا واقعہ فردوس کی Male domination کے خلاف بغاوت کی علامت بھی بنتا ہے۔ مگر اس بغاوت کی سزا موت ہے۔ شاید مر کر ہی عورت آزاد ہوسکتی ہے۔
”میں کہہ رہی ہوں کہ آپ مجرم ہو، آپ سب مجرم ہو۔ باپ، چچا، ماموں، شوہر، دلال، وکیل، ڈاکٹر، صحافی اور تمام شعبوں کے تمام مرد مجرم ہیں“۔

مرذوق کا قتل عورت کا ظالم سے بدلہ بھی ہے اور ایک پیغام بھی کہ اگر معاشرے میں ظلم کا راستہ نہ روکا جائے تو انجام برا ہوتا ہے۔

”میں نے چاقو اٹھایا اور اس کی گردن میں گھسا دیا، گردن سے نکالا تو اس کے سینے میں گاڑ دیا، سینے سے کھینچا اور پیٹ میں گھونپ دیا۔ میں نے جسم کے تقریبا ہر حصے میں چاقو گھونپا ہے“۔
سزائے موت سنائے جانے پہ فردوس کہتی ہے۔ ”میری زندگی ان (مردوں) کی موت ہے۔ میری موت ان کی زندگی۔ وہ زندہ رہنا چاہتے ہیں“۔

مرد آقاؤں کے اس معاشرے میں عورت مجبوری اور استحصال کے آکٹوپس میں جکڑی ہوئی ہے۔ ہاں ایک راستہ ہے اس کی آزادی کا۔ اور وہ راستہ پھانسی گھاٹ سے گزرتا ہے۔

نوال السعدوی ایک قیدی عورت سے جیل میں ملی تھی جو سزائے موت کے انتظار میں تھی۔ یہ ناول اس عورت کی حقیقی داستان پہ مبنی ہے۔ جب موت اتنی قریب ہو تو پھر انسان سارے سراب جھٹک دیتا ہے۔ اسے صرف حقیقت ہی دکھائی دیتی ہے۔ تبھی تو اس کہانی میں اتنی سچائی نظر آتی ہے۔ کہانی کیا ایک آئنہ ہے۔ دیکھیے اور اپنی اپنی صورت پہچانیے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

احمد نعیم چشتی

نعیم احمد چشتی درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ سادہ اور چھوٹے جملوں میں بات کہتے ہیں۔ کائنات اور زندگی کو انگشت بدنداں تکتے رہتے ہیں۔ ذہن میں اتنے سوال ہیں جتنے کائنات میں ستارے۔ شومئی قسمت جواب کی تلاش میں خاک چھانتے مزید سوالوں سے دامن بھر لیا ہے۔

ahmad-naeem-chishti has 30 posts and counting.See all posts by ahmad-naeem-chishti