کیا ہم مل کر نہیں چل سکتے؟


مولانا سید وجاہت

syed wajahat

اس وقت مملکت پاکستان میں ملا اور مسٹر کی تفریق زوروں پر ہے۔ دائیں بازو اور بائیں بازو والے باہم دست وگریبان ہے۔ ایک دوسرے پر جملے بازی، مذاق اڑانے کو اب برا نہیں سمجھا جارہا۔ اس میں شک نہیں کہ بحث و مباحثہ، سوال اٹھانے کی آزادی اور خیالات کا مختلف ہونا یہ صحت مند معاشرے کی علامت ہے۔ جس جگہ سوالات اٹھانے پر پابندی ہو، آزادی اظہار رائے پر قدغن ہو وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔ لیکن کیا آزادی صحافت اور رائے کی آزادی کا مطلب یہ ہے کہ فریق مخالف کی پگڑیاں اچھالی جائیں، لعن طعن، سب و شتم کا آزادانہ استعمال ہو؟ اس میں مسٹر اور ملا کی کوئی تفریق نہیں،دونوں نے اپنے مخالف کو مخاطب کرنے کے لئے اپنی ایک الگ قاموس ایجاد کرلی ہے۔

بنیاد پرست، ملا، قدامت پرست، کنوئیں کے مینڈک وغیرہ قسم کہ یہ وہ الفاظ ہیں جو ہمارا پڑھا لکھا سمجھا جانے والا طبقہ مذہبی رجحان رکھنے والوں کے لئے استعمال کرتا ہے۔ اس کے مقابل دوسرا گروہ یعنی مذہبی سوچ رکھنے والوں کے پاس بھی اپنے مخالفین کے لئے کافی الفاظوں کا ذخیرہ ہے، جیسے کہ: لنڈے کے انگریز، دیسی لبرل،انگریز کے غلام، مغرب سے مرغوب طبقہ وغیرہ۔ میرے خیال سے اگر ان تمام الفاظوں کو جمع کیا جائے تو ایک کتاب ترتیب دی جاسکتی ہے، آئے دن ایسے نت نئے الفاظوں، تشبیھات اور تعبیرات کا اضافہ ہو رہا ہے کہ الامان والحفیظ بندے کا سر شرم سے جھک جائے۔ میرا فریقین سے سوال ہے، کیا اصلاح ایسے کی جاتی ہے؟ کیا اس طرح آپ اپنے مخاطب کو اپنی بات سمجھاسکے گے؟ آپ کے لہجے میں جب تک دوسرے فریق کے لئے ہمددری، اپنائیت اور اخلاص نہیں ہوگا اس وقت تک آپ کی بات موثر نہیں ہوسکتی۔ اس جملے پر غور کریں: مولویوں تم ابھی تک زمانے قدیم میں رہ رہے ہوں تمھاری وجہ سے ہم پیچھے رہ گئے۔ اس جملے کو پڑھیں، بار بار پڑھیں اور غور کریں کہ اگر ایسا جملہ کسی مذہبی سوچ رکھنے والے کے سامنے آئے گا تو اسکا کیا تاثر ہوگا؟ یقین جانے وہ یہ سمجھے گا کہ یہ میرا دشمن ہے، اس کو مجھ سے کوئی ہمددری نہیں یہ لبرل ہے سیکولر ہے۔۔۔ پھر جواب میں وہ اپنا بیانیہ لائے گا۔ لیکن اگر اسی مفہوم کو آپ اچھی عبارت میں لائیں، الفاظ کا چناو کرتے وقت سامنے والے کی عزت و توقیر اور انکے منصب کا خیال رکھیں تو امید ہے کہ آپ کی بات کو مان لیا جائے یا اس کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ اگر اتنا بھی نہ ہو تو کم ازکم اب کی بار اس طرف سے جو جواب آئے گا غالب امکان یہی ہے کہ اس میں شدت نہیں ہوگی،اس میں جملے بازی نہیں ہوگی۔ بلکہ اب کی بار ایک مہذب انداز میں جواب آئے گا۔ ایک سوچ ہوگی جو دلیل سے آراستہ ہوکر سامنے آئے گی، کیونکہ یہ تو ممکن نہیں کہ ایک طرف سے سنگ باری ہو اور دوسری طرف سے پھول برسائے جائیں اور اسطرح شائستگی اور تہذیب کے ساتھ کئے جانے والوں مکالموں کا منطقی نتیجہ برآمد ہونے کی قوی امید کی جاسکتی ہے۔

لیکن آج کل جو ماحول چل رہا ہے، ابے تبے، بازاری زبان کے استعمال کا جہاں فریق مخالف کو عزت دینے کو گناہ تصور کرلیا گیا ہے کیا اس طرح کے مکالمے نتیجہ خیز ہونگے؟ ان مکالموں کا نتیجہ سوائے نفرت اور دوری پیدا کرنے کے اور کسی صورت ظاہر نہیں ہوسکتا۔ دوسروں کو عزت دینا سیکھیں۔ ہمارا معاشرہ فی الوقت دو واضح گروپ میں منقسم نظرآتاہے۔ ایک مذہبی رحجان رکھنے والوں کا گروپ ہے تو دوسری طرف لبرل، سیکولر سمجھے جانے والے لوگ ہیں اور دونوں ہی اس ملک کے باشندے ہیں۔ دونوں ہی اس ملک کی محبت کے دعویدار ہیں۔ جب جینا مرنا، اٹھنا بیٹھنا ساتھ ہے تو کیا ان نفرتوں کو کم نہیں کیا جاسکتا۔ میرے نزدیک اگر ہمارے معاشرے کے یہ دونوں فریق مل کر کام کریں اور مخالفت کے بجائے مفاہمت کی پالیسی اخیتار کریں تو یہ ملک و ملت کے لئے خیر کا باعث ہوگا، اگر دونوں فریق ایک دوسرے کی عزت نفس، مقام ومرتبہ کا خیال رکھیں، مکالمہ کی زبان کو شائستہ رکھیں، ایک دوسرے پر ذاتی جملے کسنے کے بجائے نظریات پر بات کریں تو ممکن ہے یہ دوریاں کچھ کم ہوجائیں اور ہم ایک دوسرے کی بات کو کم از کم سنے اور سمجھنے کی کوشش تو کریں۔

کون کہتا ہے کہ ہم تم میں جدائی ہوگی

یہ خبر کسی دشمن نے اڑائی ہوگی نام


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “کیا ہم مل کر نہیں چل سکتے؟

  • 04-04-2016 at 1:43 pm
    Permalink

    جس طرح آزادی اظہار ایک مہذب اور صحت مند معاشرہ کی عکاس ھے اسی طرح بحث برائے بحث اور پھر نتیجۃََ بہتان طرازی، طنز، سب و شتم اور بھپتیاں کسنا ایک بیمار، پر مژدہ اور زوال پزیر معاشرہ کی غمازیاں ہیں۔ یہ معاشرہ جس میں تقریباََ ہر خاص و عام میں کچھ مماثلت ھو نہ ھو لیکن ایک مماثلت ضرور ھے اور وہ ھے جھوٹی اور کھوکھلی انا کی پرورش جس سے نہ کوئی عالم دین کو مفر ھے، نہ کوئی دانشور، نہ صحافی، نہ معلم، نہ انسانی حقوق اور معاشرتی انصاف کے علمبردار اور نہ ہی کوئی اور حتّہ کہ ایک عام آدمی میں کوئی گُن ھو نہ ھو یہ وصف لازمی ملتا ھے اور یہی وہ خرابی ھے جو اس نہج تک لے آتی ھے ورنہ کوئی کسی پر بلا دلیل و منطق یوں اپنی رائے نہ ٹھونسے اور نہ ہی زبان کا بلا لحاظ و ادب یو بےباکانہ استعمال ھو۔

    ہم بہت جلد موضوع سے ہٹ کر اپنی انا کے پنجرہ میں قید ھوکر صرف خود کو صحیح ثابت کرنے کے لیئے فریق مخالف کو غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اکثر ہمارے پاس دلیل و منطق کا کھوٹہ اور قلیل اسٹاک ھوتا ھے اس لیئے یہ نوبت آجاتی ھے بلکہ اکثر ابتداء ہی اسی انداز میں ھوتی ھے۔ یہ روش صرف کسی خاص بحث تک محدود نہیں بلکہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں حتّہ کہ گھریلو امور میں بھی اسی طریقہ کو فخریہ اپنائے ھوئے ہیں جس کی بدولت گھریلو جھگڑے جنم لیتے ہیں جس میں کئی بار قتل و غارت تک نوبت آجاتی ھے۔ ایسا ہم صرف اُص وقت نہیں کرتے جب ہم مخاطب سے مرعوب ھوں یا اُس کے زیر اثر۔ جس دن ہم انا کی پرستش چھوڑ کر بات کو حقیقی پیرائے میں سمجھنا اور سمجھانا شروع کردیں گے اُس دن ہم بھی مہذب اقوام کی طرح بحث کو تذلیل کے بجائے نتیجہ خیز بنالیں گے۔ اسی سلسلے کی ایک سعی اپنے تئیں شروع کی ھے کہ ہمشہ مخاطب کی ہر غیر معقول و تضحیک آمیز کوشش کے جواب میں دل کی گہرائیوں سے اُس کا شکریہ ادا کرنے لگا ھوں

    • 12-04-2016 at 12:26 pm
      Permalink

      وجاہت مسعود صاحب، اس تحریر پر آپ کو سلام پیش کرتا ہوں۔

  • 05-04-2016 at 12:24 am
    Permalink

    Fully agreed

Comments are closed.