صحت الفاظ


zafar imran

‘ہم سب’ کے مدیر، زبان کےمعاملے میں محتاط ہیں، تو ‘ہم سب’ کے لیے لکھنے والوں کی معلومات کے واسطے چند الفاظ کی فہرست نقل کر رہا ہوں، ان کے استفادہ کے لئے:
حصہ اول غلط لکھے جانے والے الفاظ:
اچمبھا: اَ ـ ـچَم ـ بھَا۔۔۔ ‘ن’ نہیں ہے۔
آزر: آ ـ زر۔۔۔ حضرت ابراہیم کے والد کا نام۔۔۔ ‘ذ ‘ سے آذر کے معنی آگ ہیں۔
ازدِحَام: اِز ـ دِ ـ حَا ـ م۔۔۔۔۔۔
ہجوم، مجمع۔۔۔۔۔ اژدھام غلط ہے۔
آیندہ: آ ـ یِن ـ دَہ ،، ہمزہ نہیں ہے۔
برقع: بر ـ قَع ۔۔۔ آخر میں ‘ہ’ نہیں ہے۔
بلبلا: بل ـ ب ـ لا ۔۔۔ آخر میں ‘ہ’ نہیں ہے۔
پروا: پَر ـ وَا۔۔۔۔۔۔۔۔ ضرورت، خواہش ۔۔۔۔۔۔آخر میں ‘ہ’ نہیں ہے۔
پزیرائی: پَ ـ زِی -رَائی ۔۔۔’ذ’ نہیں ہے۔
پسینا: پَ ـ سِی ـ نَا۔۔۔ آخر میں ‘ہ’ نہیں ہے۔
تشتری: تَش ـ تَ ـِری ۔۔۔ ‘ط’ نہیں ہے۔
تشنیع: تَش ـ نِی ـ ع ۔۔۔ آخر میں ‘ہ’ نہیں ہے۔
تقاضا یا تقاضٰی: ت ـ قَا ـ ضَا ۔۔۔ آخر میں ‘ہ’ نہیں ہے۔
تماشا، تماشٰی: دید، نظارہ،سوانگ ۔۔۔۔۔ آخر میں ‘ہ’ نہیں ہے۔
تمانچہ: ت ـ مَا ـ ں ـ چَہ ،، اصل ترکی میں تپانچہ
تھا۔ مفرس ہوکر تمانچہ ہوگیا۔ ‘ط’ نہیں ہے۔
تمبو: تَم ـ بو۔۔۔ ‘ں’ نہیں ہے۔
تمغا،تمغٰی:تَم ـ غَا ۔۔۔ آخر میں ‘ہ’ نہیں ہے۔
توتا: تو ـ تَا۔۔۔ ‘ط’ نہیں ہے۔
ٹخنا: ٹَخ‌ ـ نَا ۔۔۔ آخر میں ‘ہ’ نہیں ہے۔
حلوٰی یا حلوا: حَل ـ وا۔۔۔ آخر میں ‘ہ’ نہیں ہے۔
دکان: دوکان نہیں ہے۔
سرگزشت: سَر ـ گُ ـ زَش ـ ت۔۔۔ ‘ذ’ نہیں ہے۔
شاید: شا ـ یَد ، ہمزہ نہیں ہے۔
شایستہ: شَا ـ یِس ـ تہ ،، ہمزہ نہیں ہے۔
شوربا: شو ـ رـ بَا ۔۔۔ آخر میں ‘ہ’ نہیں ہے۔
عاشورا: عَا ـ شو ـ را ۔۔۔ آخر میں ‘ہ’ نہیں ہے۔
غبارا: غب ـ بَا ـ رَا۔۔ یا۔۔ غ ـ بَا ـ رَا ، آخر میں ‘ہ’ نہیں ہے۔
غلتاں: غَل ـ تَا ـ ں ۔۔۔ ‘ط’ نہیں ہے۔
قمیص: قَ ـ مِی ـ ص ،، ‘ض’ نہیں ہے۔
کرختی: کَ ـ رَخ ـ تِی ۔۔۔ کرختگی نہیں ہے۔
مربٰی یا مربا: آخر میں ‘ہ’ نہیں ہے۔
مربع: مُ ـ َرب ـ بَع ۔۔۔ چوکور۔ آخر میں ‘ہ’ نہیں ہے۔
مرتفع: مر ـ تَ ـ فِع ۔۔۔ آخر میں ‘ہ’ نہیں ہے۔
مرقع: مُ ـ رَق ـ قَع ۔۔۔ آخر میں ‘ہ’ نہیں ہے۔
معاینہ: مُ ـ عَا ـ ے ـ نَہ۔۔۔ ہمزہ نہیں ہے۔
معمٰی یا معما: مُ ـ عَم ـ مَا ۔۔۔آخر میں ‘ہ’ نہیں ہے۔
مَنافع: مَ ـ نَا ـ فِع ۔۔۔ جمع نفی کی۔ آخر میں ‘ہ’ نہیں ہے۔
موقع: مَو ـ قَع ۔۔۔ آخر میں ‘ہ’ نہیں ہے۔
منہگا، مینہگا: مے ـ ں ـ ہ ـ گا۔۔۔ گراں، زیادہ قیمتی ۔۔۔ ‘مہنگا’ لکھنا غیر مناسب ہے۔
اسی طرح، ‘منہدی’ کو ‘مہندی’ لکھنا غلط۔
ناتا: نَا ـ تَا۔۔۔۔۔۔۔ رشتہ، تعلق ۔۔۔۔۔’ت’ کی جگہ ‘ط’ نہیں ہے۔
نقض امن: نَق ـ ضِ ـ اَم ـ ن۔۔۔ بے امنی، قانون شکنی ۔۔ ‘ض’ کی جگہ ‘ص’ نہیں ہے۔
نیل مرام: نے ـ لِ ـ مَ ـ رَا ـ م ،، حصول مقصد۔۔۔ درمیاں ‘و’ عطف نہیں ہے۔
حصہ دوم بے موقع یا غلط استعمال ہونے والے الفاظ:
ہم میں سے چند لوگ اکثر ‘برا منانا’ کہتے ہیں۔ جیسے۔ آپ برا مناگئے؟ اباجان برا مَناتے ہیں۔ جَشن مَنانا یا خوشی منانا، سمجھ میں آتا ہے۔ لیکن کوئی برا بھی ” مناتا “ہے؟ برا ماننا درست نہ ہوگا ۔۔ آپ برا مان گئے۔۔۔؟! ابا جان برا مانتے ہیں۔ وغیرہ۔
ایک لفظ ہے ‘بِیڑَا’۔۔۔ کسی کام کا بِیڑَا اٹھانا۔ اِسے عموما ‘بَیڑَا’ یعنی ‘بے ڑا’ پڑھا جاتا ہے۔ حالآں کہ یہ پان کا بِیڑَا ہے۔ اِس سے ایک روایت منسوب ہے۔ ایک قبیلے میں رسم تھی کہ جب کوئی انتہائی مشکل مہم درپیش ہو، تو جوانوں سے جو جاں باز رکھا گیا ‘پان کا بیڑا’ اٹھا لیتا، اسے مہم کا سالار بنادیا جاتا تھا۔ اِس لیے مشکل کام کی ذمہ داری لینے والے کو کہتے ہیں کہ اس کام کا بِیڑا فلاں نے اٹھایا۔حوالہ از رسومِ اقوام علی عباس جلالپوری
آئے دن۔۔۔۔۔ روز بروز۔۔۔۔۔ یہ درست ہیں ۔۔ آئے روز اور دن بدن غلط ہیں۔
ادا سے ادائی۔ ادائیگی غلط العوام ہے۔
ارَاضی: ارض کی جمع
اِستِفَادَہ: فائدہ حاصل کرنا۔۔۔
استفادہ کے بعد مزید ” حاصل کرنا “کا اضافہ درست نہیں۔
اَسلِحَہ: ہتھیار ،، سِلاح کی جمع
اکثر: کثرت سے۔۔۔ کبھی کبھی یا بعض کی جگہ اکثر کا استعمال مناسب نہیں۔
اولاد: ولد کی جمع۔۔۔ مطلب، بیٹے بیٹیاں۔۔۔ ولد کی جمع، واحد نہیں ہے۔
بی بی: معزز خاتون بیوی: زوجہ
بے امنی ۔۔۔۔ اگر ‘بد امنی’ کچھ ہے تو ‘خوش امنی’ بھی کچھ ہونا چاہیے؟ امن ہے یا نہیں ہے، امن بھی ہو اور ‘بد’ بھی ہو، کیسے ممکن ہے؟۔۔۔ لہاذا احتیاط کا تقاضا ہے، اسے “بے امن”، ‘بے امنی’ لکھا جائے۔ برس ہا برس غلط ہے۔۔۔۔
سال ہا سال درست ہے۔
پر: جہاں، کہاں، وہاں، یہاں، کے بعد ‘پر’ کا استعمال زائد ہے۔تَابِع دار: تابِع معنی ماتحت۔ اس کے بعد ‘دار’ زائد ہے۔
تازِی: تاجیک کا معرب۔۔۔ تاجیکستان سے نسبت رکھنے والا۔ تازِی گھوڑے اور کُتے مشہور ہیں۔تازہ کا مونث نہیں ہے۔ لہاذا تازہ روٹی ہوگا۔ تازی روٹی نہیں۔
تعینات: یہ لفظ غلط بتایا جاتا ہے۔ درست لفظ ‘تعین’ ہے۔
جنابہ: ناپاک عورت۔ جس پر غسل واجب ہو۔ جناب کی تانیث نہیں ہے۔ مذکر اور مونث دونوں کےلیے جناب ہے۔ چغل کے آگے ‘خور’ کا اضافہ زاید اور مہمل ہے۔
حشیش: بھنگ۔۔۔ اس کے معنی
چرس یا گانجا نہیں ہیں۔
درست سے درستی ۔۔۔۔ درستگی غلط العوام ہے۔
درمیان: بیچ میں۔۔۔ درمیان کے بعد ‘میں’ کا استعمال غلط ہے۔
روز بروز ۔۔۔۔ آئے دن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ درست ہیں ۔۔ آئے روز اور دن بدن غلط ہیں۔
رَاشِی: رشوت دینے والا، رشوت لینے والے کو مرتشی کہا جاتا ہے۔ یا رشوت خور کہنا چاہیے۔
رَوضَہ: باغ۔ ریاض کا واحد۔۔۔ روضہ کے معنی مقبرہ نہیں ہیں۔
سال ہا سال ٹھیک ہے۔۔۔ برس ہا برس غلط ہے۔
عزیز دار: عزیز معنی پیارا۔ رشتہ دار۔۔۔ عزیز کے آگے ‘دار’ لگانا زائد اور مہمل ہے۔
عَشرَہ: دس دن کا عرصہ۔ دسویں تاریخ کے لیے ‘عاشورا’ ہے۔
قابلِ اعتماد درست ہے۔۔۔قابلِ بھروسا غلط ہے۔
قریبِ مرگ ۔۔۔۔۔۔۔۔ قریب المرگ غلط ہے کیوں کہ فارسی الفاظ کو عربی قاعدے سے جوڑنا ٹھیک نہیں۔
گندا: ناپاک، نجس۔۔ میلے کو گندا کہنا غلط ہے۔مشکور: جس کا شکریہ ادا کیا جائے۔ شکریہ ادا کرنے والا شاکر یا شکرگزار ہونا چاہیے۔
منع: ممانعت، روکنا۔۔۔ انکار کی جگہ اس کا استعمال غلط ہے۔
ناطے: اس کا املا اور استعمال دونوں غلط ہیں۔ اصل لفظ ناتا ہے معنی رشتہ تعلق، لیکن رشتہ یا تعلق کے بعد حرف عامِل’سے’ آنا ضروری ہے، جو استعمال نہیں کیا جاتا۔
نا عاقبت اندیش: ترکیب غلط ہے۔ صحیح ہے، ‘عاقبت نا اندیش۔
‘نُور چَشمی: مُہمل ہے ، درست ” نُور چَشم ” ہے۔
واقف کار: ہنر جاننے والا۔۔۔ شناسا کے لیے ‘واقف’ مناسب ہے۔
ہَم شِیرَہ: ہم شیر کے معنی ہیں، دودھ شریک بہن یا بھائی۔۔۔ اردو میں ہم شیر فقط بہن کے لیے مخصوص کردیا گیا ہے۔ لہاذا بہن ہو یا بھائی، ‘ہَم شِیر’ کہلائیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 84 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

4 thoughts on “صحت الفاظ

  • 03-04-2016 at 11:17 am
    Permalink

    بہت شکریہ درستی کا، مگر ان الفاظ کے بیان میں کچھ کلیے بھی لکھے گئے ہیں، جن کی شاید کچھ مستثنیات بھی ہوں. مثلا عمومی کلیے کی رو سے ہندی اور فارسی/ عربی الفاظ کا مرکب بنانا غلط ہے مگر کچھ الفاظ ایسے ہیں جنہیں اساتذہ نے بھی استعمال کیا ہے جیسے “ناو+ خدا” ناخدا. اسی طرح “پھول دار” پڑھنے میں آتا ہے. کسی زمانے میں “فوق البھڑک” بھی لکھا جاتا تھا، مگر اب مفقود ہے. “واقف کار” کا لغوی معنی تو وہی بنتا ہے جو صاحب مضمون نے لکھا ہے، مگر بول چال میں اس سے ایسی واقفیت مراد لی جاتی ہے جو کام کے سلسلے میں کسی سے ہو جاے. گویا محض چہرہ شناسی سے ذرا بڑھ کر اور دوستی سے کم تر تعلق.. لفظ “مشکور” اب تو شکر گزار کے معنی میں عربوں میں بھی غلط العام کا درجہ اختیار کر چکا ہے.

    بہر کیف، یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے .

  • 06-04-2016 at 11:00 am
    Permalink

    مشکور اسم مفعول ہے اور عربی میں اسم مفعول اسم فاعل کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے.اس لئے غلط العام نہیں درست ہے

  • 07-04-2016 at 7:06 pm
    Permalink

    مرزا مظہر جانجانا ں کہتے ہیں:۔

    کسی کے خون کا پیاسا کسی کی جان کا دشمن
    نہایت منہ لگایا ہے سجن نے بیڑۂ پاں کو

  • 12-04-2016 at 1:59 am
    Permalink

    یہ ایک اچھی کاوش ہے۔ لیکن مناسب ہوتا کہ درست الفاظ (ہجے) کے لیے کوئی مستند حوالہ بھی دیا جاتا۔ کیونکہ فراہم کردہ فہرست میں مجھے کچھ ایسے الفاظ نظر آ رہے ہیں جن پر تحقیقِ مزید کی ضرورت ہے۔ مثلاً پہلا ہی لفظ (اچمبھا) مجھے اردو لغت بورڈ کی فراہم کردہ آن لائن لغت میں (اچنبھا) ہی مل رہا ہے۔ یہی لغت “آزر” اور “آذر” دونوں کو صحیح بتا رہی ہے اور کہتی ہے کہ اصلاً “آزر” فارسی لفظ ہے لیکن عربی میں جاکر “آذر” ہوا اور عربی سے ہی اردو میں آیا گویا “آذر” ہی صحیح ہے۔ طشتری کو ہی زیادہ صحیح مان رہی ہے بہ نسبت تشتری کے، اس میں بھی صورتِ حال آذر والی ہی ہے۔ یہی لغت “تعینات” کو “تعین” کی جمع بتا رہی ہے اس لحاظ سے دونوں ہی الفاظ درست ہوئے۔ یہ لغت “طمانچہ” کو ہی زیادہ صحیح مان رہی ہے بہ نسبت “تمانچہ” کے۔

    یہ چند مثالیں ہیں جن سے تحقیقِ مزید کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ لہٰذا درخواست ہے کہ ان مستند کتب، لغات سے آگاہ کیا جائے جہاں سے یہ الفاظ لیے گئے ہیں۔

    یہاں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں نے “اردو لغت” کے حوالے اس لیے دیے ہیں کہ یہ سرکاری سرپرستی میں قائم ادارے”اردو لغت بورڈ” زیرِ نگرانی ڈاکٹر جمیل جالبی نے ترتیب دی ہے جو اکیس جلدوں پر مبنی ہے۔ میرے علم میں اردو لغت میں اس سے زیادہ جامع، ضخیم اور مستند لغت کوئی نہیں ہے۔

Comments are closed.