مودی سعودی عرب کے دورے پر


modi

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی واشنگٹن میں جوہری تحفظ کی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے بعد دو روزہ دورہ پر آج ریاض پہنچ رہے ہیں۔ اس دورہ کے دوران سیکورٹی اور اسٹریٹیجک معاملات پر بات چیت کو آگے بڑھایا جائے گا۔ 2010 میں سابق بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے سعودی کا دورہ کرکے ان شعبوں میں تعاون کی ابتدا کی تھی ۔ اس کے بعد شاہ سلمان نے جو اس وقت وزیر دفاع تھے 2014 میں نئی دہلی کا دورہ کیا اور نریندر مودی کے ساتھ مذاکرات کئے تھے۔ مودی حکومت مشرق وسطیٰ کے ملکوں سے صرف بھارتی مین پاور کی فراہمی کے علاوہ اہم شعبوں میں تعاون کے لئے راہ ہموار کرنا چاہتی ہے۔ ان میں انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کا معاملہ بھی ایجنڈے پر سر فہرست ہے۔

بھارتی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ نریندر مودی سعودی عرب سے پاکستان کے گہرے اور قریبی تعلقات کو بھی ذہن میں رکھتے ہیں، اور وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے قریب ترین دوست ملکوں سے مراسم بڑھا کر پاکستان کے ساتھ تعلقات میں پیش رفت ممکن ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ بھارت ، پاکستان کے عرب دوست ملکوں کو معاشی اور انفرا اسٹرکچر کی تعمیر میں مدد فراہم کرنے کے ساتھ سیکورٹی اور دفاعی شعبوں میں بھی تعاون کی پیش کش کر رہا ہے۔ اس طرح ان مالدار عرب ملکوں کو یہ باور کروایا جائے گا کہ پاکستان ہی نہیں بھارت بھی ان کی دفاعی اور اسٹریٹیجک ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے تیار ہے اور تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ گزشتہ برس بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ایک دوسرے کو انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنے کا معاہدہ ہو چکا ہے۔ اب سعودی عرب کے ساتھ بھی اسی قسم کا معاہدہ کرنے کو کوشش کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ نریندر مودی سعودی حکام کو دفاعی شعبہ میں سہولتیں اور سروسز فراہم کرنے کی پیشکش بھی کریں گے۔

حکمران بھارتی پارٹی بی جے پی کے ذرائع نے بتایا ہے کہ سعودی عرب کے دورہ کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے قریبی تعلقات بھی بھارتی وزیراعظم کے پیش نظر ہوں گے ۔ وہ ان میں براہ راست رخنہ ڈالنے کی کوشش تو نہیں کریں گے لیکن سعودی عرب کے ساتھ ان شعبوں میں تعاون بڑھا کر جن میں ابھی تک صرف پاکستان ان ممالک کو سہولتیں فراہم کررہا ہے، پاکستان کو یہ پیغام ضرور دینا چاہتے ہیں کہ بھارت اپنی سفارتی اور سیاسی اہمیت کی بنیاد پر پاکستان کو تنہا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان میں جاسوسی اور دہشت گردی کے الزام میں ایک اعلیٰ بھارتی نیوی افسر کی گرفتاری کے تناظر میں مودی کا سعودی عرب کا موجودہ دورہ خاص طور سے اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان دوست ملکوں کے ذریعے دنیا کو پاکستان میں بھارتی تخریب کاری کے بارے میں آگاہ کرنے کی حکمت عملی تیار کر رہا ہے۔ بھارت ، پاکستان کے اس سفارتی مشن سے پریشان ہے اور اہم ملکوں کو اپنا مؤقف بتا کر پاکستان کا اعتبار نہ کرنے پر آمادہ کرنے کوشش کرے گا۔ بھارتی وزیر اعظم کے اس دورہ کے حوالے سے پاکستان کو چوکنا رہنے اور متبادل سفارتی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہوگی۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 414 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “مودی سعودی عرب کے دورے پر

  • 02-04-2016 at 5:02 pm
    Permalink

    ایک اہم نکتہ اس دورے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی دعوت شاہ سلمان نے دی اور اس وقت جب ایرانی صدر پاکستان کا دورہ کر رہے تھے. یہ سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کے لئے ایک پیغام بھی ہے کہ پاکستان سعودی عرب سے تعلقات کی قیمت پر ایران کے قریب نہیں جا سکتا.

Comments are closed.