مسجد کا خطیب اور عام نمازی


zaheer ahmadگھر کے قریب مسجد میں جمعہ کی نماز کا وقت 2 بجے ہے اور عموماَ خطیب صاحب دس منٹ تاخیر سے تقریر ختم کرتے ہیں جس کی وجہ سے جماعت 2:10 پر ہوتی ہے لیکن گزشتہ جمعہ کو ایک خطیب کسی دوسرے شہر سے آئے ہوئے تھے اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ خطیب صاحب تقریر دس منٹ کم 2 پر ختم کر دیتے مگر انھوں نے جب 2:10 تک بھی تقریر ختم نہ کی تو زیادہ تر نمازیوں نے بے چینی کا اظہار کیا اور ایک بزرگ نمازی نے کھڑے ہو کر کہا کہ مولانا صاحب جمعہ کی نماز کا وقت 2 بجے ہے اور اب2:20 ہو رہے ہیں اگر اب بھی آپ تقریر ختم کریں تو اذان اور خطبہ کے بعد جماعت تو 2:30 کے بھی بعد ہی پڑھائی جائے گی یعنی مقررہ وقت سے کم از کم 30منٹ تاخیر سے ان مولانا صاحب کے جواب دینے سے پہلے مسجد کے خطیب کھڑے ہو گئے اور ان بزرگ نمازی کو کہا کہ جب ہم چاہیں گے اس وقت نماز کھڑی ہو گی آپ نے اگر نہیں رکنا تو جائیں کہیں اور چلے جائیں اور خطیب صاحب نے کہا کہ آپ کی اپنی عزت نہیں تو ہماری کا خیال کریں ہم دین کی بات کر رہے ہیں نمازی نے انتہائی مودبانہ ہو کر کہا کہ مقررہ وقت دو بجے ہے تو جواب میں خطیب صاحب مزید سیخ با ہو گئے اور ان کو پھر جانے کا کہا اور بد تمیزانہ لہجے میں کہا کہ ہم مسجد میں نماز کی اوقات والی گھڑیاں صفر صفر (یعنی زیرو) پہ کر دیں گے اور جب ہمارا دل چاہے گا اس وقت نماز پڑھائیں گے خطیب کا یہ جواب سن کر باقی نمازیوں نے بھی بڑبڑانا شروع کر دیا مگر کھڑے ہو کر واضح ردعمل دینے سے گریز کیا وہ بزرگ نمازی بھی خاموش ہو گئے مسجد کے خطیب نے مولانا صاحب جو تقریر کر رہے تھے ان کو اشارہ کیا کہ آپ تقریر جاری رکھیں ان مولانا صاحب کو چاہیے تو یہ تھا کہ اتمام حجت کے طور پر دو منٹ تقریر کر کے یہ سوچ کر ختم کر دیتے کہ میری وجہ سے ماحول خراب ہوا مگر انھوں نے جب تقریر مزید 10 منٹ جاری رکھی تو مسجد کے خطیب نے ہی انہیں اشارہ کیا کہ اب ختم کر دیں خیر اذان کےبعد جماعت کھڑی ہونے سے پہلے پھر مسجد کے خطیب کھڑے ہو گئے اور اسپیکر پر لیکچر دینا شروع کر دیا کہ دین کی بات ہوتی ہے پہلے کہا کہ دس پندرہ منٹ تاخیر ہو جاتی ہے پھر کہا کہ آپ لوگ جلدی آیا کریں پھر کہا کہ ڈاکٹر کے پاس آپ چیک اپ کے لئے جاتے ہی وہاں بھی تو انتظار کرنا پڑتا ہے یہ دین کی بات ہے وغیرہ وغیرہ۔

مسلمان ہونے کی حیثت سے ذہن میں خیال آیا کہ ہو سکتا ہے خطیب صاحب ٹھیک فرما رہے ہوں مگر کیا تاخیر ہونے کے بعد خطیب صاحب کو یہ لہجہ اپنانا چاہیے تھا؟ خطیب صاحب معذرت کر لیتے تو کیا ان کی شان میں فرق آجاتا؟ کیا ایک بزرگ نمازی سے بدتمیزی کرنا ضروری تھا اور بزرگ نمازی بھی وہ جو صرف جمعہ کی نماز نہیں پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں کیا یہ کہنا کہ جب ہمارا دل کرے گا جماعت کھڑی کریں گے کیا یہ اسلامی اصولوں کے مطابق ہے؟ سنا تو یہ تھا کہ جو اپنا وعدہ پورا نہ کرے وہ منافق ہوتا ہے کیا نماز کا مقررہ وقت 2 بجے کا رکھ کر30 منٹ سے زائد تاخیر سے جماعت کھڑی کرنا وعدہ خلافی نہیں؟ جمعے کو لوگ عموماَ جماعت کھڑی ہونے سے پانچ یا دس منٹ پہلے مسجد جاتے ہیں کہ فرض نماز پڑھ لیں کیا فرض نماز یہ کہہ کر تاخیر سے پڑھانا کہ دین کی بات مزید کر لی جائے کیا یہ جائز ہے؟

دین کی بات سنے سنانے کے لئے عموماَ مختلف عنوان سے کا نفرنس کروائی جاتی ہے جو کہ پانچ پانچ گھنٹے بھی جاری رہتی ہے کہ جس نے جا کر مستفید ہونا ہو وہ جاتا ہے کیا فرض نماز کے لئے آنے والے نمازیوں کے ساتھ دھوکہ نہیں جو نماز پڑھنے آتے ہوں مگر آپ ان کو زبردستی تقریر سناتے رہیں سنا تو یہ تھا کہ اللہ کو راضی کرنا ہوتو انتہائی عاجزی و انکساری سے اللہ تعالیٰ سے توبہ کرلیں اللہ راضی ہو جاتا ہے اور حقوق العباد میں اس بندے سے ہی معافی معافی مانگی جائے جس کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی کی ہو۔ دلوں کے حال تو خدا ہی جانتا ہے مگر ایک بزرگ نمازی کے ساتھ سرعام بدتمیزی کر کے عاجزی و انکساری کی تو نفی کر ہی دی گئی مگر اس بزرگ نمازی سے معذرت کرنے کے بجائے دھمکیاں دی جائیں تو حقو ق العباد کی بھی نفی کر دی گئی کیا وہ نمازی جس نے بروقت جماعت کھڑی کرنے کی طرف توجہ دلانی کی کوشش کی وہ فساد کی جڑ ہو گیا؟ کیا وہ معتبر اور عزت دار نہیں رہا؟ کیا وہ دین سے بھی خارج ہونے کے قریب پہنچ گیا صرف اس لیے کہ وہ ایک عام نمازی ہے کمزور ہے حکم نہیں چلا سکتا اور آپ بد تمیزی کر کے ڈرا دھمکا کر اور سرعام ایک شریف آدمی کی پگڑی اچھال کر بھی ٹھہرے پرہیزگار اور متقی کیونکہ آپ کے پاس طاقت ہے، مسجد کا کنٹرول ہے اور کسی پر بھی کسی قسم کا فتویٰ لگانے کا سرٹیفکیٹ ہے۔

ہمارے ناقص علم کے مطابق تو دین اسلام زور دیتا ہے تحمل اور برداشت کا غصہ نہ کرنے کا اخلاق سے پیش آنے کا صلہ رحمی کا درگزر کرنے کا رمضان میں آپ ہی کی زبان سے حدیث سنی کہ اگر کوئی شخص روزہ دار کے پاس آکر لغویات بولے گا یا گالیاں دے یا طیش دلانے کی کوشش کرے تو آگے سے صرف ایک جواب دیا جائے کہ بد کلامی کرنے والے میرا روزہ ہے مگر یہ آپ نے تو مسجد میں کھڑے ہو کر ایک پانچ وقتی نمازی کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ یہ تمام سوالات ذہن میں اسی دن سے گڈمڈہو رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے ناقص العقل اور ناقص الاعلم ہونے کی حثیت سے ان سوالات میں کہیں کوئی زیادتی کر دی ہو مگر علم والوں سے ان تمام سوالات پر رہنمائی درکار ہے۔


Comments

FB Login Required - comments