چوہوں کے خلاف آپریشن ضرب غضب


 humsubپشاور کی ضلعی حکومت نے شرپسند چوہوں کے خلاف آپریشن ضرب غضب شروع تو کر دیا ہے لیکن شاید فنڈز کی کمی ہے۔ ضلعی حکومت سے گزارش ہے کہ جلد از جلد فنڈز ریلیز کرے تا کہ ملک دشمن چوہوں کے خلاف آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔ ضلعی انتظامیہ اگر مناسب سمجھے تو خادم آعلی پنجاب سے اس ناگہانی آفت سے نمٹنے کے لیے مشورہ مانگ سکتی ہے۔ خادم آعلی کو صوبہ بھر میں  مچھر مار مہم  کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔

ضلعی حکومت کو چاہیے کہ وہ چوہوں کا یکمشت صفایا کرے، کونوں کھدروں میں چھپے چوہوں کو  گھیر گھار کر باہر نکال کر انہیں جہنم واصل کیا جاوے، بارڈر پار سے چوہوں کی آمدروفت پر بھی کڑی نظر رکھی  جاوے اور اس مقصد کے لیے اینٹی چوہا ریڈار بھی اگر نصب کرنا پڑے تو اس سے بھی گریز نہیں کیا جاوے۔ دستی اینٹی چوہا ریڈار بنوانے کے لیے اینٹی ایئر کرافٹ چپل کے موجد مولانا ثروت قادری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے .

مزید براں یہ کہ اگر پشاور کی حکومت لاہور کی پیرس جیسی ترقی سے اپنے حسد کو تھوڑی دیر ایک سائیڈ پر رکھتے ہوئے اگر مردہ چوہوں کو لاہور ایکسپورٹ کرنے کے بارے میں سوچے تو نہ صرف اس سے ضلعی حکومت کے ریونیو میں دن دگنا رات چگنا اضافہ ہو گا بلکہ دونوں صوبوں کے درمیان بھائی چارے میں بھی اضافہ ہو گا۔ اسی طرح ممکن ہے کہ اس خاطر تواضع سے خوش ہو کر لاہوری بھی پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دینے کا سوچنا شروع کر دیں اور پاکستان تحریک انصاف جو ابھی تک سر توڑ کوشش کے باوجود بھی لاہور کو فتح نہیں کر سکی شاید اس طرح وہ لاہور میں اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہوجاوے

عمران خان صاحب سے گزارش ہے کہ وہ اس مسئلے کا از خود نوٹس لیں اور بہتر ہو گا کہ ایک ریگولر چوہے مار فورس کا قیام عمل میں لیا جاوے۔ اگر پنجاب میں ڈولفن فورس ہو سکتی ہے تو خیبر میں چوہے مار فورس کیوں نہیں اس فورس کے جوانوں کے لیے پرکشش پیکجز کا آعلان کریں تا کہ تمام صوبوں سے آعلی تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان اپنے ہنر کو آزما سکیں  اس سے عمران خان کے اس دیرینہ خواب کی بھی آہستہ آہستہ تکمیل ممکن ہو سکے گی کہ پوری دنیا سے لوگ روزگار کی تلاش میں پاکستان آئیں گے

انصاف کے تقاضوں کے ”آیان”  مطابق، موٹے، پتلے، لمبے، چھوٹے اور عام یا خاص سبھی چوہوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاوے اور اس بات کا خاص خیال رکھا جاوے کہ کل کلاں کو کوئی ٹوٹی کمر والے چوہے پھر سے کوئی وبال کھڑا نہیں کر دیں۔


Comments

FB Login Required - comments