اظہار بھی مشکل ہے


 munawar shahidعجب ستم ظریفی ہے کہ جس طرح کے تماشے پاکستان میں ہو رہے ہیں اس پر نہ رو سکتے ہیں نہ ہنس سکتے ہیں۔ بم دھماکوں او خون آلودہ مناظر اور آہ و بکا نے عوام کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ موت کا وحشیانہ رقص اب تفریحی پارکوں میں بھی ہونے لگا ہے ۔ پچھلے دنوں اسلام آبا د کا ڈی چوک پوری دنیا کی نگاہوں کا مرکز رہا ہے اور ان نظروں میں حیرت و تشویش پائی جاتی تھی۔

ڈی چوک پر مچائے جانے والے اس ہڑبونگ پر بچے حیرت زدہ ہیں کہ یہ کون تھے جو اچھل اچھل کر نازیبا باتیں کرتے رہے۔ اس بات کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا کہ اس تماشے کی ڈگڈگی کس کے پاس تھی۔ ڈی چوک پر روشن خیالی، تنگ نظری، ملائیت اور سیاست سبھی نے اپنے اپنے سٹیج شو کئے ہیں لیکن حالیہ شو نے تو نہ صرف قومی تشخص کو مجروح کیا بلکہ تمام اخلاقی اور اسلامی اقدار کا جنازہ نکال دیا ہے۔ پاکستان میں بسنے والے مرد و خواتین سمیت بچوں اور لڑکیوں سمیت سبھی نے اپنی آنکھوں اور کانوں سے جو دیکھا اور سنا وہ کسی بھی مہذب قوم کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔ لیکن بد قسمتی سے ڈی چوک سے مسلسل کئی دنوں تک لائیوشو ہوتا رہا۔ منبر رسول پر کھڑے ہو کر مسلمانوں کو مذہب کی باتیں اور صراط مستقیم کاراستہ دکھانے والوں نے خود جو بے راہ روی دکھائی ہے وہ سب کے سامنے آچکی ہے، جو بہت افسوسناک اور باعث شرم ہے۔

اس فلمی طرز کے شو سے پوری دنیا میں پاکستانی عوام کی توہین اور جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ قانون اور حکومتی رٹ اور مذہب کو یکساں طور سے نقصان پہنچایا گیا۔ جو کچھ وہاں مذہب کے ٹھیکیداروں نے بولا وہ شرفاء کی زبان نہیں ہو سکتی۔ سیاست دانوں کی خواتین کے متعلق کنیٹرز پر لکھے شرمناک جملے اس وقت سوشل میڈیا پر گردش کررہے ہیں اور لکھنے والوں کی پسماندہ ذہنی حالت کی گواہی دے رہے ہیں۔ باشعور اور امن پسند طبقے حیران او پریشان ہیں کہ اس طرح کیوں کیا گیا ہے اور اس کی اجازت کس نے دی اور کیوں دی ۔ اس ڈرامے کے ذریعے دنیا اور مغرب کو کیا پیغام دیا گیا ۔ لگتا یہی ہے کہ دنیا کوایک با ر پھر باور کرایا گیا ہے کہ یہاں ان لوگوں کی مرضی کے بغیر کسی قانون کو نہیں بدلہ جا سکتا اور نہ ہی ترمیم ممکن ہے۔ اس قسم کی پیغام رسانی کرنے والے موجودہ نازک حالات کی نزاکت کو سمجھنے کی بجائے مزید خراب کرنے پرتلے ہوئے ہیں۔ ماضی کی ایسی ہی غلطیوں کا نتیجہ قوم بھگت رہی ہے اور گھر کے اندرجو ماحول بن چکا ہے، وہاں اب کسی شریف کی کوئی جگہ نظر نہیں آتی۔ اگر کسی کو کوئی شک ہے تو وہ ان ویڈیوز کو دیکھ اور سن لے جس میں ترغیب دی گئی ہے فلاں فلاں کوگھر کا ملازم، باڈی گارڈ، وغیرہ وغیرہ مارے گا۔ اس کی ایک مثال تو موجود ہے۔ جب گورنر پنجاب کو مار دیا گیا تھا۔ اس لئے ان کی دھمکیوں کو گیدڑ بھبھکی سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے۔ ریاست کے دارالحکومت کے حساس علاقوں میں اس طرح کے لائیو شو کسی بھی طور ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہو سکتے۔ موجودہ حکومت کے وزیر ریلوے نے بھی حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس حقیقت کو قبول کیا ہے کہ پاکستان کو لادینیت سے زیادہ ملائیت سے خطرہ ہے۔ حال ہی میں ایران کے صدر کے دورہ پاکستان پر ان کو گارڈز آف آنرزNLI کی طرف سے دئے جانے پر چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ کس خوف کی بنا پر یہ تبدیلی کی گئی ہے لیکن سمجھنے والے جانتے ہیں کہ اس کی کیا وجہ ہے۔

کسی جمہوری مملکت میں اس کی گنجائش نہیں ہوتی کہ وہاں کی اکثریت کا مذہب سب پر مسلط کر دیا جائے۔ لیکن چلو مان لیتے ہیں کہ جیسے تیسے کر کے ایسا ہو گیا لیکن پھر اس کے بعد کام تو مسلمانوں والے کرو۔ قانون سازی تو وہ کرو جیسی میثاق مدینہ کے ذریعے ہوئی جہاں مشرک، یہودی اور مسلمان ہرشہری کے مساوی حقوق تھے۔ اور جیسا آخری خطبہ جمعتہ الوداع میں رسول پاکﷺ نے فرمایا۔ عدل تو حضرت عمرؓ جیسا کرو۔ مذہبی رواداری تو ویسی کرو جیسی مسیحوں کے ایک وفد کے ساتھ کی گئی جس کو مسجد نبوی میں عبادت کی اجازت دی گئی۔ اس حسن سلوک کو تو پھیلاؤ جیسا آپﷺ نے کوڑا کرکٹ پھینکنے والی کے ساتھ فرمایا تھا اور ایک یہودی کا جنازہ بھی پڑھا یا تھا۔

تاریخ اسلامی کچھ اور ہے اور ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ کچھ اور ہے۔ یہ صرف ملائیت اور فرقہ وارانہ سوچ ہے جو وطن عزیز پر راج کر رہی ہے جس کے مناظر ڈی چوک پر سب نے دیکھے۔ اگراب ان مظالم پر کچھ کہا جائے یا لکھا جائے تو وہ نظریہ پاکستان کے منافی قرار دے دیا جا تا ہے ۔ اور اسلام دشمن ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ موجودہ اندرونی صورت حال اس قدر خطرناک ہو چکی ہے کہ خود وفاقی وزراء بھی اس بات کا اقرار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ گلشن اقبال لاہور کے سانحہ پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ دور آمریت میں پروان چڑھنے والے دہشت گردی کے عفریت کے ہاتھ اب گریبانوں تک آپہنچے ہیں ۔ تو جناب اب ہی کچھ کر لیں اور آنے والی نسلوں کو محفوظ کردیں ۔

ملکی سیاست کو مذہبی قیادت یرغمال بنا چکی ہے۔ جب اسمبلیاں قانون سازی کرتی ہیں تو اسلانی نظریاتی کونسل آڑے آ جاتی ہے اور عوام کے منتخب نمائیندوں کی قانون سازی کو تہس نہس کر دیتی ہے۔ پتہ نہیں چلتا کہ کہاں گیا عوامی مینڈیٹ اور کہاں گئی جمہوریت۔ پاکستان کے مسائل میں معاشی اور سیاسی عدم استحکام کی بنیادی وجہ اور امن و آمان کو خراب کرنے کی جڑ یہی فرقہ وارانہ جماعتیں اور تنظیمیں ہیں، جن کے بارے میں سال ہا سال سے کہا جا رہا ہے کہ ان کے خلاف کاروائی کریں۔ لیکن کسی کے کان پہ جوں کی توں نہیں رینگی۔ بلکہ الٹا ممبران قومی اور صوبائی اسمبلی ہی ان کے دفاع کے لئے آجاتے ہیں۔

اب پنجاب کے اندر دہشت گردی کے خلاف جو کاروائی کی گئی ہے، اگر اس پربغیر کسی سیاسی دباؤ میں آئے کامیاب کاروائی ہوئی تو پھر نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان میں امن قائم ہو جائے گا۔ پاکستان کے قومی اخبارات میں اور نیوز چینلز پر متعدد بار اس امر کی نشاندہی ہوئی ہے کہ جنوبی پنجاب کے متعدد شہروں میں کالعدم تنظیموں کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں۔ پنجاب کی صورتحال اندرونی طور پرسب زیادہ خراب ہو چکی ہے اور اب تک عوامی مقامات پر ہونے والے دھماکوں میں پنجاب سرفہرست ہے۔ پنجاب کے اثرات ہی باقی سب صوبوں پر بھی پڑتے ہیں۔ لہذا اس صوبے سے دہشت گردی کے تمام ذرائع کا قلع قمع کرکے پورے پاکستان کی فضا کو پرامن بنایا جا سکتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments