تاجدار حرم ہو نگاہ کرم


raazia syedجس سرکاری سکول سے میں نے تعلیم حاصل کی ا س کی ایک خاصیت یہ تھی کہ سال میں بچوں کو دو سے تین اصلاحی فلمیں بھی دکھائی جاتی تھیں، سکول کے ایک ہال کو ہی سنیما کی شکل دے دی جاتی تھی اور پروجیکٹر کے تھرو فلمیں دکھائی جاتی تھیں اس موقع پر بچوں سے معمولی سے پیسے ٹکٹ کے وصول کئے جاتے تھے جو تمام تکنیکی سہولیات فراہم کرنے والے افراد کو بطور اجرت ملا کرتے تھے ۔ خیر بتانے کی بات یہ ہے کہ ہم سب بچوں نے ایک مرتبہ ایک بچے کی فلم دیکھی جو ایک حادثے میں اپنی ٹانگ سے محروم ہو جاتا ہے اور پھر وہ ایک درگاہ پر بھی جاتا ہے جہاں ایک مشہور قوالی چل رہی ہوتی ہے جس کے بول اب بھی میرے ذہن میں موجود ہیں اور وہ تھے

تاجدار حرم ہو نگاہ کرم

بعد میں اپنی استانیوں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ مشہور قوال غلام فرید صابری کی آواز میں گایا ہوا نعتیہ کلام ہے ۔یہ آواز بھی ایسی پر تاثیر تھی کہ اب تک میں اسے نہیں بھول پائی ۔ دراصل فنون لطیفہ سے لگاﺅ رکھنے والوں کو موسیقی کی صنف سے بھی ضرور شغف ہوتا ہے ۔ کیونکہ موسیقی ، مصوری اور شاعری ان سب کا باہمی ربط ہے ۔ شاعری اگر تخیل کا نام ہے تو مصوری اسی تخیل کی تصویر اور موسیقی کی بات کریں تو شاعری کا لفظوں میں اور آوازو ساز میں بیان ۔۔

کیوں نہ آج موسیقی کے ایک بڑے گھرانے کا ذکر کریں بالکل غلام فرید صابری کا گھرانہ جن کا یہ دعوی بھی ہے کہ ان کے داد اکا شجرہ نسب براہ راست مشہور مغل بادشاہ اکبر اعظم کے درباری گلوکار تان سین سے جا ملتا ہے ۔ لے ، سر ، تال ، آواز و اندازاور خوب صورت پیش کش کو جب یکجا کرلیں تو صابری برادرز قوال کا نام ہی ذہن میں آتا ہے جن کے دادا محبوب بخش رنجی علی رنگ اپنے زمانے کے مشہور گائیک تھے ۔ ننھیال کی جانب سے استاد باقر حسین خان ایک معروف ستار نواز گذرے ہیں ۔1930 میں کلیانہ میں پیدا ہونے والے غلام فرید صابری قیام پاکستان کے بعد یہاں آگئے چونکہ صوفیائے کرام سے عقیدت اس گھر کا خاصا تھا لہذا قیام پاکستان سے پہلے انھوں نے اپنی پہلی پرفارمنس کلیانہ میں 1946 میں مشہور صوفی بزرگ مبارک شاہ کے سالانہ عرس کے موقع پر دی ۔

بعد ازاں پاکستان میں ” کلاں خان قوال پارٹی “ کو جوائن کر لیا انھیں ایک معروف صنعتکار کی جانب سے ایک نائٹ کلب میں شراکت داری کی بنیاد پر گائیکی کی پیشکش بھی ہوئی تاہم اس مرد قلندر نے قوالی کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ۔ 1956 میں انھوں نے اپنے بھائی مقبول صابری کے ساتھ مل کر صابری برادران قوال ایک نیا گروپ تشکیل دیا ۔ ان کی پہلی ریکارڈنگ 1958 میں EMI ( pakistan labels ) نے ریلیز کی ۔ پاکستانی فلموں اور پی ٹی وی پر ان کے پروگرام اب نشر ہونے لگے تھے ۔ آپ کی دلچسپی کے لئے چند قوالیاں اور ان کی فلموں کے نام بھی تحریر کر رہی ہوں

میرا کوئی نہیں ہے تیرے سوا ( فلم عشق حبیب ، 1965)

محبت کرنے والو ( فلم چاند سورج ، 1970)

آئے ہیں تیرے در پہ ( فلم الزام ، 1972)

بھر دو جھولی میری ۔۔( فلم بن بادل برسات ، 1975)

تیری نظر کرم ( فلم سچائی ، 1976)

تاجدار حرم ہو نگاہ کرم ، فلم سہارے 1982 ))

آفتاب رسالت ( انڈین فلم ، سلطان ہند ، 1977)

انھوں نے فارسی میں بھی قوالیاں پیش کیں جن میں چند قابل ذکر یہ ہیں

نہ می دانم چی منزل بود
چشم مست عجب

امیر خسرو کے کلام کو غلام فرید صابری نے ایک نئی زندگی بخش دی ۔ من کنت مولا علی بھی ان کی ایک مشہور قوالی ہے ۔جبکہ امام احمد رضا کا کلام انھوں نے چار زبانوں عربی ، فارسی ، اردو اور ہندی میں پیش کیا ۔ غلام فرید صابری بین الاقوامی شہرت یافتہ قوال تھے ۔ 1975 میں یورپ میں ان کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا جب انھوں نے
Newyork s Carnegie Hall میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا ، انیس سو ستر میں حکومت پاکستان نے صابری برادران کو نیپال کی شاہی شادی میں پرفارم کرنے کے لئے روانہ کیا جو بذات خود ایک اعزاز ہے ۔ پرفارمنگ آرٹس پروگرام آف دی ایشیا سوسائٹی کے زیر اہتمام انھوں نے امریکا اور کینیڈا میں بھی مختلف پروگراموں میں شرکت کی اور 1978 ان کی قوالیوں کا ایک البم امریکا سے بھی ریلیز ہوا ۔

امریکی جرائد اور اخبارات کی بات کریں تو یہاں بھی فرید صابری نے میدان مار لیا ۔ نیویارک ٹائمز نے ان کے فن کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے دو آرٹیکل خاص طور پر شائع کرنے کا اہتمام کیا ۔ جن کے عنوانات یہ ہیں ۔

” The aural equivalent of dancing dervishes “

“Music of feeling ”

غلام فرید صابری حقیقت میں ایک بڑے فنکار تھے اور انھیں یہ مرتبہ در رسول کا عطا کردہ ہے ۔ وہ جتنے عظیم قوال تھے میرا قلم اتنے ہی کم رتبے کا حامل ہے لیکن اس عظیم گائیک اور قوال کے فن کو اب ہم مجسم ان کے بڑے فرزند امجد صابری قوال میں دیکھ سکتے ہیں ۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “تاجدار حرم ہو نگاہ کرم

  • 03-04-2016 at 4:31 pm
    Permalink

    بہت عمدہ،،،

  • 04-04-2016 at 9:52 am
    Permalink

    بہت شکریہ ، نوازش

Comments are closed.