تیرا مکہ رہے آباد مولا


khawaja kaleemلاہور کے علاقے علامہ اقبال ٹاؤن میں دہشت گردی کا یہ تیسرا بڑ ا واقعہ ہے، مون مارکیٹ میں ہونے والے پہلے دھماکے کی ہولناکیاں ابھی اہل لاہور بھولے نہیں ہوں گے۔ گلشن اقبال میں مسلی جانے والی کلیوں اور پھولوں کے تصور سے ہی کلیجہ منہ کو آتا ہے لیکن ہم اس دکھ کا صرف تصور ہی کر سکتے ہیں۔ ان ماوں کا دکھ دنیا کی کوئی طاقت نہیں بانٹ سکتی جن کے جگر چھلنی ہیں لیکن وہ زندہ رہنے پر مجبور ہیں، وہ باپ زندہ لاش سے زیادہ کیا ہوں گے جو اپنے جگر گوشوں کے مسکراتے چہروں پر قہقہے بکھیرنے انہیں ”گلشن“ میں لے گئے لیکن تقدیر نے اس کے منہ پر خون پھینکا اورہاتھوں میں بے جان لاشے پکڑا دیئے۔ لاہور مجھے اس لئے بھی عزیز ہے کہ اس شہر نے جہاں مجھے ڈھیروں پیار سے نوازا وہیں زمانے کے بہت سے سبق بھی سکھائے ہیں۔ داتا کی نگری میں مجھے اجنبیت یا اداسی کا احساس بہت کم ہوتا ہے۔ لاہور مجھے بیگانہ شہر نہیں لگتا شائد اسی لئے لاہورکے گلشن کا اجڑنا مجھے دکھ کے سمندر میں ڈبو گیا ہے۔

میرے لاہور پر بھی اک نظر کر

تیرا مکہ رہے آباد مولا

گلشن اقبال کا سانحہ کیا کم تھا کہ سیاسی رہنماوں کی دکانداری نے دل اور زخمی کر دیا۔ دنیا بھر میں کہیں بھی کوئی ایسا واقعہ ہوتو سوگ میں ڈوبی ہوئی قوم ہوش نہیں کھوتی اور متحد ہوکر ایسے سانحات کی وجوہات کے تدارک پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ حکومتیں اپنے فرائض سرانجام دیتی ہیں اور اپوزیشن میں بیٹھی جماعتیں حکومتوں کے ہاتھ مضبوط کرتی ہیں۔ مرنے والوں کی نہ کوئی پارٹی ہوتی ہے نہ کوئی انتخابی نشان اور نہ ہی ووٹ، سفید کفن میں ملبوس تابوت میں پڑے لاشے انسان کو اس کی اوقات یاد دلانے کے لئے کافی ہیں۔ لیکن ہمار اباوا آدم نرالا ہے، خارزار سیاست میں بال سفید کرنے والے کچھ دانشور دہشتگردی کے خاتمے لئے حکومت کا ہاتھ بٹانے یا کوئی موثر اور قابل عمل تجویز دینے کی بجائے اورنج ٹرین کا ماتم کر رہے ہیں، شائد اس لئے کہ اس میں مشقت کم ہے اور شہرت زیادہ۔ سیاستدانوں پر ہی کیا موقوف ہے۔ قوم کی رہنمائی کے بہت سے دعویدار ٹی وی میزبانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پنجاب میں آپریشن صوبائی حکومت کی مرضی ہے یا فوجی قیادت کی سینہ زوری۔ پورا زور یہ ثابت کرنے پر لگایا جا رہا ہے کہ عسکری حکام کا سیاسی قیادت سے کوئی تال میل نہیں اور ایک متوازی بندوبست انہوں نے کر لیا ہے جس پر وہ اپنی ضرورت اور مرضی کے مطابق عمل پیرا ہیں۔ مقام شکر ہے کہ سی این این کی طرح میڈیا کی آزادی کے نام پر پاکستان میں کسی نے سانحہ گلشن اقبال کو ”ایسٹر پر حملہ “ کا عنوان نہیں دیا۔ فرصت اگر میسر ہوتوغیروں کے ذہن دیکھیں اور اپنے لچھن۔ دشمن ہمارے گھر میں گھس چکا ہے اور ہم ہیں کہ ہمیں اپنے حلوے مانڈے سے فرصت نہیں۔

نہ صرف سیاسی بلکہ سماجی اور مذہبی حلقوں میں بھی تفرقہ بازی اس قد ر پھیل چکی ہے کہ انسانیت کے علم برداروں کی اصلاح احوال کی امیدیں دم توڑتی دکھائی دیتی ہیں۔ عین اس وقت جب لاہور کے باسی دھاڑیں مارتے ہوئے خون آلود لاشوں اور زخمیوں کو کندھو ں پر اٹھا کر ہسپتالوں کی طرف بھاگ رہے تھے ، دین فروش ملاوں کا ایک گروہ سادہ لو ح عوام کو ورغلا کر رسول رحمت ﷺ کے نام پر راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہریوں پر ایک نئی مصیبت مسلط کر چکا تھا۔

بے روزگاروں کو رزق حلال کی راہ دکھانے والے نبی ﷺ کی نام پر لاکھوں مزدوروں کا رزق بند کرنے والوں نے غریبوں کی موٹرسائیکلیں جلائیں ، مارکیٹوں میں توڑ پھوڑ کی اورگاڑیوں کے علاوہ میٹرو سٹیشن بھی تباہ کئے۔ افسوس صد افسوس!جس کے ہاتھوں میں بدترین دشمنوں کی امانتیں محفوظ رہیں ا س ہستی کے نام نہاد نام لیواوں کے ہاتھ سے کچھ محفوظ نہ رہا۔ ڈنڈا بردار مقدس غنڈوں نے قانون نا فذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو جم کر پیٹا اوران پر پتھربھی برسائے اور انہیں استعمال کرنے والے ملاوں کو نہ زبان کا پاس رہا نہ اپنے لکھے ہوئے وعدوں کا۔ کس منہ سے یہ سرکار ﷺ کا نام لیتے ہیں؟ مگر ریاست شائد اس لئے خاموش رہی کہ غیر منظم ہجوم کی پشت پناہی کرنے والوں کو چند لاشوں کی ضرورت تھی۔ دھرنے کے خاتمے سے چند منٹ پہلے مُلاں خادم حسین رضوی نے جہاں بار بار میڈیا سے اپنی کوریج کی بھیک مانگی وہیں اس بات پر افسوس کا اظہار بھی کیا کہ جن مٹھی بھر جاہلوں کو شہادت کا خواب دکھا کر وہ ڈی چوک لائے تھے وہ نامراد واپس جا ر ہے ہیں۔ کراچی سے آئے ایک صاحب کو جن کی جماعت سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ”رجسٹرڈ“ بھتہ خور ہے اور جن کا واحد مقصد اقتدار اور طاقت کا حصول ہے وہ شائد اپنے مقصد کی ناکامی کے کر ب میں مبتلا زارو قطار رو رہے تھے۔ اپنی تقریر میں کھل کر انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ نظام مصطفٰے ﷺ ہو گا تو پارلیمنٹ میں بے دینوں (ان کی دانست میں) کی جگہ ان جیسے عبادت گزار اور نیک پرہیز گار لوگ براجمان ہو ں گے۔ ظاہر ہے کہ عوام ووٹ تو ان مُلاوں کو دیتے نہیں اور یہی ان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور اگر یہ لوگ کبھی اقتدار میں آ بھی گئے تو اسلام کی اشاعت کے نام پرعوام کے مال پر ایسے ہی ڈاکے ماریں گے جو کراچی میں ان کا معمول رہا ہے۔ ملاں افضل قادری ، خادم حسین رضوی اور ان کے جاہل پیروکاروں نے ڈی چوک اور لاہور کے مظاہروں میں جوغلیظ زبان استعمال کی وہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر ان کے علم وفضل کے ثبوت کے طور پر تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ تاریخ یہ بھی یاد رکھے گی کہ ”کنز العلماءعلامہ ڈاکٹر مفتی اشرف آصف جلالی“ خاموشی نیم رضا کے اصول کے تحت یہ سب کچھ خاموشی سے سنتے رہے۔ مجھے امید ہے اس کی بدولت ممتاز قادری کی روح کو راحت میسر آئی ہوگی اور جنت میں اسے ملنے والی حوروں کی تعداد میں اضافہ بھی کیا گیا ہوگا۔ دھرنے کے خاتمے سے پہلے فتح کے نعرے لگاتے مظاہرین کو شاید یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کو یہاں لانے والوں نے انہیں مفت میں بیچ دیا ہے۔ جن سات نکا ت پر اتفاق کیا گیا ان کا ڈاکٹر اشرف آصف جلا لی کی دس مطالبات سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ لیکن مظاہرین میں سے کون گستاخ تھا جو ان متبرک ہستیوں سے اس بارے سوال کرسکتا؟ کوئی ایک ذی شعور نہ تھا۔ نظام مصطفٰے ﷺ کے ٹھیکیداروں کو بے نقاب کرنے کے لئے کیا یہ کافی نہیں کہ منافقت سے بھری تقریروں میں جب وہ اپنی شکست کو جھوٹی فتح سے تعبیر کر رہے تھے تو کسی کو یہ ہوش نہ آیا کہ اس جشن فتح میں مغرب کا وقت ہی گزر چکا ہے۔

تاریخ یہ بھی یاد رکھے گی کہ ان ملاوں کو گھروں کو جانے کا محفوظ راستہ دلانے والے، نیک نام شاہ احمد نورانی کے فرزند اویس احمد نورانی اور رفیق پردیسی جب دھرنے کے مظاہرین سے مخاطب ہوئے تو ان سے باقاعدہ بدتمیزی کی گئی جس کی وجہ سے انہوں نے خاموشی ہی میں اپنی عافیت سمجھی۔ سچی بات یہ ہے کہ یہ دونوں حضرات اگر ثالثی نہ کرتے تو دھرنے میں موجود تمام لوگوں کا مقدر جیل ہوتی کیونکہ وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان ڈی چوک میں آپریشن کا فیصلہ کر چکے تھے۔

حکومتی سطح پر لیکن یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ، دونوں شہروں کی انتظامیہ اور فیصلہ سازوں سے یہ باز پرس ضرور ہونی چاہیے کہ ان کا خفیہ اطلاعات کا نظام کیوں ناکام ہوا۔ صبح سے لے کر رات نو بجے تک جب ان ملاوں کا جتھہ پارلیمنٹ کے سامنے پہنچا وہ کیا کر رہے تھے؟اور اگر کچھ نہیں کیا گیا تو اس کا جواز کیا تھا؟۔ دہشت گردی صرف بم پھوڑنے، بارود برسانے یا گولیاں چلانے کا نام نہیں۔ ماں کے پیٹ سے کوئی بھی فرد جرائم پیشہ پید ا نہیں ہوتا۔ خاندان اور معاشرے پر منحصر ہے کہ وہ اس کی تربیت کیسے کرتا ہے۔ گفتگو یا تحریر! خاکسار اس بات کا اکثر پرچار کرتا ہے کہ قوم کے اسی فیصد سے زیادہ مسائل کا حل بہتر نظام تعلیم اور اس کے متوازی ایک تربیتی نظام ہے جس میں انسانیت کی خدمت کو اولین ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔ جب تک ذہنوں سے کھرچ کھرچ کر انتہا پسندی نکالی نہیں جائے گی خاکم بدہن! گلشن اجڑتے رہیں گے اور سڑکیں ویران ہوتی رہیں گی ، مائیں بین کرتی رہیں گی اور باپ ماتم۔ خلو ص نیت اوراتحاد کے ساتھ قوم اگر اپنی تعمیر نو نہیں کرتی تو صرف حکمران طبقہ ہی نہیں عوام الناس بھی اس کے ذمہ دار ہوں گے کیونکہ حکمران اسی ملک میں پیدا ہوئے ہیں اور اسی معاشرے کا حصہ ہیںاور ان کے احتساب کی ذمہ داری بھی اسی معاشرے پر عائد ہوتی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments