بادشاہ بیگم اور ‘اچھوتی’ کتھا


Tasneefگھنی کالی رات میں جگنوئوں کی قطار سے درختوں کی ڈالیاں برقی شاخوں میں بدل گئی ہیں۔ بازار کے اٹھے ہوئے کوئی گھنٹہ دیر گھنٹہ کا وقت ہوا ہوگا، سڑکوں پر ہلکے پھلکے قدموں کی چاپ ، کھرکھراتے ہوئے پتوں اور سنسناتی ہوئی ہوا کی لہریں مدھم مدھم سنائی دے جاتی ہیں، مگر ان چاپوں، پتوں اور سنسناہٹوں کو اتنی اجازت نہیں ہے کہ اپنے شور کا ہلکا سا چھینٹاان محلوں کے پھاٹک پر بھی ڈال سکیں۔ ان چھوٹے چھوٹے محلوں میں سے کسی ایک میں اس وقت بادشاہ بیگم محو استراحت ہیں۔ ان کی خوابگاہ میں چمبیلی اور گلاب کے تازہ پھولوں کی مہک کتھک کررہی ہے، اور ان خوشبوئوں کے گھنگروئوں کی آواز سے پورا کمرہ گونج اٹھا ہے۔ غازی الدین حیدر اس کمرے میں نہیں ہیں۔ ان کی تلافی کے لیے ایک خواجہ سرا اس وقت بھی بیٹھا بیگم کے ہاتھ پائوں آہستگی سے دبارہا ہے، اس طرح جیسے پتے قطروں پر یا قطرے پتوں پر قدم رکھتے ہیں، اس کی ہتھیلیوں کا گداز بیگم کے بدن میں ترنگیں پیدا کررہا ہے۔ بھلا کوئی سوچ بھی سکتا ہے کہ اس قدر مکمل منظر میں کہیں سے کوئی بدروح چیخ اٹھے گی اور سارا منظر یک لخت ایک ہولتی ہوئی کڑھائی کی طرح ابلنے لگے گا، بادشاہ بیگم کا معصوم دل بلیوں اچھلنے لگے گا۔ رات کی اس معصوم، سیاہ اور خاموش جلد پر ایسی خراشیں ڈالنے کی جسارت کون کرسکتا ہے۔ منظر اب لباس تبدیل کرتا ہے، اور اس تبدیلی لباس کے مرحلے میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب حقیقت ننگے بدن کا روپ دھارتی ہے، بہت ہی کم وقت کے لیے سہی لیکن آئینے پر بدن کے اجلے، سانولے یا سیاہ رنگ کا بھید کھل جاتا ہے۔ وہ وقت ایک دستک کے ساتھ آیا اور بیگم کے پائوں دبانے والا وہ خواجہ سرا، جو ابھی تک سینہ پر دونوں بازو لپیٹے ایک کونے میں دبک کر کھڑا ہوگیا تھا، دیدے پھاڑ کر دستک کو گھورنے لگا۔ بیگم نے اپنے اوسان نہیں گنوائے تھے، اس کے باوجود ان کے پائوں مہندی کی دلدل میں پھنسے ہوئے نہیں تھے، انہوں نے پاس رکھی میز کے اوپر دھرے ہوئے چاندی کے طشت سے سروتا اٹھا کر اس خواجہ سرا کو دے مارا، وہ اشارہ سمجھ گیا اور اپنی تکلیف کو بھول بھال کر دستک سے دست و بازو ہونے کے لیے آگے بڑھا۔ دروازہ کھولتے ہی منظر بالکل بدل چکا تھا۔ ایک عورت، اس کے پیچھے دوسری دو عورتیں اور ان کے پیچھے دو تین اور عورتیں سرپٹ بھاگتی ہوئی بادشاہ بیگم کے پاس پہنچیں اور سب کے لبوں پر بس ایک ہی بات تھی۔

‘جلدی چلیں بادشاہ بیگم۔ ‘

1بادشاہ بیگم کے نام سے یہ بات ظاہر ہے کہ یہ عورت اپنے اندر ایک مخصوص مردانہ وجاہت اور جاہ و حشم رکھتی ہے۔ ایک ایسی قوت جسے بادشاہیت کا ہنر بھی آتا ہے اور ایک ایسی شاطرانہ رمق، جسے بادشاہ کے  شانوں کو جھکانے اور انہیں اپنا مطیع بنانے کا فن بھی معلوم ہے۔ مگر آج کل بادشاہ ان سے ناراض ہیں۔ ہیں تو ہوا کریں، اب یہ ناراضگی ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔ وہ بیک وقت بادشاہ بھی ہیں اور بیگم بھی۔ اپنی چھوٹی سی دنیا کی خالق۔ جس کی مخلوق میں خود غازی الدین حیدر کا بھی شمار ہوتا ہے۔ بادشاہ بیگم اپنے ریشمیں لباس میں ، آنکھوں میں شعلے لہراتی ہوئی ان عورتوں کی رہنمائی میں چیخوں کی طرف لپکیں تو ایسا لگ رہا تھا، جیسے آج کی رات کسی نے بڑی زبردست جرات کی ہے، سزا بھگتنے کی، خوف اوڑھنے کی۔ مگر جیسے جیسے بادشاہ بیگم اس راستے پر آگے بڑھتی گئیں، ان کی تپتی ہوئی آنکھوں پر ملائم جھلیاں پڑنے لگیں، بدن کے روئیں گہری نیند سے اٹھ کر ادب سے ہاتھ باندھتے ہوئے کھڑے ہونے لگے۔ غصہ کی چالیں پٹنے لگیں، بھنچے ہوئے دانتوں کی سختی  یوں ڈھیلی پڑنے لگی، جیسے مجبوری میں مٹھیاں کھلتی ہیں۔ بالآخر انہوں نے ایک چھوٹے سے لیکن نہایت خوبصورت کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے سر پر دوپٹہ لے لیا، اور کھلے ہوئے بالوں کو اپنے دونوں ہاتھوں کی مدد سے اپنی پوشاک کے پچھلے حصے میں دھکیل دیا۔ دروازہ کھلا اور سامنے پچھاڑیں  کھاتی، دہاڑیں لگاتی، دہائیاں دیتی ایک عورت انہیں نظر آئی۔ اس عورت کے ارد گرد بہت سی دوسری عورتیں بھی تھیں، ایک اس کا سینہ سہلاتی تھی تو دوسری اس کے سر کو بار بار اپنے سینے سے لگاتی تھی، کوئی اس کے آنسو پونچھتی تھی، تو کوئی اسے فرش سے سرمارنے سے بمشکل روکتی تھی۔ محل کے وہ دوغلے روزن ، جنہیں دیواروں کے کان کہا جاتا ہے، ان چیخوں اور دہاڑوں کو سڑک پر پھینک آرہے تھے، اس منظر میں دلاسہ دینے والیاں اور پچھاڑیں کھانے والی عورت دونوں جیسے دودھ کی نہروں میں ڈوب کر آنے والی جنت کی حوریں معلوم ہوتی تھیں، رات کے وقت بھی ان کے ہونٹ لعل بدخشاں کے سے جوہر کی طرح چمک رہے تھے، ان کی زلفیں کمر اور کچھ کی ٹخنوں تک جٹاداری دیوتائوں کے غرور کو ماند کررہی تھیں۔ سینے اول تو راز خفتہ کی طرح دبے اور کچلے ہوئے منوں گہرے لباس کے نیچے دفن تھے، مگر ان کے آثار بھی جوبن کی اٹھتی ہوئی انگڑائیوں کا بال بیکا نہ کرسکے تھے۔ آنکھیں اس آخری اداسی کی رات کی طرح کاجلوں میں لپٹی ہوئی اور بوسوں میں نہائی ہوئی معلوم ہورہی تھیں، جن میں سفید و سیاہ کے ساتھ گلابی ڈوروں کے سٹیک اور فن کارانہ استعمال کی دلیل ملتی تھی۔ بیگم کے ساتھ وارد ہونے والی دوسری عورتوں نے ایک اشارے پر اس عورت کو اپنے ہاتھوں میں جکڑا، 2بادشاہ بیگم گھٹنوں کے بل بیٹھ گئیں اور بڑے ادب سے اس عورت سے مخاطب ہوئیں۔

“اچھوتی صاحبہ! آپ ایسی مقدس و عظیم ہستی کسی بات سے ایسی رنجیدہ خاطر ہو کہ فرش و عرش کو اپنی گریہ و زاری سے دہلا دے۔ ضرور کوئی ایسی ہی بات ہے، جو آپ کے طبع نازک پر گراں گزری ہے، آپ امام جعفر صادق علیہ السلام کی زوج ہیں۔ کیا وہ بھی میری کسی گستاخی پر مجھ سے نالاں ہیں، اگر ایسی بات ہے تو یہ تمام تخت و تاج، زرو جواہرابھی کھڑے کھڑے غریبوں میں صدقہ خیرات کردوں گی اور جنگل و دشت کی راہ لوں گی کہ آپ کی اور اپنے امام کی ناراضگی کے بعد تو وہی میرا ٹھکانہ ہے، آنسو میرے لیے آب حیات ہیں اور ان کا ہر ایک قطرہ میری غیرت و پشیمانی کا دمکتا ہوا دانہ ہے۔ میں خود تو تاحین حیات ، تادم مرگ آپ کے اور امام کے غم میں برچھیوں سے اپنے بدن کو تار تار کرسکتی ہوں، مگر آپ کی یہ چاک گریبانی  مجھ سے نہیں دیکھی جاتی، خدارا! ہوش میں آئیے اور اپنی اس کنیز، ، ناچیزکا قصور بتادیجیے۔ تاکہ میں اور محل سرا کی یہ تمام لونڈیاں آپ کی جس ہلکی سی خدمت کو بجالانے میں ناکام ہوئے ہوں، اس کے عوض اپنے سروں پر گرز لگواسکیں، اپنی کھال ادھڑواسکیں، اپنے بال نوچ سکیں، اپنے چہرے کھروچ سکیں۔ “

پتہ نہیں، بادشاہ بیگم کی وحشت بیانی تھی یا کوئی اور افسون کہ وہ عورت اچانک غش کھاکر ان کی ہی بانہوں میں جھول گئی۔ ہوش آنے پر اس نے جو قصہ بیان کیا۔ اس نے بیگم کے پیروں تلے سے زمین ہی کھسکا دی۔ ماجرا یہ تھا کہ وہ عورت ، جو گل اندام، صندلیں صفت اس وقت بڑے سے بستر کے بیچو بیچ لیٹی ہوئی ایک ماما کے ہاتھوں مشروب پی رہی تھی۔ اصل میں اچھوتی تھی۔ اچھوتی، کوئی چھوا چھوت کی بیماری جیسی چیز نہیں ہے۔ یہ نام تاریخ اودھ کی ایک مقدس لیکن غضب ناک سزا کا مترادف ہے تو دوسری طرف تاریخ ہند کے ایک ایسے قضیے سے تعلق رکھتا ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کسی کو یہاں مذہب نے ملچھ، کمزور، کالا اور چھوٹے طبقے کا فرد کہہ کر اچھوت سمجھا تو کسی کو کاندھے پر بٹھا کرخوبصورتی کی انتہائوں کی پاداش میں اچھوت، یعنی ایسی ہستی بنادیا جسے چھونے سے پہلے انسانی ہاتھ کانپ اٹھیں، جس کو پانے کیا، دیکھنے کی حسرت کے تصور سے بھی انسانی ذہن ڈرنے اور جھجھکنے لگے۔ یہ لفظ دومعاشروں کے مذہبی اور تہذیبی مطالعوں میں تقدس اور نفرت ، بڑائی اور پچھڑے پن کا فرق مٹا کر رکھ دیتا ہے اور وقت کی تھالی میں سیاہ و سفید دونوں رنگ بس انسان کے بنائے ہوئے عجیب و غریب اصولوں کا منہ دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔ سب سے پہلے اس بات کو سمجھنے کے لیے کہ اچھوتی کسے کہتے ہیں یہ سمجھیے۔

3“(بادشاہ بیگم نے)شرفا کی خوب صورت لڑکیوں کو منتخب کرکے ائمہ اثنا عشر کی ازواج قراردیا۔ انہیں اچھوتی کہا جاتا تھا۔ یعنی جن کا تقدس چھوئے جانے کی تاب نہ لاسکے۔ ان کی اتنی خاطر اور تعظیم کی جاتی جیسے وہ واقعی ائمہ کی بیگمات ہوں ان کے یہاں اماموں کی ولادت بھی ہوتی تھی لیکن انہیں شادی کی اجازت نہ تھی، ان کے نام پر سال میں طرح طرح کے جشن منائے جاتے تھے۔ “

(صفحہ نمبر 32، گیان چند جین، اردو مثنوی شمالی ہند میں، مطبوعہ انجمن ترقی اردو(ہند)علی گڑھ، سن اشاعت 1969)

بیگم کے پائوں سے زمین کیوں کھسکی، اس کے بارےمیں آئیے نجم الغنی مولف تاریخ اودھ کی زبانی سنتے ہیں۔ اس کے بعد غازی الدین حیدر کے زمانے میں ایک عورت کے ذریعے خوبصورت عورتوں پر کیے جانے والے اس ظلم کا جائزہ لینے کی بھی کچھ اپنی سی کوشش کریں گے۔ الغرض ، جب یہ خبر باہر پھیل ہی چکی تھی تو تاریخ داں کے کانوں تک کیسے نہ پہنچتی اور پہنچ گئی تو صفحہ بہ صفحہ ، سطر بہ سطر اس واقعے کو اس کے محرکات کو کیونکر نہ بیان کرتی، نجم الغنی لکھتے ہیں:

بادشاہ بیگم کی اختراع امور دینیہ کی یہ کیفیت ہے کہ اول اپنی طبیعت سے ایک چھٹی  صاحب الزمان کے واسطے ایجاد کی، چھٹی یہ ہے کہ زچہ عورت جننے سے چند دن کے بعد مع بچہ کے غسل کرتی ہے اور عمدہ لباس پہن کر جلسہ کرتی ہے اعزہ کو مہمان بلاتی ہے بادشاہ بیگم اس رسم کو اس امام عالی مقام کی طرف منسوب کرکے ہر سال ماہ شعبان میں ادا کرتیں اور بہت سا روپیہ خرچ کرتی تھیں اور اس معاملے میں بہت دھوم دھام کرتی تھیں دوسرےاشرافوں کی خوبصورت لڑکیاں روپیہ خرچ کرکے یا کسی دوسری تدبیر سے بہم پہنچا کر ائمہ اثنا عشری کی ان کو ازواج بناتیں اور ان ائمہ کی ازواج کا نام سن کر وہی نام ان لڑکیوں کے رکھتیں اور ان لڑکیوں کا خطاب اچھوتی مقرر کیا تھا، اچھوتی اس چیز کو کہتے ہیں جو چھونے کے قابل نہ ہو تاکہ آلودہ اور نجس نہ ہو جائے مگر حضرت فاطمہ زہرا کی پاسداری کی وجہ سے حضرت علی کے لیے کوئی عورت تجویز نہیں کرتی تھیں اور ہر ایک اچھوتی کی خدمت میں تین نوکریں خدمت گزاری کے لیے رکھتی تھیں اور ان کو عمدہ عمدہ کھانے کھلاتیں اور نہایت نفیس کپڑے پہناتی تھیں اور ان کی اتنی خاطر اور ادب کرتی تھیں کہ ہر روز صبح کو اٹھ کر پہلے ان کی زیارت اور سلام کرتیں تب کوئی دوسرا کام کرتیں اگر ان میں سے

Untitled-1

کوئی جوان ہوجاتی اور دل اس کا مناکحت کو چاہتا تو مانع آتیں اور کہتیں کہ بعد زوجیت ائمہ اطہار کے دوسرے کے ساتھ تزویج اور عقد کرنا اور اس سے ہم بستر ہونا پاس و ادب اور رعایت قانون اسلام میں حرام ہے۔ وہ بے چاریاں شہوت میں گرفتار نہ رہنے کی طاقت اور نہ قدرت فرار۔ ایک ان میں سے اتنی شہوت کے ہاتھوں مغلوب ہوئی کہ اس نے ایک عجیب شعبدہ کھڑا کیا کہ اول شب میں خواب سے مضطربانہ اٹھ کر زور سے رونے اور چھاتی کوٹنے لگی اپنی شومی طالع پر فریاد و فغاں کرتی تھی۔ شور و غل سن کر محل کی تمام عورتیں جمع ہوگئیں اور اس کی گریہ و زاری کا حال بادشاہ بیگم سے عرض کیا۔ وہ خود بستر راحت سے اٹھ کر پاس گئیں اور حال دریافت کیا تو اس اچھوتی نے روتے ہوئے لہجے میں بیگم کو جواب دیا کہ اس وقت میں نہایت بے خبر سورہی تھی کہ یکایک خواب میں کیا دیکھتی ہوں کہ صاحب الامر والفرمان میرے پاس پہونچے اور آپ اس وقت نہایت غضب آلود تھے فرمایا کہ میں نے تجھ کو طلاق دی اور اپنی زوجیت سے جدا کیا جب میری آنکھ کھلی تو اپنی سیہ بختی پر رونے لگی کہ جب ایسے امام الزماں کے نکاح سے خارج ہوئی تو اب دین و دنیا میں میری کس طرح گزرے گی الغرض بادشاہ بیگم نے یہ بات سن کر اس عورت کو فوراً پالکی میں سوار کراکے مع اس کے تمام سامان کے اس کے باپ کے گھر پہنچا دیا۔

(تاریخ اودھ، حصہ چہارم، مصنفہ محمد نجم الغنی رامپوری، مطبوعہ مطبع نوالکشور لکھنئو، سن اشاعت 1919)

ایک ایسی جگہ کا تصور کیجیے جہاں مذہب  رسموں، رواجوں، رنگوں، میلوں ، ٹھیلوں کی  بڑی سی تماشہ گاہ بن گیا ہو۔ تماشے جو انسانی زندگی کو پسند ہوں، جن کی لت جوئیں کی طرح لوگوں کے دماغوں پر طاری ہوجائے۔ ایک ایسی جگہ ہے تاریخ اودھ، وہ تاریخ جو شجاع الدولہ سے لے کر واجد علی شاہ تک بتدریج نت نئے بازیچوں کو پیدا کرنے کے ڈھنگ اپنے جلو میں رکھتی ہے۔ اسی ماحول میں بادشاہ بیگم جیسی عورت نے جنم لیا تھا، وہ مذہب اور اس کی پیدا کی گئی فینٹسی کی اس حد تک شکار ہوگئیں کہ انہوں نے اثنا عشر کی زندگیوں میں جھانکنے کے لیے ایک قسم کی عارضی دنیا ہی تخلیق کرڈالی۔ پھر چونکہ ان کی شادی ایک بادشاہ سے ہوگئی اور وہ بھی برائے نام بادشاہ سے۔ جس کو سال کے سال پتنگ بازیوں، تیتر اور مرغ کی لڑائیوں، شکاراور ایسے دوسرے مشغلوں سے فرصت نہ ملتی ہو، اس پر ایک قسم کے مذہبی تقدس کا طلسم حاوی کرکے اس دنیا کو پیدا کرنے کے لیے شاہی خزانے سے جتنی مرضی ہو رقم نکلوالینا بادشاہ بیگم کے لیے کب مشکل رہا ہوگا۔ بادشاہ بیگم ایک نفسیاتی مریض تھی، جس نے ایک جانب ان کئی خوبصورت عورتوں کی زندگیوں کو تو تقدس کی کال کوٹھری میں ڈالا ہی، ساتھ ہی ساتھ اپنے ہی مذہب کی شکل ممکنہ حد تک مسخ کرکے رکھ دی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے بعد اس کی پیدا کردہ رسموں کو مذہب کی جگہ مل گئی اور یہ بدعتیں، کچھ نئے جھگڑوں اور ظلم کی بنا ڈال گئیں۔ کون کہہ سکتا ہے کہ ان عورتوں میں سے کچھ نے آپس میں جنسی رشتے نہیں قائم کرلیے ہونگے، کس کو خبر کہ ان  میں سے کچھ نے بغاوت کی کوشش کی ہوگی اور اسے رات کی تاریکیوں میں خونیں ہنگاموں سے ناکام نہیں بنایا گیا ہوگا، کسے معلوم کہ ان میں سے کچھ جنسی ناآسودگی سے گھبرا کر موت کے گھاٹ نہ اتر گئی ہونگیں اور کس کی پہنچ اس خبر تک کہ کیسے گھٹ گھٹ کر انہوں نے اپنی زندگی کے پہاڑ جیسے لمبے دن کاٹے ہونگے۔ ایک سجی سنوری، خوبصورت ترین، بھرے بدن کی عورت پر تاریخ میں اس قسم کا ظلم خود اپنی مثال آپ ہے۔ اور یہ ظلم کسی اور کا پیدا کیا ہوا نہیں بلکہ ایک عورت کا گڑھا ہوا تھا اور مزید حیرت اور افسوس کی بات یہ تھی کہ پورا معاشرہ اس عورت کی خوشنودی میں لگا ہوا تھا۔ یہ عورت بادشاہ بیگم(جس پر کہ خود ایک ناول لکھا جاسکتا ہے) کس قسم کی بیماری کی شکار رہی ہوگی کہ جو بند کمرے میں عطر اور پھولوں کی خوشبوئوں کے درمیان اپنے اوپر جن آنے کا شور مچاتی تھی، جو اپنے بیٹے ناصرالدین حیدر کو ہمیشہ اپنے سینے سے لگائے گھومتی تھی، ان ہسٹریائی لمحات میں بھی جب وہ بال کھول کر ، مردانہ آواز میں اپنے ہی ہمزاد سے ایک جن کی صورت گفتگو کیا کرتی تھی۔

DIRECTINPUT~ This image has been directly inputted by the user. The photo desk has not viewed this image or cleared rights to the image. The image will be purged from Merlin in 14 days unless it is outputted for production or arrangements are made with the photo desk.

اچھوتی پر اردو شاعری اور اردو فکشن میں بھی کچھ ایسا خاص نہیں لکھا گیا، بلکہ شاعری کرنے والوں نے تو شاید اس ایثار کو، اس گھٹن کو ایک مذہبی فریضہ سمجھ کر ، ایک اعلیٰ قسم کا عہدہ سمجھ کر اس کی حوصلہ افزائی کی ہوگی۔ اس معاشرے میں جہاں عورت ایک طرف طوائف تھی تو دوسری طرف اچھوتی۔ کیسے عجیب و غریب سوانگ رچائے گئے ہونگے۔ لیکن ٹھہر کر ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ہم نے عورت کو کیا تقدس کے اس گھیرے سے آزاد کرنے کی کوشش کی ہے۔ آج اپنے ان معاشروں میں جہاں عورت کو اس مذہبی تقدس کی بھینٹ کس قدر چڑھایا جارہا ہے اور کس قدر نہیں، یہ ایک بالکل اہم اور علیحدہ موضوع ہے۔ لیکن اس وقت ہمیں دیکھنا یہ چاہیے کہ ہم کیا اپنی بہنوں، مائوں ، بیٹیوں، دوستوںاور اپنی دوسری محرم عورتوں کو یہ اجازت دے سکے ہیں کہ وہ اپنی کھلی آنکھوں سے دنیا دیکھ کر اپنے لیے ایک پسندیدہ رشتے کا انتخاب کرسکیں ۔ اگر انہیں موجودہ رشتے پسند نہیں ہیں، اگر وہ اپنی زندگی کے موجودہ حالات سے مطمئین نہیں ہیں تو اس کا نقشہ بدل کر دیکھ سکتی ہیں۔ دیکھنا تو کیا ان کے ایسا سوچنے پر بھی ہمارے لیے وہ ایک میلی ذہنیت کی عورت میں بدل جائیں گی، جن میں اور اوباش عورتوں میں ہم کسی قسم کا فرق نہیں کریں گے۔ ہم نے اپنی تسلی کے لیے خود کو یہ یقین دلادیا ہے کہ ہم نے عورت کی ناک پر اپنی ہتھیلی کی گرفت کچھ ڈھیلی کردی ہے لیکن اس سےپوچھنا گوارا نہیں کیا کہ کیا اسے بھی سانس لینے میں کچھ سہولت مل سکی ہے؟

اور کیا بادشاہ بیگم کا وجود بھی سوسائٹی سے ختم ہوچکا ہے۔ اب وہ بادشاہ نہیں رہی، لیکن خطرناک بات یہ ہے کہ وہ ہمارے اور آپ کے پڑوس میں آباد ہے۔ ہر جگہ، ہر گلی ، ہر محلے میں۔ جو کسی بھی دوسری عورت کو رسموں، رواجوں پر قربان کردینے کے لیے کمربستہ ہے۔ کبھی اسے بہلا پھسلا کر، کبھی مذہب کے نام پر ڈرا دھمکا کر ایک ایسی آگ میں دھکیلا جارہا ہے، جس میں اس کا بدن ہی نہیں روح بھی جھلس جاتی ہے۔ عورتوں نے سماج میں دوسری عورتوں اور لڑکیوں کے لیے بدنامی اور نیک نامی کے جو سخت گیر قسم کے اصول طے کررکھے ہیں، وہ مرد کی طاقت اور عورت کی مظلومیت کو بڑھانے میں ہر طور سے کارآمد ہیں۔

میں تاریخ اودھ میں ایک مثال ڈھونڈ رہا ہوں کہ کیا کسی اچھوتی نے ایسی بغاوت کی کوشش بھی کی تھی، جس سے اس رسم کی بیمار ذہنیت کو عریاں کرنے میں تھوڑی سی بھی مدد مل سکی ہو۔ مجھے تو ابھی ایسی نظیر نہیں ملی ، آگے بھی اگر نہیں مل سکی تو میں تاریخ کے پردوں کو چیرتا ہوا بادشاہ بیگم کےقائم کیے ہوئے ‘اچھوتوں’میں سے ایک ایک دروازہ کھول کر جھانکوں گا، شاید کسی اچھوتی کی آنکھوں میں مجھے وہ جرات کی قندیل نظر آئے اور میں اسے اپنی تخلیق  (ایک ناول کی صورت) میں مستقبل کی ساری عورتوں اور لڑکیوں کے لیے دہکتی ہوئی لپٹوں میں تبدیل کردوں۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “بادشاہ بیگم اور ‘اچھوتی’ کتھا

  • 03-04-2016 at 11:14 am
    Permalink

    Good one Tasneef

  • 03-04-2016 at 2:50 pm
    Permalink

    اس رسم” اچھوتی” کے متعلق شوکت صدیقی نے اپنے ناول” چاردیواری ” میں کافی لکھا ہے۔تو نثر میں تو لکھا ھے۔شکر ہے کہ یہ رسم 2سو سال پہلے بادشاہ بیگم کہ ساتھ ہی ختم ھو گی ۔اور شیعہ مکتبہ فکر میں جگہ نہ پآ سکی۔لکین ہمارے صوبہ سندھ میں آج بھی لڑکیوں کو جائداد بچانے کے لینے قرآن کہ ساتھ بیاہ دیا جاتا ہے۔ تو تصنیف حیدر بھائی میرے خیال میں آپ پرانی اچھوتی کو چھوڑ کہ نیے دور کی اچھوتیوں پر لکھیں ۔جو آج بھی کہیں مذہب ‘کہیں غیرت ‘کہیں قبیلے کے نام پر جبر کا شکار ہیں۔

Comments are closed.