فلسطین کی بیٹی روتی ہے


\"husnainہماری امہ کو مبارک ہو کہ ان کی سنی گئی۔ نیل کے ساحل سے لے کر تا بہ خاک کاشغر ہم لوگ جو بیج بو رہے تھے، اب ان کی کھڑی فصلیں کاٹنے کا وقت آن پہنچا۔ مستقل مزاجی بڑی شے ہے، اور اس تیزی سے بدلتی دنیا میں کہ جو ایک گلوبل ولیج بنتی جا رہی ہے، اس مستقل مزاجی پر قائم رہنا واقعی ایک کارنامہ ہے۔ ہمارے ہاں آج کے دن تک جنازے فیصلہ کرتے ہیں کہ صحیح کون تھا اور غلط کون۔ اور بات درست بھی ہے، امت کا اجماع جس چیز پر ہو اسے کون غلط کہہ سکتا ہے۔ بزرگوں سے بھی یہی سنتے آئے ہیں کہ آواز خلق کو نقارہ خدا سمجھو۔ حق ہے!

حرکات خلق کو کیا سمجھا جائے؟ شاید اسے نوشتہ دیوار جان لیں تو بہتر ہے۔ اور دیوار بھی بہت دور کی بات ہو جائے گی سامنے کی اور سیدھی بات کریں تو اب اپنی تقدیر ہمیں اپنی پیشانیوں پر لکھی نظر آ رہی ہے۔ خوش فہمی ہمارا حق ہے اور ہمارا زندہ رہنے کا قدیمی ہتھیار بھی، لیکن آج وہ ہتھیار کند ہونا شروع ہو گیا ہے۔ طبیعت کی بات ہے، کٹے ہوئے سروں سے فٹ بال کھیلنے کے نظاروں نے، یا بم دھماکوں کے مناظر نے ذہن پر وہ اثر نہیں ڈالا جو ایک چھوٹے سے واقعے نے کر دیا۔

\"Screen+Shot+2015-07-17+at+12.29.50+PM\"جرمنی کے ایک سکول میں آج ایک پروگرام ہوا جسے \”جرمنی میں خوش گوار زندگی\” کا نام دیا گیا۔ اس پروگرام میں وہ بچے بھی شامل تھے جو فلسطین، لبنان، شام اور دیگر عرب ممالک سے ہجرت کر کے یہاں آن بسے تھے۔ معصوم سے پیارے سے بچے، خبر نہیں ویسے بچوں میں بھی کیا مذہب کی تخصیص کی جا سکتی ہے یا انہیں یکساں طور پر معصوم جانیں گے۔

تو اس پروگرام میں بالکل ہماری بیٹی آئلہ جیسی ایک بچی تھی، فلسطین سے تھی، وہی دس گیارہ سال عمر ہو گی، بڑی بڑی معصوم آنکھیں اور ہنستی مسکراتی ہوئی زندہ دل قسم کی بچی۔

اس بچی نے فورم پر پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ چار سال پہلے لبنان میں موجود ایک فلسطینی مہاجر کیمپ سے جرمنی آئے تھے اور اب انہیں یہاں سے ڈی پورٹ ہونے جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

\”میری زندگی میں بھی کئی بڑے مقاصد ہیں، جیسے کسی بھی دوسرے انسان کے ہو سکتے ہیں۔ میں ان کی طرح پڑھنا چاہتی ہوں، ان کی طرح زندگی کا مزہ لینا چاہتی ہوں اور میں یہ سب نہیں کر سکتی۔\” یہ سب کہتے ہوئے اس بچی جس کا نام ریم تھا، اس ریم بیٹی کی آنکھیں جگمگا رہی تھیں، خواب دیکھ رہی تھیں اور کیوں کہ وہ یہ بات جرمن چانسلر انجیلا مریکل سے کر رہی تھی تو اسے مان بھی تھا کہ شاید اس کی سنی جائے اور وہ کسی طرح اس منحوس زندگی سے پیچھا چھڑا لے۔ تو ریم بیٹی یہ بات کہہ کر خاموش ہوئی اور انجیلا مریکل کی طرف \"maxresdefault\"دیکھنے لگی۔

انتہائی غیر جذباتی، پیشہ ورانہ بلکہ سفاک قسم کے ٹھنڈے سے لہجے میں انجیلا مریکل گویا ہوئیں، میں سمجھ سکتی ہوں تم کیا کہہ رہی ہو، لیکن سیاست بعض اوقات مشکل فیصلوں کا تقاضا کرتی ہے۔ یہاں ہزاروں لاکھوں لوگ لبنان کے فلسطینی مہاجر کیمپوں میں موجود ہیں، اگر ہم کہہ دیں کہ تم سب آ جاو تو یہ ہمارے لیے ناممکن ہو گا۔

اب یہ بات کرتے کرتے مریکل جب ریم کو دیکھتی ہیں تو وہ رو رہی تھی۔ جی مسلمان بھائیو، جس فلسطین کے رونے ہم بچپن سے سنتے اور روتے آئے ہیں اس فلسطین کی بیٹی، ریم، میری آئلہ جتنی ریم، وہ موٹی موٹی آنکھوں میں آنسو لیے بیٹھی تھی۔ اور رو رہی تھی۔ آپ میں سے کسی کا بیٹا علی اس عمر کا ہو گا، کسی کی بیٹی عائشہ ہو گی اس عمر کی، کوئی عظمی ہو گی، کوئی شاہ زادہ حسن ہو گا، کوئی رانی ہو گی جس کا نام عافیہ ہو گا، اور وہ سب روتے ہوں گے تو آپ ان کی ہر خواہش پوری کرنے کو بھاگتے ہوں گے۔ لیکن ریم کی یہ خواہش کہ وہ اپنی زندگی جی لے اور جی لگا کر پڑھ لے اور جہاں وہ ہو، وہاں امن ہو، یہ خواہش اس کے ماں باپ بھی پوری نہیں کر سکتے، نہ ہی انجیلا مریکل کر سکتی ہیں۔

تو وہ روتی ہوئی شاہ زادی ریم اب بھی ان آنکھوں کے سامنے ہے۔ نہیں بھلائی جا رہی۔

\"617403816911770640360no\"اب ذرا پچھلے دنوں رکشوں کی پشت اور اخبارات کے اگلے صفحات پر چلنے والا ایک اشتہار یاد کیجیے؛

\”کبھی نہیں، آپ آسٹریلیا کو اپنا گھر نہیں بنا سکتے۔

ترک وطن کے وہ خواہش مند جو بغیر ویزا کے کشتی کے زریعے سفرکرکے آئیں گے وہ آسٹریلیا نہیں آ سکیں گےقوانین سب پر لاگو ہوں گے، خواہ وہ خاندان ہوں، بچے ہوں، تنہا بچے ہوں تعلیم یافتہ ہوں یا ماہر۔ کوئی مثتسنیات نہیں ہوں گی۔ آسٹریلیا اپنی سرحدوں کی حفاظت کے بارے میں سنجیدہ ہے اور جو بھی کشتی کے ذریعے غیرقانونی طور پر آنے کی کوشش کرے گا، اسے روک دے گا۔\”

\”ہرگز نہیں، آسٹریلیا غیر قانونی کشتیاں واپس بھیج دیتا ہے\”

یاد آ گیا۔ بہتر ہے! اب آئیے اصل مسئلے کی طرف۔ دنیا آپ کو ایک بہت بڑا خطرہ سمجھتی ہے، آپ اس کو عالم اسلام کے خلاف سازش سمجھتے ہیں۔

دنیا آپ کی کہیں بھی موجودگی سے خوف زدہ ہے، آپ سمجھتے ہیں کفار آپ سے ڈرتے ہیں۔

\"Angelaمغربی ممالک داعش اور دیگر اس قسم کی تنظیموں کے خوف سے آہستہ آہستہ پناہ گزینوں کے خلاف پالیسی سخت کر رہے ہیں اور آپ کے یہاں سے آج بھی مرد کیا، خواتین داعش کا رخ کر رہی ہیں۔

وہ آپ کے خلاف کچھ چھاپتے ہیں، آپ اپنا ملک جلا دیتے ہیں، کاروبار روک دیتے ہیں، قلم سے جواب نہیں دیا جاتا، ماچس رگڑنا افضل سمجھا جاتا ہے۔

زیادہ گرمی پڑنا بھی یہودی سازش سمجھا جاتا ہے، اور سیلاب تو بھیجے ہی بھارت نے ہوتے ہیں۔

دنیا آپ کے ہاتھوں میں موجود ناقابل بھروسہ ایٹم بم سے خوف زدہ ہے، آپ سمجھتے ہیں وہ امت کی سیسہ پلائی ہوئی دیوار سے ڈر کر پرے رہتی ہے۔

دنیا آپ کی جہالت سے خوف زدہ ہے، یقین جانیے کوئی احساس کمتری نہیں، ذرا وہ عوامی آگاہی کی مہم دیکھیے جو آج کل جرمنی نے چلائی ہے، جس میں مہاجرین کو جرمنی میں رہنے کے آداب بتلائے گئے ہیں، دماغ جگہ پر آ جاتا ہے، تو وہ ہماری جہالت سے خوف زدہ ہیں اور ہم انہیں اپنے کنوئیں کی منڈیر سے دیکھ کر پکار رہے ہیں کہ یہ لوگ کافر ہیں، گھٹیا ہیں اور ہم سے کم تر ہیں۔

ہم سب سے عظیم ہیں۔

\"Merkel-tells-teary-eyed-Palestinian-girl-some-immigrants-have-to-go-back\"ہم گالیوں کی صنعت میں خود کفیل ہیں، ہم عظیم ہیں!

ہم اب وہ گالیاں ویڈیو پر آن کر دیتے ہیں، برآمد کرتے ہیں، اپنے ہی ہم مذہبوں کو، ہم عظیم ہیں!

جناب امیر سے منسوب تلوار لہرا کر غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں، ہم عظیم ہیں!

پھر چند لوگ اس تلوار والے کو گنجا کر کے مارتے ہیں، پھر گالم گلوچ، جھگڑے فساد، ہم عظیم ہیں!

بہت کچھ کہنے کو ہے، لیکن، بہرحال، ہم عظیم ہیں!

وہ جو ریم بیٹی ہے، وہ ہم سب کی کرنی کا پھل کاٹ رہی ہے۔ کم از کم فقیر اپنی ذاتی حیثیت میں اس بچی سے بہت شرمندہ ہے، آپ بسم اللہ کیجیے، اس تحریر کو بھی ایک سازش قرار دیں، اعتراض کریں بلکہ باقاعدہ ناراضی کا اظہار کیجیے لیکن وہ آنسو، وہ کیسے پونچھے جائیں، کچھ سوچیے تو سہی!

ریم!

بیٹا تم اس فلسطین سے ہو

جس میں ایک یاسر عرفات ہوتا تھا

میری قوم کے آدھے بچے یاسر تھے

وہاں ایک محمود درویش بھی تھا

میری قوم میں ایک بچے کا نام بھی محمود درویش نہیں تھا

تمہارے پاس ایک اشرف فیاض بھی تھا

یہاں کوئی اس کو نہیں جانتا

ایسے میں تم کون ہو

محض ایک روتی ہوئی بچی

تمہارے آنسووں کی قدر کون کرے گا

تمہارے نام پر بھی کوئی نام نہیں رکھا جائے گا

کیوں کہ تم یاسیت، ناامیدی اور یبوست کا نشان ہو

تم اگر واپس جا کر

وہاں اپنے وطن میں، اس بدامنی میں

تعلیم حاصل کرنے کی کوشش بھی کرتی رہیں

اور اسی چکر میں

آتے جاتے

سر راہے یونہی کبھی

خدا نہ کرے

اگر

گولیوں کا شکار تک ہو گئیں

اور پھر غلطی سے بچ گئیں

تب بھی ہم سب مل کر کہیں گے

بلکہ سڑے ہوئے منہ سے کہیں گے

لو جی، اک ہور ملالہ آ گئی جے!


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 185 posts and counting.See all posts by husnain

3 thoughts on “فلسطین کی بیٹی روتی ہے

  • 03-04-2016 at 2:47 am
    Permalink

    Agreed

  • 03-04-2016 at 7:51 pm
    Permalink

    Outstanding

  • 03-04-2016 at 7:53 pm
    Permalink

    Apriciate Ur aproache

Comments are closed.