عطاء الحق قاسمی کی تقرری: سماعت کا آنکھوں دیکھا حال


سرکاری ٹی وی کے منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر ادیب عطاء الحق قاسمی کو بھاری معاوضے اور مراعات دینے کو سپریم کورٹ نے آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ امریکہ کے صدر کو کھوکھا الاٹ کرنے کا اختیار نہیں، یہاں لوگوں کو بڑی بڑی پوسٹوں سے نوازا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ نے ایم ڈی پی ٹی وی تقررکیس میں پرنسپل سیکریٹری وزیراعظم فواد حسن فواد کو طلب کیا۔ عدالت کی ہدایت پر فواد حسن فواد ساڑھے گیارہ بجے پیش ہوئے۔ سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید کمرہ عدالت میں موجود رہے۔ سرکاری وکیل رانا وقار نے بتایا کہ عطاالحق قاسمی کے تقررکے دو حصے ہیں۔ چیف جسٹس نے پوچھاکہ عطاالحق قاسمی کی تعیناتی کی نوٹنگ دکھائیں، تقرری کا نوٹنگ کس نے بھیجا تھا۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ تقرری کی سمری وزارت اطلاعات نے بھیجی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ سمری سے قبل کسی نے نوٹ بھیجا ہوگاچئیرمین کاعہدہ خالی ہے، ایم ڈی پی ٹی وی کاعہدہ تاحال خالی ہے، محمدمالک کے جانے کے بعد یہ عہدہ خالی ہے، ہمیں یہ بتائیں عطاالحق قاسمی کی تقرری کاعمل کہاں سے شرع ہوا، کیا وزیراعظم سے کوئی ہدایات آئیں، ہمیں اصل سمری دکھائیں، اگر تقرری غیرقانونی ہے تو اسے غیرقانونی قرار دیں گے، اگر تقرری غلط ہوئی تو پیسے ان سے وصول کریں گے جنھوں نے تقرری کی، جنہوں نے عہدے کا فائدہ لیا رقم ان سے وصول ہو گی، حکومت کے پاس عہدے پر کرنے کا اختیار نہیں ہے، امریکہ کے صدر کو کھوکھا الاٹ کرنے کااختیار نہیں، یہاں بڑی بڑی پوسٹوں سے نوازا جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کدھر ہے فواد حسن فواد؟ آپ ہی سب کچھ چلا رہے تھے۔ پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم نے کہا کہ جی میں فواد حسن فواد ہوں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ پیچھے ہو کر کھڑے ہو۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تمہاری پروموشن اب گریڈ بائیس میں ہوئی ہے۔ جب یہ سب ہوا تم گریڈ اکیس میں تھے۔ فواد حسن فواد نے کہا کہ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری کا عہدہ گریڈ بائیس کا نہیں ہوتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیوں نہ یہ معاملہ نیب کوبھیج دیں، نیب انکوائری کر کے جائزہ لے کیا تقرری قانونی تھی، ہمارے پاس تحقیقات کرانے کا اختیار ہے، کیوں نہ نیب تحقیقات کرے کہ تقرری میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں یا نہیں۔ سابق سیکرٹری اطلاعات نے بتایا کہ وزارت اطلاعات کی جانب سے تقرری کی سمری وصول ہوئی۔ سابق ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ میرے پاس سمری آئی پی ونگ سے آئی تھی۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کس نے سمری بھیجی تھی، آئی پی ونگ کو سمری کس نے بنانے کا کہا۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ سمری کس نے جاری کروائی کہ عطاالحق قاسمی کو ممبر بورڈ بنا دیں۔ ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ بورڈ کا ایک ممبر میڈیا سے ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے سمری موو کرنے والے کا نام بتائیں، اگر یہاں جھوٹ بولا تو واپس سیکرٹریٹ نہیں جاو گے۔ جس پر فواد حسن فواد نے کہا میں نے کبھی غلط بیانی سے کام نہی لیا۔ چیف جسٹس بولے یہ وضاحت کیوں دینی پڑ رہی ہے، کیا آپ پر کسی نے الزام لگایا ہے، ہم سے دوسری بات نہ کریں، فواد حسن فواد نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے کھبی غلط بیانی نہیں کی، مجھے وضاحت کرنے کا موقع دیں، میری طرف سے ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات کو کوئی ہدایت نہیں دی گئی، وزیراعظم آفس سے بھی کوئی ہدایات اطلاعات کی وزارت کو نہیں دی۔

اس موقع پر عطاالحق قاسمی کی وکیل عائشہ حامد بولیں کہ ان کے موکل کا میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے، عدالت کو بتایا گیا ہے عطاالحق قاسمی نے 27کروڑ خرچ کیے حالانکہ عطاالحق قاسمی نے  48لاکھ وصول کیے، جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ دیکھ لیتے ہیں اس کی تحقیقات کروا لیتے ہیں۔ لاکھوں روپے پٹرول کی مد میں وصول کیے گئے، اس دوران دوبارہ عطا الحق قاسمی کی وکیل بولیں کہ 27 کروڑ روپے کی رقم عطالحق قاسمی سے منسوب کرنا ان کی بدنامی ہےتو جسٹس اعجاز الاحسن بولے ستائیس کروڑ عطاالحق قاسمی کے بی ہاف (Behalf) پر خرچ ہوئے، چیف جسٹس بولے عطاالحق قاسمی کو سرکاری گھر میں لفٹ بھی لگوا کر دی گئی یہ ساری باتیں تحقیقات میں سامنے آجائیں گی، اگر یہ رقم زیادہ اداہوئی تو سب کو رقم بھرنا پڑے گی جس نے تقرری کی ہے سب سے رقم وصول کریں گے۔

اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی رانا وقار نے عدالت سے درخواست کی کہ نیب کے آنے سے قبل ان کی وضاحت سن لی جائے، ڈی جی آئی پی ونگ ناصرجمال نے سمری موو کی تھی، جس پر عدالت نے عطاالحق قاسمی کا پانچ سال کا ریکارڈ طلب کر لیا اور چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے مجھے وہ بندہ چاہیے جس کو عطاالحق قاسمی کے نام کا خیال آیا، اور ڈی جی آئی پی کو طلب کرلیااور کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے کو بھی طلب کر لیتے ہیں، تو سیکرٹری اطلاعات بولے 27 کروڑ کے اخراجات کی تفصیل میں تمام اخراجات شامل ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عطاالحق قاسمی نے تنخواہ کی کتنی رقم وصول کی۔ سیکرٹری اطلاعات نے جواب دیا کہ عطاالحق قاسمی کی تنخواہ 15لاکھ تھی، ساڑھے تین کروڑ روپے تنخواہ دو سال میں وصول ہوئی، چیف جسٹس نے کہا کہ ساڑھے تین لاکھ میڈیکل اخراجات ہیں؟ سفری اخراجات  10 لاکھ روپے ہیں عطااالحق قاسمی کو مرسڈیز کار دی گئی، عطاالحق قاسمی کی گاڑی کی دیکھ بھال کے اخراجات کیسے اور کس قانون کے تحت دئیے گئے۔ دو سال میں 24 لاکھ کے اخراجات تفریح کی مد میں ہیں۔ لاہور کے کیمپ آفس میں کتنے اخراجات آئے؟ تو سیکرٹری اطلاعات نے عدالت کو بتایا کہ 11 لاکھ روپے کیمپ آفس کے اخراجات آئے، پروگرام کے اخراجات 75 لاکھ روپے کے نزدیک تھے۔ اس دوران عطاءالحق قاسمی کی وکیل عائشہ حامد نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل نے پروگرام کرنے کا معاوضہ نہیں لیا، جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار بولے پروگرام کے میزبان کو 50 لاکھ روپے گئے، عطاءالحق قاسمی کے پروگرام کے اشتہار کہاں دئے گئے، جس پر سیکرٹری اطلاعات نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عطا الحق قاسمی کے پروگرام کے مختلف اخبارات میں اشتہار دئے گئے، پی ٹی وی کا دیگر میڈیا اداروں کے ساتھ اشتہارات کا بارٹر سسٹم کے تحت معاہدہ ہے، اشتہارات کے جواب میں اخبارات کے 4532 پرومو چلائے گئے، عطا الحق قاسمی کی وکیل بولیں کہ بطور چیئرمین 15 لاکھ کی تنخواہ بلاجواز نہیں ہے، تو چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ وزیر اعظم کے پاس قانون کے تحت کام کا اختیار ہے، دیکھنا یہ ہے کہ کیا وزیراعظم کے پاس لاتعداد اختیارات ہے جس کو مرضی تقرری کر دیں، اصلاحات کا وقت آگیا ہے، جہاں جہاں غلطیاں ہوئی ہیں اصلاح کریں گے۔ عطاالحق قاسمی کے نام کا خیال یا خواب کیسے آیا۔ موجودہ سیکرٹری اطلاعات کو عہدے سے نہیں ہٹایا جائے گا، سیکرٹری ایمانداری کے ساتھ کام کریں تو عہدے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔

اس دوران چیف جسٹس نے ایف بی آر حکام کو ہدایت کرتے ہوئے عطا الحق قاسمی کے دس سال کے ٹیکس گوشواروں کا ریکارد بھی طلب کیا، اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار بولے کہ پی ٹی وی کارپوریشن کے 7 ڈائریکٹرز ہیں، تمام ڈائریکٹرز کا تقرر وفاقی حکومت کرتی ہے، تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی وی کے ڈائریکٹر کے لئے کوئی اہلیت ہے، کیا کابینہ سے ڈائریکٹرز کی تعیناتی کی منظوری لی گئی، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ چئیرمین کی تقرری کی منظوری وزیر اعظم نے دی، وزیر اعظم نے یہ منظوری بطور چیف ایگزیکٹو دی، عطاء الحق قاسمی کا تقرر بطور ڈائریکٹرز ہوا تھا، پی ٹی وی بورڈ نے عطاءالحق قاسمی کو چئیرمین منتخب کیا، جس پر جسٹس اعجازالاحسن بولے کہ بورڈ کو بتایا گیا عطاالحق قاسمی کو وزیراعظم چئیرمین لگانا چاہتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ عطاءالحق قاسمی کے پروگرام کی ویڈیو بھی منگوا لیں، پی ٹی وی بورڈ میٹنگ کا ریکارڈ بھی منگوا لیں، عطا الحق قاسمی کی تنخواہ کس نے فکس کی یہ بھی منگوا لیں، دیکھنا ہے پروگرام میں کون سے کھوئے گوہر نایاب ڈھونڈے گئے، بورڈ کے الیکشن دکھا دیں، جس میں چئیرمین منتخب کیا گیا، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جنوری 2016 میں بورڈ کی میٹنگ ہوئی۔ اس موقع پر دوبارہ چیف جسٹس نے پوچھا کہ جس شخص نے عطا الحق قاسمی کا نام پیش کیا اسکا بھی بتا دیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ پی ٹی وی کے لئے پروفیشنل ایم ڈی ہونا چاہیے، بظاہر پی ٹی وی ایک ڈوبتا ہوا جہاز ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ عطاالحق قاسمی کی 15 لاکھ تنخواہ کس نے مقرر کی، قانون میں چئیرمین کی تنخواہ اور مراعات کیا ہیں، وزارت اطلاعات کی آفیسر صبا محسن نے عدالت کو بتایا کہ کہ پہلے چئیرمین ایکس آفیشو ہوتے تھے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عطاالحق قاسمی کی تنخواہ من مرضی سے مختص کی گئی، کیا بادشاہ ہے جتنی مرضی تنخواہ مقرر کردی گئی، جسٹس اعجاز الاحسن بولے چئیرمین کا عہدہ تو اعزازی ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ تو سیدھا سادا نیب کا کیس ہے۔ نیب دس دن میں کیس کی تحقیقات کرکے رپورٹ دے۔

اس دوران سابق وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ پی ٹی وی جب شروع ہوا تو نیوز چینل تھا، میں وزیر بنا تو پی ٹی وی پروگرام مارکیٹ سے خریدتا تھا۔ کوشش تھی کہ پی ٹی وی اپنی پروڈکشن کرے۔ اس دوران پرویز رشید نے عطاالحق قاسمی کا نام بطور چیئرمین تجویز کرنے کا اعتراف کیا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عطاالحق قاسمی کی کارکردگی پر کوئی بات نہیں کر رہے، ہم صرف قانون کی حکمرانی دیکھ رہے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عطاالحق ادبی آدمی ہیں، وہ کمپنی کیسے چلا سکتے ہیں۔ پرویز رشید نے عدالت کو بتایا کہ کمپنی چلانے کی کی ذمہ داری چیف ایگزیکٹو کی تھی، چیف جسٹس نے کہا کیا پی ٹی وی کو چلانے کے لیے پروفیشنل آدمی نہیں تھا۔ عطاالحق قاسمی کو مینجمنٹ کا تجربہ نہیں تھا، سابق وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ میری کوشش تھی ایسا چئیرمین لگایا جائے جو پی ٹی وی کی کلچرل ویلیو کو بحال کرے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ جو گفتگو کر رہے ہیں اس کے قانونی نتائج ہوں گے۔

اس دوران چیف جسٹس نے ناصر جمال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے لگتا تھا کہ آپ اس سارے معاملے میں معصوم ہیں۔ لیکن اب لگتا ہے آپ بھی اس سارے معاملے کا ایک پارٹ ہیں۔ صبا محسن۔ ناصر جمال۔ اپنے جواب اور بیان حلفی عدالت میں جمع کرائیں، چیف جسٹس نے کہا کہ قاسمی صاحب کب سے کب تک پی این سی اے میں سربراہ رہے اور کس کے وقت میں رہے۔ تفصیلات فراھم کی جائیں، سابق وفاقی وزیر پرویز رشید نے عدالت کو آگاہ کہا کہ وہ اپنا جواب اور گزارشات عدالت میں جمع کرا چکے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ تمام دستاویزات منگوا لیتے ہیں اس کیس کا فیصلہ خود کریں گے، تمام فریقین اپنا جواب جمع کروا دیں، اس دوران عدالت کی جانب سے ریمارکس دیئے گئے کہ مقدمہ زیر التوا ہے سیکرٹری اطلاعات کو عہدے سے نہ ہٹایا جائے۔

فواد حسن فواد کو روسٹرم پر بلا لیا اور چیف جسٹس نے فواد حسن فواد سے پوچھا کہ پرنسپل سیکرٹری کی کیا ذمہ داریاں ہیں، اور کہا کہ آپ صاف ستھرے بیورو کریٹ ہیں۔ کیا آپ نے یہ سمری دیکھی تھی۔ جس پر فواد حسن فواد نے کہا کہ انھوں نے ان کو چئیرمین بنانے کا حکم نہیں دیا، جس پر چیف جسٹس نے حکم دیا کہ نیب ریکارڈ کا جائزہ لے۔ جس کے بعد کیس کی سماعت 21 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں