ویلنٹائنز ڈے پر ”کٹی پتنگ“ مت دیکھیے گا


محبت کے لازوال جذبوں میں گندھی ایک خوب صورت تخلیق جو اپنی ریلیز کے لگ بھگ نصف صدی بعد بھی نئی نویلی محسوس ہوتی ہے۔ مدھوی (آشا پاریکھ) محبت کے ہاتھوں مجبور ہوکر اپنی بارات کے روز ماموں کے گھر سے بھاگ کر اپنے محبوب کیلاش (پریم چوپڑا) کے گھر پہنچ جاتی ہے۔ وہاں جا کر اسے علم ہوتا ہے کہ جس کی خاطر اپنے گھر والوں کی عزت داؤ پر لگا آئی ہے، وہ اس کی بجائے، اس کے ماموں کی جائداد میں دل چسپی رکھتا ہے۔ دوسرا یہ کہ وہاں مدھوی کو شبنم عرف شبو (بندو) نیم برہنہ حالت میں دکھائی دیتی ہے، جس سے نہ صرف کیلاش کی لالچ بلکہ اُس کی بدکرداری کا بھی پتا چل جاتا ہے۔

مدھوی روتی دھوتی واپس ہوتی ہے، گھر میں ماموں کی لاش ملتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں اس کی حالت ایک کٹی پتنگ کی سی ہوجاتی ہے۔ لوگوں کا سامنا کرنے کے خوف سے وہ یہ شہر ہی چھوڑنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ ٹرین کے سفر کے دوران اس کی ملاقات اپنی ایک پرانی سہیلی پونم سے ہوتی ہے، جو اب ایک بیوہ ہے۔ پونم بتاتی ہے، کہ اس نے بیرونِ ملک پسند کی شادی کی تھی، بدقسمتی سے اس کا پتی ایک روڈ ایکسیڈینٹ میں ہلاک ہوگیا ہے۔ اب وہ اپنے چند ماہ کے بیٹے کو ساتھ لے کر، پہلی بار نینی تال میں اپنے سسرال جارہی ہے۔

پونم کے پاس ایک فوٹو البم میں سب گھر والوں کی تصاویر موجود ہیں لیکن اس کو سسرال میں کسی نے نہیں دیکھا۔ اس دوران ٹرین حادثے کا شکار ہوجاتی ہے؛ پونم مرجاتی ہے اور مدھوی، سہیلی کے شیرخوار بچے کے ہم راہ، پونم کے رُوپ میں نینی تال جا پہنچ جاتی ہے۔

فلم میں کمل (راجیش کھنا) کی انٹری بہت اچھے انداز میں کی گئی ہے۔ وہ پونم کے شوہر کا دوست ہوتا ہے اور اس کے سسر دیوان دینا ناتھ (نذیر حسین) بھی اسے خوب پسند کرتے ہیں۔ کمل کی ایک اور پہچان بھی ہے، جو آگے چل کر سامنے آتی ہے؛ پونم کے رُوپ میں مدھوی کی، سسرال میں خوب آؤ بھگت ہوتی ہے۔ کمل اور مدھوی جو بظاہر پونم ہے، کے درمیان محبت پروان چڑھنے لگی ہے، یہاں انٹری ہوتی ہے کیلاش کی۔

کیلاش وہی کردار ہے جس کے لیے مدھوی عین شادی کے دن گھر سے بھاگی تھی۔ کیلاش اسے مدھوی کے طور پہ پہچانتا ہے، یہاں پونم کے روپ میں دیکھ کے اسے بلیک میل کرتا ہے، کہ سب کو اس کا راز بتادے گا۔ ایسے میں فلم میں کئی اتار چڑھاو آتے ہیں، کہانی کئی موڑ لیتی ہے۔ مدھوی کو اپنے گھر کی دہلیز پار کرنے کی ایک چھوٹی سی غلطی کی کیا کیا قیمت چکانا پڑتی ہے، یہ آپ خود دیکھیے گا۔

آشا یوں تو ہیں ہی حسین، لیکن اس فلم میں اور بھی خوب صورت دِکھتی ہیں۔ اسکرین پر اپنی جذباتی اداکاری کے وہ جلوے بکھیرتی ہیں کہ دیکھنے والا انگشت بدنداں رہ جائے۔ اُن کی اس پرفارمنس پر انھیں فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ”کٹی پتنگ“ میں راجیش کھنا نے ایک سلجھے ہوئے نوجوان کا کردار نہایت عمدگی سے نباہیا ہے۔ ایسی جان دار پرفارمنس کہ دیکنے والے کو لطف آجائے۔

یوں‌ تو ”کٹی پتنگ“ کے سبھی گانے مقبول ہیں، لیکن یہ گانا، ’یہ جو محبت ہے، یہ اُن کا ہے کام، محبوب کا جو، بس لیتے ہوئے نام“، اس گیت میں راجیش کھنا کی پرفارمنس دیکھنے لائق ہے۔ جس لمحے وہ اسکرین پہ آتے ہیں، لگتا ہے چھا گئے ہیں۔ پریم چوپڑا ایک خوب رُو نوجوان، اور مکار آدمی کے کردار میں بہترین کام کر گئے ہیں۔

”کٹی پتنگ“ کے ہدایت کار شکتی سمانتھا کا اپنا انداز ہے؛ اُن کے سنیما کا اپنا جادو ہے۔ ہلکی پھلکی رومانی کہانیاں فلمانے میں وہ اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ ”ہاوڑا بِرج“، چائنا ٹاون“، ”انورودھ“، ”ارادھنا“، ”کشمیر کی کلی“، ”امر پریم“ اور بہت سی یادگار فلمیں ان کے کریڈٹ پر ہیں۔ فلم کے لیے راجیش کھنا اور شکتی سمانتھا کی یکجائی، ہمیشہ ’لیتھل‘ رہی ہے۔

شکتی سمانتھا کی فلموں کی دو خاصیتیں ہیں، جن کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ ایک تو ان کی فلموں‌ کا بہترین اسکرین پلے؛ وہ اتنی مہارت اور عمدگی سے مناظر کو ترتیب دیتے ہیں، کہ فلم کا لطف دوبالا ہوجاتا ہے۔ دوسرا ان کی فلم کی موسیقی؛ شکتی سمانتھا کی فلموں کے گیت اور بیک گراؤنڈ میوزک دونوں ہی لاجواب ہوتے ہیں۔ ان دونوں خصوصیات کا اندازہ، دیکھنے والے کو ”کٹی پتنگ“ دیکھ کر بخوبی ہوجائے گا۔

اس فلم کی کہانی گلشن نندا کے ناول ”کٹی پنتگ“ سے اخذ کی گئی ہے؛ مذکورہ ناول ایک انگلش ناول ”آئی میریڈ آ ڈیڈ مین“ کا چربہ یا ترجمہ ہے۔ 1950ء میں ہالی وُڈ میں اس ناول پر ایک فلم ”نو مین آف ہَر اون“ بھی بن چکی ہے۔ اسی کہانی کے پلاٹ پر جاپان میں بھی ایک فلم بن چکی ہے۔ ”کٹی پتنگ“ کے مکالمے عام فہم، روز مرہ کی زبان میں ہیں، جو تھیٹر کے سے مصنوعی انداز میں نہ لکھے گئے نہ ادا کیے گئے ہیں، اس لیے کانوں‌ کو بھاتے ہیں۔ فلم کی سینماٹوگرافی کمال ہے؛ نینی تال کے مناظر کی انتہائی دِل کش عکاسی کی گئی ہے۔

اس فلم کے بے انتہا اچھے گیت آنند بخشی نے لکھے ہیں؛ یہ آنند بخشی کی صلاحیت کا ہنر ہے، کہ فلمی سچوایشن کے مطابق لکھے گئے بول، شعری محاسن میں بھی پورے اترتے ہیں۔ راہول دیو برمن عرف آر ڈی برمن کی کیا بات کریں، کہ ان کی تعریف کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ کشور کمار، لتا، آشا، مکیش اور خود آر ڈی برمن نے آواز کا جادو بکھیرا ہے۔
”جس گلی میں تیرا گھر نہ ہو بالما، اس گلی میں ہمیں پاوں رکھنا نہیں“
”یہ جو محبت ہے، یہ اُن کا ہے، کام“
”یہ شام مستانی، مدہوش کیے جا“
”نہ کوئی اُمنگ ہے، نہ کوئی ترنگ ہے“ جیسے لازوال نغمے آج بھی بھلائے نہیں بھولتے۔
اس کے علاوہ ”میرا نام ہے شبنم“، یہ دو گانا، آشا اور آر ڈی برمن نے گایا ہے۔ سچوایشن کے برمحل اور حیران کن کردینے والا ہے۔

سماجی موضوع کو لے کرکے رومان بھری ”کٹی پتنگ“ مکمل تفریح مہیا کرتی ہے۔ اسے چودہ فروری کو مت دیکھیے گا، کہ حکومت نے پتنگ بازی، اور عدالت نے پیار کا جشن منانے پر پابندی عائد کی ہے۔ محبت کی کہانی ہے، اور ٹائٹل میں پتنگ کا ذکر بھی۔

image_pdfimage_printPrint Nastaliq

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں