فیض احمد فیض کی شاعری پر تنقید کا جواب


haseeb ahmad

فیض احمد فیض کا نام جب بھی زبان پر آتا ہے قدیم و جدید کے وصل کا عکس ذہن کے پردے پر ابھرتا ہے۔  فیض کا انداز کلاسیکی ہے فیض کی فکر جوان ہے اور فیض کی زبان جدید ہے۔ فیض قدامت سے دور جدت کا قائل ہے اور غالب و اقبال کے بعد فیض کی شاعری میں ایک خاص اجتہادی شان نظر آتی ہے۔ نظریاتی اعتبار سے میں جتنا دور فیض کی فکر سے ہوں ادبی اعتبار سے فیض کی شاعری مجھے اتنا ہی اپنی جانب کھینچتی ہے۔  ایک طرف تو فیض کے ہاں غزل کا کلاسیکی اسلوب ہے تو دوسری جانب ندرت خیال اور علمیت فیض کی شاعری کے نمایاں اوصاف ہیں۔ فیض کی شاعری نری (Statement) نہیں بلکہ اس میں تغزل نمایاں ہے۔

فیض کی نظم جدید عنوانات سے معمور ہے۔ ایک جانب خوبصورت الفاظ کا استعمال ہے تو دوسری جانب الفاظ کے برتنے میں ایک خاص اجتہادی شان دکھائی دیتی ہے کہ جو فیض کو کسی بھی دوسرے ادیب سے ممتاز کرتی ہے۔ فیض کو زبان و بیان یا فکر و نظر کے اعتبار سے قدامت کے داروں میں مقید کرنا کسی طور بھی فیض کے ساتھ انصاف نہیں ہے۔

ڈاکٹر محمد علی صدیقی ’ فیض احمد فیض اور روایتی شعری زبان ‘ میں لکھتے ہیں:

’انہوں (فیض) نے روایتی شعری زبان سے اپنے دھیمے مزاج، خوبصورت تہذیبی رچاؤ اور سائنسی صداقت پر قائم سائنسی ایقان کیلئے جس انتہائی منفرد انداز سے کام لیا ہے وہ نہ صرف انکی فنکارانہ عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ اس حقیقت کا منہ بولتا اعلان بھی ہے کہ انہوں نے روایتی زبان پر اٹھائے جانے والے جملہ اعتراضات کو بے محل اور غیر واجب قرار دے دیا ہے‘۔
ڈاکٹر محمد علی صدیقی ناقدین فیض کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ ایک جانب تو جدید لسانی تشکیلات کے حامل یہ کہتے ہیں کہ فیض کی زبان فیض کو اپنے ہی دور میں آثار قدیمہ کا حصہ بنا دے گی تو دوسری جانب قدامت پسند فیض کو غیر اہل زبان قرار دے کر فیض کا بھرم توڑنے کی کوشش میں کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔

ایک جانب تو یہ اہل زبان کی بحث بھی عجیب ہے کہ جو اقبال اور فیض کی شعری جلالت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے تو حفیظ جیسے شاعر کو یہ کہنا پڑتا ہے۔

حفیظ اہل زباں کب مانتے تھے
بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں
گزشتہ روز مولانا ماہر القادریؒ کے حوالے سے فیض کی معروف نظم ’مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ‘ پر تنقید دیکھی۔ اگر اس تنقید کو دو لفظوں میں بیان کیا جاوے تو یہ ’ ادبی جمود ‘ سے زیادہ اور کچھ نہیں مولانا لکھتے ہیں، ’مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ‘، یہ زبان روز مرہ نہیں ہے، یوں کوئی نہیں بولتا کہ فلاں شخص، فلاں شخص سے محبت مانگ رہا ہے۔  شاعر کہنا یہ چاہتا ہے اور اسی طرح کہنا بھی چاہیے تھا۔۔۔۔ کہ ’میرے محبوب مجھ سے پہلی سی محبت کی امید نہ رکھ، یا اگلے دوستانہ روابط کا تقاضا نہ کر۔۔۔ ! ‘۔
گو کہ اس حوالے سے بھی بحث ہو سکتی ہے کہ مانگنا کیا طلب کے متبادل کے طور پر اردو محاورے میں استعمال ہو سکتا ہے یا نہیں لیکن لغت کے اعتبار سے اس میں ایسی کوئی خرابی دکھائی نہیں دیتی کہ جس پر اعتراض وارد کیا جا سکے اصل بات ہے الفاظ کو برتنے کا انداز اور جس خوبی سے فیض نے یہاں الفاظ کو برتا ہے اس سے قاری کو مفہوم تک پہنچنے میں کسی بھی قسم کی تکلیف نہیں ہوتی اور نہ ہی ادبی زبان سے آشنائی رکھنے والوں کو انقباض ہوتا ہے۔

مولانا آگے لکھتے ہیں؛

‘یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہوجائے’

شاعری کے ساتھ ایک طرح کا مذاق ہے۔

ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم

ریشم و اطلس و کمخواب میں بنوائے ہوئے

جابجا بکتے ہوئے کو چہ و بازار میں جسم

خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے

جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے

پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے

۔’طلسم کا ریشم و اطلس و کمخواب میں بنوانا‘ یہ آخر کیا انداز ِ بیاں اور اسلوبِ اظہار ہے پھر اطلس و کمخواب تو کپڑوں کے نام ہیں اور کوئی چیز تاروں اور دھاگوں سے بُنی جاتی ہے، کپڑوں سے نہیں بنی جاتی!۔
“کوچہ و بازار میں جسم بکتے ہوئے” سے نہ جانے شاعر کی کیا مراد ہے، بازار میں جسم بکنے کا مطلب تو عصمت فروشی ہوتی ہے مگر جن عورتوں کے جسم خاک میں لتھڑے ہوئے اور خون میں نہائے ہوئے ہوں ان کا کوئی ہوس پرست مول تول نہیں کرسکتا! اگر اس سے مزدور مراد ہیں تو یہ منظر انتہائی مبالغہ آمیز ہے، ایسا کہیں دیکھنے میں نہیں آیا کہ مزدور خاک و خون میں لتھڑے اور نہائے ہوئے سرمایہ داروں کے جبر سے کام کررہے ہیں۔  ”
اس طرح کے اعتراض اسی وقت وارد کیے جا سکتے ہیں کہ جب انسان تخیل کے دروازوں پر تالے لگا دے اور اور کسی بھی قسم کی جدت کے لئے کوئی خانہ بھی خالی نہ چھوڑے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسی انداز کی سوچ نے ادب کا خانہ خراب کیا ہے۔۔

ڈاکٹر محمد علی صدیقی فیض پر ہونے والے ان اعتراضات کا پردہ کچھ اس انداز میں چاک کرتے ہیں۔۔۔

جاگیر دارانہ زبان اور سرمایہ دارانہ دور کی زبان میں بنیادی فرق لغت کا ہوتا ہے اور یہ فرق سوچ خیالات اور فکر کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں متن کو نیا لباس اور لباس کو نیا رنگ ملتا ہے۔ اسی نۓ رنگ کو دیکھتے ہوئے اس پر جدید یا جدید تر کا لیبل لگانا آسان ہوتا ہے۔ چناچہ فیض کی شاعری میں جو فضا نظر آتی ہے وہ جاگیر دارانہ نظام کی یاد دلاتی ہے جہاں مرصع زبان کا جادو سر چڑھ کر بولتا تھا”۔

ہم کہ سکتے ہیں کہ فیض قدیم کے سنگم پر کھڑے تھے کہ جہاں ہر مکتب فکر کا ملاپ ہوتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments