پاکستان کے غلیظ بڈھے


یہ مضمون محمد حنیف نے لکھا ہے اور اسے مبشر علی زیدی نے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ دراصل یہ مضمون ہمارے اس اجتماعی ضمیر کی آواز ہے جسے اب تک شرمندگی اور منافقت کے پردوں میں چھپایا جاتا ہے لیکن جو ہمارے انصاف اور خوشی پر مبنی مستقبل کی تصویر  ہے۔

MohammedHanifہم جس دنیا میں رہتے ہیں، وہاں ایسے دین دار لوگوں کی کوئی کمی نہیں جو اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ دنیا کے بیشتر مسائل خواتین کی تھوڑی سی پٹائی سے حل ہوسکتے ہیں۔ اور خواتین کی پٹائی کے اس خدا داد حق پر پاکستان کے تمام دین دار مرد حضرات کا اتفاق رائے ہے۔

چند ہفتے پہلے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے نے ایک نیا قانون منظور کیا جس کا نام ہے، خواتین کو تشدد سے بچانے کا قانون۔ اس قانون نے قطعی بنیادی قسم کے اقدامات متعارف کرائے ہیں جیسا کہ شوہر اپنی بیوی کی پٹائی نہیں کرسکتا، اور اگر کرے گا تو اسے فوجداری مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا اور ممکن ہے کہ اسے اپنے ہی گھر سے نکال دیا جائے۔ اس قانون میں خواتین کی شکایات درج کرنے کے لیے ہاٹ لائن قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ بعض صورتوں میں ملزم کو ایسا کڑا پہننا پڑے گا جس سے اس کی نقل و حرکت کی نگرانی کی جاسکے۔ اور اسے اسلحہ خریدنے کی اجازت نہیں ملے گی۔

تیس سے زیادہ مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے اتحاد کا کہنا ہے کہ یہ قانون غیر اسلامی، پاکستان کو سیکولر ملک بنانے کی سازش اور ہمارے سب سے مقدس ادارے پر کھلا اور براہ راست حملہ ہے۔ اس مقدس ادارے کا نام ہے، خاندان۔ انھوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے قانون واپس نہ لیا تو وہ ملک بھر میں گلی گلی احتجاج کریں گے۔

ان کی منطق کچھ اس طرح کی ہے: اگر آپ کسی شخص کی سڑک پر پٹائی کرتے ہیں تو یہ مجرمانہ حملہ ہے۔ اگر آپ اپنی خواب گاہ میں کسی پر تشدد کرتے ہیں تو آپ کو اپنی چاردیواری کا تحفظ حاصل ہے۔ اگر آپ کسی اجنبی کو مار ڈالتے ہیں تو یہ قتل ہے۔ اگر آپ اپنی بہن کو گولی مار دیتے ہیں تو آپ نے غیرت مند ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جو نفیس لوگ اس بل کے خلاف مہم چلارہے ہیں وہ اپنی بیویوں کی پٹائی یا اپنی بہنوں کو قتل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، لیکن ان کی جدوجہد اپنے ساتھیوں کو یہ سب کرنے کا حق دلانے کی خاطر ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ صرف حزب اختلاف کی جماعتیں اس قانون کے خلاف ہیں: حکومت کی مقرر کردہ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اسے اپنے مذہب اور ثقافت پر حملہ قرار دیا ہے۔ بظاہر اس کونسل کا کام اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ملک میں تمام قوانین شریعت کے مطابق ہوں۔ لیکن دراصل یہ ایسے بوڑھے لوگوں کا ٹولہ ہے جو ہر رات اس خدشے کے ساتھ سوتا ہے کہ دنیا بھر کی عورتیں ان کی عزت لوٹنے کے درپے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کونسل میں کوئی دین دار خاتون شامل نہیں کی جاتی، حالانکہ پاکستان میں ان کی کوئی کمی نہیں۔

یہ کونسل ماضی قریب میں مرد کے نابالغ لڑکیوں سے شادی کے حق کا دفاع کرتی رہی ہے، دوسری یا تیسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت کو غیر ضروری قرار دیتی ہے اور زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین کے لیے جرم کو ثابت کرنا ناممکن بناتنے کے لئے کوشاں رہی ہے۔ غالباً یہ ملک میں سب سے زیادہ مراعات یافتہ غلیظ بڈھوں کا گروہ ہے۔

ان بزرگان دین کی مذمت کرنا کچھ لوگوں کا معمول بن چکا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ محض لاڈلے مذہبی جنونیوں کا ٹولہ نہیں۔ دراصل یہ پاکستانی مردوں کی اس اجتماعی اذیت کو آواز دیتے ہیں کہ ان کی خواتین ان کے قابو سے باہر ہوتی جارہی ہیں۔ یونیورسٹی امتحانات کے نتائج پر نظر ڈالیں، تمام ٹاپ پوزیشنیوں پر لڑکیاں قابض ہوں گی۔ کسی بینک چلے جائیں، وہاں کوئی خاتون رنگین ناخنوں سے کڑک نوٹ گن رہی ہوگی۔ ٹی وی کھول کر دیکھیں، کوئی خاتون صحافی مشاہیر سے سیاست اور کھیلوں کے بارے میں سوالات کر رہی ہو گی۔

ایک خاتون صحافی حال ہی میں اس قانون کی مخالفت کرنے والے ایک معروف مفتی کی کھنچائی کررہی تھیں۔ مفتی صاحب نے گڑبڑا کر کہا، ’’آپ خاتون ہیں یا ٹی وی جرنلسٹ؟‘‘ اپنے شعبے کی ماہر خاتون صحافی نے جواباً جھنجھلا کر یہ نہیں کہا، ’’اور آپ ایک مفتی ہیں یا کھڑوس بڈھے؟‘‘

ماضی میں کسی نے نہیں سوچا تھا کہ ایسا ہونے والا ہے۔ تین عشرے پہلے ملازمت کرنے والی بیشتر خواتین معمولی نوکریاں کرتی تھیں، اور باقی خواتین روایتی پیشوں مثلا طب اور تعلیم سے منسلک تھیں۔ کوئی کوئی قانون کا شعبہ اختیار کرلیتی تھی۔ چھوٹی سی لیکن پر عزم، تحریک نسواں چل رہی تھی۔ خواتین ناول لکھ رہی تھیں اور فلمیں بنارہی تھیں لیکن ان کی تعداد بہت کم تھی۔ اب وہ جہاز اڑا رہی ہیں، اداروں کی سربراہ ہیں، پولیس کی وردی پہن کر گشت کرتی ہیں، پہاڑ تسخیر کررہی ہیں اور آسکرز اور نوبیل انعام جیت رہی ہیں۔ ملک کے طول و عرض میں لاکھوں خواتین ہیں جو اپنے گھر میں بیٹھ کر چھوٹے بیوٹی پارلر چلاتی ہیں، دوسری خواتین کو ملازمتیں دیتی ہیں اور آزادی اور اختیار حاصل کررہی ہیں۔

لیکن ہر ایک خاتون بینک کیشیئر کے مقابلے میں لاکھوں عورتیں کھیت مزدور یا گھریلو ملازمہ ہیں۔ ہر ٹی وی جرنلسٹ کے مقابلے میں بے شمار عورتیں نیم غلامی میں زندگی گزار رہی ہیں، صفائی ستھرائی پر مجبور ہیں اور اپنے بچوں کی پرورش اور تحفظ کی کمر توڑ ذمے داری اٹھا رہی ہیں۔

اس صورتحال کا الزام صرف ملاؤں اور مفتیوں کو نہ دیں۔ خواتین سے تعصب مذہب سے بھی پرانا ہے۔ حد یہ کہ وہ لوگ جنھوں نے کبھی مسجد کے اندر جھانکا تک نہ ہو، اور صوفی جو خود کو خدائی سے ہم آہنگ کرنا چاہتے ہیں، وہ بھی عورت کے ساتھ کسی کیڑے اور پالتو بکری کے درمیان کی کسی شے جیسا برتاؤ کرتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے دوسری بار سوچنے کی زحمت نہیں کرتے۔

پنجاب اسمبلی میں جب یہ قانون منظور کیا جارہا تھا تو کچھ ارکان جان بوجھ کر اس سے دور رہے۔ غالباً وہ اکثریت کے نمائندہ ہیں۔ کچھ لوگ خود کو خواتین کے حقوق کا علم بردار کہتے ہیں۔ ”دیکھو، میں نے اپنی بہن کو اسکول جانے سے کبھی نہیں روکا۔ کبھی اپنی گرل فرینڈ کو شرمندہ نہیں کیا۔ اس طرح میں فیمنسٹ قرار پاتا ہوں۔ ہے نا؟ لیکن ہمیں اپنے خاندان کو بھی بچانا ہے۔ آپ کبھی نہیں چاہیں گے کہ خاندان سے محبت کرنے والا، خواتین کے حقوق کا حامی مرد، ٹریکر والا کڑا پہن کر گھومے۔ کیا واقعی؟”

نام نہاد فیمنسٹ مردوں کو سب سے زیادہ جو بات خوفزدہ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ بہت سی خواتین اس بارے میں بات کر کر کے بور ہو چکی ہیں کہ عورت ہونا کیسا ہے۔ اب وہ اپنے کام کے بارے میں بات کرتی ہیں۔ ایک خاتون فلم ڈائریکٹر برے اداکاروں کے بارے میں رائے کا اظہار کرتی ہے۔ فلاحی تنظیم کے لیے کام کرنے والی خاتون عطیات کے احمقانہ طریقوں پر تنقید کرتی ہے۔ گھر کی ماسی موبائل فون اور کپڑے دھونے والے پاؤڈر کے معیار پر گفتگو کرتی ہے۔

میرے پڑوس میں ایک خاتون رہتی ہیں جو تیز چلتی ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ دو بچوں کو تھاما ہوا ہوتا ہے۔ شیرخوار نہیں، تین چار سال کے بھاری بھرکم بچے۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی ہیں۔ شاید جب دو بچوں کو گود میں لیا ہو تو تیز چلنا پڑتا ہے۔ ان خاتون کے قریب سے گاڑیاں گزرتی ہیں لیکن وہ کسی سے لفٹ کی توقع نہیں کرتیں۔ ان کے پاس ٹیکسی کے پیسے نہیں ہوتے۔ ان کا رخ بس کی طرف ہوتا ہے۔ ہر بار دو بچے ان کے بازوؤں پر اور ایک بستا کندھے پر لدا ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کو ان کے گھر پر سپارہ پڑھاتی ہیں۔

میرا نہیں خیال کہ مذہب کے ٹھیکے دار، یا کوئی بھی، اس دو بچوں کی ماں کو بتا سکتا ہے کہ اسے کس طرح چلنا چاہیے۔ کوئی شخص ان خاتون سے پوچھ کر دیکھے کہ اس معاشرے میں عورت ہونا کیسا لگتا ہے؟ غالباً ان کا جواب ہوگا، ”نظر نہیں آتا؟ میں کام کررہی ہوں!”


Comments

FB Login Required - comments

17 thoughts on “پاکستان کے غلیظ بڈھے

  • 03-04-2016 at 12:18 pm
    Permalink

    translation mei masla: She was professional enough not to retort: Are you a mufti, or just another old fart

  • 03-04-2016 at 12:39 pm
    Permalink

    بہت خوب حنیف صاحب۔۔۔

  • 03-04-2016 at 1:12 pm
    Permalink

    asal stakeholder sy kabhi baat hi nahi ki kisi nyy,, kheton main kaam karny wali aurton or logon k gharon main kaam karni wali maids k bary k kbhi kisi ny baat nahi ki. feminist khawateen rehanmao ki maids sy un k bary main pocha ja sakta hai k un ko kya haqooq unhon ny khud diye hain.

  • 03-04-2016 at 1:38 pm
    Permalink

    واہ کیا بات ہے بہت خوب

  • 03-04-2016 at 2:01 pm
    Permalink

    بھائی ایسا کیوں ہے کہ جب تک ہم ایک شخص کو مکمل طور پر بدنیت نہ بادیں ہماری تنقید مکمل نہیں ہو تی ؟

  • 03-04-2016 at 2:22 pm
    Permalink

    غلیظ بڈھے خطرناک اسلئے ہیں کیونکہ ریاست نے ان کو پالا، پوسا، بڑا کیا ، ان کی تشہیر کی، لوگوں کو ان کے احترام پر پروپیگنڈے کے ذریعے مجبور کیا، اوران “سینڈوچ پوسچرز” کے لئے مشہور “عالموں” کو ان کے سعودی اور ایرانی آقاوں نے سیم وزر سے مالامال کر کے وحشت و بربریت کے لئے پٹے توڑ کر کھلا چھوڑ دیا ہے۔

    میں چند غلیظ بڈھی مولویانیوں کی طرف بھی اشارہ کرنا چاہوں گا، جنہیں قید با مشقت میں رہتے ہوے جیل کی دیواروں اور پیروں کی بیڑیوں سے اتنی محبت ہو گئی ہے کہ اب انہیں آہنی بیڑیاں پھولوں کی مالائیں لگنے لگی ہیں اور یہ دوسری خواتین کو بھی انہی زنجیروں میں جکڑا دیکھنا چاہتی ہیں۔۔۔۔۔۔ “ہم تو ڈوبے ہیں صنم ۔۔۔۔ تم کو بھی لے ڈوبیں گے”

  • 03-04-2016 at 2:36 pm
    Permalink

    I hate them because they have different ideology than mine

  • 03-04-2016 at 3:24 pm
    Permalink

    ترجمے میں وہ مزا نہیں آرہا جو حنیف صاحب کے مخصوص انداز بیان سے آتا ہے. مجهے لگتا ہے کہ ترجمہ شاید مبشر صاحب کا شعبہ نہیں ہے. غلیظ بڈهے سمیت کئی الفظ نامناسب ہیں، ہمیں اختلاف کرتے ہوئے بنیادی اخلاقیات کا مظاہرہ کرنا بهی سیکهنا ہوگا.

  • 03-04-2016 at 3:45 pm
    Permalink

    Rubbish, exaggeration and mischivously tried to attach male violence with religion( Islam). Brotherly, I can request that this way of ridiculising the culutural illness with religion will not help to make society better.
    This way of expression will accelerate the madness on both ends. If u think that this is way to moderanize then what i can say except prays ( and probably u will laugh on word of ‘ prays’)

  • 03-04-2016 at 4:11 pm
    Permalink

    This is ridiculous article, having no basis, First of all we have to realize that women have every right to be educated.But their working in each and every walk of life will create a society like Europe,America or any other western country,where family system is dying just because of women preoccupation in different jobs and professions. If we claim to be Muslim,then we have to give best education to women folk,so that our next generation shall be grown in well educated and well mannered environment. Bread earning is the responsibility of man not women. We have to introduce single educational system in the country based on our present day needs in the light of Islam.Then we will be able to see the things in their real sense. Otherwise, so called liberals, and I am sure they will not be so liberals in their private life, will continue their efforts to create a society ideal for their ideas, but not for 95 % of common people of Pakistan, who have nothing to do with this mantra.

  • 03-04-2016 at 8:50 pm
    Permalink

    Dirty old men کا ترجمہ ” جنس زدہ مکروہ بڈھے” درست رہتا۔ اور She was professional enough not to retort: Are you a mufti, or just another old fart کاترجمہ یوں ہوتا ” انہوں نے خاصی پیشہ ور صحافی ہونے کے سبب جھنجھلا کر جواب میں یہ نہ کہا : کیا آپ مفتی ہیں یا مقعد سے خارج شدہ پرانی بودار باد” تو زیادہ درست ہوتا۔

  • 03-04-2016 at 10:35 pm
    Permalink

    روح سي خالى لفاظى….

  • 04-04-2016 at 7:12 pm
    Permalink

    خاصی ناشائستہ اور غیر ذمہ دارانہ زبان استعمال کی ہے مصنف نے۔ خاص کر سرخی لکھتے وقت تو لگتا ہے کسی خاص کیفیت میں تھے۔ ایسی گفتگو یا ایسی اصطلاحات جب کوئی مولوی ان کے بارے میں کرے تو پھر یہ کئی کئی فٹ اچھل کر احتجاج کرتے اور اخلاقیات کا درس دیتے ہیں۔ میرے خیال میں لکھنے والوں کو شائستگی ملحوظ خاطر رکھنی چاہیے، لیکن جب لکھنے والا ایکسپلوڈنگ مینگوز جسیے عامیانہ ناول کا مصنف ہو تو پھر اس سے یہی توقع کی جا سکتی ہے۔

  • 05-04-2016 at 12:54 am
    Permalink

    یہ تمام حقوق مغرب میں عورتوں کو میسر ہیں. شاید اسی وجہ سے وہاں کی عورت مرد کی رکھیل بن کر رہتی. مردوں نے آنی عیاش کے لیئے اسکو اپنانے کے بجائے اسکو بازار میں لا کیا ہے. عزت کے خلاف جنسی اود تشدد کے جتنے واقعات اب so called مہذب ملکوں میں ہوتے ہیں وہ همارے یہاں سے بہت زیادہ ہیں. Statistics دیکه لیں.

  • 05-04-2016 at 4:36 pm
    Permalink

    A baseless article. I wonder this type of writer is a representative of the mindset that is trying to change our society upside down. Further I would suggest the writer and his admirer to hold a survey of female journalists around the globe, am sure they will not find them lessor than slaves. And no one can do anything for self-adopting-slavery.

  • 05-04-2016 at 5:53 pm
    Permalink

    Absolute RUBBISH article

  • 09-04-2016 at 1:55 pm
    Permalink

    I would say the article is out of the lines for a forum like this. But think about it
    Men believes that women have character only because men has got a whip and leash on them.
    Whereas, practically, women are of lot bigger character, vlaour, and bravery, than any breed of equivalent men’s group

Comments are closed.