راہداری کی معیشت اور کرپشن کی سیاست


wajahatایک کے بعد ایک مشکل ہمارا گھر دیکھتی ہے۔ ہمارا ملک نہ ہوا، خانہ انوری ہو گیا۔ ابھی دیکھئے، مشرق وسطیٰ کے دو بڑے ممالک میں تناﺅ پیدا ہوا ہے۔ ان میں سے ایک ملک ہمارا جغرافیائی ہمسایہ ہے اور دوسرے ملک سے قریبی سیاسی اور معاشی تعلقات ہیں۔ تہذیبی تعلق دونوں ممالک سے ہے۔ یہ کچھ ایسا انوکھا معاملہ نہیں ۔ قوموں کے باہم تعلقات میں اتار چڑھاﺅ آتے رہتے ہیں۔ ہم کوئی خدائی فوجدار ہیں اور نہ کسی نے ہمیں دنیا کی امامت سونپی ہے کہ دنیا جہان کے بکھیڑے نمٹانے کی ذمہ داری ہم پر آتی ہو۔ مگر صاحب دیکھتے ہی دیکھتے پرائے الاﺅ کی آنچ ہماری دہلیز تک آ پہنچی۔ اب معلوم ہوا کہ بیرونی محکومی اور کشکول کا طعنہ دینے والوں کے باطن میں دوسروں کی غلامی بھی تھی اور محکومی بھی، پاکستان کو تو غریب کی جورو بنا رکھا تھا۔ ہماری کوتاہی یہ کہ ہم نے ’برادر اسلامی ملک‘ کی ایک اصطلاح گھڑ رکھی ہے جس کا کوئی قانونی ، آئینی اور سیاسی مفہوم نہیں۔ منٹو نے احمد ندیم قاسمی اور ظہیر کاشمیری کی نظر بندی پر لکھا تھا کہ ’ایک کو بھائی بنانے کا شوق ہے اور دوسرے کو بہنیں بنانے کا‘۔ ہم نے خارجہ پالیسی میں بھی یہی روش اپنائی ہے۔ نتیجہ یہ کہ ہماری نظربندی کی میعاد ختم نہیں ہوتی ۔ حکومت نے کسی قدر احتیاط سے کام لینے کا اشارہ ضرور دیا ہے مگر ان انگاروں کا کیا کیا جائے جو ہمارے ہی دامن میں پناہ لیے بیٹھے ہیں۔
ابھی مشرق وسطیٰ کا خلجان موجود تھا کہ پٹھان کوٹ میں پرانی کہانی دہرائی گئی۔ یہ سکرپٹ اب پٹ چکا ہے۔ ہندوستان نے تحمل کا مظاہرہ کیا تو پاکستانی قیادت نے بھی جرا¿ت دکھائی ہے۔ ہماری روایت تو یہ تھی کہ قندھار ایئرپورٹ پر بازیاب کرائے جانے والے کراچی میں رونمائی دیتے تھے اور ہمیں اصرار تھا کہ ہم نے کچھ نہیں دیکھا نیز یہ کہ ہمارے ہاتھ صاف ہیں۔ زیادہ وقت نہیں گزرا ۔ چھ برس پہلے ممبئی حملوں کے بعد تحقیقات میں تعاون کی بات کی گئی تھی ۔ ردعمل میں بس اتنا اشارہ کافی تھا کہ جنرل محمود درانی کو گھر بھیج دیا گیا۔ پھر نہ رباعی کی خبر آئی اور نہ غزل کا نشان ملا۔ مثبت پیش رفت کا حالیہ اشارہ یہ ہے کہ وزیراعظم کی صدارت میں عسکری اور سیاسی قیادت نے پٹھان کوٹ تحقیقات میں تعاون کرنے اور پاکستانی حکام کو بھارت بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر بھارت کے وزیر داخلہ فرماتے ہیں کہ پاکستان پر بداعتمادی کا کوئی سبب نہیں۔ گویا ہماری فصیل پر یہ حملہ بھی ناکام بنا دیا گیا۔ پاک چین اقتصادی راہداری کا معاہدہ ہو چکا اور اعلیٰ ترین سطح پر ریاستی ضمانتیں دی گئی ہیں۔مگر یہ کہ کچھ احباب کو یکایک صوبائی خودمختاری یاد آگئی۔ ہم راندہ¿ درگاہ عشروں سے صوبائی حقوق کا نام لیتے تھے۔ قومیتوں کو وفاق کی اکائیاں قرار دیتے تھے تو ہمیں ملک دشمن ٹھہرایا جا تا تھا۔ اب محب وطن حلقے چاروں صوبوں سے گزرنے والی راہداری پر صوبائیت کی دکان چمکانا چاہتے ہیں تو یہ عین حب الوطنی ہے۔ ہمارے نامہ اعمال کی ہر تیرگی آپ کی زلف میں پہنچتی ہے تو گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کرتی ہے۔
اقتصادی راہداری بجائے خود معاشی کایا کلپ کی ضمانت نہیں۔گھر کے چولہے پر پکانے کے لیے کچھ نہ ہو تو قسطوں پر خریدا گیا ریفریجریٹر معیار زندگی میں بہتری کا نشان نہیں بنتا۔ اقتصادی راہداری کی تعمیر میں رکاوٹ اب ممکن نہیں لیکن اجتماعی سوچ کو معیشت کی طرف موڑنے کی ضرورت بہرصورت باقی ہے ۔ معیشت سستے نعروں کی متحمل نہیں ہوتی۔ ترقی کے لیے معیشت ، سیاست اور معاشرت میں باہم ہم آہنگ زاویے اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم صدیوں پرانی معاشرت میں بیسویں صدی کی گروہی سیاست کا پیوند لگانا چاہتے ہیں اور اکیسویں صدی کی معیشت کا پھل مانگتے ہیں۔ یہ محض سادہ لوحی نہیں۔ ہم پرانے مفاد کو ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں اور ہم نے نئے مفاد کے لیے ہاتھ پھیلا رکھا ہے۔ نتیجہ یہ کہ برادر اسلامی ملکوں کی حمایت میں فرقہ وارانہ خطوط پر جلسے کیے جاتے ہیں ۔ ایک تنظیم خانیوال اور کراچی میں جلسے کر کے اعلیٰ عدلیہ کے ارکان کی توہین کرتی ہے۔ کالعدم تنظیم کے سربراہ کو حراست میں لیا جاتا ہے تو اس کا ترجمان سرعام ریاست کو چتاونی دیتا ہے اور فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ماہر قانون مدبر ریاست کے قانونی اقدام کا دفاع کرنا چاہتے ہیں تو ان کی زبان لڑکھڑا جاتی ہے۔
اجتماعی زندگی میں رائے کا اختلاف نیک شگون ہے۔ خیال کی یکسانیت مسلط کی جائے تو معاشرہ حقیقت کی دنیا سے نکل کر اساطیر کے جزیرے میں جا پہنچتا ہے اور بالآخر جمود اور انحطاط کی منزلوں سے گزرتا ہوا تباہ ہو جاتا ہے۔ تاہم رائے کا اختلاف واقعے کی تکذیب سے مختلف معاملہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم رائے کے اختلاف کو احترام نہیں دیتے لیکن واقعے کی تکذیب پر ہمارا اتفاق رائے ہے۔ واقعے کی تکذیب سے وہ سوچ جنم لیتی ہے جسے انکار کی نفسیات کہا جاتا ہے۔ ہم نے برسوں انتہا پسند دہشت گردوں کی حمایت انکار کی نفسیات کے زیر اثر ہی کی تھی۔ دہشت گردی کا خاتمہ ، معیشت کی بحالی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ معمول کے تعلقات ایک ہی اجتماعی پالیسی کے مختلف پہلو ہیں۔ اس پالیسی کے ثمرات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ گزشتہ بیانئے کے اطراف و جوانب میں تعمیر کیے گئے فکری مورچے ختم کیے جائیں۔
ہمارے ملک میں جمہوریت بحال ہوئے آٹھ برس ہونے کو آئے۔ جمہوریت ہمارے آئین میں دیا گیا طرز حکومت ہے۔ ماضی میں آمرانہ حکومتیں جمہوریت کے خلاف رائے عامہ تیار کیا کرتی تھیں۔ اگر ہم نے آمریت سے واقعی جان چھڑا لی ہے تو اب نظام حکومت کے طور پر جمہوریت کی مذمت بھی ختم ہونی چاہیے۔ کسی حکومت ، سیاسی جماعت یا سیاسی رہنما کی مخالفت میں کوئی مضائقہ نہیں بلکہ حقیقی جمہوریت کے لیے ایسی تنقید اور جواب دہی نہایت ضروری ہے۔ تاہم ان عناصر کی خبر لینی چاہیے جو مختلف مسائل کی آڑ میں جمہوری نظام کو گردن زدنی قرار دیتے ہیں اور اپنا کوئی مفروضہ نظام مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ کرپشن دیمک کی طر ح ریاستی وسائل اور عوام کے معیار زندگی کو تباہ کرتی ہے۔ کرپشن کی نشان دہی بھی کرنی چاہیے اور سرکوبی بھی لیکن کچھ خیر خواہوں نے کرپشن کو سیاسی عمل کی مذمت کا ہتھیار بنا رکھا ہے۔ ہمیں واضح کرنا چاہیے کہ جمہوریت سے انحراف بذات خود بدعنوانی کی بدترین صورت ہے۔ ہم 1958 ءسے قوم کی جڑوں پر کرپشن کا کلہاڑا چلا رہے ہیں۔ یہ کرپشن کے خاتمے کا نہیں، کرپشن کے تسلسل کا نسخہ ہے۔ جمہوریت کا ایک ہی متبادل ہے اور وہ آمریت ہے ۔ آمریت کالی پگڑی باندھ کر آئے یا چمڑے کے بوٹ پہن کر آئے ناقابل قبول ہے۔ پاکستان ہماری قومی ریاست ہے اور ہمارے صوبے اس وفاق کی اکائیاں ہیں۔ صوبائی حقوق کے لئے آواز اٹھانا اور کسی صوبے کے عوام کی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے سیاسی عمل میں شریک ہونا عین آئینی حق ہے ۔ تاہم جو لوگ قومی ریاست کی سرحدوں کو بے معنی قرار دیتے ہیں یا تبدیل کرنا چاہتے ہیں وہ ہماری ریاست کے دوست نہیں۔ ہمیں اپنے تعلیمی نصاب ، ذرائع ابلاغ اور سیاسی مکالمے میں پاکستان کی قومی ریاست کے آئینی خدوخال کو بنیادی حقیقت قرار دینا چاہیے۔ ہم نے جدید دنیا کے آئینی اور سیاسی منظرنامے کا حصہ بن کر آزادی حاصل کی تھی۔ ہماری ریاست قوموں کی برادری میں بغاو ت ، انحراف اور مخاصمت کا نشان نہیں۔ہمیں دوسری قوموں کے ساتھ تعاون ، تعامل اور تجارت کی مدد سے اپنے معاشی اور سیاسی مفادات کا تحفظ کرنا چاہیے۔ امریکا ، سعودی عرب ، ایران اور بھارت یا پھر کوئی اور ملک ہو، پاکستان کو کسی ریاست کے ساتھ مستقل دشمنی یا غیر حقیقی دوستی کا مفروضہ نہیں پالنا چاہیے ۔ دوسری قومیں اپنے مفادات پر آنکھ رکھتی ہیں ۔ ہمیں اپنے مفادات کا خیال رکھنا چاہیے۔
ہم تاریخی اور جغرافیائی طور پر کسی خلائی سیارے کی مخلوق نہیں۔ ہماری زبانوں ، افکار اور رہن سہن پر دوسری قوموں کے گہرے اثرات ہیں۔ جدیدیت اور قدامت کی آوازیں اس دھرتی کی تصویر کا حصہ ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کی سوچ اور طور طریقوں کو اجنبی اور ناقابل قبول قرار دینے کی روش چھوڑ کر غور کرنا چاہیے کہ ہم رواداری کی ثقافت اور معاشی ترقی کو کیسے یقینی بنا سکتے ہیں۔ معیشت کی منطق ناقابل مزاحمت ہوتی ہے اور اس کی بنیاد ٹھوس حقائق پر ہوتی ہے۔ ہمیں معیشت کو نظریاتی واہموں کا اسیر بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔ اقتصادی راہداری کا راستہ معیشت کی طرف جا رہا ہے ۔ کھوکھلے سیاسی نعروں اور ناانصافی پر مبنی معاشرت کی موجودگی میں معیشت کے امکانات کو بروئے کار نہیں لایا جا سکتا۔


Comments

FB Login Required - comments