انتہا پسندی، رد عمل کی نفسیات اور ذہنی پیچیدگیاں (4)


akhtar-ali-syed​خدا بھلا کرے حضرت عاصم بخشی صاحب کا انہوں نے نہ یہ کہ زیر نظر موضوع پر اظھار خیال فرما کر اس طالب علم کا حوصلہ بڑھایا بلکہ کمال مہارت سے گزشتہ گزارشات کا یک سطری خلاصہ بھی فرمادیا. جہاں تک ان کے فرمودے کا تعلق ہے جو”معنی کی تلاش” سے متعلق ہے جس کے لیے انہوں نے Logotherapy تجویز فرمائی ہے. یہ طالب علم اپنی تمام تر علمی بے سرو سامانی کے باوجود اس سے اختلاف کرنے کی جسارت کا حق محفوظ رکھتا ہے. اس اختلاف کی وضاحت کی ہمت اور توفیق نصیب ہوئی تو اسی سلسلہ مضامین میں کسی مقام پر چند گزارشات بھی پیش کروں گا. جناب بخشی صاحب کو جو وسعت علم، بالغ نظری، اور بے پایاں قوت اظھار نصیب ہوئی ہے یہ طالب علم اس کے لیے رشک و رقابت محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا.

اب تک کی گزارشات میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ مسلم معاشرے اپنی عمومی اور پاکستانی معاشرہ اپنی خصوصی صورت حال میں ہماری گفتگو کا موضوع ہیں. اس کا قطعا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو گزارشات اس ضمن پیش کی جا رہی ہیں ان کا کلّی یا جزوی اطلاق کسی اور معاشرے یا افراد کے گروہ پر نہیں ہو سکتا. یہ ایک ایسا تجزیہ ہے جو نفسیاتی اور ذہنی پیچیدگیوں کے خالصتاً سائنسی موضوع سے متعلق ہے. اس وقت اس تجزیے کا موضوع مسلم معاشرے ہیں. دیگر معاشروں پر ہونے والے تجزیے کن نتائج پر پہنچتے ہیں زیر نظر تحریر ان سے بحث نہیں کرتی. لہذا اس تحریر پر یہ اعتراض مناسب نہیں ہے یہاں بیان کردہ پیچیدگیاں دیگر معاشروں میں بعینہ اسی صورت یا اس سے ذرا مختلف صورت میں موجود ہیں. دو مریض ایک ہی مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں. ایک کا مرض دوسرے کی صحت کی دلیل نہیں ہو سکتا. ایک وقت میں صرف ایک مریض کی تشخیص اور اس کے لیے علاج تجویز کیا جا سکتا ہے.

اس طالب علم کے لیے یہ بات روز مرہ کا مشاھدہ ہے کہ فرد ماضی سے نکلے بغیر حال کو خوشحال اور مستقبل کو تابناک بنانا چاہتا ہے. ایک ہی وقت میں پیچھے جانا اور اسی سانس میں آگے جانے کی کوشش کرنا جہاں ایک امر محال ہے وہیں ذہنی پیچیدگیوں کی ایک علامت بھی. سگمنڈ فرائیڈ Freud جان بولبی Bowlby اور اختر احسن جیسے ماہرین نے نہ صرف یہ کہ انسانی ذہن کی ان پیچیدگیوں کو ان کی گہرایوں سمیت سمجھا، بلکہ اپنے کلینیکل تجزیوں کے ذریعے ان کا سائنسی ثبوت بھی فراہم کیا ہے. اس کے ساتھ ساتھ ان پیچیدگیوں کے قابل عمل حل بھی تجویز کیے ہیں……. شریعت کے نفاذ کو اپنے تمام مسائل کا حل سمجھنا اپنے آخری آخری تجزیے میں پیچھے کا ایک سفر ہے. جبکہ سائنسی ترقی میں شرکت کی خواہش اور جددید علوم سے بہرہ مند ہونے کا شوق ہر لحاظ سے آگے کا سفر ہے. ایک ہی وقت میں آگے اور پیچھے کے ایک کامیاب اور نتیجہ خیز سفرکی خواہش اور کوشش مسلم معاشروں کا بنیادی مسلہ ہے. اگر اجازت ہو تو یہ کہنے کی جسارت کروں کہ اس مسلے کی دو اور صورتیں بھی عام مشاھدے کا حصہ ہیں. اس طرح اس تضاد کی تین مندرجہ ذیل صورتیں ہمارے سامنے ہیں. جو تین مختلف گروہ اختیار کرتے ہیں.

١. آگے اور پیچھے کی جانب ایک ہی وقت میں حرکت کی خواہش.

٢. موجودہ صورتحال پر قیام کو مستقبل میں کامیابی کی ضمانت سمجھنا.

٣. ماضی میں کامیاب کرداروں اور طریقوں کی جانب لوٹنے میں مستقبل کی کامیابی کو دیکھنا.

ابھی اس گروہ کو ایک طرف رکھیے جو اس دنیا، اس کی خواہش اور اس میں کامیابی کی ہر صورت کو کامیاب اخروی زندگی کے حصول کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے.

جیسا کہ عرض کیا گیا اوپر بیان کی گئیں تینوں صورتیں نفسیاتی علاج سے وابستہ ہر فرد کے روزمرہ مشاھدے کا حصہ ہیں. فرائیڈ نے اس الجھن کی نشاندھی کی تھی اور بعد میں آنے والوں کے لیے تفھیم کی راہیں ھموار کی تھیں. اس ضمن میں اس کی اہم دریافتوں میں سے ایک “نرگسیت” Narcissism کا تصور تھا. اس پر میں اپنے ایک گزشتہ مضمون میں چند گزارشات پیش کر چکا ہوں. اور Narcissistic Personality Disorder کی علامات کو جدید ترین تشخیصی نظام  DSM 5 کے حوالے سے بیان کر چکا ہوں. آئیے اس نرگسیت کی مریضانہ اور غیر مریضانہ صورتوں کو پس قدمی اور پیش قدمی کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں. لیکن اس سے پہلے ایکو Echo اور ںارسی سس Narcissus کی کہانی کو دوبارہ دیکھ لیں. ایکو ایک بد دعای ہوئی لڑکی ہے. جس کی قوت گویائی کو سزا کے طور پر دوسروں کی کہی ہوئی باتیں دوہرانے تک محدود کر دیا گیا ہے. انگریزی لفظ Echo کے موجودہ معنی شائد اسی کہانی سے لیے گئے ہوں گے. ںارسی سس ایک انتہائی خوبرو اور پر کشش نوجوان ہے. ایکو کی شدید خواہش کے باوجود نارسی سس اس کی جانب متوجہ نہیں ہوتا جس کی پاداش میں اسے پانی میں اپنے ہی عکس سے محبت میں مبتلا کر دیا جاتا ہے. اپنا عکس محبت کے جواب میں نہ تو کچھ دے سکتا ہے نہ کچھ کہ سکتا ہے. اپنے محبوب کے اس سلوک کی وجہ سے وہ مر جاتا ہے. تالابوں کے کنارے کھلے نرگس کے پھول نارسی سس کی یادگار ہیں. ذرا ایکو اور نارسی سس کے کردار ذہن میں رکھیں اور تھوڑا کہے کو کافی خیال فرمائیں. اب فرائیڈ کے بیان کردہ نرگسیت کے تصور کی جانب آئیں . فرائیڈ نے ایک نوزائیدہ کی نرگسیت کو بنیادی نرگسیت Primary Narcissism کہا ہے. بچے کی یہ ذہنی حالت بیرونی دنیا سے عدم تعلق کے سبب …. بیرونی دنیا سے مکمل بے نیازی کا اظھار ہے. اگر ایرک فرام Erich Fromm کے الفاظ مستعار لوں تو کہا جاسکتا ہے کہ بچے کے لیے میں (I ) اور غیر (Not I ) کے درمیان امتیاز اور فرق کرنا نہ صرف یہ کہ ناممکن ہوتا ہے بلکہ بچہ اس میں دلچسپی بھی نہیں رکھتا. اس لیے کہ بچے کے لیے بیرونی دنیا کوئی وجود نہیں رکھتی. ….نرگسیت وجود میں آتی ہوئی شخصیت کے لئے اپنے ابتدائی مراحل میں بہت حد تک ضروری خیال کی گئی ہے. لیکن ایک بالغ شخص کے لئے اگر حقیقت، حقائق، اور بیرونی دنیا اپنا وجود کھو بیٹھیں تو یہ تشویش کی بات ہے. اس لیے اگر کوئی مسلمانوں کو حضرت عیسا کے قتل کا ذمہ دار قرار دے یا کوئی ہجوم جوتوں کے زور پر ہیلی کاپٹر بھگا دے تو حقائق کے ادراک کا سوال اٹھانا ایک فطری امر ہے. گو یہ فرق بہر حال قابل غور ہے کہ ایک مشتعل ہجوم ہے اور دوسرا امریکہ کا ایک صدارتی امیدوار.

یہاں رک کر ایرک فرام کے بیان کردہ ایک اور تصور پر غور کرلیں. فرام نے اخلاقی مراق Moral Hypochondriasis کی ایک اصطلاح بیان کی ہے. اس ذہنی حالت کے شکار افراد کے لئے بیمار ہونا یا مر جانا ممکن اور آسان ہوتا ہے لیکن احساس گناہ کے ساتھ جینا مشکل اور ناممکن ہوتا ہے. ….. یاد رہے کہ مذہبی ذہن کا احساس گناہ سے بچنا ناممکن ہوتا ہے. ایک مذہبی ذہن چاہے مذہبی شعایر کو اپنے معمولات اور کردار کا حصہ بناے یا نہ بناے احساس گناہ اس کا ناقابل انفکاک حصہ ہوتا ہے. مذاہب عالم اپنی موجودہ صورت میں احساس گناہ کے علاوہ کچھ اور کرنے میں بالعموم ناکام ہو چکے ہیں. یہی سبب ہے کہ ہمارے ہاں عام فطری اور قدرتی مظاہر بھی احساس گناہ کے علاوہ کسی اور زاویہ نظر سے نہیں دیکھے جاتے. زلزلے، سیلاب، اور قدرتی آفات کو برے اعمال کی سزا سمجھا جاتا ہے. احساس گناہ کے مقابلے میں بیماری اور موت کوئی حیثیت نہیں رکھتے. مذہبی ذہن کے لئے مر جانا آسان لیکن احساس گناہ کے ساتھ جینا مشکل کر دیا گیا ہے………(جاری ہے)


Comments

FB Login Required - comments