عینک والا جن اور ریٹرن آف نستور


azhar Khan

ہو ہو ۔ ہاہاہا۔ آپ کو کوہ کاف میں خو ش آمدید۔ نستور جن نے ہمارا استقبال کرتے ہوئے کہا، ایک لمحے کو تو ہمیں یوں لگا کہ ہم واقعی کوہ کاف میں آگئے ہوں اور اسی وقت ہمیں بچپن کے وہ تمام لمحات یاد آگئے جب نوے کی دہائی میں ہمارا پورا خاندان ” عینک والا جن” ڈرامہ دیکھنے کے لیے شام کے اوقات میں ٹی وی کے آگے گروپ کی صورت میں بیٹھا ہوتا تھا۔ میرے تمام کزنز اوربچپن کے دوست بھی وہیں اکٹھے ہوتے، اس دوران ہمارا ایک کزن مستقل طور پر اپنی کرسی انٹینا کے ساتھ رکھتا تھا کیونکہ کبھی کبھی اچانک نشریات میں خرابی آجاتی تو وہ فورا سے انٹینا کے رخ کو ادھر ادھر کرتا تا کہ ڈرامہ صحیح طرح دیکھا جا سکے۔ کیونکہ ہم اس وقت بچے تھے اس لیے ہماری حرکتیں بھی بچوں والی ہی تھیں، یعنی کہ عینک والا جن دیکھنے کے فورا بعد ہم میں سے کچھ بچے نستور، کچھ زکوٹا اور کچھ ہامون جادوگر کا کردار بھی ادا کرتے۔ اس دوران ڈائریکٹر، پروڈیوسر اور ایکٹر بھی ہم خود ہی ہوتے۔

بچپن سے لڑکپن تک کی سب سے خوبصور ت یاد ” عینک والا جن” ہی رہی۔ عینک والا جن میں ” نستور جن” اور” زکوٹا جن”کا کیریکٹر ہمارے پسندیدہ کیریکٹر تھے۔ “نستور جن اور زکوٹا جن” دونوں لوگوں کی مدد کرنے کے لیے اور ہامون، بل بتوڑی، سامری اورافراسیاب جادوگر کے جادو کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف کوششیں کرتے دکھائی دیتے، اس دوران نستور جن کا مشہور قہقہہ “ہوہو۔ ہاہاہا۔ اور زکوٹا جن کے ڈائیلاگ” زے بی ناٹ۔ مجھے کام بتاؤ۔ میں کیا کروں ۔ میں کس کو کھاؤں۔۔ ہم سب کو بہت پسند تھے۔۔ پھر جیسے جیسے نستور اور زکوٹا مختلف جادوگروں کا مقابلہ کرتے یا کسی انسان کو مشکل حالات سے بچانے کے لیے اپنی کوششیں کرتے تو ہم پر ایک سرشاری کی کیفیت طاری رہتی، ہمیں نستور جن پر بہت فخر ہوتا، اور جیسے ہی وہ قسط ختم ہوتی تو پھر اگلی قسط کا انتظار شروع ہو جاتا۔۔ ہر قسط انتہائی شاندار اور انتہائی جاندار ہوتی ۔ کبھی کبھی ہم بھی سوچتے کہ کیوں نہ نستور جن ہی بن جائیں اس طرح ہوا میں اڑتے ہوئے ہم پوری دنیا اور کوہ قاف کی سیر بھی کر سکیں گے اور مشکل حالات میں پھنسے ہوئے انسانوں کی مدد بھی کر سکیں گے۔۔ نستور جن کی طرح نظر آنے کے لیے ہم کبھی اپنے دادا جی کی موٹی عینک بھی آنکھوں پر لگا لیتے، جس کے بعد ہم نستور جن کی طرح قہقہے لگاتے اور ایک دو بار تو ہم نے ہوا میں اڑنے کے لیے اچھی خاصی کوشش بھی کی لیکن کوشش بار آور ثابت نہ ہوئی، بچپن گزر گیا۔ اور پھر بچپن سے لڑکپن اور جوانی میں آگئے لیکن کبھی بھی نہیں سوچا تھا کہ ہماری واقعی بچپن کے سپر ہیرو” نستور جن” سے ملاقات ہو جائے گی، اور یہ سب سوشل میڈیا کی وجہ سے ممکن ہوا۔

چند روز پہلے فیس بک استعمال کرتے ہوئے ایک پوسٹ نظر سے گزری جس میں  شہزاد قیصر صاحب کہہ رہے تھے، ” میں نستور جن، آپ کے بچپن کا ہیرو آپ سے مخاطب ہوں، اور میں نے جس طرح آج سے بیس سال پہلے بچوں کے لیے عینک والا جن میں اپنا کر دار ادا کیا، بالکل اسی طرز پر کچھ عرصہ پہلے بھی آج کے بچوں کے لیے ” ریٹرنز آف نستور” سیریز بنائی جو نہ صرف جدید ٹیکنالوجی سے تیار کی گئی ہے بلکہ اس کا سکرپٹ بھی انتہائی شاندار ہے جو کہ بچوں اور بڑوں میں یکساں طور پر انتہائی مقبول ہو سکتی ہے، جیسے ہی سیریز کی دو اقساط تیار ہوئیں تو سیریز کے ڈائریکٹر کی جانب سے، جو کہ ہمارے لیے بہت قابل اعتماد آدمی تھا، اس کی جانب سے ایک فرضی پی۔ ٹی۔ وی کا لیٹر مجھے دکھایا گیا، اس میں لکھا ہوا تھا کہ آپ اپنی سیریز کی فوراََ 20 سے 30 اقساط لے کر پی۔ ٹی۔ وی سنٹر حاضر ہوں، مجھے وہ لیٹر دیکھ کر انتہائی خوشی ہوئی اور میں نے بغیر کسی تحقیق کے کچھ پارٹنرز کے ساتھ مل کر 20 کے قریب اقساط بنائیں،اور اس پر بہت زیادہ اخراجات بھی آئے، جب وہ سیریز لے کر پی۔ ٹی۔ وی ہاؤس پہنچے تو پتہ چلا کہ وہ لیٹر فرضی تھا۔ اسی دوران وہ ڈائریکٹر بھی پس منظر سے غائب ہو گیا۔ پی۔ ٹی۔ وی نے اس سیریز کو چلانے سے انکار کر دیا اس کے بعد پرائیویٹ میڈیا ہاؤسز کا رخ کیا انہوں نے کافی پروٹوکول تو دیا لیکن اس سیریز کو چلانے سے انکار کر دیا۔ اس ساری صورتحال کے مد نظر پارٹرنز نے رقم کا تقاضا کیا تو اپنے تمام اثاثے بیچ کر ان کے پیسے پورے کیے، آج کل بہت مخدوش حالات میں گزارا کر رہا ہوں۔ میں آپ لوگوں سے کوئی بھیک نہیں مانگ رہا، بس درخواست ہے کہ اس مشکل حالات میں ہمارا ساتھ دیں اور اس میسج کو شئیر کریں تا کہ کوئی چینل وہ سیریز چلانے پر آمادہ ہو جائے کیونکہ بہت سے لوگوں کا رزق اس سے وابستہ ہے، جو کہ اس سیریز کے نہ چلنے کی صورت میں بہت شدید غربت کی حالت میں پہنچ سکتے ہیں”، نیچے دو فون نمبر درج تھے۔

جب ان نمبرز پر رابطہ کیا تو نستور جن کے بیٹے علی شہزاد نے فون اٹھایا اور اس پوسٹ سے متعلق تمام باتوں کی تصدیق کی، اس صورتحال کے پیش نظر ہم نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ نستور جن سے ملنے کا پلان بنایا، اور ان کے گھر پہنچ ہی گئے۔ لاہور شہر سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر ان کے گھر کی حالت واقعی مخدوش ہے، “نستور جن” جن کا اصل نام شہزاد قیصر ہے اور ان کی فیملی نے بہت خوشگوار طریقے سے ہمارا استقبال کیا۔ کوہ کاف کے جن کے ساتھ جب گفتگو شروع ہوئی تو انہوں نے سنجیدہ اور افسردہ لہجے میں اپنے خیالات کااظہار کیا اور بتایا کہ عینک والا جن بچوں کے لیے پاکستان کی ہسٹری کا سب سے مشہور ڈراما تھا اور بعد ازاں جاپان نے وہ بھی ڈرامہ پاکستان ٹیلی ویژن سے خریدا اور اپنے ملک میں چلایا، لیکن وہ ڈرامہ ختم ہونے کے بعد پی۔ ٹی۔ وی نے ان تمام کیریکٹرز کو بھلا دیا اور وہ سارے لوگ بعد میں مختلف پروگراموں کے لیے تگ و دو کرتے رہے اور کسمپرسی کی زندگی بھی گزارتے رہے۔ کچھ لوگ نستور جن کے پاس بھی آتے رہے اور وہ گاہے بگاہے ان کی مدد بھی کرتے رہے لیکن پھر ایک وقت ایسا آیا کہ وہ خود بھی انہی حالات کی ستم ظریفی کا شکار ہو گئے۔ ان کے ساتھ ہوئے دھوکے کے بعد شدید صدمے کی وجہ سے ان کی بینائی بھی متاثر ہوئی اور وہ خود بھی بہت ڈپریشن کا شکار ہوگئے۔ انہوں نے اپنے تئیں کوشش کی اور پی۔ ٹی۔ وی سے لے کر مختلف چینلز سے رابطہ بھی کیا، لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں یہ تمام شہرت اور عزت پی۔ ٹی۔ وی کی جانب سے ملی ہے اور موجودہ سیریز بھی انہوں نے پی۔ ٹی۔ وی کے لیے ہی بنائی، لیکن حالات نے ان کے ساتھ بہت افسوس ناک سلوک روا رکھا ہے، کہنے لگے کہ وہ اب بھی نہیں چاہتے تھے کہ ان تمام حالات سے لوگوں کو آگاہ کریں لیکن کچھ دوستوں اور فیملی ممبران کے اصرار پر انہیں یہ سب کرنا پڑا۔ لیکن اب وہ انتہائی خوش ہیں کیونکہ پوری دنیا کے لوگ ان کی ڈھارس او ر ہمت بندھا رہے ہیں دنیا بھر سے انہیں فون کالز موصول ہو رہی ہیں جس میں ان کے چاہنے والے اپنی محبتوں کا اظہا ر کر رہے ہیں اور انہیں حوصلہ بھی دے رہے ہیں،انتہائی خوبصورت الفاظ میں انہوں نے اپنے تمام فینز کو سراہا اور کہا کہ مجھے آج اندازہ ہوا ہے کہ دنیا بھر کے لوگ مجھ سے بے انتہا محبت کرتے ہیں، لوگوں کی کالز اور آنے والے ملاقاتیوں کا تانتا بندھا ہوا ہے ۔ اور نستور جن کو بھی اب بہت امید ہو چلی ہے کہ ان کی سیریز بہت جلد آن ائیر ہو جائے گی۔۔

اداکار ہوں یا فنکار یہ لوگ بہت حساس طبیعت کے مالک ہو تے ہیں، یہ لوگوں کو تو ہنسا رہے ہوتے ہیں اور ان کو بہترین تفریح فراہم کر رہے ہوتے ہیں لیکن پس پردہ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کن مشکل حالات سے گزر رہے ہوتے ہیں، اور وہ بظاہر خوش نظر آنے والے انسان اندر ہی اندر رو رہے ہوتے ہیں، ہم ایک ایسی قوم ہیں جو اپنے تمام لیجنڈز کو بھلانے میں ذرا بھی تاخیر نہیں کرتی ۔ “نستور جن” کا شکوہ بجا ہے، ان کے ساتھ ان کے ڈائریکٹر نے دھوکہ یا فراڈ کیا لیکن اب اگر وہ ایک اچھا کام کر چکے ہیں تو انہیں پذیرائی ملنی چاہیے۔ فنکار، فنکار ہی ہوتا ہے اور وہ اپنی فیلڈ کے علاوہ کسی اور بزنس میں زیادہ دیر نہیں چل سکتا کیونکہ اس کی ساری زندگی اداکاری میں ہی گزرتی ہے۔ اور فنکار اگر سخت محنت کرے اور اس کے کام کو سراہنے کی بجائے ان کے ساتھ ان کے اپنے ٹی وی چینلز بری طرح کا سلوک کریں تو شدید دکھ ہوتا ہے، انہوں نے” ریٹرنز آف نستور” سیریز کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیا ہے اور اس کے ذریعے انہوں نے آج کے بچوں کے لیے بھی اچھی پروڈکشن مہیا کرنے کی کوشش کی ہے، ہمارے ملک میں بہت سے غیر ملکی چینلز چل رہے ہیں اور ان پر بچوں کے لیے عجیب و غریب قسم کے پروگرام بھی دکھائی دیتے ہیں۔ وہاں بچوں کے لیے اگر اتنی شاندار کوشش کی گئی ہے تو اسے بھی سلاٹ میں شامل کرنا بہت ضروری ہے اور پھر یہ کوشش اس لیجنڈ کی طرف سے کی گئی ہے جو اپنی پوری عمر بچوں کے لیے بتا چکا ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعظم، وزیراعلی اور پی۔ ٹی۔ وی کے چئیر مین سے بھی درخواست ہے کہ وہ بھی اپنا کردار ادا کریں۔ ہمیں امید ہے کہ ” ریٹرنز آف نستور ” جیسی شاندار سیریز بہت جلد آن ائیر کی جائے گی۔


Comments

FB Login Required - comments