حق دلوانے والے امر ہوتے ہیں


”بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں، گور پیا کوئی ہور“ محض روحانیت یا فلسفہ نہیں بلکہ ایک سائنسی حقیقت ہے کہ لاش کو تو بس ہم لوگ ہی اس شخص کی لاش سمجھتے ہیں جو مر گیا ہو مگر حقیقت میں وہ محض لاش ہوتی ہے، اس شخص کی ذات سے بالکل علیحدہ بے جان شے۔ مرتے تو سبھی ہیں تاحتٰی غیر جاندار پتھر، پہاڑ، عمارات وغیرہ تک ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں، بھر جاتے ہیں، تبھی تو ہم روڑی یا ریت کو پہاڑ نہیں کہتے۔ جو زندہ رہتی ہے وہ استقامت ہے، پہاڑ میں قیام کی استقامت جب تک وہ زمین بوس نہ ہو جائے اور انسان کی چلے جانے کے بعد اصول پسندی اور ایسے اعمال جو ایک سے زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچانے کا باعث بنے ہوں۔ ویسے تو ہر وہ انسان عظیم ہے جس کی ذات سے کسی ایک شخص کو بھی فائدہ کیوں نہ پہنچایا ہو مگر شرط یہ ہے کہ اس کے کسی قول یا فعل سے کسی اور کو نقصان نہ پہنچا ہو۔

اس کے برعکس جس انسان کے اعمال سے بہت زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچا ہو اگر اس کی کسی بات سے کچھ لوگوں کے دل محض اس لیے دکھے ہوں کہ وہ بات ان کی سوچ کے خلاف تھی یا اس کے کسی عمل کو کچھ لوگ اس لیے ناپسند خیال کرتے رہے کہ اس کے اس عمل سے ان کی انا مجروح ہوئی تھی تو مداوا ہو جاتا ہے کیونکہ مذکور فرد کے عمل یا بات کے طفیل بہت سے لوگوں کو فائدہ پہنچا اور بہت سے لوگوں کی مجروح کی گئی انا بحال ہوئی۔

کہنے کو تو ہم مانتے ہیں کہ ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا جہاد ہے لیکن ہم سے کتنے ایسے لوگ ہیں جو اس جہاد میں شامل ہوتے ہیں۔ بیشتر کی تو زبانیں ظالم حکمران کی تعریف و توصیف کے لیے وقف ہوتی ہیں۔ موقع پرستوں کی ہمارے ہاں بہتات ہے۔ مصلحت پسندی اپنے مفادات کے حصول اور تحفظ کی ڈھال بنائی ہوئی ہے۔ درست بات اور بہتر عمل کرنے والے کو غدار یا کافر قرار دینا ہمارے سماج کی اکثریت کا وتیرہ بن چکا ہے۔ ایسے میں وہ شخص جو اپنی سوچ کو مثبت رکھتے ہوئے انسانوں کی بہتری کی خاطر لڑتا ہے وہ ہم سب میں سے افضل ہوتا ہے یعنی افضل ترین بلکہ صحیح معنوں میں انسان کہلانے کا حقدار۔

وقت گزر جائے تو بہت کچھ سمجھانا مشکل ہو جاتا ہے جیسے ایک زمانے میں گلی کی نکڑ پر دیوار کے ساتھ لگی میونسپل کمیٹی کی لالٹین میں تیل ڈالنے کو آنے والا شاہ جی جس کے کپڑے تیل میں بسے ہوتے تھے اور جس نے زبان پر نہ بولنے کی مہر لگائی ہوتی تھی، جس کی بڑھے ہوئے شیو کے زیادہ سفید اور کچھ سیاہ بالوں کے اوپر دو بہت زیادہ اداس آنکھیں ہوتی تھیں جو تب ہی دکھائی دیتیں جب وہ دیوار کے ساتھ لگی سیڑھی پر تیل کی کپی اٹھائے چڑھنے کو کھڑا ہوتا تھا، رات کے اندھیرے کو روشنی بخشنے کی خاطر۔

اب بجلی کی سہولت کی عادی نسل کے لیے اس شخص کو تصور کرنا دشوار ہے ویسے ہی جیسے بیان کیا جائے کہ ایک وقت جب قصبوں میں صرف دیے اور کچھ لالٹینیں ہی روشن کیے جاتے تھے تب میلاد یا مجلس کے لیے کرائے پر لائے پیٹرومیکس جسے عموما فقط گیس کہا جاتا تھا، میں ہوا بھرنے کے بعد اس کا ریشمی دھاگوں سے بنا ”منٹل“ روشن ہوتا تھا تو اس کی سائیں سائیں کتنی عجیب اور بھلی لگتی تھی۔ پھر وہ عورتیں جو میلے کچیلے کپڑے پہنتی تھیں، صاف ستھرے کپڑے پہنے آتی تھیں اور اس مسحور کن روشنی اور سائیں سائیں کی آواز میں زمین پر بچھی سفید چادروں پر بیٹھ جایا کرتی تھیں، تین جوان لڑکیاں ” حسین شہید ہوئے مجھ کو یہ تعجب ہے، پلٹ کے کیوں نہ گرا آسماں زمیں کے تلے، حضور سوتے ہیں پہنے کفن زمیں کے تلے، غروب ہوتے ہیں شمس و قمر زمیں کے تلے“ اپنی پاٹ دار مترنم آواز میں پڑھنے لگتی تھیں تو ایک بی بی عطر دانی، جو آج کی نسل نے دیکھی تک نہیں، میں بھرا کیوڑہ ملا پانی سب پر چھڑکتی تھیں تو گیس کی سائیں سائیں، منٹل کا نور، صاف کپڑے پہنے بیٹھی ہوئی عورتیں، لڑکیوں کا اداس ترنم اور کیوڑے ملے چھڑکے گئے پانی کی خوشبو کا باہم ہونا کیسا ہوتا تھا۔ بعد میں دھلے ہوئے پتوں پر دھرا سوجی کا زعفرانی حلوہ بانٹا جانا یا بتاشوں کی نیاز کیسے لگتے تھے۔

یہ سب کچھ اب سمجھانا مشکل ہو جاتا ہے اور سننے والوں کے لیے اس کا اصل احساس کرنا دشوار مگر انصاف کے لیے لڑنے والوں سے متعلق سمجھانا صدیاں گزرنے کے بعد بھی اتنا ہی سہل ہوتا ہے جتنا ان کی زندگیوں میں جیسے پیغمبران کرام، مصلحین، انسان کی آزادی کے لیے لڑنے والے، انسان کو حقوق دلانے کی خاطر تن تنہا جہاد کرنے والے، بعد میں جن کے لوگ مددگار ہو جاتے تھے۔ ان کا عمل ان کی حیات تک مستعد رہتا مگر ان کے اٹھ جانے کے بعد ایک قوت میں ڈھل جاتا ہے جس سے جو جتنی حاصل کر سکے یہ اس کا ظرف اور اس کی ہمت۔

عبدالستار ایدھی کے بعد ان اوصاف سے مزین ہماری اپنی اسماء جہانگیر تھیں ( اسماء میں نے نصرت جاوید کے تطابق میں لکھا، جو اسماء کے نام سے زیادہ شناسا ہیں)، ہمیشہ فعال، ہمیشہ درخشاں، ہمیشہ دبنگ، ہمیشہ انسان، ہمیشہ انسان دوست۔ تاحتٰی گذشتہ چند ماہ میں جن چند خواتین نے انٹرنیٹ پر مجھے اپنے مسائل سے آگاہ کیا، جن کے متعلق میں نے لکھا بھی انہیں میں اسماء صاحبہ سے ہی رجوع کرنے کا مشورہ دیا ہاں البتہ اگر کوئی پنجاب سے ادھر تھی تو کراچی میں موجود ایک اور انسان دوست خاتون وکیل سے۔

میں ان سے کبھی نہیں ملا اور نہ ہی میں نے انہیں کسی محفل میں دیکھا ویسے بھی مجھے بیرون ملک رہتے ہوئے 26 برس ہونے کو آئے ہیں۔ تب کی بات ہے جب میں 1987 تا 1991 میں بطور ڈاکٹر مرید کے میں پرائیویٹ پریکٹس کرتا تھا تو کسی مریض نے مجھ سے کہا کہ عاصمہ (اس نے یہی نام لیا تھا) صاحبہ نے آپ کو سلام بھیجا ہے۔ وہ آپ کو یاد کر رہی تھیں۔ میں نے وعلیکم السلام کہا اور سوچا تھا کہ مریض جن میں اکثر سیاسی ورکر ہوتے ہیں، یونہی بھی کہہ دیتے ہیں اور ڈینگ بھی ہانک دیتے ہیں، وہ بھلا مجھے کیسے جانتی تھیں۔ البتہ ان کی رحلت کا سننے کے بعد اداسی میں سوچ آئی کہ ارے میں 1988 میں جب پی این پی پنجاب کا جنرل سیکرٹری تھا تو تین ماہ کے لیے ایم آر ڈی پنجاب کی کنوینر شپ میرے حصے میں بھی آئی تھی، جس دوران وائی ایم سی اے ہال میں ایک جلسہ بھی ہوا تھا جس میں معراج محمد خان جیسے سیاسی زعماء کے ساتھ میں بھی بیٹھا تھا۔

ممکن ہے وہ وہاں ہوں گی یا انہوں نے سنا ہوگا تو دیکھو جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو وہ کیسے بنا ملے یاد رکھتی تھیں۔ یہی بڑائی تھی ان کی ان کے انسانیت کے لیے جہد کے بے بہا اوصاف میں شامل۔ کون کہتا ہے وہ مر گئی ہیں۔ ان کی سوچ کو ماننے اور اس پر چلنے والے آج بھی ہیں، کل بھی ہوں گے اور تب تک ہوں گے جب تک ظلم و ستم کی سیاہ رات کو روشن کرنے کو تیل میں بسے، آنکھیں جھکائے، سیڑھی چڑھ کر چراغ میں تیل بھر کے روشن کرنے والوں کے ہاں قمقمے روشن نہیں ہو جاتے، ان کی آنکھوں میں چمک بحال نہیں ہو جاتی اور ان کے کپڑے میلاد مجلس میں آنے والیوں کے کپڑوں ایسے صاف اور مطہر نہیں ہو جاتے۔

اس سیریز کے دیگر حصےعاصمہ جہانگیر کے بارے میں شورش کاشمیری کی نظمنفرتوں کی امین قوم
image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں