اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارنے والی فلسطینی لڑکی عدالت میں


ایک اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارنے اور دیگر الزامات میں 17 سالہ فلسطینی لڑکی احد تامیمی کے خلاف مقدمے کا آغاز ہوگیا ہے۔

احد تامیمی کی وہ ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہوگئی تھی جس میں انھیں ایک اسرائیل فوجی کو تھپڑ مارتے دیکھا جا سکتا ہے۔

17 سالہ احد تامیمی کے خلاف 12 دفعات عائد کی گئی ہیں جن میں سکیورٹی اہلکار پر حملہ کرنے اور اشتعال انگیزی کے الزامات شامل ہیں۔

اگر ان پر الزامات ثابت ہوگئے تو انھیں ایک لمبے عرصے کے لیے قید کی سزا ہو سکتی ہیں۔

فلسطینیوں کے لیے احد تامیمی اسرائیلی قبضے کے خلاف احتجاج کی ایک علامت بن گئی ہیں۔ دوسری جانب بہت سے اسرائیلی انھیں ایک پرتشدد شخص سمجھتے ہیں جو کہ شہرت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے احد کی رہائی کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینی بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔

جب یہ واقعہ پیش آیا تو احد تامیمی کی عمر 16 برس تھی اور اس واقعے کی ویڈیو ان کی والدہ نے بنائی تھی۔ یہ واقعہ 15 دسمبر 2017 کو پیش آیا تھا۔

احد

AFP
</figure><p>بعد میں احد تامیمی کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور ان کی والدہ کے خلاف بھی سوشل میڈیا پر اشتعال پھیلانے کی دفعات عائد کی گئی ہیں۔ 

اس واقعے کے بعد اسرائیل کے وزیرِ تعلیم نے کہا تھا کہ احد تامیمی اور ان کی والدہ کو ’اپنی باقی کی زندگی جیل میں گزارنی چاہیے‘۔

دو سال قبل احد تامیمی کی ہی ایک ویڈیو منظرِعام پر آئی تھی جس میں انھیں ایک اسرائیلی فوجی کے ہاتھ کو دانتوں سے کاٹتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس اسرائیلی فوجی نے ان کے بھائی کو پتھر پھینکنے کے شبہے میں حراست میں لیا تھا۔

اُس موقعے پر ترک وزیراعظم طیب رجب اردوغان نے ان کی تعریف کی تھی اور انھیں ’بہادری‘ کا ایوارڈ دیا تھا۔

احد تامیمی پہلی مرتبہ 11 سال کی عمر میں منظر عام پر آئی تھیں جب انھیں ایک ویڈیو میں ایک فوجی کو مکے سے ڈراتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

فلسطینی انھیں اب ایک ایسی قومی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں جو ایک مقبوضہ سرزمین پر بہادری سے فوجیوں کے سامنے ڈٹ جاتی ہیں۔

انٹرنیٹ پر جاری ایک مہم میں 17 لاکھ افراد نے ان کی رہائی کی حمایت کی ہے۔

خصوصی عدالتیں

احد تامیمی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ ان کے رویے کی وجہ یہ تھی کہ اسی دن انھوں نے ان فوجیوں کی جانب سے اپنی کزن کو ربڑ کی ایک گولی مارے جانے کی ویڈیو دیکھی تھی۔

احد

AFP
</figure><p>اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے فوجیوں کو احد تامیمی کے گھر اس لیے بھیجا تھا کیونکہ وہاں سے فلسطینی نوجوان پتھراؤ کر رہے تھے۔ 

انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں کا کہنا ہے کہ احد تامیمی کا کیس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسرائیلی فوج کس طرح فلسطینی نوجوانوں کے ساتھ برا سلوک کرتی ہے۔

اسرائیلی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ تین برسوں میں نوجوانوں کے لیے بنائی گئی خصوصی فوجی عدالتوں میں 1400 فلسطینیوں کے خلاف مقدمات چلائے جا چکے ہیں۔

سول حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی عدالتی نظام میں بنیادی تحفظات موجود نہیں ہیں اور اسرائیل کا نظام ایک منصفانہ مقدمے کی گارنٹی نہیں دیتا۔

image_pdfimage_printPrint Nastaliq

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔






اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 2348 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp