سندھ کی بیٹی اور فسٹیولا کی بیماری (2)


جس دن میں نے اسے پہلی مرتبہ دیکھا تو وہ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق آپریشن کے دس دن بعد میرے کلینک آئی تھی۔ اس کی ماں اور بخش علی ساتھ تھے۔ اس کا سُتا ہوا چہرہ، اس کی لانبی لانبی پلکوںکے ساتھ بڑی بڑی سیاہ آنکھیں، اس کی طویل گردن اور گھنے بالوں سے بھرا ہوا سر…. وہ اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ سندھی لڑکیوں کے بارے میں میرے ذہن میں بسے ہوئے خیال کو نکال چکی تھی۔ اسے فسٹیولا ہوگیا تھا۔ میں نے اس کے شوہر کو بتایا کہ اس کی پیشاب کی تھیلی اور بچہ دانی کے راستے کے درمیان سوراخ ہوگیا ہے۔ میں نے ایسے بہت سے مریض دیکھے تھے۔ جب بچہ پیدا ہونے میں دیر لگاتا ہے اور اس کا سر کسی وجہ سے پھنس جاتا ہے تو اس سر کے دباﺅ کی وجہ سے پیشاب کی تھیلی اور بچہ دانی کے راستے کے درمیان میں سوراخ ہوجاتا ہے۔ پھر پیشاب رُکتا نہیں ہے، جتنا بھی پیشاب آتا ہے وہ اس سوراخ سے رستا رہتا ہے۔ موران کا فسٹیولا بہت بڑا تھا۔

اسے میں نے ہسپتال میں داخل کرلیا تھا۔ اس کا پہلا آپریشن ناکام ہوگیا تھا۔ وہ دس دن ہسپتال میں رہ کر واپس ٹھٹھہ چلی گئی۔ سوراخ اتنا بڑا تھا کہ باوجود تمام کوششوںکے مکمل طور پر بند نہیں ہوسکا۔ اسے میں نے چھ ہفتے کے بعد بلایا تھا۔

چھ ہفتے کے بعد موران اپنی ماں کے ساتھ دوبارہ آئی۔ وہیں اُداس چہرہ، امید لئے ہوئے، سب کچھ وہی تھا۔ موران کی ماں نے بتایا کہ بخش علی نے موران کو چھوڑدیا ہے۔ گاﺅں میں کوئی اس سے نہیں ملتا، اس کے پاس سے ہر وقت بو آتی رہتی ہے۔ اس نے میرے پیروں کو پکڑلیا۔ اتنی عاجزی سے مجھ سے کہا کہ ”ڈاکٹر میری بیٹی کو صحیح کردو، میرا تو کوئی اور ہے بھی نہیں۔“ اس کے جڑے ہوئے ہاتھوں کو تھام کر میں نے اپنی ٹوٹی پھوٹی سندھی میں کہا تھا۔ ”کوشش کروں گا، ضرور کوشش کروں گا۔“ اس کے کپکپاتے ہوئے ہاتھ لرز رہے تھے، اس نے بڑے چاﺅ سے، بڑی محبت سے میرے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ مجھے ایسا لگا تھا جیسے یہ موران کی ماں کے ہاتھ نہیں ہیں بلکہ میری ماں کے ہاتھ ہیں۔ محبتوں سے بھرپور جذبوں سے سرشار، مگر میں کچھ نہ کرسکا، چاہنے کے باوجود۔ چار گھنٹے تک آپریشن کرنے کے باوجود۔ دوسرا آپریشن بھی ناکام ہوگیا۔ میں موران کی ماں سے آنکھ نہیں ملا سکا تھا۔

اس کے بعد وہ بہت دنوں کے بعد آئی۔ اس کی ماں اس کے ساتھ تھی۔ اسے وارڈ میں داخل کرکے دو دن کے بعد وہ چلی گئی۔ موران کے لئے میں نے ایک اور آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایک سرجن دوست کے ساتھ مل کرایک نئی پیشاب کی تھیلی بنانے کی کوشش کی تھی۔ پہلے پانچ دن تک اس کا پیشاب آنا بند ہوگیا۔ ہم سب خوش تھے، بڑے پُراُمید، مگر چھٹے دن پیشاب پھر آنے لگا تھا۔ وہ بڑی پریشان تھی، بالکل پاگلوں کی طرح سے، کبھی ہنستی تھی، کبھی روتی تھی۔ نہ کوئی سوال نہ کوئی جواب۔ کبھی کھایا، کبھی نہیں کھایا۔ میں اسے دیکھتا تھا اور اس کی ماں کا پتھرایا ہوا چہرہ میرے سامنے آجاتا تھا۔ کاش! میں کچھ کرسکتا۔

انگلستان میں سالہا سال کام کرتا رہا، نہ جانے کیا کیا سیکھتا رہا۔ کینسر کا علاج، بانجھ پن کا مسئلہ، ٹیسٹ ٹیوب بے بی۔ وہاں میں نے ہزاروں عورتوں کو دیکھا تھا مگر کبھی بھی کوئی فسٹیولا نہیں دیکھا تھا۔ کراچی واپس آکر ہر تھوڑے دنوں بعد کوئی نہ کوئی عورت فسٹیولا کے ساتھ آجاتی تھی۔ پھر میں آہستہ آہستہ فسٹیولا صحیح کرنے لگ گیا اور باقی چیزیں بھولتا چلا گیا، مگر موران کا فسٹیولا اتنا بڑا تھا کہ تمام کوششوں کے باوجود میں ہارگیا۔

تھوڑے دنوں کے بعد ہم لوگوں نے اسے دماغی امراض کے وارڈ میں بھیج دیا۔ مجھے پتا لگا تھا کہ دواﺅں نے اس پر کوئی اثر نہیں کیا تھا۔ جس کے بعد اسے بجلی کے جھٹکے دیئے گئے تھے۔ وہ بولنے لگی تھی، اس کی ماں اس کے ساتھ تھی مگر موران اپنی ماں سے کم بولتی تھی بلکہ اس سے جھگڑا کرتی رہتی تھی۔ گاﺅں نے موران کو مسترد کردیا تھا۔ موران کا باپ، شوہر، سسرالی سب سمجھتے تھے کہ اس پر کسی آسیب کا سایہ ہے۔ گاﺅں کے مولوی نے بھی یہی کہا تھا کہ جس لڑکی کا پیشاب بہتا رہے وہ ناپاک ہوتی ہے اور ناپاکوں سے صرف شیطان کی دوستی ہوتی ہے۔ موران کو اپنے شوہر کا غم تھا جس نے قسمیں بھلادی تھیں، وعدے بھول گیا تھا۔ اس پیشاب کے بہنے میں اس کا توکوئی قصور نہیں تھا۔ یہ تو اس آنے والے بچے کی وجہ سے ہوا تھا جو اس کے شوہر کا بچہ تھا۔ ان کی محبت کی یادگار، ان کے خاموش اور ذاتی لمحات کا تحفہ۔ وہ اسے دیکھتی اور روتی تھی۔ اسے اپنے نامکمل جسم سے آہستہ آہستہ نفرت سی ہوتی جارہی تھی۔ اسے سب نے مسترد کردیا تھا۔ موران کسی کو بھی مسترد نہیں کرسکتی تھی۔ وہ تو صرف اپنی ماں کو ہی مسترد کرسکتی تھی۔ نہ جانے کیوں اسے اپنی ماں سے نفرت ہوگئی تھی۔ ایک روز میں اس کی ماں کے ساتھ دماغی امراض کے وارڈ میں اسے دیکھنے گیا ۔ وہ وارڈ کے چوکیداروں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی ایک عجیب قسم کا ایک آدمی اور بھی تھا وہاں پر۔ ایسا ہی آدمی جن کو سول ہسپتال میں دیکھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ یہ لوگ چاروں طرف گھومتے رہتے ہیں۔ کبھی دواﺅں کے بہانے سے، کبھی خون کے بہانے سے، کبھی کسی اور چیز کے بہانے سے۔ یہ لوگ مریضوں کی بیٹیوں، بیویوں، بہنوں اور یہاں تک کہ مریضوں کے ساتھ بھی وہ سب کچھ کر گزرتے ہیں جو کہانیوں میں ہوتا تھا۔ نہ جانے کتنے معصوموں کو پامال کیا ہے ان لوگوں نے۔ ہم دونوں کو دیکھ کر وہ لوگ فوراً ہی چلے گئے۔ موران بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ اس نے ایک پشیمانی کی مسکراہٹ کے ساتھ مجھے دیکھا اور اپنی ماں پر ناراض ہونے لگی۔ تھوڑی دیر میں میں واپس آگیا۔

دو دن بعد صبح صبح میں اپنے کمرے میں پہنچا ہی تھا کہ موران کی ماں روتی ہوئی آئی۔ ”ڈاکٹر وہ چلی گئی۔ پتا نہیں کدھر ہے؟“ کل دوپہر کے بعد سے موران وارڈ چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ میرے کمرے کے بنچ پر بیٹھی ہوئی وہ بے سہارا عورت ایک بڑھیا کی طرح بین کررہی تھی۔ ”وہ مر کیوں نہیں گئی۔ مجھے چھوڑ کر کہاں چلی گئی، موران موران….“

میں سوچتا رہا، ٹھٹھہ کا گاﺅں، ٹھٹھہ کا ہسپتال، بچہ جننے والی عورت اور سندھ کے وڈیرے، جاگیردار، پیر، فقیر، پاکستان کے سرمایہ دار، چوہدری، مولوی، امیر و کبیر جو اپنے بچوں کے ٹانسل نکلوانے امریکا جاتے ہیں، جواپنے بچے کے آپریشن کے لئے لندن جاتے ہیں، لاکھوں ڈالر، لاکھوں پاﺅنڈ اور ٹھٹھہ کا ہسپتال، جہاں نہ ڈاکٹر ہے نہ نرس، نہ آکسیجن ہے نہ پانی…. موران ہے موران کی ماں ہے، درد بھری زندگی ہے اور فسٹیولا ہے۔

دو دن تک اس کی ماں پاگلوں کی طرح گھومتی رہی۔ بچوں کی طرح بلکتی رہی، کوشش کے باوجود موران کا کچھ پتا نہیں چلا۔ پھر وہ واپس ٹھٹھہ چلی گئی۔

کئی مہینوں کے بعد میں کلفٹن آغا سپرمارکیٹ کے سامنے اپنی گاڑی سے ٹیک لگائے اپنے دوست امجد کا انتظار کررہا تھا کہ میرے سامنے ایک لمبی سی گاڑی رُکی۔ اس میں سے ایک گندا سا عرب زور سے ہنستا ہوا اُترا، اور آغا سپرمارکیٹ میں چلا گیا۔ دروازہ کھلتے ہی خوشبو کا تیز بھبکا میں نے محسوس کیا۔ اندر موران بیٹھی تھی۔ مجھے دیکھ کر وہ باہر آگئی۔ وہی خوبصورت لڑکی، اسی ناک نقشے کے ساتھ، وہی چہرہ، وہی آنکھیں، وہیں معصوم صورت، حسن کی مکمل مورت، کلاڈیا شیفر کا سا انداز، یاسمین غوری جیسی سیاہ اور گہری آنکھیں، نومی کیمبل کا سا نکلا نکلا لانبا سا بدن، جیری ہل کی طویل گردن اورمادھوری ڈکشٹ کے نپے تلے ہوئے قدم، بھارت نا ٹیم کا رقص۔ وہ دھیرے سے مسکرائی اور میرے قریب آکر عجیب سے انداز سے بولی۔ ”میری ماں گاﺅں چلی گئی تھی۔ میرے پاس کچھ نہ تھا اس کے لئے۔ صرف پیشاب تھا پیشاب۔ اس پیشاب کو چھپانے کے ئے میں خوشبو میں ڈوبی ہوئی ہوں۔“ اس نے اپنی لانبی لانبی پلکوں والی آنکھوں کو اٹھا کر دھیرے سے کہا۔ ”میں رنڈی بن گئی ہوں۔“ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا وہ گندا سا عربی آگیا اور وہ اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی۔

میں نے آنکھیں بند کرلی تھیں۔ مجھے ایسا لگا جیسے اوپر بہت اوپر ایک بڑا سا فسٹیولا ہے، جہاں سے موران کا پیشاب بہہ بہہ کر آرہا ہے۔ میرے سامنے سندھ کے، پنجاب کے، پاکستان کے، چانڈیو، بگھیو، بھٹو، تالپور، جونیجو، شاہ، پیر، لغاری مزاری، سومرو، چوہدری اپنی بڑی بڑی پگڑیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، جن کو تر کرتا ہوا یہ پیشاب ان کی پیشانی اور چہروں سے رستا ہوا، ٹپ ٹپ ٹپ کرکے سندھ کی دھرتی میں جذب ہو رہا ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں