وفات سے کچھ دن پہلے عاصمہ جہانگیر سے لیا گیا انٹرویو


سوال : ہمارے ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال کو کیسے دیکھتی ہیں؟

عاصمہ جہانگیر: انسانی حقوق ملک میں بسنے والے ہر اس شہری کے پیدائشی حقوق ہیں، جو اس دھرتی پر جنم لیتا ہے۔ یہ تمام حقوق انسانوں کے ہی ہیں اور ان کو ہی ملنے چاہئیں ۔ دنیا کی تمام مہذب قوموں نے اپنے شہریوں کے ان حقوق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا، ہمیں ان ترقی یافتہ قوموں اور ممالک کی پیروی کرنا چاہئے، ہمیں سماج پر نظر رکھنی چاہیے کہ کہیں بھی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو۔ اگر کہیں ایسی صورت حال پیدا ہوتی بھی ہے تو اس کے خلاف تمام طبقات کو آواز بلند کرنی چاہئی۔ ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ آئے روز انسانی حقوق کی خلاف وزریاں ہوتی رہتی ہیں، اور اس سے بڑی بدقسمتی یہ کہ ہم اس پر خاموش رہتے ہیں، اس کے خلاف آواز بلند کرنے والی زبانیں بہت کم ہوتی ہیں، زیادہ نہیں ہوتیں۔

سوال: انسانی حقوق کی وزریوں کا ذمہ دار کون؟

عاصمہ جہانگیر :پہلے تو آپ کو دیکھنا ہو گا کہ ریاست کا کام کس کے ہاتھ میں ہے، ریاستی امور کون انجام دے رہا ہے، یہاں تو کوئی پتا نہیں چلتا کہ ریاست کس کے ہاتھ میں ہے اور ذمہ دار کس کو ٹھہرایا جائے۔ ہمارے ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی کئی اقسام ہیں۔ ہمارے ہاں سویلین سائیڈ پر خلاف ورزی الگ ہے، سیکیورٹی فورسز کی طرف سے الگ اور سنگین قسم کی خلاف وزریاں ہوتی ہیں، اور ان کے خلاف کوئی بول بھی نہیں سکتا، کوئی ان کی شکایت بھی نہیں کر سکتا، ان خلاف ورزیوں پر کوئی مقدمہ درج نہیں ہوتا، نہ کوئی شنوائی ہوتی ہے نہ داد نہ فریاد۔ پہلی بات یہ کہ ان خلاف ورزیوں یا مظالم کے خلاف فریق متاثر بھی بول نہیں سکتا ، شنوائی یا ازالہ تو بعد کی بات ہے۔ بلوچستان میں کئی برسوں سے جو کچھ ہو رہا ہے اس پر کوئی بات کرنے کے لئے تیار نہیں، اسی طرح گلگت بلتستان میں بھی کافی کچھ ہوتا رہتا ہے لیکن کوئی کس کو کیا کہے؟ کراچی کی صورتحال بھی الگ نہیں ہے، یہ سچ ہے کہ کراچی میں امن امان قائم ہوا ہے، لوگ خوش ہیں، کاروبار چل پڑا ہے، شہر کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ لیکن دوسری طرف انسانی حقوق کی خلاف وزریوں کا بھی کوئی حد حساب نہیں۔ نوجوان طبقے کی زندگی عذاب میں ہے، لوگوں کو بغیر وجہ بتائے گرفتار کیا جاتا ہے، کئی لوگوں کو ہراساں کیا جاتا ہے، باقی سندھ میں بھی ایسے کئی کیسز ہیں۔ سیاسی جماعتیں بے بس ہوچکی ہیں، یہ صورتحال کسی منی مارشل لاسے کم تو نہیں۔ فوجی عدالتیں قائم کی گئی ہیں لیکن ان کی بھی کوئی خاص کارکردگی نہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں لیکن حکومت کی بھی کوئی ذمہ داری ہوتی ہے، وہ شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری ہوتی ہے اور وہ ان کو نبھانی بھی ہوتی ہے۔ لیکن یہاں حکومت نے کوئی پالیسی نہیں بنائی، سول حکومت ابھی تک یہ نہیں سمجھ سکی کہ اس کے اختیارات کیا ہیں، کس نے اختیارات چھین لیے ہیں، اس کو اپنے اختیارات واپس کس طرح لینے ہیں۔ جو بات وزیراعظم کو کرنی چاہئے وہ بات یہاں فوج کر رہی ہے۔

خواتین حقوق کی بحالی کے حوالے سے کیا کہیں گی؟ کیا اب بھی خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے؟

عاصمہ جہانگیر: دیکھیں خواتین کے حقوق بارے قانون سازی ہونا اچھی بات ہے، اب تک جو بھی غلط ہوا، اس کا کچھ نہ کچھ ازالہ ہونے کی امید ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ خواتین کو اس سوسائٹی نے پیس کر رکھا ہے۔ یہ قانون سازی اور دوسرے اقدام ٹھیک ہیں لیکن پھر بھی بات وہیں آ جاتی ہے کہ سول حکومت کو جب تک اپنے اختیارات کا پتہ نہیں لگے گا تب تک یہ اقدامات مفید نہیں ہو سکتے۔ اگر یہاں پر سول اور جمہوری اداروں کو مضبوط نہیں کیا جائے گا تو خواتین اپنی فریاد کہاں لے کر جائیں گی؟ جب تک حکومت اس حوالے سے میکنزم یا طریقہ کار طے نہیں کرتی تب تک خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی کا مکمل ازالہ ممکن ہی نہیں۔

سوال :پھرسوال تو اقلیتی حقوق کا بھی پیدا ہوتا ہے، اس کو آپ کس نظر سے دیکھتی ہیں؟

پاکستان میں اقلیتیں تین اقسام کی ہیں، وہ سب کی سب مسائل میں گھری ہوئی ہیں ۔ ایک اقلیت فرقہ واریت سے پیدا ہوئی ہے، جسے شیعہ کا نام دیا گیا ہے ان پر آئے دن فتوے لگتے ہیں اور اس کا سیاسی پہلو یہ ہے کہ ہماری ریاست سعودی عرب اور ایران دونوں میں سے کس کو ترجیح دے رہی ہے؟ وہ سب کے سامنے ہے اگر یہ صورت حال آگے چل کر بگڑتی ہے تو اس کا اثر پاکستان میں اور خاص طور شعیہ کمیونٹی پر ضرور پڑنا ہے۔ اس ملک میں دوسری اقلیت احمدیوں کی ہے ان کی حالت زیادہ ہی بری ہے۔ ان کو آئے دن دھمکیاں ملتی رہتی ہیں ان کے حق میں کوئی بات کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ۔ تیسری اقلیت غیر مسلم ہندو، عیسائی، پارسی اور سکھ ہیں۔ وہ بھی آئے دن کئی مسائل کا شکار ہیں، کئی ہندو، پارسی اورعیسائی ملک چھوڑ چکے ہیں۔ اقلیتی برادری کے لئے پارلیمنٹ میں نشستیں بڑھانے یا ان کے تحفظ، برابری، شادی رجسٹریشن وغیرہ یا اس قسم کی قانون سازی ٹھیک ہے لیکن غیر مسلم اقلیتیوں میں جو نچلے طبقے کی اقلیتیں ہیں ان کو کیا ملا ہے؟ وہ تمام کی تمام اب بھی مشکلات میں ہیں ان کے پاس کچھ نہیں ۔ پہلے عیسائیوں کے پاس چلانے کے لئے اسکول اور ہسپتال تھے لیکن اب ان کے پاس کچھ بھی نہیں۔

سوال : انسانی حقوق کی بحالی کے لئے وکلا اور بار ایسوسی ایشنز کا کیا کردار ہونا چاہئے؟ ان کے کردار سے آپ کس قدر مطمئن ہیں؟

عاصمہ جہانگیر: بار ایسوسی ایشنز کچھ کام کر رہی ہیں لیکن ان کو کافی کچھ کرنا ہے، جو کچھ کرنا چاہئے وہ نہیں کر رہی ہیں یا نہیں کر پا رہی ہیں، وکلا آواز بلند کر رہے ہیں پر وہ بھی کافی نہیں۔ بدقسمتی ہے کہ بار ایسوسی ایِشنز کوئی فری لیگل ایڈ نہیں چلا رہی ہیں نہ ہی کمزور، غریب اور کمزور طبقات کے حقوق اور اقلیتوں کے لئے اعلی عدالتوں سے رجوع کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ وکلا کمیونٹی میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اقلیتی حقوق کے لئے لڑنے والے وکلا کو دھمکیاں بھی دیتے ہیں، ان سے لڑائی بھی کرتے ھیں ، ان کی اکثریت نہیں لیکن وہ بھی اس سماج کا حصہ ہونے کے ناطے موجود ضرور ہیں۔

سوال : انصاف تک رسائی اور عدلیہ کے کردار پر کیا تبصرہ کریں گی؟

عاصمہ جہانگیر: ہم نے ہمیشہ عدالتی آزادی کی جنگ لڑی ہے، لیکن اسی عدالتی آزادی کی تحریک کے بعد کیا ہوا؟ ہم نے افتخار چودھری کا بھی دور دیکھا جس نے انصاف تک رسائی کو من پسند اور محدود بنا دیا۔ انہوں نے اپنی پسند پر ازخود نوٹس لے کر عدلیہ کے کردار کو ہی مشکوک بنانے کی کوشش کر دی۔ انہوں نے اپنے فیصلو ں سے ایسا ماحول بنا دیا جس سے لگا کہ عدالت ایک فریق کے طور سامنے آنے لگی ہے. ان کے فیصلے بھی دیرپا نہیں تھے، دوسری بات یہ کہ انہوں نے جو جج بھرتی کئے ان سے آپ کس طرح انصاف تک عام لوگوں کی رسائی کی امید رکھ سکتے ہیں ۔ ان میں سے اکثر ججوں کو انسانی حقوق کا کوئی پتا نہیں اس لئے میں تو کہوں گی کہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کی اسکروٹنی کی جائے۔ جن کی تقرریاں غلط بنیاد پر ہوئی ہیں ان کو فارغ کر دیا جائے۔ انصاف تک رسائی بنیادی حق ہے اس پر عملدرآمد ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن یہاں بھی سوال یہ ہے کہ اس کے لئے کوئی نظام وضع بھی کیا ہے یا نہیں۔

image_pdfimage_printPrint Nastaliq

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ابراہیم کنبھر

ابراھیم کنبھرموئن جو دڑو کی وارث سندھ دھرتی کے مٹی جیسے مانھو ہیں۔ کل وقتی صحافی ہیں۔ پیشہ ورانہ فرائض کے ضمن میں اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ سندھی ٹی وی چینل کے ٹی این نیوز کے لئے کام کرتے ہیں اور سندھی روزنامے کاوش میں کالم لکھتے ہیں۔

abrahim-kimbhar has 36 posts and counting.See all posts by abrahim-kimbhar