باراک اوباما کیا کہتے ہیں؟


  0امریکہ کے صدر باراک اوباما نے بھارت اور پاکستان کو متنبہ کیا ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کے معاملے میں غلط راستہ اختیار کرنے سے گریز کریں اور ایسی ملٹری ڈاکٹرا ئن وضع نہ کی جائیں جو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا کے لئے تباہی اور خطرہ کاسبب بن سکتی ہیں۔ امریکی صدر واشنگٹن میں جوہری تحفظ کے لئے منعقد ہونے والے دو روزہ عالمی سربراہی کانفرنس کے اختتام پر پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ اس کانفرنس میں بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی شریک ہوئے تھے لیکن پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے گزشتہ اتوار کو لاہور میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ کی وجہ سے اپنا دورہ ملتوی کردیا تھا۔ اوباما نے جوہری خطرہ کے حوالے سے برصغیر کوخطرناک ریجن قرار دیا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان دشمنی کا رشتہ ہے اور مصالحت اور مذاکرات شروع کرنے کی کوششیں کسی نہ کسی سانحہ کی وجہ سے ناکام ہوجاتی ہیں۔ اس سال کے شروع میں دونوں ملک سیکرٹری خارجہ امور کی سطح پر بات چیت کرنے اور جامع مذاکرات کے لئے راہ ہموار کرنے پر متفق ہوگئے تھے لیکن پٹھان کوٹ ائیر بیس پر دہشت گرد حملہ کی وجہ سے یہ ملاقات تعطل کا شکار ہوگئی ۔ ابھی اس مشکل پر قابو پانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئی تھیں کہ گزشتہ ماہ کے شروع میں پاکستان نے بلوچستان سے ’را ‘ کا ایک اعلیٰ عہدیدار کلبھوشن یادیو پکڑ لیا۔ یہ شخص بھارتی نیوی کا حاضر سروس کمانڈر تھا ۔ اتنے بڑے عہدے پر فائز دشمن ملک کا کوئی جاسوس پکڑا جانا اپنے طور پر سنسنی خیز واقعہ ہے۔ بھارت نے اگرچہ یہ تسلیم کیا ہے کہ یہ شخص اس کا شہری ہے لیکن اس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ کلبھوشن کا نئی دہلی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن پاکستان اس وضاحت کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہو سکتا۔ یہ گرفتاری خاص طور سے اس لئے پریشان کن ہے کہ اس شخص کو کسی روایتی جاسوسی مشن پر روانہ نہیں کیا گیا تھا بلکہ وہ دہشت گرد عناصر کو اسلحہ، تربیت، اور وسائل فراہم کر کے پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی اور فرقہ وارانہ فسادات کروانے میں مصروف رہا ہے۔

اس پس منظر میں صدر اوباما کا انتباہ اگرچہ زمینی حقائق کے مطابق ہے لیکن اس خطرہ کو بھانپنے کے باوجود امریکہ اور دیگر مغربی ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات بحال کروانے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ جوہری پھیلاؤ کو روکنے اور ان ہتھیاروں کے تحفظ کے لئے اقدامات کے سلسلہ میں بلاشبہ برصغیر پاک بھارت میں حالات کو معمول پر لانا اور ان دونوں ملکوں کو اس بات پر آمادہ کرنا ضروری ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی دوڑ سے باز رہیں۔ صدر اوباما نے کسی ملک کا نام لئے بغیر کہا کہ چھوٹے ایٹمی وار ہیڈز اور انہیں داغنے کے لئے میزائل سسٹم کی تیاری اس وقت سب سے بڑا خطرہ ہے۔ یہ ہتھیار موبائل ہوتے ہیں اور اندیشہ ہے کہ دہشت گرد اس قسم کے ہتھیاروں کو آسانی سے حاصل کرسکتے ہیں۔ بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کے مقابلے میں ایسے نظام تیار کررہے ہیں۔

امریکہ صرف پاکستان کو دبا کر یا اس کے صدر زبانی وارننگ دے کر اس خطرے سے نمٹنے کے لئے کوئی خاص خدمت سرانجام نہیں دے سکتے۔ اس مقصد کے لئے پاکستان اور بھارت کے ساتھ بات کرنے اور انہیں باہمی اختلافات مذاکرات کے ذریعے دور کرنے پر آمادہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا کو جوہری تباہی کے ایک بڑے خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔ بھارت کی تجارتی اہمیت کے پیش نظر امریکہ سمیت دیگر ممالک بھارت پر کسی قسم کا سفارتی دباؤ ڈالنے سے گریز کرتے ہیں۔ ان حالات میں نہ دونوں ملکوں کے تنازعات حل ہوں گے اور نہ ہی مہلک ہتھیاروں کی تیاری اور بنی نوع انسان کے وجود کو خطرہ سے نجات حاصل کی جا سکے گی۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 411 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali