دلی کے پیٹ میں


عاطف نثار نجمی

Atif Nisar Najmi

یہ حادثہ دہلی کا ہے۔ کچھ دنوں قبل دوستوں کے ساتھ سیر و تفریح کا موڈ بنا۔ سوچا آج پرانی دہلی کا رخ کرتے ہیں۔ فتح پوری سے صدر بازار ہوتے ہوئے جامع مسجد بھی پہنچ گیا۔ گیٹ نمبر ایک پر جب پہنچا تو سوچا کیوں نہ آج پرانی دہلی کے چہار عالم میں شہرت گیر کھانوں سے بھی لطف اندوز ہولیا جائے۔ ویسے بھی پرانی دہلی کو آج تک دن کے اجالے میں ہی دیکھا تھا۔ دن کی روشنی تو یہاں عالم نفسی کی گواہ ہوتی ہے۔ اس لئے رات کا انتخاب کرنا پڑا۔ رات کافی غنیمت لگی. کھانے سے فارغ ہو کر سوچا کیوں نا جامع مسجد کے بھی دیدار کر لئے جائیں۔ نہ جانے کیوں اس تاریخی عمارت کو دیکھ کر ہمیشہ مجھے یہی خیال آتا ہے کہ کیوں اب تک اسے شعبہ آثار قدیمہ ہند نے اپنی سرپرستی میں نہیں لیا ہے۔ حالاںکہ میرے کچھ ‘مسلم’ دوست مجھ سے اکثر اس بات پر لڑ جاتے ہیں کہ ایسا کرنے سے مسجد کے ساتھ بہت سوتیلا برتاؤ کیا جائے گا۔ لیکن یہ بات بھی اب تک میری سمجھ سے پرے ہے کہ وقف بورڈ جیسے ادارے نے کون سا اس کے ساتھ سگی ماں جیسا سلوک کیا ہے۔ جنہیں خود ابھی آپ کو سنبھالنے کی ضرورت ہے وہ اس عظیم تاریخی امانت کو کیسے سنبھال سکتے ہیں۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ جامع مسجد کی حالت دیکھیں اور فنون لطیفہ کے اپنے تابناک ماضی اور روایت پر فخر کے بجاۓ لعنت کے چار چھینٹیں چھڑک دیں۔ صدر بازار،فتح پوری، مینا بازار اور جامع مسجد سب اپنی حالت زار پر ایک ساتھ مل کر حسیت سے معدوم افراد پر نوحہ کناں ہیں۔ اسی دوران میں ایک بچہ اور ایک عورت میرے سامنے ہاتھ پھیلا دیتے ہیں۔ ایک خیال اچانک بجلی کی مانند میرے ذھن میں کوندتا ہے کہ تاریخ کے اتنے طویل دائرے سے گزرتے ہوئے میں خود اپنے آپ کو غریب محسوس کرتا ہوں پھر میں انہیں کیا دے سکتا ہوں!

 گیٹ نمبر ایک سے سٹی ہوئی مسجد کی دیوار کے قریب پہنچا تو فٹ پاتھ پر کھجور کی ڈھیروں دوکانیں لگی دیکھتا ہوں۔ ایک عدد عمدہ کھجور کی تلاش میں ساری دوکانوں پر ماتھا پچی کرنے کے بعد ایک دوکان دار سے معاملہ جم جاتا ہے۔ دوکان دار محمد شمشاد جو کہ بیگو سراۓ (بہار) سے تھے،کھجوروں کی اچھی جانکاری دے رہے تھے۔ سب سے عمدہ اور مہنگی کھجوریں سعودی عرب سے، اس سے تھوڑی کم قیمت اور کوالٹی والی ایرانی کھجوریں، اس سے کم والی لیبیا سے۔ اسی اثنا میں نے دیکھا کونے میں کھجوروں کے دو ڈبے پڑے ہیں جس میں دبی کچلی، نچی پھٹی کھجوریں تھیں۔ لگ رہا تھا جیسے ابھی ابھی کسی نے ان پر پٹاخے پھوڑے ہوں۔ از راہ تجسّس میں نے پوچھ لیا یہ کہاں کی ہیں؟ شمشاد بھائی نے بتایا یہ عراق اور شام کی ہیں۔ عراق اور شام کی کھجوریں اپنے ملک کے سیاسی،سماجی اور معاشی حالات کی مرثیہ خوانی کررہی تھیں۔ یعنی جیسے ملک کے حالات ٹھیک ویسی ہی کھجوریں۔ شمشاد بھائی کے لئے وہ صرف کھجوریں تھیں۔ کھجوریں! جو خود بک کر پیسہ کما کر شمشاد بھائی کا پیٹ بھر سکتی تھیں۔ میرے لئے تو وہ دیش، ملک اور وطن تھیں، خواہ کسی کا بھی ہو، سب سے بڑھ کر کسی انسان کا وطن جسے چند مفاد پرست،خود غرض بھیڑیے نما انسانوں کے سیاہ کارناموں کی بدولت اپنی مٹی سے بچھڑنا پڑا ہو۔ لوٹتے وقت میں یہ سوچ رہا تھا کہ اچھا ہوا جو فلسطین کی کھجوریں دیکھنے کو نہیں ملیں۔


Comments

FB Login Required - comments