یہ مزار اہلِ صفا کے ہیں


 shahid malikمنو بھائی کہا کرتے ہیں کہ نارمل لوگوں کے بارے میں نارمل طریقے سے لکھنا سب سے مشکل کام ہے۔ خود انہوں نے پاکستانی صحافت میں یہ کام کر کے دکھایا، مگر وہ جو فراق گورکھپوری کا کہنا ہے کہ ’بشکلِ شہرت مبہم صلے سخن کے ملے ‘۔ اصل میں، پیغام رسانی کے لئے صرف طاقتور ٹرانسمیٹرہی ضروری نہیں، حساس انٹینا بھی درکار ہوتا ہے۔ اسی لئے تو ایک بار لاہور میں روزنامہ ’’جنگ‘‘ کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے منو بھائی سے مل کر ادارے کے بانی ایڈیٹر میر خلیل الرحمان کی زبان سے نکلا ’بھئی رات ٹیلی ویژن پر تمہارا ڈرامہ دیکھا، بہت مزہ آیا‘۔ ’پی ٹی وی کے ایم ڈی میرے کالموں کی تعریف کرتے ہیں‘۔ منو بھائی یہ برجستہ جواب دئے بغیر نہ رہ سکے تھے۔ یہ طے ہے کہ نارمل لوگوں کے متعلق نارمل طریقے سے لکھنا ہے تو بڑی بات، مگر لکھنے والا اس وقت کیا کرے جب نارمل لوگوں کے حالات دیکھ کر یہ کہنا پڑے :

چلو آؤ تُم کو دکھائیں ہم، جو بچا ہے مقتلِ شہر میں

یہ مزار اہلِ صفا کے ہیں، یہ ہیں اہلِ صدق کی تربتیں

یقین نہ آئے تو پچھلے اتوار گلشن اقبال لاہور کے سانحہ یا اس سے پہلے کے ایک واقعہ کو یاد کر لیجئے جسے آج تین برس کم، چالیس سال ہونے کو ہیں، لیکن ذہن کی دیوار پہ چپکا ہوا یہ داغ دھلنے نہیں پاتا۔ اُس صبح مجھے ایک جذباتی جیالے کا فون آیا تو آواز بے کیف سی تھی ’ملک جی، کم ہو گیا جے‘۔ ’کیا مطلب؟‘ ’بھٹو کو پھانسی ہو گئی‘۔ ’ناممکن ہے‘۔ ’باہر تو نکلیں ضمیمے بک رہے ہیں‘۔ تب تک اخباری ضمیمے بکنے کی کہانیاں تو سن رکھی تھیں، مگر ہم ان کہانیوں کا حصہ نہیں بنے تھے۔ چند ہی منٹ میں پتا چل گیا کہ ضمیمے سیاہی میں تر ہوں تو باطن کی شہ سرخی لکھنے کے لئے انگلیاں خون دل میں ڈبونی پڑتی ہیں۔ فون کرنے والا جاوید خان تو خیر پیپلز پارٹی کا سرگرم کارکن اور واہ کے دفتر کا سیکرٹری تھا۔ خود میں آج تک نہیں جان سکا کہ یہ منجمد لمحہ میری ذات کے آنگن میں ہمیشہ کے لئے ٹھہر کیوں گیا ہے۔

buttoعقلی آدمی ہونے کے ناطے سے اپنا شمار کبھی ذوالفقار علی بھٹو کے جذباتی پرستاروں میں نہیں ہوا۔ یوں بھی ایک موٹر کار میں جھلک کے علاوہ انہیں دو ہی مرتبہ دیکھا۔ پہلے پہل 1970ء کی انتخابی مہم میں جناح پارک سیالکوٹ کے جلسے میں جب ہم بی اے فائنل کی تیاری کر رہے تھے۔ اس جلسہ میں دقیانوسی قیادت کو رد کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے ان کے اس وقت کے قریبی ساتھی احمد رضا قصوری نے اپنے سامنے رکھی ہوئی ایک میز کو زور سے لات ماری تھی، جو مجھے حیران کن حرکت لگی۔ چھ سال بعد دوسری انتخابی مہم کے دوران لاہور کے ناصر باغ میں بھٹو صاحب کی ’اتنی سی پی لیتا ہوں‘ والی تقریر سنی۔ میں گورنمنٹ کالج کے اساتذہ میں اپنے سینئر ساتھی شعیب ہاشمی کے ساتھ کھڑا تھا کہ بھٹو کے ہر جملے پر اچھل اچھل کر داد دینے والے ایک باریش بزرگ نے وارفتگی میں مجھے کہنی مار کر کہا ’باؤ جی، تُسی وی نچو‘۔

آخری اجتماع واہ میں غائبانہ نماز جنازہ کا ہے، جہاں پھانسی کے ضمیمے نکلتے ہی فیکٹری کی چھٹی کے وقت دسیوں ہزار محنت کش ویلفیئر اسٹیڈیم میں اکٹھے ہو گئے تھے۔ امامت کے لئے شہر بھر میں بس ایک ہی مولوی صاحب کیسے رضامند ہوئے اور کیا ان کا تعلق مسلمانوں کے اکثریتی مسلک سے تھا؟ یہ الگ کہانی ہے، لیکن مجھے تو بار بار ان کا پہلا جملہ ہی یاد آتا ہے۔ ’آج ہم اس شخص کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کر رہے ہیں جو عالم اسلام کی عزت تھا۔۔۔ جو مزدور کے سر کی چادر تھا ‘۔۔۔ یہاں پہنچ کر میرا قلم رک جاتا ہے۔۔۔ بس آہ و بکا کا شور ہے۔۔۔ ایک بے معنویت ہے، بے بسی ہے۔ میں نے چھ چھ فٹ کے جوانوں کو یوں بلک بلک کر روتے کبھی نہیں دیکھا۔ اور یہ پیشہ ور سیاسی کارکن نہیں، بلکہ میری اور آپ کی طرح ایک خوشحال، پُر امن اور جمہوری پاکستان کا خواب دیکھنے والے عام لوگ تھے۔

تاریخی واقعات پہ دوبارہ نظر ڈالیں تو ایوب خان کی کابینہ سے بطور وزیر مستعفی ہونے پر بھٹو صاحب نے ’نوائے وقت‘ کے ادارتی صفحے کے لئے خارجہ پالیسی کے موضوع پر سلسلہ وار مضامین لکھے تھے، جن پر مبنی کتاب ’ مِتھ آف انڈیپنڈنس‘ کے نام سے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کی۔ عقلی آدمی کے حافظے میں اس پیپر بیک ایڈیشن کے بیرونی صفحہ پر برطانوی مفکر برٹرینڈ رسل کے الفاظ نقش ہیں جنہوں نے ترقی پذیر دنیا کے لئے بھٹو کے امکانی قائدانہ کردار کا واضح اشارہ دیا اور کہا کہ وہ ’جناح کی روایت کا لیڈر‘ ہے۔ کیا بھٹو کو پھانسی دے کر ہم نے جناح کی روایت کو بھی سولی پہ نہیں لٹکا دیا تھا؟ میں آپ پر اپنا جواب مسلط نہیں کرنا چاہتا، مگر قریب قریب یہی وہ مرحلہ ہے جب ’گرم پانیوں‘ پہ قبضہ کرنے کی روسی خواہش کو خطرہ سمجھ کر ہم کثیر تعداد میں افغان مزاحمتی افواج کا حصہ بن گئے۔

مجھے اعتراف ہے کہ انگریزی ادب کے چھبیس سالہ لیکچرار کے طور پر اس اقدام کی مکمل تزویراتی تفہیم اُس وقت میرے ذہن کی پہنچ سے باہر تھی۔ ہاں، اتنا سمجھ میں آتا تھا کہ افغانستان کی نیم کوہستانی اور کٹی پھٹی سر زمین پر کسی بھی غیر ملکی فوج کے لئے مستقل قبضہ برقرار رکھنا ممکن نہیں ہو گا۔ دوسرے یہ خدشہ کہ ہم نے اتنی بڑی تعداد میں جو افرادی قوت اس جنگ میں جھونک دی ہے، حالات بہتر ہو جانے پر اس کی کھپت کہاں اور کیسے ہوگی؟ وقتی طور پہ لگتا تھا کہ ہمارے ’اللہ لوک‘ حکمران ہماری اس عسکری مداخلت کو ایک اسلام پسند کارروائی سمجھ رہے ہیں، جس میں شائد کسی شعوری بد نیتی کو دخل نہ ہو۔ اُس انگریز صحافی سے تو میں بعد میں ملا جس نے بتایا کہ افغان مزاحمتی فو جوں کے لئے مجاہدین کی اصطلاح پہلی بار اسی نے استعمال کی۔ پتا نہیں اس میں کون سے دینی جذبے کو دخل تھا؟

سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے اس طرز عمل کے مجموعی نتائج کی نشاندہی اپنی کتاب میں یوں کی ہے : ’ضیاالحق نے اپنی مرضی کے اسلام کی تشہیر کے لئے سوویت یونین کی مداخلت کا ناجائز فائدہ اٹھا کر دنیا بھر سے جنگجوؤں کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور سوویت یونین کی پسپائی کے بعد بھی انہیں پاکستان میں قیام کی اجازت دئے رکھی۔ انہوں نے نہ صرف افغانی بلکہ پاکستانی جہادیوں کے لئے بھی مدارس میں تربیت گاہیں قائم کیں۔ افغان مہاجرین کو پورے پاکستان میں بلا روک ٹوک سفر کرنے کی اجازت تھی اور ان میں سے بہت سوں کو پاکستانی شہریت بھی دے دی گئی۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ ضیاالحق مجاہدین کی سرگرمیوں سے مسلسل چشم پوشی برتتے رہے، یعنی اپنے جہاد کے لئے مالی وسائل فراہم کرنے کی خاطر پاکستانی منڈی میں اسلحے کی فروخت اور منشیات فروشی‘۔ آپ پوچھیں گے کہ بھٹو کی پھانسی اور پچھلے اتوار گلشن اقبال لاہور میں کھیلی گئی خون کی ہولی کا آپس میں کیا تعلق ہے؟

میں فوری طور پہ کہوں گا کہ اپنی اجتماعی بے بسی کا شدید احساس، مگر خورشید قصوری کی تصنیف کا اقتباس اس منطقی ربط کا تناظر فراہم کرتا ہے جس کی روشنی میں کسی کی طرفداری کئے بغیر پچھلے چالیس برس کے واقعات کو سمجھا جا سکتا ہے۔ پھر بھی بات واضح نہ ہو سکے تو مجھے تجزیہ نگاری کی بجائے اُس لوک دانائی کا سہارا لینا پڑے گا جو ہمارے شہر و دیہات میں عام ہونے والی روزمرہ کہانیوں میں ’گلستان سعدی‘ کی حکایات کی طرح موجود ہوتی ہے، جو قصہ میں سنانے والا ہوں، نوعمری میں میری آنکھوں کے سامنے ہوا اور اس کا مرکزی کردار میرے اور علامہ اقبال کے آبائی شہر کا ایک ’کن ٹُٹا‘ بشیرا گھیسی تھا جو باعزت لوگوں کو جھُک کر سلام کرتا اور چھوٹے موٹے آدمیوں پہ کبھی ہاتھ نہ اٹھاتا۔

سستے زمانے میں ایک دن بشیرے کو ایک ایسے کاروباری دفتر سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا جس کے مالک میرے ہی خاندان کے ایک بزرگ تھے۔ میں نے پوچھا کہ چاچا جی، اس شخص کا یہاں کیا کام؟ مسکرا کر کہنے لگے ’انسان اسے کبھی کبھی پچاس کا نوٹ لگا دے تو چوک میں ہوا رہتی ہے۔۔۔ پھر ایک دن بشیرا آیا تو چاچا جی کہیں گئے ہوئے تھے۔ مجھ سے مخاطب ہو کر اس نے ’میاں صاحب‘ کے بارے میں کچھ نہ پوچھا بلکہ زندگی میں پہلی بار ان کا نام لے کر رعب سے کہنے لگا ’امین کتھے وے؟‘۔ میں حیران تو ہوا، مگر بشیرے کو ادائیگی میں امکانی تاخیر کا غصہ تھا۔ میری زبان سے چاچا جی کی غیر حاضری کی وجہ سن کر وہ چلا تو گیا، لیکن اپنے پیچھے میرے لئے یہ احساس چھوڑ گیا کہ اگر شہر کے چوک میں ہماری ہوا پچاس روپے کے عوض رہتی ہے تو پھر بشیرا جب چاہے ہماری ہوا نکال بھی سکتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments