ریڑھ کی ہڈی سے مواد نکالنے کا مقصد کیا؟ پولیس معمہ حل کرنے میں ناکام


انجیکشن

Getty Images
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر حافظ آباد میں پولیس حکام ابھی تک یہ معمہ کو حل کرنے میں ناکام ہیں کہ آخر ملزم دھوکے سے خواتین کی ریڑھ کی ہڈی سے نکلا جانے والا مواد (سپائنل فلوئڈ) کس مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا۔

حافظ آباد پولیس کے سربراہ ڈاکٹر سردار غیاث گل نے بی بی سی اردو کے ذیشان ظفر کو بتایا کہ مقدمے کے مرکزی ملزم ندیم تفتیش کے دوران بار بار جھوٹ بول رہا تھا جس کی وجہ سے بدھ کو اس کا پولی گراف ٹیسٹ کرایا جا رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ24 سالہ ملزم ندیم نے بتایا کہ وہ عرفان نامی ایک شخص کے لیے نمونے جمع کر رہا تھا۔ جب مذکورہ شخص سے تفتیش کی تو اس نے بتایا کہ وہ اس کا چچا زاد بھائی ہے اور ان کی دو برس سے بول چال بند ہے اور دشمنی کی وجہ سے ملزم نے اس کا نام لیا ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

سپائنل فلوئڈ کیا ہے اور اسے کیوں نکالا جاتا ہے؟

لڑکیوں کا سپائنل فلوئڈ نکالنے کے واقعات کی تحقیقات

ڈی پی او کے مطابق ندیم خود بھی پولیو کا مریض ہے اور اس نے اپنے دوسرے بیان میں بتایا کہ ہسپتال میں ساجد مسیح نامی شخص نے ان اسے کہا تھا کہ وہ اگر 15 نمونے دے گا تو اسے 40 ہزار روپے معاوضہ دے گا۔

لیکن ساجد مسیح نے بھی تحقیقات کے دوران ملزم سے جان پہچان سے انکار کیا ہے تاہم اس کے ہسپتال سمیت دیگر رابطوں کے حوالے سے چھان بین جاری ہے۔

ڈاکٹر سردار غیاث گل کے مطابق ’چونکہ ملزم دیگر افراد پر الزام عائد کر رہا ہے اور وہاں سے آگے کوئی لنک نہیں بن رہا اور نہ کوئی چیز اسٹیبشل ہو رہی تو اس وجہ سے ایک تو ملزم کا پولی گراف ٹیسٹ کرایا جا رہا ہے اور دوسرا اس کے قبضے سے ملنے والے نمونوں کا تجزیہ کرایا جا رہا ہے۔‘

ڈی پی او کے مطابق ملزم نے پولیس کو بتایا تھا کہ اس نے ابھی تک 12 خواتین کی ریڑھ کی ہڈی سے نمونے حاصل کیے ہیں اور اس میں بھی غلط بیانی کی کیونکہ ہمارے پاس وقت 23 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

انجیکشن

Getty Images

متاثرہ خواتین کی عمر کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے زیادہ تر کی عمر 18 سے 19 برس ہے جبکہ تین سے چار خواتین درمیانی عمر کی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ متاثرہ خواتین کے بیانات کی مدد سے معلوم ہوا ہے کہ نمونے حاصل کرنے کا سلسلہ دو ماہ پہلے شروع ہوا تھا۔

ڈی پی او کے مطابق ملزم کے قبضے سے حاصل کردہ نمونوں کو فورینزک لیبارٹری بھیجا گیا ہے جہاں ایک دو دن میں رپورٹ سامنے آئے گی تو تحقیقات کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

’نمونوں کے تجزیے سے معلوم ہو گا کہ اس میں ہے کیا، اگر ہڈی کا گودا نکل آتا ہے( جس کا امکان نہیں)، تو یہ منظم گروہ ہے، اگر ‘سپائنل فلوئڈ‘ نکلتا ہے تو اس سمت میں تحقیق ہو گی اور اگر سادہ سلائن واٹر نکل آتا ہے تو اس کا مطلب ہو گا یہ کچھ بھی نہیں کر رہا تھا بلکہ نو سو ہزار روپے کے لالچ میں نوسربازی کر رہا تھا۔‘

ڈی پی او کے مطابق ملزم نے بتایا کہ وہ غریب لڑکیوں کے والدین کو جہیز کا لالچ دیتا تھا اور ایک فارم کی قیمت چھ سو روپے مقرر کر رکھی تھی جب کہ ملزمہ آمنہ کے گھر پر ٹیسٹ کے لیے نمونہ حاصل کیے جاتے تھے جس کے اضافی دو سو روپے حاصل کیے جاتے تھے۔

اس وقت پولیس نے ملزم ندیم کے علاوہ آمنہ بی بی اور اس کے شوہر اسلم کو گرفتار کیا ہے جس میں آمنہ بی بی گاہک بھی گھیرتی تھی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5747 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp