اکنامک کاریڈور ، گیم آن ہے


wisi 2 babaدو خبریں پڑھی ہیں دو دن میں۔ پہلی خبر سے لگنے والی خارش ابھی مٹی نہیں تھی کہ دوسری خبر پڑھنی پڑ گئی۔ پہلی خبر وسیم عباسی کی ہے جو نیوز اخبار میں چھپی ہے۔ سٹوری کے مطابق برطانوی پالیسی میکر حضرات اکنامک کاریڈور پر پاکستان کے چین سے منسلک ہونے پر۔ چین کو راستہ دینے پر۔ پاکستان میں روڈ نیٹ ورک میں توسیع ہونے پر اور اس کے ساتھ پاکستان کے سنٹرل ایشیا تک پہنچنے کے امکانات پر پیچ و تاب کھا رہے ہیں ۔

یہ حیران کن ہے زیادہ حیرت اس لئے بھی ہو رہی کہ برطانوی امدادی ادارے نے ٹریڈ روٹ کے تین اہم پراجیکٹس یعنی حویلیاں ڈرائی پورٹ، اسلام اباد حویلیوں موٹر وے اور گوجرہ ملتان موٹر وے میں بھاری سرمایہ کاری  بھی کی ہے۔ برطانوی اہلکار نیوز سٹوری میں ایک مقام پر باقاعدہ سوتن بنے دکھائی دیتے ہیں  جب کہتے ہیں کہ پاکستان سستا بک گیا ہے۔

دوسری سٹوری احمد نورانی کی ہے اور پھر دی نیوز میں  ہی چھپی ہے ۔ سابق جرمن سفارتکار ڈاکٹر گونتر مولک نے گرما گرم سنا دی ہیں۔ وہ بھی اسلام اباد میں بیٹھ کر۔ جرمن سفارتکار کی عمر تو عرب ریاستوں میں ہی اپنے ملک کی نمائندگی کرتے گزری ہے۔ وہ عربی کے اچھے خاصے عالم تو ہیں ہی مڈل ایسٹرن سٹڈیز کی ڈگری رکھتے ہیں بہت ساری اور اعلی تعلیمی اسناد کے ساتھ۔ انہیں اسلامی دنیا کے ساتھ رابطے کے لئے جرمن ڈٓائیریکٹر بھی بنایا گیا تھا۔

ڈٓاکٹر مولک نے بروز جمعہ اسلام اباد میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہوشیار رہیں چین آپ کے لئے زمین پر جنت بنانے نہیں آ رہا۔ اس کے ساتھ ہی مزید ارشاد فرمایا ہے کہ بھارتی جاسوس آپ نے نہیں پکڑا یہ طالبان نے پکڑ کر آپ کی ایجنسیوں کے ہاتھ بیچا ہے۔ لب و لہجہ قابل غور ہے۔

بھارت نے نہایت ہوشیاری کا ثبوت دیتے ہوئے یادیو جاسوس کے اغوا کا خدشہ ظاہر کر دیا ہے۔ ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پتہ لگائے کہ یادیو جاسوس کیسے اغوا ہوا۔ ساتھ ہی ایران کو بتا دیا ہے کہ پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کا ہی بھائی بنے۔ بھارت ایرانی تیل گیس کا سب سے بڑا خریدار تو ہے ہی، چاہ بہار بندرگاہ پر اس نے بڑی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ اس بندرگارہ کو افغانستان کے صوبے نمروز میں دل آرام ضلع تک ایک روڈ سے بھی لنک کیا ہے۔

اب جب کہ یادیو جاسوس والا کٹا کھل گیا ہے۔ ساتھ ہی اہم برطانوی اور جرمن اہلکار بھی پیچ و تاب کھاتے دکھائی دینے لگ گئے ہیں۔ یہ سب واضح کر رہا ہے کہ یہ سب ایک بڑا کھیل ہے۔ جن کے مفادات پر زد پڑی ہے وہ بلبلا رہے ہیں۔ اکٹھے بھی ہو رہے ہیں۔ کچھ نہ کچھ کریں گے بھی ضرور کہ  بے وسیلہ نہیں ہیں۔ ان کو یہی کرنا چاہئے ہر کوئی اپنے مفادات کے لئے ہر ممکن حد تک جایا ہی کرتا ہے۔

اگر ہم غور کریں تو یہ سب وہ علامتیں ہیں جن کی وجہ سے ہمارے ادارے اپنا اضطراب ظاہر کر رہے ہیں۔ اداروں کے وسایل بہت زیادہ ہیں ان کی رسائی معلومات کے ان ذرائع تک ہے جو لوگوں کی اور صحافیوں کی رسائی سے دور ہیں۔ یادیو جاسوس کے معاملے پر حکومت کی خاموشی کی وجہ بھی سمجھ آ رہی ہے۔

صاف محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ یادیو جاسوس کا معاملہ پلٹ کر گلے بھی پڑ سکتا ہے۔ اس لئے احتیاط لازم ہے جو کی جا رہی ہے۔ جب صورتحال کی نزاکت کا احساس کر لیا جائے تو پھر اس سے نمٹنے کے ہزار راستے مل ہی جایا کرتے ہیں۔

یورپی برطانوی جلاپا تو سمجھ آتا ہے کہ وہ اس ٹین ایج عاشق کی طرح بلبلا رہے ہیں جس کا تازہ تازہ بریک اپ ہوا ہو۔ صرف بریک اپ ہی نہ ہوا ہو اس کی محبوبہ کسی اچھی جگہ سیٹ بھی ہو گئی ہو۔ گوروں پر اپنا ذاتی ساڑ نکالنے کے بعد کہنا ہے کہ چین واقعی ہمارے لئیے کوئی جنت لے کر نہیں آ رہا۔

اپنے ملک کو جب بھی جنت بنایا ہم نے خود ہی بنانا ہے۔ ہم ان نئے معاہدوں کے ساتھ ایک ایسی ثقافت ایسے لوگوں سے جڑنے جا رہے ہیں جن کے ہم واقف نہیں ہیں جن کا ہم مذاق نہیں سمجھتے ہیں اور جن کے ہم مزاج آشنا بھی نہیں ہیں۔ ہمیں ہماری درسی کتابوں میں ان کے بارے صحیح تو چھوڑیں، غلط بھی کچھ نہیں پڑھایا گیا ہے۔

یہ روابط ہمارے لئے کافی مشکلات بھی لانے والے ہیں۔ ہمیں بس مشکلات سے بچنا ہے اور اپنے لئے فوائد زیادہ سمیٹنے ہیں۔ ہم فوائد سمیٹنے کے لئے تیار ہیں تو جواب ہے ہر گز نہیں۔ البتہ مشکلات کے بادل گھر گھر کر آ رہے ہیں۔ دیکھی جائے گی کہ معاملہ ہماری ترقی کا ہے اور ہمیں یہ ہر صورت کر دکھانا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments