بھٹو کب مرے گا؟


usman ghaziاس نے سگار کا کش لگایا، فضا میں دھواں چھوڑا اور پھانسی پر لٹک گیا، اس نے ڈکٹیٹر سے معافی نہیں مانگی کیونکہ وہ تاریخ کے ہاتھوں مرنا نہیں چاہتا تھا۔

قوم کا معشوق، رنگیلا اور سرمست لیڈر ذوالفقار علی بھٹو ایک رومانوی کردارتھا۔ کہتا تھا کہ ہم نے سیاست اپنے دریاؤں سے سیکھی ہے۔

ساڑھے ساڑھے پانچ سال کی حکومت، چار سال کی سیاست، اسیری اور پھر وہ قتل کردیا گیا۔ یہ بارہ سال قوم کبھی نہیں بھلا سکی۔ تخلیق کاروں نے بھٹو کو ایک افسانوی کردار میں ڈھال دیا۔ احمد فراز نے حضرت عیسیٰ کو مصلوب کیے جانے کے واقعے سے بھٹو کی پھانسی کو تشبیہ دی تو اختر حسین جعفری نے اسے مرگ یوسف قرار دیا۔

پروین شاکر جیسی خوش بو کی شاعرہ نے بھٹو کی پھانسی پر مزاحمتی ادب تخلیق کیا، سرائیکی شاعر عزیز شاہد نے تو بھٹو کو پھانسی دینے والے جلاد پر تاریخ ساز نظم کہی۔ تارا مسیح کے کھردرے انگوٹھے تک کو موضوع سخن بنایا۔

بھٹو کی پھانسی محض ایک واقعہ نہیں ہے۔ اس المئے کی افسانہ طرازی کچھ یوں ہوئی ہے کہ اسے سانحہ کربلا سے ملا دیا گیا۔ اسلام آباد کے کوفہ سے سندھ مدینے کی جانب جب بھٹو کی لاش آئی تو انگریزی ادب میں دی لیپرڈ اینڈ دی فاکس جیسے شاہ کار ڈرامے تخلیق ہوئے

اس سانحے سے وابستہ بہت سے واقعات حالات کے جبر کا شکار ہوگئے۔ جیسے رزاق جھرنا کی پھانسی کا واقعہ جو پھانسی گھاٹ تک رقص کرتا ہوا گیا یا عثمان غنی جس نے سگریٹ کی پنی سے بے نظیر بھٹو کے لیے تاج بنایا اور پھر وہ بے نظیر بھٹو کو پہنایا بھی گیا

مجھے امریکا میں مقیم اپنی ایک دوست اس حوالے سے ہمیشہ یاد رہتی ہے کہ اس کا یوم پیدائش پانچ جولائی ہےاور اس کے والدین بچپن میں اس کی سالگرہ اس دن نہیں مناتے تھے کیونکہ ان کے نزدیک یہ یوم سیاہ ہے۔ اس دن ایک ڈکٹیٹر نے قوم کے منتخب نمائندے کا تخت الٹا تھا

بھٹو کے اساطیری کردار میں رنگ بھرے تو اس قافلے میں بے نظیر اور بلاول بھٹو بھی شامل ہوگئے۔ حبیب جالب نے جنرل ضیا کے عہد میں بھٹو کی بیٹی اور نواسے کو پاکستان کے ہر غریب کا استعارہ بنا ڈالا

ہر بلاول ہے قوم کا مقروض

پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے

بھٹو کے عجب رنگ ڈھنگ تھے۔ جلسوں میں لہک لہک کر قومی نغمے سناتا۔ وہ گریبان کھول کر مجمع کے سامنے آتا۔ آستینیں چڑھا کر حریفوں کو للکارتا اورکوئی جوتے بھی مارے تو مسکرا کر اس کا دل جیت لیتا

بھٹو کی پھانسی کے بعد مولاجٹ نام کی ایک پنجابی فلم بڑی مقبول ہوئی۔ اس کے ڈائریکٹر کے بقول فلم کی کامیابی کی وجہ عوام میں یہ تاثر تھا کہ اس مووی میں مولا جٹ دراصل بھٹو ہے اور نوری نت جنرل ضیاء الحق ہے۔ بھٹو قوم کا مولاجٹ ہی تھا۔ بالکل عام آدمیوں کی طرح ایک ایسا لیڈر جوآج بھی سب کا لاڈلہ ہے۔ اس میں قوم کے ہر فرد کو اپنا عکس نظرآتا ہے۔ آج بھی جب بھٹو کے نظریاتی حریف مکے لہرا کر نظمیں پڑھنے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں تو وہ دراصل خود میں بھٹو کو ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں

بھٹو خاندان سے عوام کی عقیدت آج بھی کم نہیں ہوئی۔ سیاسی اختلاف ہوسکتا ہے مگرابھی کچھ دنوں پہلے جب ذوالفقارعلی بھٹو کانواسا سانحہ لاہور کے حوالے سے اسپتال پہنچا تو متاثرین اس سے لپٹ گئے۔ اس کے گلے لگ کر بلک بلک کررونے لگے۔ قومی سطح کے بہت سے لیڈروں نے اسپتال کا دورہ کیا مگر عوام سے تعلق کے یہ مظاہرے پاکستان میں اب تک بھٹوخاندان سے ہی وابستہ ہیں

مجھےصحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران 18 اکتوبر کے جلسے کے سلسلے میں بہت سے لوگوں سے ملنا ہوا۔ شکارپور سے ایک قافلہ پیدل سفر کرکے کراچی آیا۔ وہ ننگے پیر تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی بار بھٹو کے نواسے کو دیکھیں گے۔ ادب کا تقاضا ہے کہ اسی طرح آیا جائے۔ فیصل آباد سے آنے والی ایک نانی ملیں جو اپنے نواسیوں کو بھٹو کا نواسا دکھانے لائیں تھیں۔ اس رویئے کو جاہلانہ روش سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے اور اس کا ایک دوسرا پہلوایک سچی عقیدت بھی ہے۔ یہ عقیدت گڑھی خدابخش میں بھٹو کے مزار پر واضح نظر آتی ہے۔ بھٹو پاکستان کا سب سے بڑا پیر ہے

بھٹو کا بت ہر عقیدت مند نے اپنے اپنے انداز سے تراشا ہے۔ جمعے کی چھٹی اور شراب کی کھلے عام فروخت پر پابندی کے تناظر نیز احمدی مسئلے میں اہم کردار پر ایک بہت بڑا مذہبی حلقہ بھٹو کا شیدائی ہے اور اس بت کے بالمقابل سیکولر بھٹو کاسراپا ہے، جومولانا بھٹو کے بالکل متضاد ہے۔ ایڈونچرسٹ مزاجوں کے لیے بھٹو مولاجٹ ہے تو دانش ورحلقہ اسے زیرک سیاست دان گردانتا ہے۔ عالمی سیاست میں دلچسپی رکھنےو الے بھٹو کے انٹرنیشنل پالیٹکس میں کردار کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ہر زاویئے اور خانے میں بھٹو فٹ ہے، یہ وہ پتہ ہے، جسے آج بھی کہیں کھیلا جائے تو بازی مات نہیں

بھٹو کے دو بیٹے قتل کردیئے گئے، صاحبزادی کو بھی پنڈی میں خون میں نہلا دیا گیا۔ تیسری نسل نے بھٹو کی وراثت کو سنبھال لیا ہے، اس المیے کو 37 برس گزرچکے ہیں مگر چار اپریل بروز بدھ دو بج کر چار منٹ پر ہونے والا سانحے کا درد آج بھی محسوس کیا جا سکتا ہے

 بھٹو کی سیاست اور بھٹو کے نام پر کی جانے والی سیاست میں بلاشبہ بہت فرق ہے۔ مفاد پرستوں نے بھٹو کے نام کو کیش کرایا، بھٹو کے نام پر کرپشن بھی ہوئی مگر بھٹو خاندان آج بھی اپنی پوزیشن پر اسی طرح براجمان ہے، اس اہمیت کے پیش نظر تیسری نسل میں اس وراثت کے امین بلاول بھٹو اگر بہتر کردار ادا کرتا ہے تو یہ قوم کے لیے خوش آئند ہوگا

لوگ سوال کرتےہیں کہ بھٹو کب مرے گا، میں ہمیشہ ایک ہی جواب دیتا ہوں

جس دن پاکستان میں اسٹبلشمنٹ کی بالادستی ختم ہو جائے گی، ا س دن بھٹو کی موت کا امکان پیدا ہو گا۔


Comments

FB Login Required - comments