سیکولرازم لادینیت نہیں


ata rashidپاکستان میں اکثر یہ تاثر دیا جاتا ہے یا دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ سیکولرازم،لبرل ازم یا سیکولر طرزحکومت لادینیت کی ایک شکل ہے ،اور یہ مذہب اور دین سے سے انکار کا سبب بنتا ہے۔ اس تاثر کے قائم کرنے میں مذہبی راہنماوں کے ساتھ ساتھ ان کے زیراثر پڑھے لکھے لوگوں اور قلم کاروں کا بھی بڑا ہاتھ ہے،جو تصویر کا ایک رخ دیکھ کر اور حقائق کا مکمل جائزہ لئے بنا سیکولرازم کی اس تعریف کو مان لیتے ہیں۔ عوام کی اکثریت کے ذہنوں میں بھی یہ لفظ ایک برے حوالے سے راسخ ہوچکا ہے،اور ایسا سنتے ہی جوش میں آجاتے ہیں۔ سیکولرازم کا لادینیت سے کوئی تعلق نہیں،یہ ریاستی امور کو مذہب سے علحدہ کرکے چلانے کا نام ہے کہ جس میں حکومت شہریوں کے مذہبی حقوق کی ضامن ٹھہرتی ہے اور انکے مابین امتیازات کا خاتمہ کرتی ہے۔

سیکولر طرزحکمرانی کی مخالفت کرتے ہوئے ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اسی کی بدولت ہی آج ہندوستان کے مسلمانوں کو ان کے بنیادی مذہبی حقوق حاصل ہیں۔ بھارت کے مسلمانوں کی اکثریت اس کے سیکولرازم کی مثالیں بڑے فخر سے دیتی ہے۔معروف اسکالر اویس الدین اویسی کئی بار مسلمانوں کے حقوق کیلیے اس کے سیکولرازم کا حوالہ دیتے ہیں اور اس بنیاد پر اپنے حقوق مانگتے ہیں۔ابھی بھارت کی چند ریاستوں نے ہی گائے کے ذبح کرنے پر پابندی لگائی ہے تو مسلمانوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوگیا ہے جس کی ایک مثال گذشتہ دنوں شمالی ہندوستان کے ایک مسلمان دیہاتی کا قتل ہے۔ذرا سوچیے اگر بھارت کا مکمل آئین ہندو مذہب پر استوار کرلیا جائے تو وہاں کے 31 فیصد مسلمان کہاں جائیں گے،ان کے حقوق کیا ختم نہیں ہوجائیں گے۔

پاکستان کے دگرگوں معاشی حالات،امن و امان کی ابترصورت حال اور کچھ کمیونیٹیز کے بارے امتیازی قوانین کی وجہ سے آج بہت سے پاکستانی ہجرت کر کے یورپ اور امریکہ کے ممالک میں بسنے پر مجبور ہیں۔ہجرت کا یہ فیصلہ اپنوں سے دوری کی بھاری قیمت چکا کر کرنا پڑتا ہے۔ان ممالک میں آسودہ اور خوشحال زندگی تو مل ہی جاتی ہے،مگر بنیادی حقوق کی ضمانت سیکولر ریاستی نظام ہی دیتا ہے۔ان حقوق کی فراہمی اگرچہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی یقینی بناتے ہیں،مگر بنیاد سیکولر طرز حکومت ہی فراہم ہے۔کینیڈا اس حوالے سے خاص مقام رکھتا ہے جو دنیا کے کونے کونے سے آنے والے مہاجرین کو خوش آمدید بھی کہتا ہے اور ان مہاجرین کے مذہبی عقاید کے احترام کے ساتھ ساتھ تدریجی طور پر ان کو کینیڈین سوسائٹی میں ضم ہونے کے مساوی مواقع فراہم کرتا ہے۔حالیہ انتخابات میں دس مسلمان ممبر
پارلیمنٹ منتخب ہوکر اسمبلی پہنچے ہیں جن میں دو پاکستانی مسلمان خواتین اقرا خالد اور سلمی زاہد بھی شامل ہیں،جو معاشرتی انصاف اور غیرامتیازی قوانین کا نتیجہ ہے۔ یہاں حکوت کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ آپ مندر جاتے ہیں یا مسجد،گردوارہ میں ماتھا ٹیکتے ہیں یا گرجا گھر میں حاضری لگواتے ہیں،بس قانون پرعمل کرنا ہے اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا ہے۔

پاکستان میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ مغربی ممالک میں بسنے والے مسلمان شہریوں کو یہاں رہتے ہوئے شاید اپنے مذہبی عقائد کی قربانی دینا پڑتی ہے،یہ تاثر غلط ہے۔ ہاں ایسا ہے کہ بعض اوقات یہاں بھی ایسے قوانین بن جاتے ہیں جن سے سب کو اتفاق نہیں ہوتا،لیکن اس صورت حال میں بھی کسی کو کسی ایسے کام کے لیے مجبور نہیں کیا جاتا جو اس کی ثقافت یا عقیدہ کے خلاف ہو۔اس کی ایک مثال یہاں کے صوبہ اونٹاریو میں حال ہی میں گریڈ ون کے بچوں کے لیے سیکس ایجوکیشن کا آغاز ہے۔اگرچہ حکومت صحت جسمانی کے مضمون کے تحت اس کو پڑھانا ضروری سمجھتی ہے،مگر اکثرمسلمان والدین کو اس پر شدید تحفظات ہیں اور انہوں نے احتجاج بھی کیا ہے۔حکومت نے آزادی کی ایک را ہ پھر بھی رکھ چھوڑی ہے کہ والدین اگر چاہیں تو اپنے بچے کو اس کلاس سے نکال سکتے ہیں،اور بہت سے والدین ایسا کررہے ہیں۔پچھلے دنوں نقاب پہننے کے معاملے پر قانون سازی ہوئی،مگر سپریم کورٹ نے اسکو بنیادی حقوق سے متصادم قرار دیتے ہوئے کاالعدم قرار دے دیا۔ موجودہ وزیراعظم کینیڈا جسٹن ٹروڈو بار بار اپنی تقریر میں اس بات کا اعادہ کرچکے ہیں کہ اگر کوئی مذہبی عقائد کی وجہ سے نقاب پہننا چاہتا ہے تو اس کو پوری آزادی ہے۔

ہمارے لوگ سیکولرازم کو پوری دنیا میں حلال اور پاکستان میں حرام سمجھتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان واضح اکثریتی مسلم ملک ہے،اس میں اس سطح یا اس پیمانے پر سیکوالر ازم لاگو نہیں کیا جاسکتا جس سطح اور پیمانے پر بھارت،یورپ اور امریکہ و کینیڈا میں رائج ہے،مگر پاکستانی قوانین میں ایسی تبدیلیاں کرنے میں کیا حرج ہے جو تمام شہریوں کو بنیادی حقوق فراہم بھی کریں اور امتیازات کا بھی خاتمہ کریں۔ قرارداد مقاصد اور اسلامی دایرہ کار کے اندر رہتے ہوئے سیکولرازم سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے،مگر پہلے اس غلط فہمی کا ازالہ عوام میں ضروری ہے کہ یہ لادینیت کا دوسرا نام ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “سیکولرازم لادینیت نہیں

  • 15-01-2016 at 11:53 pm
    Permalink

    Agreed. Nice writing

  • 17-01-2016 at 2:30 am
    Permalink

    آپ جتنا مرضی کوشش کرلیں،پاکستان کو ایک سیکولر ملک نہیں بنا سکتے،یہ مسلم تھا مسلم ہے اور مسلم رہے گا۔

Comments are closed.