ملائیت بمقابلہ جدیدیت


aimal khanپنجاب میں حالیہ خواتین حقوق کے حوالے سے منظور شدہ قانون اور ممتاز قادری کی پھانسی سے عوامی سطح پر کئی مذہبی مباحث چڑ گئے ھیں۔ اور عوامی سطح پر بل اور پھانسی کی حمایت اور مخالفت میں گرما گرم بحث شروع ہے۔ یہ مباحث اگر ایک طرف بڑھتے ہوئے عوامی شعور تو دوسری طرف مولوی طبقے کی مذہبی امور پر اجارہ داری کی کمی یا کم از کم اس کو عوامی سطح پر کھل کر چیلنج کرنے اوران سے عمومی ڈر اور خوف میں کمی کی غمازی کر رہے ہیں۔ ماضی میں یہ مباحث محدود سطح پر اور اکثر بند کمروں میں لبرل تعلیم یافتہ طبقہ کرتا تھا اور یا اکا دکا کچھ سر پھرے سماجی کارکن بڑے بڑے شہروں کی سڑکوں پر علم احتجاج بلند کیئے نظر آتے تہے ۔ یہ صورت حال اس حقیقت کو بھی پوری طرح آشکار کر رہی ہے کہ ہمارا مولوی کتنا لاتعلق ( irrelevant) اور اس کے بیانیے ( narratives) اکسیویں صدی کی تقاضوں اور ضروریات سے کتنے کٹے ہوئے ( disconnect) ہے۔

ہر نیا دن مولوی کی جدید دور کے تقاضوں سے لا تعلقی اور دوری کو مزید بڑھا رہا ہے۔ اگر ایک طرف مذہبی جماعتوں اور گروپوں کو ایک پلیٹ فارم پر دوبارہ مل بیٹھنے کا موقع مل رہا ہے تو دوسری طرف بعض فرقوں مثلا بریلوی اور دیوبندیوں میں دوریاں بڑھ رہی ہے خصوصاً ممتاز قادری کی پھانسی اور اس کے چہلم کے موقع پر دیئے گئے دھرنے کے بعد۔ بریلوی فرقہ اپنا سیاسی قد کاٹھ بڑھانے کے چکر میں ہے اور دیوبندی اس کی فعالیت کو شک و شبہے کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دہشت گردوں کا اپنے تنگ نظر اور مکروہ مقاصد کیلئے مذہب کے استعمال اور بعض مدارس کی دہشت گردی سے مبینہ تعلق کی وجہ سے بعض مذہبی حلقے دفاعی پوزیشن پر چلے گئے تہےاور وہ مدارس کی رجسٹریشن، فنڈز اور نفرت انگیز مواد کی تشہیر کے حوالے سے حکومتی اقدامات اور اعلانات سے پریشان ہیں۔ وہ نئی پیدا شدہ صورتحال کو بالواسطہ یا بلاواسطہ حکومت پر دباو یا بلیک میلنگ کے لئے استعمال کرنے کی کوشش میں ہے۔

پاکستان میں شخصی، گروہی، قومی، علاقائی اور عالمی قوتوں کی جانب سے مذہب کے بے دریغ استعمال اور مذہبی جنونیت پر مبنی بیانیوں کے فروغ اورتین دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط بڑھتی ہوئی انتہاپسندی اور عسکریت پسندی کے نتیجے میں برپا فساد اور تباہی نے قوم کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔ اس دوران سماجی اور معاشی تبدیلیوں کی وجہ سے مولوی طبقہ کی سیاسی اور سماجی رتبے میں اضافہ ہوا ہے۔ سرد جنگ، نئی گریٹ گیم اور بڑھتی ہوئی علاقائی رقابتوں کی صورتحال میں ریاستی سرپرستی اور سازگار ماحول ملنے کے بعد مولویوں کی سماجی حیثیت منحصریت (dependent ) سے نسبتا آزاد ( independent) ہو گئ ہے۔ مذہبی طبقے کے بالائی طبقے کا شمار اب حکمران طبقات میں ہونے لگا ہے۔ اس سے پہلے معدودے چند بڑے مولوی یا گدی نشینوں کا شمار ان طبقات میں ہوتا تھا اور کردار زیادہ تر طفیلی تھا مگر اب حکمران اور طاقتور طبقات میں مذہبی طبقے کی تعداد بڑھ گئی ہے اور سیاسی اور فوجی حکمرانوں کا اہم شراکت دار بن چکے ھیں۔ جو کبھی کبھار آزادانہ کردار ادا کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ اگر مولوی یک جنس ( homogenous ) اکائی نہیں بلکہ کثیر الجنس (heterogeneous ) ہے۔ اگر مولویوں کی درجہ بندی کرنی ہو تو ملا تین قسم کے ھیں۔ روایتی، نیم جدید اور جدید ملا۔

روایتی ۔ دیہاتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے مولویوں کے اس گروپ کی اکثریت کی دنیاوی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ عموماً نچلے اور نظرانداز طبقات ( excluded groups) سے تعلق ہوتا ہے۔ جو کئی قسم کی محرومیوں اور سماجی تعصبات ( social biases) کا شکار ہوتے ہیں ۔کنوئیں کے مینڈک کے مصداق ایکسپوژر نہ ہونے کی وجہ سے زندگی کی طرف انکا اپروچ بہت سطحی اور عصری تقاضوں کے مطابق نہیں ہوتا ہے۔ دانش کی بجائے زیادہ تر کچھ اقوال یاد کرکے اپنا کام چلاتے ھیں ۔ کولہو کی بیل کی طرح ایک سیدھ میں چلتے ھیں۔ سیاسی طور پر فعال زیادہ تر مولوی اس روایتی طبقےسے تعلق رکھتے ھیں۔ جدیدیت اور مغربیت میں فرق سمجھ میں نہ آنے کی وجہ سے مغربیت کو جدیدیت کے مترادف سمجھتے ھیں اور ساری مثالیں مغربی تہذیب اور تمدن سے دیتے ھیں۔ مگر وہ بھی ساری کی ساری منفی مثالیں۔ ان کے خیال میں میں مغربی تہذیب میں کوئی مثبت پہلو ہے ہی نہیں۔ روایتی ملا علمی اور ٹیکنالوجکل ترقی کی ماہئیت اور رفتار کو سمجھنے سے قاصر ہے اور شروع میں ھر نئی ایجاد کی مخالفت کرتے ھیں۔ ھر چیز کو کفر اور اسلام کے پیمانوں سے ناپتے ھیں اور اس حوالے سے ملک میں فتنوں اور فتووں کا کاروبار ان کی وجہ سے عام ہوگیا ہے۔ گلوبلائیزیشن اور کئی دیگر وجوہات کی وجہ سے ہمارے دیہاتی علاقے تیزی سے سماجی طور پر تبدیل ہو رہے ہیں۔ مگر روایتی مولوی اپنے اپ کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنے سے عاری ہے۔ تبدیلی کے عمل سے خوفزدہ رہتا ہے اور اسٹیٹس کو کا حامی ہے۔ ان کی گزر بسر مسجد یا مقامی مدرسے سے متعلقہ آمدن اور مذہبی خدمات کی فراہمی اور مخیر حضرات کی خیرات یا بخشش پر ہوتی ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جو مظاہروں اور جلسوں کو کامیاب بنانے کے لئے مدارس کے طلبہ اور عوام کو متحرک کرتا ہے۔

نیم جدید : ان کا تعلق زیادہ تر قصبوں اور نیم شہری علاقوں سے ہے۔ پسماندہ علاقوں کی نچلے مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والے نیم جدید مولوی طبقہ تھوڑا بہت تعلیم یافتہ ہوتا ہے اور روزمرہ کے مسائل سے واقفیت کی وجہ سے سطحی دلائل رکھتا ہے ۔ روایتی کی نسبت نیم جدید ملا سماجی اور سیاسی طور پر کافی متحرک ہے۔ سیاسی اور سماجی مواقع (space ) ملنے کے بعد ان کا سماجی اور سیاسی رول بڑھا ہے اور کسی حد تک معاشی طور پر خودکفیل بھی ہے۔ میڈیا تک رسائی اور سماجی اور سیاسی فعالیت کی وجہ سے معاشرے میں اپنی لیئے جگہ بنا لی ہے۔ طرز بیان اور خطابات کسی حد تک مدلل اور عوامی مسائل اور مشکلات سے جڑا ہوتا ہے۔ یہ طبقہ جدید ٹیکنالوجی کو اختیار کرتا ہے مگر جدید نظریات کے بارے میں روایتی طبقے کی طرح دقیانوسی سوچ کا حامل ہے اور خاص کر حقوق کے حوالے سے نظریات کو مغربی ایجنڈا سمجھتا ہے۔

جدید: مولویوں کا یہ طبقہ دین کے ساتھ ساتھ اعلی دنیاوی تعلیم سے بھی آراستہ ہوتے ھیں اور انکی بات کسی حد تک مدلل، منطقی اور عصری مسائل سے جڑی ہوئی ہوتی ہے ۔زیادہ تر کا تعلق شہری اور تعلیم یافتہ مڈل کلاس طبقے سے ہوتا ہے۔ گزشتہ تین دھائیوں میں مذہبی رحجانات اور رغبت کے بڑھنے سے کچھ مالدار کاروباری اور صنعتی گھرانوں میں بھی اپنے کچھ بچوں کو دانستہ مذہبی تعلیم حاصل کرنے پر لگا دینے کا رحجان بڑا ہے۔ یہ طبقہ جدیدت کو سمجھتا ہے اس کا ادراک رکھتا ہے اور اس کو مکمل طور پر رد نہیں کرتا بلکہ مذہبی تعلیمات کی روشنی میں اس کی تشریح اور تعبیر کرتا ہے۔ روائتی طبقے کی نسبت اب جدید ملا مذہبی جماعتوں اور گروہوں کے ایڈ یالوگ کی جگہ لے رہے ھیں۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “ملائیت بمقابلہ جدیدیت

  • 04-04-2016 at 4:27 pm
    Permalink

    مولوی قدیم ہو یا جدید مگر یہ طبقہ جو بزعم خود ترقی پسند ہے وہ انفرادی یا اجتماعی طور پر اب تک کو ئی ٹھوس، مدلل اور واضح بات پیش کرنے سے کیوں قاصر ہے اور ملا کی ہی طرح کسی اندیکھی چیز سے ماتثر کیوں نظر آتا ہے جس کی نہ وہ افادیت اب تک اجاگر کرپایا ہے نہ اس کو ٹھیک طرح سے بیان کرپایا ہے؟ ملا کی طرح وہ بھی بس ناقل ہی ہے جس کے پاس چند مثالوں کے سوا کچھ نہیں۔ بقول آپ کے، جدید ملا تو پھر جدیدیت کو سمجھتا اور سمجھاتا ہے مگر ترقی پسند تو اس سے بھی محروم نظر آتا ہے، بظاہر چند نعروں اور چند باتوں کے کوئی ٹھوس اور واضح پیغام سے کیوں قاصر ہے۔ میرے خیال میں ترقی پسند طبقہ کے فکری جمود کی اصل وجہ عوام کی تعلیم کی کمی سے کہیں زیادہ یہ مبہم باتیں ہیں جن کا ٹھیک سے مطلب ان میں سے اکثر نہیں جانتے تو عوام کو کیا راغب کریں گے۔ میرے نزدیک اپنے نظریہ کی صحیح وضاحت اور ترویج کے ذریعہ کامیابی کا حصول اصل ہے نہ کہ خود کو کامیاب کروانے کے لیئے مخالف کو نیچاء دکھانا، یہ تو اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے لیئے تو ہوسکتا ہے مگر ایک ٹھوس اور کامیاب پروگرام کے ہوتے ہوئے ناممکن ہے

  • 05-04-2016 at 6:02 pm
    Permalink

    Bilkul Sahi Farma Wajaht Sb…!

Comments are closed.