لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو ۔۔۔ مُلا نہ کر قبول


mullahخیر کی خبر ہے کہ کل لاہور میں 30 سے زائد مذہبی تنظیموں اور گروہوں نے مل کر ایک بار پھر یہ طے کر لیا ہے کہ 1977 کی طرح نظام مصطفی کے لئے تحریک چلائی جائے گی۔ اور ملک کو سیکولر اور لبرل بنانے کی سازشوں کو ناکام بنا دیا جائے گا۔ اس طرح اس ملک کے وہ سارے باشندے جو یہ سمجھتے ہیں کہ دینی رہنما ان کی ضرورتوں اور پریشانیوں سے آگاہ نہیں ہیں، جمع خاطر رکھیں کہ اب نظام مصطفی کے نفاذ کے لئے سارے فرقے اور طبقے متحد ہو رہے ہیں۔ قباحت صرف یہ ہے کہ اس اتحاد و الحاق کا واحد مقصد اقتدار کی لیلیٰ کو رام کرنا ہے جو ان باریش اور عبادت گزار بزرگوں کی یقین دہانیوں کے باوجود ان کے حرم کی زینت بننے کے لئے تیار نہیں ہوتی۔ بس ایک جھلک دکھاتی ہے اور پھر منظر سے غائب ہو جاتی ہے۔ البتہ کل منصورہ میں منعقد ہونے والے اجلاس میں اس نکتہ کو پا لیا گیا ہے کہ اگر سب دینی جماعتوں کے رہنما ”نظام مصطفی“ کے لئے متحد ہو جائیں تو اقتدار خود ان کی جھولی میں آن گرے گا۔

یہ تاریخ ساز انکشاف مولانا ڈاکٹر ابوالخیر زبیر نے کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں پر واضح کر دیا ہے کہ اقتدار حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنا ہو گا اور اس اتحاد کے لئے نظام مصطفی کی تحریک سے زیادہ موثر نعرہ کوئی نہیں ہو سکتا۔ بس اس مقصد کے لئے متحد ہونے کا فیصلہ کر لیا جائے۔ اقتدار خود ہاتھ باندھے، انہیں تلاش کرنا حاضر خدمت ہو جائے گا۔ امید کرنی چاہئے کہ کل جمع ہونے والے سارے بزرگان دین اس اہم نکتہ کی روح کو سمجھتے ہوئے جلد ہی اس بات کا اہتمام کریں گے کہ اب کوئی اسلام دشمن طاقت ان کی صفوں میں رخنہ نہ ڈال سکے۔ کیونکہ اسی طرح وہ دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر ہونے کی نوید دی گئی ہے جس کے انتظار میں 68 برس کے دوران اس ملک کے دیندار طبقوں نے چار فوجی آمروں کے تلوے چاٹے، متعدد اتحاد بنائے اور پھر ایک دوسرے کا گریبان چاک کرتے ہوئے اقتدار کے مکمل وصال کی منزل سے ذرا پہلے ہی، بے آبرو ہو کر اس کوچے سے نکالے گئے جو انہیں بااختیار اور حکمران بنا سکتا تھا۔ یہ سارے دھوکے کھانے اور ذلت کی یہ ساری منزلیں طے کرنے کے بعد بالآخر ان بزرگان کو یہ ادراک ہو گیا ہے کہ اتحاد ہی میں منزل مقصود حاصل کرنے کا راز پنہاں ہے۔ تو کہانی کچھ یوں بنتی ہے کہ یہ سارے بزرگ اس عظیم الشان کانفرنس کے بعد اب اپنے اپنے گھروں کو تشریف لے جا چکے ہیں اور یہ طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کل منصورہ میں جمع ہونے والے لوگوں میں کون بے اعتبار ہے اور کس پر بھروسہ کر کے اسے اقتدار کی منزل مارنے کے مقصد سے بننے والے ”اتحاد“ میں شامل کرنا مناسب ہو گا۔ مشکل امر یہ ہے کہ اقتدار کی کرسی ایک ہے اور اس میں جاگزیں ہونے کے آرزو مند تیس پینتیس یا اس سے دو تین یا چار گنا زیادہ علمائے حق ہیں۔ حق کے ہر علمبرداروں کو اب صرف یہ طے کرنا ہے کہ ان کی صفوں میں کون کون گمراہ ہے جو اقتدار تک اس کے سفر میں روڑے اٹکا سکتا ہے۔

یہ دلنشین سفر اسی جوش و خروش سے 1977 میں بھی شروع کیا گیا تھا لیکن اس کے اختتام پر ایک عوامی لیڈر کو اقتدار سے محروم کروا کے اس کے ناحق خون کے چھینٹوں سے تو ان بزرگوں کے بزرگوں نے اپنا دامن داغدار کروا لیا لیکن اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک باوردی جنرل اقتدار پر قابض ہو گیا۔ جدوجہد کرنے اور منزل کا سراغ لگانے والوں کے مقدر میں پھر بھی صرف منت سماجت کے ذریعے اقتدار کے چشمہ حیات سے صرف چند چلو ہی نصیب ہو سکے۔ صد افسوس چلو پھر پانی میں ڈوب کر مرنا تو آسان ہے لیکن اقتدار میں بقدر اشک بلبل ملنے والے حصے سے نہ پیاس بجھتی ہے اور نہ دل خوش اور مطمئن ہوتا ہے۔ لیکن یہ چٹکی بھر حصہ بھی ہوس اقتدار کو مہمیز دینے اور پلو سے ہاتھ تھامنے تک کا سفر طے کرنے کا حوصلہ دینے کا سبب بنتا ہے۔ یہ حرص اس قدر توانا اور بااثر ہوتی ہے کہ نسل در نسل منتقل ہو کر نئی نسل کو اس منزل کو پانے پر آمادہ کرتی رہتی ہے جس کے حصول میں وہ سارے بزرگ کوچہ ملالت کی صعوبتوں کو سمیٹتے رہے تھے۔ پھر بھی نہ بدمزہ ہوئے اور نہ اس خواہش سے نجات پا سکے۔

اس لئے کل لاہور میں اس کہانی کو پھر سے لکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ جاننے کے باوجود کہ 1977 میں اس وزیراعظم کے خلاف مہم جوئی کی گئی تھی جسے عوام کی واضح اکثریت نے منتخب کیا تھا اور جو اس کے باوجود ”نظام مصطفی“ کے ان دعویداروں کو ان کی اوقات اور ظرف سے زیادہ حصہ دینے پر آمادہ ہو گیا تھا۔ لیکن ان عشاقان نظام مصطفی (جو حصول اقتدار کا کوڈ ورڈ ہے) نے ایک سیاستدان کا اعتبار کرنے کی بجائے باوردی جرنیل کے اعلان پر بھروسہ کرنے کو ترجیح دی کیونکہ اس طرح لوگوں کی رائے سے ماورا اقتدار کے مزے لوٹنے کی راہ ہموار ہو سکتی تھی۔ یہ الگ کہانی ہے کہ اس اندازے میں یہ دھوکہ ہو گیا کہ وردی کے زور پر عوام کی طاقت سے اقتدار سنبھالنے والے کو بے اختیار کرنے والے نے محسوس کیا کہ اصل ولایت پر تو وہ خود فائز ہے تو یہ دیندار خود دم ہلاتے اس کی وفاداری کا دم بھرنے پر مجبور ہوں گے۔ یہ اندازہ حقیقت پسندی پر مبنی تھا۔ جنرل (ر) ضیاءالحق گیارہ برس تک بلا شرکت غیرے اس ملک کے سیاہ و سفید کا مالک رہا اور نظام مصطفی کے نام پر علماء و مشائخ کو وعدوں اور دعوﺅں پر ٹرخاتا رہا ہے اور یہ سارے صالحین اس وقت اس تک اس اسلام پسند آمر کا دم بھرنے پر مجبور رہے جب تک موت کا فرشتہ اس کے ابدی سفر کا پیغام لے کر نہیں آیا۔

اس سارے عرصہ میں نظام مصطفی کے یہ عاشق یہ تسلیم کرنے سے قاصر رہے کہ انہوں نے ایک ایسے جمہوری لیڈر کے خلاف بغاوت کا راستہ ہموار کیا تھا جس نے اپنے سیاسی نظریہ کے برعکس ان نام نہاد علما کے بھرّے میں آ کر ایسے اقدام کئے جو آج تک اس ملک میں انتشار اور فساد کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اسلام پسندوں کے مطالبے مانتے ہوئے مے نوش ہونے کے باوجود شراب پر پابندی لگائی، دنیا کی حقیقتوں کو جاننے کے باوجود اتوار کی بجائے جمعہ کو چھٹی کا اعلان کیا۔ 1953 میں احمدیوں کا معاملہ طے ہونے کے باوجود مذہب پسندوں کو خوش کرنے کے لئے اس گروہ کو غیر مسلم اور اقلیت قرار دینے کا فیصلہ کیا۔ اس جمہوری لیڈر نے ملاﺅں کو جمہور کی آواز سمجھتے ہوئے 1973 کے آئین میں یہ شق شامل کی کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سارے قوانین قرآن و سنت کے مطابق ہوں گے۔ اس سے بڑھ کر نظام مصطفی کیا ہو سکتا ہے۔ جو لوگ اس گمان میں مبتلا تھے کہ ملک کے دینی اکابرین شریعت کے نفاذ کو نظام مصطفی کہتے ہیں …. اب وہ جان چکے ہیں کہ یہ نعرہ اس وقت تک بلند ہوتا رہے گا جب تک اقتدار اسلام کے محافظ ہونے کے دعویداروں کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ مقصد اگر حصول اقتدار ہو تو آئین کی ضمانت بھی بے مقصد اور غیر ضروری ثابت ہوتی ہے۔

اسے دلخراش المیہ ہی کہا جائے گا کہ ملک کو اسلامی آئین دینے والے شخص کی برسی سے دو روز قبل ایک بار پھر 1977 کی طرز پر نظام مصطفی تحریک کا نعرہ بلند کیا گیا ہے۔ تب ذوالفقار علی بھٹو کی قربانی دی گئی تھی۔ اب کسے اس نعرے کی بھینٹ چڑھایا جائے گا؟ لیکن ایک مقصد کے لئے اکٹھے ہونے والے ایسی غیر ضروری باتوں پر کیوں غور کریں۔ وہ آپس میں اتحاد ہی کیوں نہ کر لیں تا کہ اقتدار ان کی جھولی میں آن گرے۔ وائے رے خواہشوں کی یہ فراوانی کہ ایسے سارے لوگ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے کھڑے ہیں جو اکثر صورتوں میں ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے بھی روادار نہیں ہوتے۔ لیکن اقتدار کے حصول کی جو امید بانی پاکستان کے انتقال کے ساتھ ہی ان دلوں میں پروان چڑھنا شروع ہو گئی تھی …. اب تناور درخت بن چکی ہے۔ بس یہ درخت پھلدار نہیں ہے۔ جھاڑ ہے۔ اجڑے خوابوں اور غیر تکمیل شدہ خواہشات کا برباد کھنڈر۔ پھر بھی امید ہے کہ یہ کھنڈر آباد ہو گا۔ بقعہ نور بنے گا اور ان سب میں سے وہ ایک جو سازش اور شرارت سے دوسروں کی ٹانگ کھینچنے میں ماہر ہو گا بالآخر وصل اقتدار سے ہمکنار ہو گا۔

یہ منزل کیسی سہانی ہے مگر اس کا راستہ کتنا خاردار ہے۔ اس راستے پر چلتے ہوئے اس جھوٹ کو حق کہا جا رہا ہے کہ ممتاز قادری کا عدالتی قتل ہوا تھا۔ یہ نعرہ شاید اس احساس جرم کے تحت بلند کیا گیا ہو کہ انہی عناصر کی حرکتوں کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کروایا گیا تھا۔ یہ نعرہ بھی اسی مقصد کی تکمیل کے لئے ضروری ہے کہ پنجاب کے تحفظ نسواں قانون کو خاندانی نظام پر حملہ قرار دیا جائے۔ کیونکہ اسے غیر شرعی قرار دینے کے جھوٹ کا پردہ فاش ہو چکا ہے کہ اس قانون میں کوئی بات ایسی نہیں ہے جسے یہ جغادری اسلام و شریعت کے برعکس قرار دیں۔ تو خاندان کا ٹھیکیدار بننے میں کیا ہرج ہے کہ دین کے نام پر سیاست کرتے ہوئے کوئی حد اور پابندی راہ کی دیوار نہیں بن سکتی۔

جھوٹ اور افترا پردازی کی بنیاد پر اکٹھے کرنے والے یہ سارے بزرگ اب اپنی اپنی خواب گاہوں میں سروں پر خواہشات کا سنہرا تاج سجائے اس ملک کے مطلق العنان بادشاہ …. جسے عوام کی سہولت اور اپنے ضمیر کے اطمینان کے لئے خلیفہ کہا جائے گا …. بن چکے ہوں گے۔ بس اب یہ طے ہونا ہے کہ کون سا بادشاہ سلامت باقی 29 کی گردن مارنے کا حوصلہ کر پاتا ہے۔ تاکہ اس کا اقتدار مکمل اور بلا شرکت غیرے ہو۔۔۔ سخن گسترانہ بات یہ ہے کہ۔۔۔ ایسا نہیں ہو سکے گا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

3 thoughts on “لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو ۔۔۔ مُلا نہ کر قبول

  • 04-04-2016 at 1:09 pm
    Permalink

    ہم تو آپ کے مداح ہیں.

  • 05-04-2016 at 2:48 pm
    Permalink

    بھت خوب

  • 06-04-2016 at 2:09 am
    Permalink

    بیحد جاندار، ٹھوس ، حالات کا بڑی خوربینی سے ’’ بے باک ‘‘ تجزیہ! آپ واقعی میں ’’ مجاہد ‘‘ ہیں۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔ آپ کی ہر تحریر ، پتھر پر حق کی لکیر ہوتی ہے ۔ والسلام۔

Comments are closed.