گھریلو تشدد اور غیرتی تشدد کے خلاف کام کرنے والی ارونا پیپ سے گفتگو


(ٹورنٹو کنیڈا میں مقیم ارونا پیپ بین الاقوامی شہرت یافتہ تعلیم دان اور انسانی حقوق کی علمبردار ہیں۔ان کا کام خاص کر گھریلو تشدد اور ناموس کے نام پر قتل کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔ان کی خود نوشت (Unworthy Creature) بے وقعت مخلوق میں ان کی زندگی کی کہانی پڑھی جا سکتی ہے۔ جسے دراصل بے وقعتی سے وقار کا سفر کہنا چاہیے)

***   ***

یہ کوئی صدی پرانا قصہ نہیں محض پانچ چھ دہائی پہلے کی بات ہے کہ جب انڈیا میں رہنے والی آٹھ سالہ بچی ایک سفاک واقعہ کی گواہ بنتی ہے۔ وہ دو نوزائیدہ مردہ بچیوں کو دیکھتی ہے کہ جنہیں رات کے کسی تاریک پہر میں کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دیا گیا۔ یہی بچی کچھ اور بڑی ہوتی ہے اور اس دفعہ وہ سڑک کے کنارے پڑی نوزائیدہ بچی کی نعش کو دیکھتی ہے کہ جسے کوؤں کا غول نوچ نوچ کر کھا رہا تھا۔ وہ صدمہ سے چیخ چیخ کر اس کے خلاف احتجاج کرتی ہے۔مگر حیران ہوتی ہے کہ چلتے لوگ ایک لمحہ کو بھی نہ ٹھہرے۔ پھر چودہ برس کی عمر میں وہ ایک اور روح فرسا ظلم کو بے بسی سے ہوتے دیکھتی ہے جب اس کے پڑوس کی خوبصورت، تعلیم یافتہ، ملازمت پیشہ نوجوان لڑکی کو خود اپنے بھائیوں کی لگائی ہوئی آگ کے شعلوں میں جلی اور دم توڑا۔اس لڑکی کا قصور یہ تھا کہ اس نے اپنے سے دھری عمر کے مرد سے شادی کے بجائے اپنی پسند کی شادی کو ترجیح دی تھی۔

غرض اس قسم کے سفاکانہ واقعات نے اسے اس بات کا یقین دلایا کہ عورت کی قسمت میں گھر والوں اور شوھر کے ہاتھوں ناروا سلوک کے کارن جسم اور روح کی اذیت کو جھیلنا ہے۔پھر تیسری جماعت کی استعداد اور سترہ سال کی عمر میں وہ اپنی مرضی کے بغیر بیاہ دی جاتی ہے۔شوھر کے ھاتھوں گھریلو تشدد سے گزرتی ہے اور اکیس سال کی عمر میں شوہر اور خاندان والوں کے ساتھ انڈیا سے کنیڈا نقل مکانی اختیار کرتی ہے۔یہ سال تھا1972 کا۔ کنیڈا کی نتھری، آزاد اور تعلیم یافتہ فضا نے اس کے ذہن کے بند دریچوں کو کھولا اور نئی سوچ کو جگہ دی۔کہ عورت کے خلاف کسی قسم کا تشدد درست نہیں۔ ناموس کے نام پر اس کا قتل ہر گز جائز نہیں۔ پھر اس نئی اور بیدار عورت نے نوکریاں کیں اور یونیورسٹی سے ماسٹرز کی دو ڈگریاں حاصل کیں۔ تین آرگنائزیشنز کی بنیاد رکھی جو عزت کے نام پر تشدد کرنے والوں کے خلاف کام کرتی ہیں۔شادی کے اٹھارہ سال بعد طلاق کی صورت اپنے آپ کو گھریلو تشدد کی فضا سے آزاد کیا اور ایک خود مختار اور باعزت شہری کی زندگی گزارنے کا حق حاصل کیا۔ان باوقار، تعلیم یافتہ جرات مند اور انصاف پسند خاتون کو دنیا آج ارونا پیپ کے نام سے جانتی ہے۔

بین الاقوامی سطح پہ شہرت کی حامل ارونا نے عورتوں کے حقوق اور ان پہ تشدد کے خلاف اپنی ان تھک جدوجہد کے اعتراف میں ان گنت ایوارڈز حاصل کیئے۔جس میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کے علاوہ اقوام متحدہ میں 2012 میں عورتوں کے خلاف تشدد کے سلسلے میں ہونے والی کانفرنس میں کنیڈا کی نمائندگی بھی شامل ہے جو ایک اہم اعزاز ہے۔

پچھلے دنوں ہم نے ارونا پیپ سے ان کے کام اور زندگی کے حوالے سے گفتگو کی۔

س: ارونا ہندوستان سے کنیڈا، آپ کی جدوجہد کا سفر دشوار گذار تھا۔ ایک غیر تعلیم یافتہ سے اعلی تعلیم یافتہ، خاندانی تشدد سے حقوق کی بحالی کا سفر۔۔۔۔۔ اس جدوجہد کو کیسے ممکن بنایا؟

ج: کنیڈا میں جو سہولیات مہیا ہیں وہ انڈیا میں نہیں۔ اگر کوئی سخت محنت کرنے کے لیئے تیار ہے تو وہ اپنی زندگی میں وہ کچھ حاصل کر سکتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔میری دو بچیاں بھی تھیں کہ جنہوں نے مجھے کام کرنے کا جذبہ اور حوصلہ دیا۔میں انہیں وہ تمام سہولیات مہیا کرنا چاہتی تھی کہ جو میں خود نہ حاصل کر سکی تھی۔

س:آپ نے سوشل ورکر (سماجی کارکن)بننے کا فیصلہ کیوں کیا ؟

ج:سوشل ورکر بننے کا فیصلہ میرا نہیں تھا ۔ جب 1972 میں، میں نے اپنے خاندان کے ساتھ نقل مکانی کی تو اس وقت میں سوشل ورکر کی اصطلاح سے بھی واقف نہ تھی ۔ میری تعلیم اس وقت تھرڈ گریڈ (تیسری جماعت ) تک کی تھی ۔ دو بچیوں کو پالنے اور گھر چلانے کے لیئے نوکری شروع کی جو یورک (York) یونیورسٹی میں تھی ۔ میرا تجربہ وہاں عورتوا4161 کے ساتھ ہوا ۔ جو گھریلو تشدد اور زیادتی کا شکار تھیں ۔یہ خواتین ساؤتھ ایشین امیگرنٹ تھیں ۔ مجھے دل کی گہرائیوں سے یقین تھا کہ کنیڈا انڈیا سے مختلف ہے ۔ انڈیا میں لڑکیاں خاندان میں بوجھ سمجھی جاتی ہیں ۔ ان کی کوئی وقعت نہیں لیکن کنیڈا میں وہ دوسرے انسانوں کے برابرتصور کی جاتی ہیں ۔ شروع میں البتہ میں سمجھتی تھی کہ’’ گوری ‘‘ خواتین کو ہی برابر کا انسان سمجھا جاتا ہے ۔ مگر یارک یونیورسٹی میں کام کرتے ہوئے میں نے یہ سیکھا کہ کنیڈا میں تمام خواتین برابر ہیں اور ان کے حقوق بھی ہیں ۔ لہذا میرے لیئے دنیا کی سب سے بڑی خبر یہ تھی کہ عورتوں کے حقوق ہیں اور انہیں گھریلو تشدد برداشت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔تاہم اس کو پوری طرح یقین کرنے میں کافی وقت لگا ۔ لیکن جب ایک دفعہ یقین کرنا شروع کر دیا تو میں نے ان امیگرنٹ خواتین کو اس کے متعلق بتانا شروع کر دیا ۔ لہذا مجھے نہیں معلوم کہ اسے سوشل ورک کہا جاتا ہے ۔

س: انڈیا کی ارونا اور آج کنیڈا کی ارونا میں کیا فرق دیکھتی ہیں؟

ج: یہ مقابلہ کرنا مشکل ہے کہ پینتالیس سال (45) سال پہلے اور بعد کیا ہوں۔ انڈیا میں قسمت قبول کرنے والے معاشرہ میں تھی اور سمجھتی تھی کہ خدا چاہتا ہے کہ میں غریب رہوں، غیر تعلیم یافتہ رہوں اور اپنی زندگی ایک زیادتی کرنے والے شوہر کے ساتھ گزار دوں۔ مجھے نہ کوئی امید تھی اور نہ ہی کوئی مدد۔ کینڈا میں مجھے علم کی تڑپ تھی۔میں یورک یونیورسٹی (کنیڈا)میں اگرچہ معمولی سطح کی نوکری کرتی تھی لیکن وہاں یہ سہولت مجھے حاصل تھی کہ میں اگر مزید تعلیم حاصل کروں تو مجھ سے فیس نہیں لی جائے گی جو کہ ایک اچھی خبر تھی۔ کیونکہ مجھے تعلیم کا بہت شوق تھا اور اسی لیئے جب بھی مجھے ملازمت سے وقت ملتا میں کلاسز لے رہی ہوتی تھی ۔وقت کے ساتھ ساتھ علم کی اشتہا بڑھتی ہی جا رہی ہے۔لہذا اس وقت دو ماسٹرز کے بعد میں پی ایچ ڈی پروگرام میں ہوں۔ اس طرح آج کی ارونا رکاوٹوں کو حائل نہیں دیکھتی۔

س:آپ پینتیس35 سال سے گھریلو تشدد اور ناموس کے نام پہ تشدد کے خلاف مختلف حوالوں سے دیوانہ وار کام کر رہی ہیں۔ہمیں بتائیں کہ ان دونوں میں کیا فرق ہے؟

ج: پولیس افسران، سوشل ورکرز، فیملی کورٹ، وکلاء اور دوسرے افراد کو تربیتی کورسز میں ہم اکیس باتوں کی نشاندھی کرتے ہیں کہ جس سے یم اس کی تفریق کرتے ہیں۔

گھریلو تشدد یا ڈومیسٹک وائیلنس کا مطلب یہ ہے کہ ایک چھت تلے رہنے والے افراد کے درمیان تشدد جس میں بیوی ہی نہیں۔شوہر بیوی ہی نہیں ساس، بہو، بچے یا دو بھائی بھی ایک دوسرے سے لڑ رہے ہوں، شامل ہیں۔میری تربیت ان پرتشدد جوڑوں کے ساتھ ہے جو ایک ساتھ رہتے ہیں۔یہ دونوں شادی شدہ ہوں یا ہم جنس پرست جوڑے کی صورت بھی ہو سکتے ہیں۔جب عورت اپنے شوہر کے ساتھ زیادتی کا شکار ہو تو اس کو انٹی میٹ پارٹنر وائلنس (IPV- Intimate Partner Violence) کہا جاتا ہے۔یہ دو افراد ایک مشترکہ قانون کے تحت رہ رہے ہوتے ہوں، بالغ ہوں اور مرضی سے ایک ساتھ رہ رہے ہوں۔ناموس کی بنیاد پہ تشدد یا ایچ بی وی (HBV- Honour Based Violence) میں تشدد کا شکار لڑکی ہوتی ہے۔ اور زیادتی کرنے والے اس کے والدین ہوتے ہیں۔

آئی پی وی میں جوڑا بہت سے مسائل مثلا پیسہ، کار، بچے اور سسرال وغیرہ جھگڑتا ہے۔جبکہ عزت کے نام پہ تشدد میں صرف ایک مسئلہ ہے کہ لڑکی، والدین کی سوچ کے مطابق خاندان کی حرمت کے لیے بے عزتی کا سبب بن رہی ہوتی ہے۔

آئی پی وی یا گھریلو تشدد میں ساتھی ایک دوسرے کو معاف بھی کر سکتے ہیں۔ پیار کر کے منا بھی لیتے ہیں۔ جبکہ عزت کے نام پر تشدد میں لڑکیاں معاف نہیں کی جاتیں۔گھریلو تشدد عموما مرد کرتے ہیں۔ جبکہ عزت کے نام پر تشدد بھی خونی رشتہ دار والدین یا بھائی ملوث ہوتے ہیں۔یہ زیادہ خطرناک اس لیے ہوتا ہے کہ عزت اور ناموس پہ یقین رکھنے والی کمیونٹی محسوس کرتی ہے لڑکیوں کو قابو میں رکھا جائے۔یہ بہت منظم طریقہ سے ہوتا ہے۔ اور بہت سے لوگ اس کو جانتے بوجھتے ہوئے بھی کچھ نہیں کرتے۔ مغرب میں ان بچیوں کی موت کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ” لڑکی مغرب زدہ ہو گئی ہے ”

س:کنیڈا جیسے ملک میں گذشتہ بیس سالوں میں عزت کے نام پہ چوبیس اموات کس طرح ہوئیں؟

ج: کنیڈا میں تو چوبیس ہوئیں جبکہ پاکستان میں سالانہ 1500 سے 5000 اور انڈیا اور ترکی میں 800 سے 1000 تک کی شرح ہے۔ یہ بھی وہ اعداد وشمار ہیں جو درج ہوئے۔جن کا اندراج نہ ہو سکا وہ نہ جانے کتنے ہوں گے۔

س:اس کا الزام کس کے سر جاتا ہے ؟

ج:اس کا الزام خاندان کو جاتا ہے جو کنیڈا میں اپنی ظالمانہ قدریں لاتے ہیں ۔وہ عورتوں کو ابھی بھی مرد سے کم تر سمجھتے ہیں ۔ چاہے جتنے بھی تعلیم یافتہ ہو جائیں وہ اپنی قدامت زدہ ثقافت کے تحت عورتوں کو انسان کے طور پر نہیں دیکھتے ۔

س: کیا عزت کے نام پر یہ قتل زیادہ تر ایشیا اور بالخصوص اسلامی ثقافت کا مسئلہ ہے؟

ج: اقوام متحدہ کے مطابق عزت کے نام پہ قتل کی یہ قبیح رسم 59 ممالک میں ہے۔جس میں یہودی، ہندو، مسلمان اور عیسائی شامل ہیں۔

س: وہ کیا مشکلات ہیں جو امیگرنٹ یا نقل مکانی کرنے والی خواتین کو پیش ہیں مگر مقامی عورت کو نہیں ؟

ج : میرے تجربہ کے مطابق سب سے زیادہ رکاوٹ ان کا اپنا خاندان اور کمیونٹی ہے ۔ اگر لڑکی کو مسئلہ ہے تو وہ اپنی خالہ، نانی یا بہن سے اس وجہ سے بات نہیں کرے گی کہ اس کی شکایت ہو جائے گی ۔ یہ خواتین اس کی مدد یا حفاظت نہیں کریں گی ۔وہ اس کے خلاف باتیں بنائیں گی اور یہ لن ترانیاں اتنی بڑھیں گی کہ لڑکیاں قتل ہو جائیں گی ۔ جو ان کے والد یا بھائی کے ہاتھوں ہوتا ہے ۔

س: اس سطح پر کام کرنے میں آپ کا اپنے شوہر کے ہاتھوں تشدد کا ذاتی تجربہ کس حد تک معاون ہے؟

ج: میرا تجربہ میرے سابق شوہر، میرے باپ، میرے بھائی، میرے انکل اور خاندان کی عورتوں کے ساتھ رہا ہے کہ جس نے مجھے اس مسئلہ کو اندرونی سطح پہ دیکھنے اور لکھنے میں مدد دی کہ بند دروازوں کے اندر کیا ہو رہا ہے؟ اس سے مجھے یہ بھی مدد ملی کہ جب لڑکی اکیلی ہوتی ہے تو کس قدر خوف زدہ ہوتی ہے اور خاندان والے کس طرح لڑکیوں کی ذہنیت بدلتے ہیں۔

س:پڑھی لکھی خواتین اکثر اپنے حقوق کے لیئے کیوں نہیں کھڑی ہوتیں ؟

ج:اس کی وجہ ان کا سپورٹ کا نہ ہونا ہے ۔ ان کا یہ خیال کہ لوگ انہیں ہی موردِ الزام ٹھہرائیں گے ۔انہیں طلاق کا لیبل لگنے کا ڈر ہوتا ہے ۔ وہ عورتیں جو طلاق یافتہ ہوتی ہیں اور روایات کو چیلنج کرتی ہیں ۔انہیں دوسرے مردوں سے جنسی ہراسنگی کا سامنا ہوتا ہے ۔ اور یہ بھی ہوتا ہے کہ انھیں مالی مشکلات ہوں ۔

س :کیا گھریلو تشدد صرف عورتوں کا مسئلہ ہے ؟

ج:یہ خاندان بلکہ کمیونٹی کا مسئلہ ہے ۔ اور اصل مسئلہ یہ ہے کہ سماج عورتوں کے ساتھ تشدد کو ماننے سے ہی منکر ہے ۔

س :اس سلسلے میں آپ حکومتی پالیسی میں کس حد تک تبدیلی لانے میں کامیاب ہوئیں؟

ج:جواب طویل ہے، مختصراً یہ کہ میں نے پروفیشنلز کے لیئے تربیتی کورسز وضح کیئے جو ماضی میں ناپید تھے۔ میرے کام کی بنیاد پہ کنیڈا کی پالیسیوں میں تبدیلی لائی گئی۔ میں ” دی فرنٹیل سنٹر فار پبلک پالیسی کے ساتھ کام کرتی ہوں۔

س:آپ کے مستقبل کے اور موجودہ کیا منصوبے ہیں؟

ج:میں ریٹائرڈہونا چاہتی ہوں۔پینتیس سالوں سے تشدد کا شکار عورتوں کے ساتھ کام کرنے کے بعد میری روح تھک چکی ہے۔مجھ سے بین الاقوامی پبلشرز نے رابطہ کیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں ان نوجوان لوگوں کے لئے ناولز لکھوں جو زبردستی کی شادی کا شکار ہیں۔ FGM(عورتوں کی ختنہ) اور عزت کے نام پہ قتل ہوئے۔ یہ کتاب چالیس زبانوں میں ترجمہ ہو گی۔ میں اس کتاب کو لکھنے میں مصروف ہوں۔اس سلسلے میں سفر کرتی ہوں اور مختلف گروپس سے گفتگو کرتی ہوں۔

س:آپ کے شوہر آپ کے کام میں کتنا تعاون کرتے ہیں ؟

ج:میں نے 32 سال قبل اپنے شوہر ڈیوڈ پیپ سے شادی کی اور یہ تین دھائیاں ہمارے لیے ہنی مون ہیں ۔اور میں مزید اگلے تیس سال کے خیر مقدم کے لیئے تیار ہوں ۔ ان کے تعاون کے بغیر میرا کوئی کام نہیں ہو سکتا ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں